مندرجات کا رخ کریں

ابن عبد الہادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابن عبد الہادی
(عربی میں: محمد بن أحمد بن عبد الهادي بن عبد الحميد بن عبد الهادي)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1305ء [2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمشق، بحری مملوک
وفات ہجری 744 (1343/1344)
دمشق   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص بدر الدین بعلی   ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ نحوی ،  مصنف [1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں العقود الدریہ   ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ابن تیمیہ، جمال الدین مزی، شمس الدین ذہبی، ابن قیم جوزیہ

شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن احمد بن عبد الہادی المقدسی الحنبلی' یا محمد بن عبد الہادی المقدسی (عربی: محمد بن عبد الهادي المقدسي)، جن کو عموماً ابن عبد الہادی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، (1305ء، دمشق - 1343ء مطابق 705ھ - 744ھ) [3] سرزمین شام سے تعلق رکھنے والے ممتاز حنبلی محدث، فقیہ اور نامور عالم دین تھے۔ وہ اپنے دور کے ایسے جلیل القدر اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے حدیث، فقہ، رجال اور جرح و تعدیل کے میدان میں نمایاں علمی خدمات سر انجام دیں۔ وہ ابن تیمیہ کے تلامذہ میں شامل تھے اور ان کے افکار سے گہرا اثر قبول کیا تھا۔[4] ابن عبد الہادی نے کم عمری ہی میں حدیث اور فقہ کے علوم کا آغاز کر دیا تھا۔ انھوں نے اپنے زمانے کے ممتاز محدثین و فقہا سے سماعِ حدیث کیا جن میں ابن تيمیہ، الذہبی اور دیگر اکابر شامل ہیں۔ وہ اپنے عہد کے ان علما میں سے تھے جنھوں نے علمی مباحث میں گہری بصیرت کا ثبوت دیا، خصوصاً رجال کے فن میں ان کی مہارت مسلمہ تھی۔ ان کی تصانیف نے بعد کے اہلِ علم پر بھی گہرا اثر ڈالا اور کئی علوم میں ان کا نام بطور اتھارٹی لیا جاتا ہے۔

علمِ حدیث کے باب میں ان کی خدمات نہایت وسیع ہیں۔ وہ سند، متن، نقد و تحقیق اور رجال کی چھان بین میں غیر معمولی دقتِ نظر رکھتے تھے۔ محدثین نے انھیں فنِ جرح و تعدیل کا ماہر تسلیم کیا ہے۔ ان کی بعض آراء اگرچہ سخت سمجھنے جاتی ہیں، لیکن ان کی بنیاد ہمیشہ ٹھوس دلائل اور اصولی بحث پر ہوتی تھی۔ اسی سبب سے ان کی کتب کا حوالہ بعد کے ادوار میں بھی بڑے احترام سے دیا جاتا رہا ہے۔ ان کے علمی طرزِ استدلال پر ابن رجب حنبلی اور دیگر شاگردوں نے بھی روشنی ڈالی ہے۔ فقہ کے میدان میں بھی وہ ایک ممتاز محقق تھے۔ اگرچہ وہ من حیث المجموع حنبلی فقہ کے پیروکار تھے، تاہم وہ تقلیدِ جامد کے قائل نہ تھے۔ ان کے ہاں اجتہادی بصیرت، نصوص کی اصل روح تک رسائی اور دلائل کا گہرا فہم نمایاں ہے۔ ان کا علمی جھکاؤ ان کے استاد ابن تیمیہ کے موقف سے مشابہ تھا، اس کے باوجود وہ کئی مسائل میں اپنی انفرادی رائے بھی رکھتے تھے۔

ابن عبد الہادی کی تصانیف میں الصارم المنکي في الرد على السبكي، العقود الدرية في مناقب شيخ الإسلام ابن تيمية، تنقيح التحقيق اور دیگر کئی علمی کتب شامل ہیں۔ خاص طور پر العقود الدرية ابن تیمیہ کی شخصیت اور خدمات پر لکھی گئی نمایاں ترین کتب میں شمار ہوتی ہے، جسے بعد کے محققین مسلسل حوالہ دیتے رہے۔ ان کی علمی میراث پر شافعی، مالکی اور حنفی علما نے بھی اعتماد کیا، جس سے ان کی وسعتِ نظر اور علمی مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت اپنے عہد میں علمی جرات، صراحت، اصولی موقف اور غیر معمولی حافظے کے باعث ممتاز رہی۔ مؤرخین کے مطابق وہ اپنی عمر کے اعتبار سے کم عرصہ زندہ رہے، مگر علمی دنیا پر ان کا اثر دیرپا اور ہمہ گیر ثابت ہوا۔ 744ھ میں ان کا انتقال دمشق میں ہوا اور انھیں وہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ [5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام —  : اشاعت 15 — جلد: 5 — صفحہ: 326 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
  2. Diamond Catalog ID for persons and organisations: https://opac.diamond-ils.org/agent/16869 — بنام: Muḥammad ibn Aḥmad Ibn Qudāma al-Maqdisī
  3. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، سنہ 744ھ کا بیان، 10/14۔
  4. Oliver Leaman (2006)۔ The Qur'an: An Encyclopedia۔ Taylor & Francis۔ ص 281۔ ISBN:0415326397
  5. محمد بن عبد الهادي (1997ء)۔ العقود الدرية في مناقب شيخ الإسلام ابن تيمية۔ دار الكتب العلمية

بیرونی روابط

[ترمیم]