مسدس حالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اردو شاعری میں مولانا حالی کا اعلی ترین کارنامہ ان کی طویل نظم ”مدوجزر اسلام“ ہے جو عام طور پر ”مسدس حالی“ کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ نظم اس قدر مقبول ہوئی کہ اس نے مقبولیت اور شہرت کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ کہا جاتا ہے کہ کئی سال تک برصغیر کے طول و عرض میں جو کتاب قرآن کریم کے بعد سب سے زیادہ شائع ہوئی وہ ”مسدس حالی“ تھی۔ بقول سر سید احمد خان،

بے شک میں اس کا محرک ہوا ہوں اور اس کو میں اپنے اعمال حسنہ میں سے سمجھتا ہوں کہ جب خدا پوچھے گا کہ دنیا سے کیا لایا۔ میں کہوں گا کہ حالی سے مسدس حالی لکھوا کر لا یا ہوں اور کچھ نہیں

مولانا نے جس میدان میں بھی قدم رکھا اس میں شمشیر قلم کا لوہا منوایا۔ خواہ وہ نظم کی اختراع ہو یا سادہ نثر کی تخلیق غزل کی رنگینی ہو یا مرثیے کا سوز، قصیدے کی شان و شوکت ہو یا نظم کی آن ہو۔ ناصح کے روپ میں ہوں یا مصلح قوم۔ غرض یہ کہ جس میدان میں بھی قدم رکھا، اپنی حیثیت کو تسلیم کروایا ۔ مولانا نے ”مسدس“ میں اپنی قوم کو اس کے عروج و زوال کے افسانے ایسے دلکش انداز اور دلنشین پیرائے میں سنائے کہ قوم تڑپ اٹھی اور اپنی ناکامی و نامرادی کے اسباب اور وجوہات کی کھوج میں لگ گئی۔ مسدس حالی مسلمانوں کی بالخصوص اور ہندوستان کی بالعموم اس وقت کے فکری اور تاریخی غداری کی داستان ہے۔ جس میں مسلمانوں نے اپنے مقاصد کے ساتھ غداری کرکے اپنے لیے اپنے مسخ شدہ ضمیر کا دوزخ خریدا۔ آئیے نظم کا فکری جائزہ لیتے ہیں،

حالی کا تاریخی مطالعہ[ترمیم]

”مسدس حالی“ ایک ایسی نظم ہے جس میں مسلمانوں کے ماضی کے تاریخی واقعات کی جھلکیوں کا عکس ملتا ہے۔ اس نظم میں مولانا حالی نے نہ صرف قوم کی سابقہ عظمت اور شان و شوکت پربحث کرتے ہوئے موجودہ دور میں ان کی غیرت کو للکار ہے۔ بلکہ اس کو تاریخی واقعات کے ساتھ بیان کرکے ان کی عہد بہ عہد ترقی تنزل کے اسباب اور وجوہات کو بھی بیان کیا ہے۔ جس سے مولانا حالی کے تاریخ اسلام کے گہرے مطالعے اور آگاہی کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے عہد بہ عہد تاریخی واقعات کو نمونے کے طور پر نظم کا روپ دے کر مسلمان قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ مثال کے طور پر شروع کے اشعار میں عرب کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ وہ ایسا سچا ہے کہ جب سے قلم نے اس منظر کو قلمبند کیا اس وقت سے آج تک وہ اس عہد کے ہر نقشہ کھینچنے والے کے لیے نمونے کا کام دیتا ہے۔

نمونہ کلام[ترمیم]

عرب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا

جہاں سے الگ ایک جزیرہ نما تھا
زمانے سے پیوند ا س کا جد اتھا
نہ کشورستاں تھا نہ کشور کشا تھا
تمدن کا اس پر پڑا نہ تھا سایہ
ترقی کا تھا وہاں قدم تک نہ آیا

اس طرح ایک اور شعر ملاحظہ ہو جس سے اس وقت کی مذہبی رسومات اور لوگوں کی ایماں و یقین پر بخوبی روشنی پڑتی ہے۔

قبیلے قبیلے کا بت اک جدا تھا

کسی کا ہبل تھا کسی کا صفا تھا

مغربی اقوام کی اصلیت[ترمیم]

اس طرح مغربی اقوام کی تہذیب و تمدن اور انسانی ہمدردی کے چہر ے کو بے نقاب کرتے ہیں تو ان اقوام کا اصلی روپ سامنے آ جاتا ہے۔ جس کا مظاہرہ انہوں نے دور حالی میں بھی مسلمان قوم کے ساتھ بالخصوص اور دیگر اقوام کے ساتھ بالعموم کیا اور آج بھی یہی بظاہر ترقی یافتہ، تہذیب یافتہ اور انسانی حقوق کی علمبرداری کا ڈھنڈورا پیٹنے والے جس طرح انسانی خون سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور انسانی گوشت اور ہڈیوں کو نوچتی ہیں اُن کے چہرے کو بڑے واضح طور پر بے نقاب کیا ہے۔

