اسماعیلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(اسماعیلیہ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اسماعیلی ، اہل تشیع کا ایک فرقہ ہے جس میں حضرت امام جعفر صادق (پیدائش 702ء) کی امامت تک اثنا عشریہ اہل تشیع سے اتفاق پایا جاتا ہے اور یوں ان کے لیئے بھی اثنا عشریہ کی طرح جعفری کا لفظ بھی مستعمل ملتا ہے جبکہ ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ اکثر کتب و رسائل میں عام طور پر جعفری کا لفظ اثنا عشریہ اہل تشیع کے لیئے بطور متبادل آتا ہے۔ 765ء میں حضرت جعفر الصادق کی وفات کے بعد ان کے بڑے فرزند حضرت اسماعیل بن جعفر (721ء تا 755ء) کو سلسلۂ امامت میں مسلسل کرنے والے جعفریوں کو اسماعیلی کہا جاتا ہے جبکہ حضرت موسی بن جعفر (745ء تا 799ء) کی امامت کو تسلیم کرنے والوں کو اثنا عشریہ کہا جاتا ہے۔ اسماعیلی تفرقے والے حضرت علی کے بعد صرف حضرت حسین کی امامت کے قائل ہیں اور یوں امام جعفر الصادق ان کے لیئے اثنا عشریہ اہل تشیع کے برخلاف چھٹے نہیں بلکہ ؛ پہلے حضرت علی ، دوسرے حضرت حسین ، تیسرے زین العابدین{ اور چوتھے محمد الباقر کے بعد پانچویں امام بن جاتے ہیں اور اسماعیل بن جعفرصادق چھٹے ؛ جن کے بعد محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق (746ء تا 809ء) کو ساتویں امام کا درجہ دیا جاتا ہے۔

آغاز

امام جعفر صادق کے بڑے لڑکے اسمعیل سے یہ فرقہ منسوب ہے ان کے مطابق اسمعیل کی وفات 133ھ میں وفات ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے بیٹے محمد پر نص کیا تھا اور امام محمد کے بعد تین ائمہ عبداللہ ، احمد اور حسین ہوئے ۔ یہ تینوں مستورین کہلاتے تھے ۔ یعنی یہ بہت پوشیدہ زندگی بسر کرتے تھے ۔ ان کے خاص خاص نقیبوں کے علاوہ ان کا پتہ کسی کو نہیں معلوم ہوتا تھا ۔ ان کے ناموں میں بھی اختلاف پایا جاتا تھا ۔ حسین نے عسکر مکرم میں 297ھ میں وفات پائی ۔ اس نے اپنی وفات سے پہلے اپنے بیٹے عبداللہ مہدی کو نص کیا ۔ جو مہدی نام سے 297ھ مغرب ( افریقہ ) میں ظاہر ہوا ۔ بالاالذکر مستورین اماموں کے ناموں میں بہت اختلاف ہے ۔

علویوں نے سرتوڑ کوششیں کیں مگر ایسی کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس سے انہیں سیاسی دنیا میں کوئی نمایاں درجہ حاصل کر سکیں اور دعوتوں کو بنی عباس کے مقابلہ کرکے اپنی امامت ثابت کریں ۔ مگر ان کی تحریکوں کو مشرق میں عباسیوں نے کامیاب نہیں ہونے دیا ۔ عباسیوں کے خوف سے اسعیلیوں کی تحریک بھی جو نہایت خفیہ تھی اور اسے مشرق میں کامیاب نہیں ہوئی اور ان کے اماموں کو مستور ہونا پرا ۔ یہی وجہ انہوں نے اس کے لیے مغرب ( افریقہ ) کا انتخاب کیا اور وہاں انہوں نے غیر متوقہ کامیابی حاصل کی ۔

فلسفہ کا اور مذہب

اسلام کے جن فرقوں نے مذہب کو فلسفہ سے متحد کرنے کی کوشش کی ان میں متعزلہ اور اسمعیلہ کو قدامت کا شرف حاصل ہے ۔ لیکن اسمعیلیوں کا عقیدہ دوسرے شیعی فرقوں کی طرح یہ تھا کہ شریعت کے تمام روحانی علوم کا منبع اور سرچشمہ حضرت علیؓ کی ذات ہے ہیں اور آپ کے بعد ان علوم کی وراثت آپ کی اولاد کو ملی ۔ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے امام جعفر صادق تک پہنچے ۔ اسمعیلیوں کی روایت کے مطابق امام جعفر صادق نے اس کی اشاعت و تبلغ میں بڑا اہتمام کیا ۔

