مندرجات کا رخ کریں

ابو ولید باجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابو ولید باجی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1013ء [1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بطليوس [3]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1081ء (67–68 سال)[1][2][4]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
المریہ [5][3]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاد ابو جعفر سمنانی [4][3]،  ابو اسحاق شیرازی [6]  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو ولید سلیمان بن خلف بن سعد بن ایوب تجیبی (15 ذی القعدہ 403ھ – 19 رجب 474ھ / 1013ء1082ء) اندلس کے ایک فقیہِ مالکی ، محدث ، قاضی اور شاعر تھے۔ ان کی متعدد تصنیفات ہیں ۔ [7] باجی نے اپنی کفالت کے لیے مختلف اوقات میں چوکیدار اور سنار کے طور پر کام کیا۔ وہ فقیہ ابن حزم کے ہم عصر تھے۔ ان کا انتقال 1081ء میں ہوا۔

حالات زندگی

[ترمیم]

ابو ولید سلیمان بن خلف بن سعد بن ایوب بن وارث باجی کی ولادت منگل کے دن، 15 ذی القعدہ 403ھ کو بطلیوس میں ہوئی۔ بعد میں ان کے دادا بطلیوس سے باجا منتقل ہو گئے، اسی نسبت سے انھیں باجی کہا گیا۔[8] [9] باجی نے اندلس میں ابو محمد مکی بن ابی طالب، محمد بن اسماعیل، یونس بن مغیث، ابو بکر محمد بن حسن بن عبد الوارث اور دیگر اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔

سنہ 426ھ میں ابو ولید باجی نے مشرق کا سفر کیا۔ وہ مکہ میں ابو زر ہروی کے ساتھ تین سال مقیم رہے، جہاں ان سے حدیث، فقہ اور علمِ کلام کی تعلیم حاصل کی اور اس دوران چار مرتبہ حج ادا کیا۔ نیز انھوں نے حسن بن سعید مطوعی، ابو بکر بن سختویہ، ابن محرز اور ابن محمود الوراق سے بھی سماع کیا۔[10] ويونس بن مغيث وأبي بكر محمد بن الحسن بن عبد الوارث[11]

اس کے بعد وہ بغداد گئے اور وہاں تین سال قیام کیا۔ اس مدت میں انھوں نے فقہ کی تعلیم حاصل کی اور متعدد فقہا و محدثین سے حدیث سنی، جن میں ابو طیب طاہر بن عبد اللہ طبری، ابو اسحاق ابراہیم بن علی شیرازی، ابو عبد اللہ حسن بن علی صیمری، ابو فضل بن عروس، ابو عبد اللہ دامغانی، ابو حسن قزوینی، عمر بن ابراہیم زہری، ابو طالب محمد بن محمد بن غیلان، ابو قاسم ازہری، عبد العزیز بن علی ازجی، محمد بن علی صوری، محمد بن عبد الواحد بن رزَمہ، حسن بن محمد خلال اور دیگر شامل ہیں۔

پھر وہ دمشق گئے، جہاں انھوں نے ابو قاسم عبد الرحمن بن طبیث، حسن بن سمسار، حسن بن محمد بن جمیع اور محمد بن عوف مزنی سے سماع کیا۔ اس کے بعد انھوں نے موصل میں ایک سال قیام کیا، جہاں وہ حدیث، فقہ، علمِ کلام، اصول اور ادب کی تعلیم قاضی ابو جعفر سمنانی سے حاصل کرتے رہے، جو ابن باقلانی کے شاگرد تھے۔ اس کے بعد وہ مصر گئے، جہاں انھوں نے ابو محمد بن الولید اور دیگر علما سے سماع کیا۔ آخرکار وہ 13 سال کے طویل سفر کے بعد 439ھ میں اندلس واپس لوٹے۔[12] .[13]

اندلس واپسی پر ابو ولید اپنے ساتھ وسیع علمی سرمایہ لائے۔ چونکہ انھوں نے سفر کے دوران بقدرِ کفایت معاش کا بندوبست کر لیا تھا، اس لیے واپسی پر ان کے گرد طلبہ جمع ہو گئے اور بہت سے لوگوں نے ان سے تعلیم حاصل کی۔ ان کے شاگردوں میں ابن عبد البر، ابن حزم، علی بن عبد اللہ صقلی، ابو عبد اللہ حمیدی، احمد بن علی بن غزلون، ابو علی بن سکرہ صدفی، ابو بکر طرطوشی، ان کے بیٹے ابو قاسم احمد بن سلیمان، ابو علی بن سہل سبتی، ابو بحر سفیان بن العاص، محمد بن ابی خیر، ابن شبرین، ابو علی جیانی، ابو قاسم معافری، ابن ابی جعفر مرسی اور دیگر شامل ہیں۔