وہ قومیں جو ہیں آج غم خوار انساں درندوں کی اور ان کی طینت تھی یکساں جہاں عد ل کے آج جاری ہیں فرماں بہت دور پہنچا تھا وہاں ظلم و طغیاں بنے آج جو گلہ باں ہیں ہمارے وہ تھے بھیڑیے آدمی خوار سارے

ہمارے اسلاف نے حالی کی طرح تاریخی واقعات کی روشنی میں ان اقوام کی حقیقی چہرے کا پردہ فاش کر دیا تھا۔ لیکن مسلمان آج بھی ان کے چبائے ہوئے نوالوں کی امید میں دست نگر بنی بیٹھی ہے۔ ان کی تہذیب و تمدن مسلمانوں کے لیے وبال ہے۔ اگرچہ انہوں نے مسلمانوں ہی کے ورثے کو بروئے کار لاتے ہوئے آج ترقی کے تمام زینے طے کر لیے ہیں۔

اسلام کا شاندار ماضی[ترمیم]

اس طویل نظم میں مولانا حالی نے مسلمانوں کو شاندار ماضی کی تاریخ کواور ماضی کے کا رہائے نمایاں کو بیان کرکے مسلمان قوم کو غیرت دلانے کی سعی کی ہے۔ خلافت اندلس کے حوالے سے مسلمان قوم کو جگانے کی کوشش کرتے ہیں اور خلافت اندلس کی جھلک ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ ہوا اندلس ان سے گلزار یکسر جہاں ان کے آثار باقی ہیں اکثر جو چاہے کوئی دیکھ لے آج جا کر ہے یہ بیت ِ حمر اکی گویا زباں پر کہ تھے آل عدنان سے میر ے بانی عرب کی ہوں میں اس زمیں پر نشانی

مولانا حالی نے اسلام کی تعلیمات کا ذکر بھی تفصیل کے ساتھ کیاہے۔ نبی کریم کی ذات و برکات کے طفیل ایسا عظیم انقلاب برپا ہوا جس کے اثر عرب کے رہنے والے جو جانوروں سے بد تر زندگی گزار رہے تھے۔ صحیح معنوں میں انسان بن گئے۔ سرورِ کونین نے صرف عبادات پر ہی زور نہیں دیا بلکہ زندگی کے تمام پہلوئوں میں انسانیت کی مکمل رہنمائی فرمائی۔ اور اسے دینی، تہذیبی، اخلاقی، معاشی، معاشرتی، ادبی اور تقافتی اصولوں کا یک مکمل ترین منشور عطا فرمایا۔ نتیجہ یہ ہو ا کی مسلمان ابر رحمت کی مانند تما م دنیا پر چھا گئے۔ اور جہالت و گمراہی کی اتھاہ تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی اقوام کو جہانداری اور جہانبانی کے اصولوں سے واقف و آشناکیا۔

گھٹا اک پہاڑوں سے بطخا کے اُٹھی پڑی چار سو یک بیک دھوم جس کی کڑک اور دمک دور دور اس کے پہنچی جو ٹےگس پہ گرجی تو گنگا پہ برسی رہے اُس سے محروم آبی نہ خاکی ہر ی ہو گئی ساری کھیتی خدا کی

مسلمانوں نے دنیا کو اصولِ تجارت سے آشنا کیا۔ سیر و سیاحت کو فروغ دیا۔ نئے نئے ممالک دریافت کیے۔ انھوں نے دنیا والوں کو ریاضی، فلسفہ، طب، کیمیا، ہندسہ، ہیئت، سیاحت، تجارت، معماری، نقاشی اور جراحی جیسے علوم علوم و فنون سے آگا ہ گیا۔ اور واقعتا مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدا ر کرنے ان کا جمود توڑنے اور انہیں سعی و کوشش کی جانب مائل کرنے میں اس نظم کا بہت بڑا حصہ ہے۔

قوم کی غفلت[ترمیم]

مسد س میں حالی نے قوم کی ترقی و عروج کو نہایت موثر انداز میں بیان کرنے کے بعد اس بات کو بڑے دکھ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ کہ مسلمانوں نے تنزل پر قناعت کر لی ہے اور غفلت و ست کوشی کے ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس طرح وہ خود تو ذلیل ہوئے ہی ہیں لیکن انہوں نے اپنی بے حسی کی وجہ سے ہادی برحق کے دین کو بھی بدنام کیا ہے۔ فرماتے ہیں،