عقائد

اسمعیلی سات کے عدد کو کامل ہونے کی وجہ سے ایک پرسرار عدد سمجھتے ہیں اور کے عقائد میں اس عدد کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ یہ کہتے ہیں کہ عالم کے مختلف نظاموں میں سات کو بڑا دخل ہے ۔ چنانچہ آسمان ِ زمینیں ، کواکب ، سیارہ ، دریا ، جہنم کے طبقہ ، قران کی قراتیں ، سورۃ فاتحہ کی آیتیں ، انسان کے چہرے کے منافذ ، گردن کے مہرے ، ہفتہ کے دن ، بیت اللہ کے طواف وغیرہ یہ سب سات ہیں ۔ اسی طرح انبیائ مرسلین ، جنہیں اسمعیلی نطقا کہتے ہیں اور ان کے ادوار سات ہیں ۔ ہر ناطق کا ایک قائم مقام ہوتا ہے جو صامت کہلاتا ہے ۔ یہ علم باطن کا وارث ہوتا ہے ۔ اس کے دوسرے نام وصی ، اساس اور سوس بھی ہیں ۔ نبی مرسل کو یہ ناطق اس لیے کہتے ہیں کہ وہ آیت کریمہ ’ ہذا کتابنا ینطق علیکم بالحق ‘ ایک نئی کتاب اور شریعت خدا کی طرف سے لاتا ہے ۔ وصی کو صامت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ تاویل بیان کرتا ہے ۔ ظاہر کے بارے میں خاموشی اختیار کرتا ہے یعنی ظاہر بیان نہیں کرتا ہے ۔

ولایت

معرفت کی طرح ہر مومن اپنے زمانے کے امام کی ولایت بھی فرض ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسمعیلی اسلام کے سات دعائم شمار کرتے ہیں ۔ یعنی ولایت ، طہارت ، صلوۃ ، زکواۃ ، روزہ حج اور جہاد ۔ ان سب میں اول درجہ ولایت ہے ۔ یعنی ولایت کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ، کوئی کیسے ہی اعمال کیوں نہ کرے ۔ لیکن اگر وہ امام کی ولایت کا قائل نہیں تو سارے اعمال بیکار ہیں ۔

مہدی اسمعیلیوں کے لحاظ سے عبداللہ بن حسین ہیں ، جو گیارویں امام اور فاطمین کے ظہور کے پہلے خلیفہ ہیں ۔ اس کے بعد اسمعیلی دعوت کے نو امام ہوئے ، جو ظہور کے امام کہلاتے ہیں ۵۲۵ھ میں ان کے اکیسویں امام طیب ڈھائی برس کی عمر میں دشمنوں کے خوف سے مستور کر دیئے گئے ۔ اس امام کی نسل سے قیامت تک ائمہ یکے بعد دیگر ہوتے رہیں گے ۔ ، جن کا آخری امام قائم القیامہ ہوگا ، جس سے دور کشف کی ابتدا ہوگی ۔ یہ سب ائمہ اولولامر کہلاتے ہیں ، جن کی اطاعت بندگان خدا پر فرض ہے ۔ جب کہ فرقہ نزار کے مطابق مستنصر تک جو کہ اٹھاویں امام ہیں کے بعد نزار انیسواں امام ہے اور ان کے اماموں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اس وقت عبدالکریم آغا خان چہارم فرقہ نزار کے امام ہیں ۔

ناطق

اسمعیلی کے نذدیک پہلے ناطق حضرت آدمؑ تھے ، جنہوں نے خدا کے حکم سے ایک نئی شریعت وضع کی ۔ ان کے بعد حضرت نوحؑ جنہوں نے حضرت آدمؑ کی شریعت کو منسوخ کرکے ایک دوسری نئی شریعت پیش کی ۔ اسی طرح برابر ناطق آتے رہے ۔ ہر ناطق اپنے پیش رو کی شریعت کو منسوخ کرکے اپنی شریعت کی تعلیم دیتا رہا ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ انبیا کی شریعتوں کو منسوخ کرکے ایک جدید شریعت وضع کی ۔ آپ محمد صل اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے حضرت علیؓ پر نص کی ۔ حضرت علیؓ نے حضرت حسنؓ کو اپنا جانشین بنایا ۔