یوں ان کا علم پھیل گیا اور ان کا مرتبہ بلند ہو گیا۔ امرا نے ان پر فراخ دلی سے عطیات کیے، انھیں اپنی مراسلات میں شامل کیا اور اندلس کے مختلف مقامات، مثلاً اَریولہ میں انھیں منصبِ قضا سونپا۔ ان کے اور ابن حزم کے درمیان علمی مجالس اور مناظرے بھی منعقد ہوتے رہے۔ ابن بشکوال نے ذکر کیا ہے کہ ابو الولید نے خطیب بغدادی سے روایت کی اور خطیب بغدادی نے بھی ان سے روایت کی۔[14] [15]

تصانیف

[ترمیم]

ابو الولید الباجی کی متعدد تصانیف ہیں، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:

  • الاستيفاء في شرح الموطأ
  • المنتقى شرح الموطأ (یہ الاستيفاء کا اختصار ہے)؛ بعد میں المنتقى کو مختصر کر کے اپنے کتاب الإيماء میں پیش کیا
  • السراج في علم الحجاج ومسائل الخلاف (نامکمل)
  • المقتبس من علم مالك بن أنس (نامکمل)
  • المهذب في اختصار المدونة
  • شرح المدونة
  • اختلاف الموطأ
  • مسألة اختلاف الزوجين في الصداق
  • مختصر المختصر في مسائل المدونة
  • إحكام الفصول في أحكام الأصول
  • الحدود في أصول الفقه
  • الإشارة في أصول الفقه
  • المنهاج في ترتيب الحجاج
  • تبيين المنهاج والتسديد إلى معرفة طريق التوحيد
  • کتاب تفسیر القرآن (نامکمل)
  • فرق الفقهاء
  • الناسخ والمنسوخ (نامکمل)
  • السنن في الرقائق والزهد والوعظ
  • التعديل والتجريح لمن خرج عنه البخاري في الصحيح
  • کتاب مسح الرأس[11]
  • کتاب غسل الرجلين
  • کتاب نصائح لولديه
  • رسائل: تحقيق المذهب، المعاني في شرح الموطأ، سنن الصالحين وسنن العابدين، سبل المهتدين[16]

وفات

[ترمیم]

ابو ولید باجی رات 19 رجب 474ھ کو المريہ میں وفات پا گئے، ۔ ان کی نمازِ جنازہ ان کے بیٹے ابو قاسم احمد نے پڑھائی۔[17]

کتابیات

[ترمیم]
  • أبو القاسم خلف بن عبد الملك ابن بشكوال (1989)۔ الصلة۔ دار الكتاب المصري، القاهرة - دار الكتاب اللبناني، بيروت۔ ISBN:977-1876-19-8
  • ابن فرحون (1972)۔ الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب۔ مطبعة المدينة

مزید دیکھو

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12587216k — بنام: Sulaymān ibn H̱alaf al- Bāǧī — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب Diamond Catalog ID for persons and organisations: https://opac.diamond-ils.org/agent/12151 — بنام: Sulaymān ibn H̱alaf al-Bāǧī
  3. ^ ا ب پ https://web.archive.org/web/20210526075729/https://dbe.rah.es/biografias/59412/abu-l-walid-al-bayi — سے آرکائیو اصل
  4. ^ ا ب عنوان : The Oxford Handbook of Islamic Theology — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس — صفحہ: 233 — https://dx.doi.org/10.1093/OXFORDHB/9780199696703.001.0001ISBN 978-0-19-969670-3 — Diamond Catalog ID for persons and organisations: https://opac.diamond-ils.org/agent/12151 — بنام: Sulaymān ibn H̱alaf al-Bāǧī
  5. عنوان : Ibn Ḥazm of Cordoba, The Life and Works of a Controversial Thinker — https://dx.doi.org/10.1163/9789004243101ISBN 978-90-04-24310-1
  6. ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریسhttps://dx.doi.org/10.1093/OXFORDHB/9780199696703.001.0001ISBN 978-0-19-969670-3The Oxford Handbook of Islamic Theology
  7. The biographical dictionary of the Society for the diffusion of useful knowledge, Volume 1, Longman, Brown, Green, and Longmans, 1842, p. 204
  8. ابن بشكوال 1989, p. 317
  9. ابن بشكوال 1989, p. 320
  10. ابن فرحون ج1 1972, p. 377
  11. ^ ا ب سير أعلام النبلاء للذهبي - أبو الوليد الباجي آرکائیو شدہ 2017-10-07 بذریعہ وے بیک مشین
  12. ابن بشكوال 1989, p. 318
  13. ابن فرحون ج1 1972, p. 378
  14. ابن فرحون ج1 1972, p. 379
  15. أبجد العلوم لصديق بن حسن القنوجي آرکائیو شدہ 2015-04-02 بذریعہ وے بیک مشین "نسخة مؤرشفة"۔ 2 أبريل 2015 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 مارس 2015 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  16. ابن فرحون ج1 1972, p. 384
  17. ابن بشكوال 1989, p. 319

بیرونی روابط

[ترمیم]