پر اس قوم غافل کی غفلت وہی ہے تنزل پہ اپنے قناعت وہی ہے ملے خاک میں پر رعونت وہی ہے ہوئی صبح اور خواب ِ راحت وہی ہے نہ افسوس انہیں اپنی ذلت پہ ہے کچھ نہ رشک اور قوموں کی عزت پہ ہے کچھ

عشق رسول[ترمیم]

حالی نے زمانہ جاہلیت میں عربوں کی بے مروّتی، ذرا ذرا سی بات پر سالہا سال تک ایک دوسرے کا خون بہانا، غلاموں اور عورتوں پر غیر انسانی ظلم و ستم اور بداخلاقی و بت پرستی کی حالت کو نہایت مو ثر انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے بعد اس دور کا ذکر ہے جب آفتاب ِ اسلام فاران کی چوٹیوں سے طلوع ہوا اور اس کی نورانی کرنوں نے جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے روئے اسلام کو پاک کیا۔ اس دور کا ذکر حالی نے بڑے والہانہ انداز میں کیا ہے۔ جناب رسالت مآب کی شان میں جو چند بند حالی نے کہے ہیں ان میں عشق نبی کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے جہاں کہیں اس موضوع پر لکھا ہے قلم توڑ دیاہے۔

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

خطا کا ر سے درگزر کرنے والا

بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا

قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

مسلمانوں کی مذہب سے روگردانی[ترمیم]

مسلمان کا جاہ و جلال اور عزت و حرمت اسلامی تعلیمات پر عمل پیراءہونے کی وجہ سے تھی لیکن مسلمانوں نے مذہب سے روگردانی اختیار کی اور عیش و عشرت میں پڑ کر اپنے فرائض سے چشم پوشی کرنے لگے تو ان کی تمام شان و شوکت اور عظمت و برتری خاک میں مل گئی اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ وہ محض نام کے مسلمان رہ گئے

وگرنہ ہماری رگوں میں لہومیں ہمارے ارادوں میں اور جستجو میں دلوں میں زبانوں میں اور گفتگو میں طبیعت میں فطرت میں عادت میں خو میں نہیں کوئی ذرہ نجابت کا باقی اگر ہو کسی میں تو ہے اتفاقی

گمراہی سے بچنے کی تلقین[ترمیم]

مسدس حالی میں جہاں پر قومی زبوں حالی کے اور اسباب کی نشان دہی کی گئی ہے۔ وہاں پر اسلام کے بنیادی اصولوں سے روگردانی، بے راہ روی اور گمراہی سے بچنے کی بھی تلقین نظر آتی ہے۔ مولانا نے مسلمان قوم پر یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان اللہ تعالٰیٰ کے بتائے ہوئے قانون اور ضابطہ حیات پر عمل کرتے ہوئے سرخرو ہو سکتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو توحید کا دامن تھامے رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان سے نہ صرف ایمان و یقین میں پختگی آتی ہے بلکہ جعلی پیروں، درویشوں سے آزاد ہو کر انسان بغیر کسی سہارے کے ذات واحد سے ہم کلام ہو جاتا ہے۔ اس طرح نہ صرف وہ بہت سی معاشرتی اور سماجی برائیوں اور فضولیات سے بچ جاتا ہے بلکہ اسلام کے بتائے ہوئے رہنما اصولوں کی روشنی میں اپنا حال و مستقبل درست کر سکتا ہے۔ بلکہ دونوں جہانوں میں کامیابی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔ مولانا تمام خرابیوں کی جڑ مذہب کے بنیادی اصولوں سے ناو اقفیت کو قرار دیتے ہیں اور اس کا حل تو حید پر عمل پیرا ہونے میں نکالتے ہیں۔

کہ ہے ذاتِ واحد عبادت کے لائق زباں اور دل کی شہادت کے لائق اسی کے ہیں فرماں اطاعت کے لائق اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق لگائو تو لو اس سے اپنی لگاو جھکائو تو سر اس کے آگے جھکاو

خواب غفلت سے بیداری کی تلقین[ترمیم]

مسدس حالی میں مسلمان قوم کو غفلت سے بیدار کرنے اور غفلت میں پڑی ہوئی اس قوم کی حالت کا بڑا ہی درد انگیز نقشہ پیش کیا ہے۔ کہ مسلمان قوم خرگوش کی نیند سو رہی ہے۔ جبکہ اہل ِ یورپ اُن کی اس غفلت کا پورا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جس کو اپنی موجودہ پستی کا احسا س ہو۔ حالی مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ ایسی غفلت کی حالت میں کسی کو بھی جائے پناہ نہیں ملے گی۔