یہ سلسلہ لگاتار امام محمد بن اسمعیل بن جعفر تک پہنچا ، جو ساتویں ناطق اور ساتویں رسول ہیں ۔ جنہوں نے رسول اللہ صلم کی شریعت کے ظاہر کو معطل کرکے باطن کو کشف کیا اور عالم الطبائع کو ختم کیا ۔ یہی مہدی ہیں جن کے ذریعہ زمین عدل و انصاف سے آباد ہوگی ۔ جس طرح ان سے پہلے ظلم و جور سے معمور تھی ۔ یہی یوم آخر ہیں ، انہی کی اطاعت میں نجات اور مخالفت میں ہلاکت ہے ۔

ناطقوں کے مبعوث ہونے اور ان کی شریعتوں کے منسوخ ہونے کا حوالہ عام تاریخ میں پایا جاتا ہے اور اس کی تصدیق فاطمین مصر کے مشہور امام معز کی دعاؤں سے ہوتی ہے ۔ ان دعاؤں کو اسمعیلی بہت متبرک سمجھتے ہیں ، یہ سات دعائیں ہیں ۔ ہر دن کے لیے ایک دعا ہے ، جس میں ایک ناطق اور اس کے وصی اور آئمہ کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے ۔

امام

سوائے کسانیہ اور زیدیہ کے کل شیعی فرقوں کے اعتقاد کے لحاظ سے سچے امام کی دو بڑی شرطیں ہیں ۔ ایک یہ وہ فاطمی ہو اور دوسری اس کے پیش رو نے اس پر نص بھی کی ہو ۔ شیعی امام کی جامع اور مانع تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ وہ زمین پر خدا کے خاص منتخب نمائندے ہیں جنہیں اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے رہنما بنایا ہے اور مانوق الطبعیت قوتوں سے سرفراز کیا ہے اور جنہیں مومنین سے بیت لینے کا حق کسی انتخاب اور امت کے اجماع سے نہیں بلکہ برا راست خدا سے حاصل ہے ۔ غرض کہ شیعہ آسمانی حق و اصول کے قائل ہیں جو جمہوری انتخاب کے اصول سے مخالف ہے ۔

امام علم خدا کا خازن اور علم نبوت کا وارث ہے ۔ اس کا جوہر سمادی اور اس کا عالم علوی ہے ۔ اس کے نفس پر افلاک کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے ۔ کیوں کہ اس کا تعلق اس عالم سے ہے جو خارج از افلاک ہے ۔ اس میں اور دوسرے بندگان خدا میں وہی فرق ہے ، جو حیوان ناطق اور غیر حیوان ناطق میں ہے ۔

ہر زمانے میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے ۔ زمین کبھی امام سے خالی نہیں رہے سکتی ہے ، ورنہ متزلزل ہوجائے ۔ اماموں کا سلسلہ روز قیامت تک حضرت فاطمہؓ کی نسل سے جاری رہے گا ۔ باپ کے بعد بیٹا خواہ وہ عمر میں بڑا ہو یا چھوٹا ہو ، بالغ ہو نابالغ امام ہوتا رہے گا ۔ سوائے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے جو ایک خاص صورت ہے ۔ امام کو ہی دنیا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے ۔ دوسرے سب احکام غاسب اور متغلب ہیں ۔ کبھی امام ظاہر ہوتا ہے اور کبھی اپنے دشمنوں کے خوف سے چھپ جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں اس کے نائب جنہیں داعی کہتے ہیں اس کے قائم مقام ہوتے ہیں ۔

امام کی خصوصیات

امام معصوم ہوتا ہے اس سے کوئی خطا نہیں ہوسکتی ہے ۔ ہر حالت میں اس کے حکم کی تعمیل لازم ہے خواہ اس میں کوئی حکمت نظر نہیں آئے یا نہ آئے ۔

