مستعلیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مستعلیہ اہل تشیع کے دوسرے بڑے فرقے اسماعیلیہ کی ایک شاخ ہے۔ جس کے دو بڑے گروہ ہیں ایک نزاریہ ہے جو سب سے بڑا گروہ ہے اور تقریباً دو تہائی سے زیادہ اسماعیلیوں پر مشتمل ہے۔ دوسرا مستعلیہ ہے۔

مستعلیہ آئمہ کی اصلی ترتیب یہ ہے۔ اسماعیلی ابتدائی 19 اماموں کے بعد تین مستعلیہ امام ہیں۔

ابتدائی ائمہ[ترمیم]

ائمہ مستعلیہ[ترمیم]

معاذ مستنصرباللہ کے جانشین پر اختلاف کی وجہ سے اسماعیلیہ کے دو گروہ ہو گئے ایک گروہ نے معاذ کے تعین کردہ نزار بن معاذ کو اگلا امام جانا اور دوسرے گروہ نے تخت نشین ہونے والے اگلے فاطمی خلیفہ احمد مستعلی کو ہی امام بنا لیا اسی لحاظ سے وہ مستعلیہ کہلائے۔ یہاں سے مستعلیہ فرقہ نمودار ہوتا ہے جو خود کو دعوت قدیم والا کہتے ہیں۔ ان کے بقیہ امام یہ ہیں۔

20۔احمد مستعلی
21۔امیر بن مستعلی
22۔طیب ابوالقاسم
طیب ابوالقاسم کے بعد مستعلیہ کے دو گروہ ہو گئے۔

  1. مستعلیہ طیبیہ جو طیب ابوالقاسم کو اپنا آخری امام جانتے ہیں اور ان کی غیبت کے قائل ہیں۔ اور لوگوں کی رہنمائی کے لیے ان کے نائبین کے قائل ہیں جو داعی مطلق کہلاتے ہیں۔ جو اس وقت تک 53 کی تعداد میں ہیں۔ مستعلیہ طیبیہ کو بوہرہ جماعت بھی کہتے ہیں۔

آج کل تمام مستعلیہ، مستعلیہ طیبیہ یعنی بوہرہ ہی ہیں۔ یمن اور بھارت میں رہائش پزیر ہیں۔ بعد میں ان کا ایک داعی مطلق میں اختلاف ہو گیا تو یمن میں ان کو سلیمانی بوہرہ کہا جاتا ہے۔ اور بھارت میں داؤدی بوہرہ کہا جاتا ہے۔
بوہرہ میں سے کچھ لوگ سنی ہو گئے جو صغیری بوہرہ کہلاتے ہیں۔
داؤدی بہرہ کے ایک بہت چھوٹے گروہ کو 1980 ء سے ضیاء الدین صاحب کے بطور داعی مطلق اختلافی انتخاب پر علوی بوہرہ کہا جاتا ہے۔

  1. مستعلیہ حافظیہ جو امامت کو اگلے فاطمی خلفاء میں ہی جاری سمجھتے تھے۔ یہ گروہ فاطمی خلفاء کے ختم ہوتے ہی اختتام پزیر ہو گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

ناطق وصی ساتواں امام
آدم شیث[1] نوح
نوح سام ابراہیم
ابراہیم اسماعیل موسی
موسی ہارون عیسی
عیسی شمعون محمد
محمد علی مہدی [2]
  1. بعض اسماعیلی، ہابیل کو آدم علیہ السلام کا وصی سمجھتے ہیں.
  2. یہ تمام اسماعیلی فرقے کا نظریہ ہے۔ البتہ مہدی کون ہے یہ اختلاف ہے۔