بچو گے نہ تم اور نہ ساتھی تمہارے اگر نائو ڈوبی تو ڈوبیں گے سارے

مولانا غفلت میں گرے ہوئے مسلمانوں کا ایسی باریک بینی سے نقشہ کھینچا ہے کہ ہر شخص کو آئے نے میں اپنا عکس واضح دکھائی دیتا ہے۔ یہ خواب غفلت صرف اس دور ہی میں نہیں تھی۔ بلکہ آجکے مسلمان قوم کی حالت کچھ اس دور کے مقابلے میں زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اُس وقت انگریزوں نے اس ملک و قوم کی قسمت کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لے رکھی تھی اور آج اس کو یہاں آنے کی زحمت گوارا کرنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔ بلکہ اپنے ممالک میں ہی بیٹھے بٹھائے ری موٹ کنٹرول کے ذریعے اپنے گماشتوں اور پٹھوئوں کی مدد سے پوری قوم پر حکومت کر رہے ہیں۔ بر صغیر تک ہی کیا محدود بلکہ پوری امت مسلمہ ان کے جال میں پھنس چکی ہے۔ خواب غفلت کی یہ انتہا ہے کہ مسلمان، مسلمان کے ساتھ دست گریباں ہیں اور اس کو حق و باطل کی جنگ سمجھتے ہیں۔ خلیج کا بحران ہو کہ مسئلہ افغانستان، کشمیر ہو کہ فلسطین، بوسنیا ہو کہ لیبیا، عراق ہو کہ چیچنیا، مسلمان قوم کی حالت آج بھی دور حالی سے مختلف نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف تمام مسلمان قوم محو خواب ہے۔ چشم دید واقعات پر چشم پوشی اس کا وتیرہ بن گیا ہے اور حالت یہ ہے کہ احساس زیاں تک نہیں ہے۔ مولانا نے قوم کی اس غفلت کی طرف صرف یہ نہیں کہ اشارہ کیا ہے بلکہ اس کو بیدار کرنے کی بھی سعی کی ہے۔

کوئی ان سے پوچھے کہ اے ہو ش والو کس امید پر تم کھڑے ہنس رہے ہو

مسدس حالی میں قوم کی ان ساری خامیوں اور خرابیوں کا ہی ذکر ہے۔ اگرچہ پہلا حصہ ایسے دل شکن اشعار پر ختم ہوتا ہے کہ انسان کی آس ہی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن شاعر کو خود بھی اس کا احساس ہوتا ہے۔ امید کو بڑھاتا ہے اور ضمیمہ کی صورت میں ٦٢١ اشعار کا اضافہ کرتا ہے۔ ضمیمہ کی ابتداءمیں امید سے ایسے پر جوش انداز میں خطاب ہے کہ مایوسی کے سارے بادل چھٹ جاتے ہیں۔

بس اے ناامیدی نہ یوں دل جلا تو جھلک اے امید اپنی آخر دکھا تو ذرا ناامیدوں کی ڈھارس بندھا تو فسردہ دلوں کے دل آکر بڑھا تو ترے دم سے مردوں میں جانیں پڑی ہیں جلی کھیتیاں تو نے سرسبز کی ہیں

مجموعی جائزہ[ترمیم]

مولانا حالی نے اس نظم میں انسانیت کے نام جو خود اعتمادی، مستقل مزاجی اور اپنی مدد آپ کے تحت زندگی میں کامیابی ملک و قوم، معاشرہ اور سوسائٹی کے لیے بہتری اور خوشحالی کے جو فکری پہلو اور راہنما اصول بتائے وہ بے مثال ہی نہیں بے نظیر بھی ہیں۔ دنیا کی شاید ہی کسی شاعری یا صنف سخن نے کسی ملک و قوم کے لیے ایسا لافانی فلسفہ حیات پیش کیا ہو۔ مولانا حالی کی اس نظم نے مسلمانوں میں انقلاب کا عزم بپا کر دیا۔ مسلمان قوم کو بیدار کر دیا۔ اسی انقلاب اور بیداری کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کے نقشے پر ایک علاحدہ آزاد اور خود مختار ریاست دیکھی جا سکتی ہے۔ بقول انور سدید

حالی کی مسدس اردو کی مقصدی شاعری میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طویل نظم میں حالی نے قوم کی دکھتی ہوئی رگ کو ایک ماہر نباض کی طرح پکڑا ہے۔ اور موثر انداز میں شعر کا روپ دے دیا ہے۔

بقول ڈاکٹر عبادت بریلوی،

یہ نظم دکھے ہوئے دل کی پکار ہے۔ ایک سچے مسلمان کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی آواز ہے۔ ایک مخلص انسان کی آنکھوں سے ٹپکا ہوا آنسو ہے۔ ایک مصلح کا پیام ہے ایک رہنما کا نعرہ ہے۔