امام غیب اور آنے والے حوادث سے واقف ہوتا ہے اور شریعت کے تمام علوم جانتا ہے ۔ خصوصاً قران کے حروف مقطعات کے اسرار سے سوائے امام کے کوئی دوسرا واقف نہیں ۔

ہر مومن پر اپنے زمانے کے زندہ امام کی معرفت واجب ہے ، اگر وہ چل بسے اور اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے ۔

امام اپنے رائے سے نہیں بلکہ خدا کے الہام سے اپنا خلیفہ مقرر کرتا ہے ۔ امام کے بعد اس کا بیٹا ہی امام بنتا ہے ، چاہے وہ چھوٹا ہو کہ بڑا ۔

امامت کا سلسلہ باپ کے بعد بیٹے کا دنیا ختم ہونے تک جاری رہے گا ، ہر زمانے میں امام کا ہونا ضروری ہے اور اس کے وجود سے دنیا میں برکت برقرار ہے ۔

امام کبھی ظاہر ہوتا ہے اور کبھی دشمنوں کے خوف سے مستور اور اس کی نیابت اس کے داعی کرتے ہیں ۔ جن پر ہمشیہ اس کی تائید ہوتی رہتی ہے ۔

امام اپنے پیروں کی جان و مال کا مالک ہوتا ہے اور ان کے متعلق جیسا چاہے ویسا ہی احکام نافذ کرسکتا ہے ۔

قیامت کے دن قایم القیامہ ظاہر ہوں گے جو اس زمانے کی تمام حکومتوں کو مغلوب کر کے اپنی حکومت قائم کریں گے ۔ قیامت کی ابتدا امام محمد بن اسمعیل سے ہوگئی ہے اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر شریعت معطل کردی ہے ۔

معرفت کی طرح ہر مومن اپنے زمانے کے امام کی ولایت بھی فرض ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسمعیلی اسلام، کے سات دعائم شمار کرتے ہیں ۔ یعنی ولایت ، طہارت ، صلوۃ ، زکواۃ ، روزہ حج اور جہاد ۔ ان سب میں اول درجہ ولایت ہے ۔ یعنی ولایت کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ، کوئی کیسے ہی اعمال کیوں نہ کرے ۔ لیکن اگر وہ امام کی ولایت کا قائل نہیں تو سارے اعمال بیکار ہیں ۔

مہدی اسمعیلیوں کے لحاظ سے عبداللہ حسین ہیں ، جو گیارویں امام اور فاطمین کے ظہور کے پہلے خلیفہ ہیں ۔ اس کے بعد طیبی دعوت کے نو امام ہوئے ، جو ظہور کے امام کہلاتے ہیں ۵۲۵ھ میں ان کے اکیسویں امام طیب ڈھائی برس کی عمر میں دشمنوں کے خوف سے مستور کر دیئے گئے ۔ اس امام کی نسل سے قیامت تک ائمہ یکے بعد دیگر ہوتے رہیں گے ۔ ، جن کا آخری امام قائم القیامہ ہوگا ، جس سے دور کشف کی ابتدا ہوگی ۔ یہ سب ائمہ اولولامر کہلاتے ہیں ، جن کی اطاعت بندگان خدا پر فرض ہے ۔

نصف و توقیف

شیعوں کے تمام فرقوں کی طرح اسماعیلی بھی باشاہوں کے خدائی حق کے قائل تھے ۔ ان کہنا ہے کہ آدم کو اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا اور بندوں کو اختیار نہیںہے کہ وہ کسی کو خلیفہ مقرر کریں ۔ اللہ نے آدم کو حکم دیا وہ اپنا جانشین مقرر کرے ۔ اس طرح ان کا قائم مقام بھی خدا کا خلیفہ کہلاتا ہے ۔ خدا کی خلافت ہمیشہ زمین پر قائم رہےتی ہے اور یہ کبھی منقطع نہیں ہوتی ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ روئے زمین پر جاری رہتا ہے ۔ کسی امام کا اپنا جانشین مقرر کرنا نص و توقیف کہلاتا ہے ۔ بغیر نص و توقیف کے کسی امام کا قیام جائز نہیں ہے ۔ اس میں بندوں کی رائے اور اجماع کا کوئی دخل نہیں ہے ۔

اور شیعی فرقوں کی طرح اسمعیلیوں میں نصف و توقیف کا اصول بہت اہم ہے ۔ جس میں خلافت کا قیام اجماع امت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بلکہ یہ اختیار خود اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اللہ تعلیٰ نے اپنا رسول بنایا اور آپ نے خدا کے حکم سے حضرت علی کو اپنا خلیفہ مقرر کیا, ۔ کسی خلیفہ کی خلافت بغیر نص و تو قیف کے درست نہیں ہوسکتی ہے ۔ علاوہ اس اصول کی بنیادی امتیاز حضرت فاطمہ کی نسل سے ہر زمانے میں ایک امام کے ضرورت ہے ۔ خواہ وہ ظاہر ہو یا کسی مصلحت سے مستور ہو ۔ باپ کے بعد بیٹا خواہ وہ عمر میں بڑا ہو یا چھوٹا ہو ، بالغ ہو نابالغ امام ہوتا رہے گا ۔ سوائے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے جو ایک خاص صورت ہے ۔ امام کو ہی دنیا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے ۔ دوسرے سب احکام غاسب اور متغلب ہیں ۔

فاطمین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بنایا اور انہیں حکم دیا کہ علیؓ کو اپنا خلیفہ بنائیں اور حضرت علیؓ نے اللہ کے حکم سے خلافت کی امانت ہماری طرف منتقل کی ۔ لہذا ہم اللہ کے خلیفہ ہیں اور ہم دنیا میں مذہبی و سیاسی حکمران ہیں ۔

آسمانی حق کا تصور

کہا جاتا ہے کہ آسمانی حق اور خاندانی حکومت ایسے تصورات جن کی طرف عرب کی ذہنیت مائل نہیں تھی ۔ اس کے بخلاف ایرانی حق آسمانی کو اہم سمجھتے تھے ۔ جن کے یہاں حکومت ایک خاندان میں محدود رہتی تھی ۔ ساسانی بادشاہ اپنے آپ کو دیوتا یا ربانی وجود سمجھتے تھے ۔ قدیم کیانی خاندان کی اولاد ہونے ساتھ اپنے کو حکومت اور فر کیانی کا جائز وارث سمھتے تھے ۔ ساسانیوں کے عہد میں حق آسمانی کا عقیدہ جس عمومیت اور جوش کے ساتھ ایران میں پھیلا اس کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی ہے ۔

ائمہ کے جو غلو آمیز عقیدے پھیلے ان کا بانی یمن کا عبداللہ بن سباتھا ۔ جس نے حضرت علیؓ کو ’ انت انت ‘ یعنی تم خدا کہا ۔ یہ یہودی تھا اس لیے حضرت موسیؑ کے وصی یوشع بن نون کے متعلق یہی عقیدہ رکھتا تھا ۔ آسمانی حق اور تناسخ وغیرہ جیسے ایرانی خیالات کے یمن میں شائع ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ایرانیوں نے عام الفیل یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے سال یمن فتح کیا تھا ۔ اسمعیلوں کے دور کشف ، دور فترت ، دور ستر اور جہنم اور نفوس کی جزا اور سزا کے مسائل کم و بیش ہندی فلسفے سے ملتے جلتے ہیں ۔ اگرچہ بعض مسائل میں اسمعلیلیوں نے جدت بھی دیکھائی ہے ۔

دعوت

اسمعیلیوں نے اپنی سیاسی عمارت کی بنیاد مذہب پر رکھی تھی ۔ جسے وہ دعوت کہتے تھے ۔ مہدی سے مستنصر کے زمانے تک ان کی مذہبی سرگرمیں جاری رہیں ۔ لیکن مستنصر کے دور میں ہی اس کی قوت گھٹنے لگی ۔ مستنصر کی وفات کے بعد خود اسمعیلیوں کے دو فرقے ہوگئے ۔ مستعلیوں نے آمر کے قتل کے بعد اپنی دعوت یمن منتقل کردی ، نزاریوں نے ’ الموت ‘ کو اپنا مستقر بنایا ۔ دروزی جو حاکم کو خدا مانتے تھے مصر چھوڑ کر لبنان منتقل ہوگئے ۔ اس طرح اسمعیلیوں کی قوت جو ایک مرکز پر تھی منتشر ہوگئی ۔ اسمعیلیوں کے دعوت کے اس اصول کے مطابق امامت باپ کے بعد منتقل ہونی چاہیے ۔ لیکن آمر کے بعد اس کا چچا ذاد بھائی حافظ امام بن گیا ۔ گو مستعلوی کہتے ہیں کہ آمر کے قتل کے بعد اس کا ڈھائی سالہ بیٹا طبیب حقیقی امام جو نزاریوں کے خوف سے چھپادیا گیا ۔ اس وجہ سے بھی بہت سے اسمعیلیوں کے خیلات بدل گئے اور اسمعیلیوں کی قوت کو ضعیف پہنچا ۔

باطنی

اسمعلیوں کی کتابوں میں ظاہر شریعت کے تعطیل کے معتدد حوالے ملتے ہیں ۔ امام معز کی دعا میں جو تعطیل کا لفظ ہے اس کے معنی تبدیل و منسوخ کے ہیں ۔ علاوہ اس کے شریعت محمدی کا مقابلہ انبیا سابقین سے کیا ہے ، جن کا ظاہر منسوخ کردیا گیا ہے ۔ غرض کہ ساتویں رسول محمد بن اسمعیل بن جعفر الصادق کے جو قائم و سبع اور یوم القیامۃ و البعث ہیں ظاہری شریعت معطل ہوگئی ہے اور ظاہر شریعت شروع ہوئی ۔ گویا چھٹا جسمانی دور ختم ہو کر ساتویں روحانی دور کی ابتدا ہوئی ، اب ظاہری اعمال یعنی نماز ، روزہ وغیرہ کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ کیوں کہ تاویلیں ظاہر کردی گئیں ہیں ۔ ممثولات کی معرفت اور ولایت ( محبت ) کافی ہے ۔

امام معز کی دعاؤں کا حوالہ اور شرح جلیل قدر داعیوں نے کیں ہیں ۔ امام محمد بن اسمعیل کے بعد جو چودہ امام ان کی نسل سے ہوئے اور روز قیامت تک ہوں گے ۔ ان کو امام معز نے اپنی دعاؤں میں امام محمد بن اسمعیل کے خلفائے راشدین کہا ہے ۔ امام مزکور سے قائم کا روحانی دور شروع ہوا ہے ۔ اس دور کے اماموں میں سے جس کو موقع ملے وہ قائم کی حثیت سے ظاہرہو کر عدل و انصاف سے حکومت کرے گا ۔ قیامت تک جو امام ہوں گے ان کی گنتی میں بھی اختلاف ہے ۔

امام معز کی دعاؤں سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم اسمعیلوں کا عقیدہ یہ ہے کہ امام محمد بن اسمعیل کے عہد سے ظاہری اعمال اٹھ گئے اور علم باطن کا دور شروع ہوا ۔چنانچہ قدیم اسمعیلی فرقہ مثلاً قرامطہ اور نزاری بھی یہی عقدہ رکھتے تھے ۔ بلکہ انہوں نے کھلاکھلم اپنا عقیدہ ظاہر کیا ۔ امام مہدی اور ان کے جانشینوں اس قسم کے عقیدے ظاہر نہین کئے ۔ اس کی وجہ مستشرق اولیری نے یہ بتائی کہ ان حکمرانوں کو مصر و شام پر مستقل حکومت کرنے کا موقع ملا اور ان ممالک میں اکثریت اہل سنت کی تھی ۔ اس لیے انہوں نے صرف ایسے عقیدے ظاہر کئے جو ان کی رعایا سے ملتے جلتے تھے ۔ مہدی اور اس کے خلفائ نے باطن کی تعلیم تو دی لیکن اس کے ساتھ اس امر پر بھی زور دیا کہ کہ باطن کے ساتھ ظاہر بھی ضروری ہے ۔ ظاہری اعمال دور کشف میں قائم القیامۃ ہی اٹھائیں گے ۔

اس مقام پر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے باطن کی تعلیم ہر کس و ناکس کو نہیں دی جاتی تھی ، بلکہ اس میں سننے والے کے استعداد اور وقت کے مقتضاد کا بڑا لحاظ کیا جاتا تھا ۔ دعوتوں کی مجلسیں صرف قیصر ہی میں پوشیدہ مقام پر ہوا کرتی تھیں ۔ مبتدی صرف ظاہر کی تعلیم سے مستفید ہوا کرتے تھے ۔

علامہ مجلسی کی روایت ہے کہ امام جعر صادق نے اسمعیل کو اپنا جانشین بنایا تھا ۔ لیکن ایک موقعہ پر وہ شرع عمل کے مرتب ہوئے ۔ یہ دیکھ کر ان کے والد برا فروختہ ہوئے اور امامت کے عہدہ موسیٰ کاظم کی طرف منتقل کردیا ، فرقہ اسمعیلیہ نے نہیں مانا اور تاویل کی کہ اسمعیل کا ایسا کرنا ان کی اعلیٰ روحانیات کا ایک ثبوت ہے ، کیوں کہ وہ ظاہر شریعت کے پابند نہ تھے بلکہ باطن کے قائل تھے ۔ یہ اسمعیلیوں کے اس رجحان کی مثال ہے جو تاویل یعنی باطنی شریعت کی طرف ہے ۔

اسمعیلی دعوت کے درجات

عہدہ حجت امور
صدر دعوت ( 1 ) نبی

( 2 ) نبی کے بعد وصی جس کا دوسرا نام صامت ہے ( 3 ) وصی کے بعد امام

ظاہر شریعت کی تعلیم

باطنی علوم کی تعلیم ظاہری شریعت کی حفاظت باطنی علم کی تعلیم ۔

بارہ باطنی مدگار

ان میں امام کا خاص اور اول مدد گار شامل ہے جسے داعی البواب کہتے ہیں

پہلی حجتیں یہ لوگ امام کی خدمت میں رہتے ہیں اور ان پر جہاد فرض نہیں ہے ۔
بارہ ظاہری مدگار نہاری حجتیں ظاہری شریعت کی تعلیم ۔ بارہ زجزیروں میں زمین کی تقسیم کی جاتی ہے اور ہر جزیرے میں ایک حجت کو پھیجاجاتا ہے ۔ نہاری حجتوں پر جہاد فرض ہے ۔
مبلغین جو نبی یا وصی یا امام کی طرف سے مختلف شہروں میں تبلیغ کے لیئے بھیجے جاتے ہیں ۔ داعی البلاغ ظاہری شریعت کی حفاظت اور باطنی علوم کی تعلیم امام کی غیبت کے زمانے میں جو داعی اس کا قائم مقام ہوتا ہے ، اسے داعی مطلق کہتے ہیں ، اسے کل اختیارات ہوتے ہیں ۔ سب داعیوں کے صدر کو داعی الدعاۃ کہتے ہیں ۔
داعی کا اول مددگار ماذوں مستجب سے عہد میثاق لینا
داعی کا دوسرا مددگار مکاسر مستجب کے پہلے مذہب کو باطل ٹہرانا اور اپنا ،ذہب ثابت کرنا ۔

بعض اوقات نئے عہدے مثلاً لاحق ، جناح ، لومصہ ، مکلب ، رفیق اور داعی محصور وغیرہ بھی قائم کئے جاسکتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اسمعیلی دعوت کا حقیقی بانی ایک ایرانی داعی ابو شاکر میمون القداح یا اس کا بیٹا عبد اللہ تھا ۔ دونوں مختلف ادیان اور یونانی فلسفہ کا ماہر تھے ۔

اسمعیلیوں کے مخصوص مذہبی علم

علم تفصیل
( 1 ) فقہ اسمعیلی فقہ میں قیاص اور رائے کو بالکل دخل نہیں ہے ، اجتہاد گمراہی کا راستہ ہے ۔ ہر شریعی حکم نص قطی کا محتاج ہے ،
( 2 ) تاویل اس فن میں سب سے معتبر تصنیفیں قاضی القضاۃ نعمان بن محمد کی ہیں ۔ علم تاویل کو علم باطن بھی کہتے ہیں ۔ ان میں وہ اسرار ہیں جو عوام کو نہیں بتائے جاتے ہیں ۔ اسمعیلیوں میں بھی جو ایک خاص درجہ تک پر پہنچتا ہے وہی ان پر مطلع ہوسکتا ہے ۔
( 3 ) فلسفہ تاویل کے ختم ہوجانے پر مذہبی فلسفہ کی تعلیم دی جاتی ہے جسے اسمعیلی اپنی اصطلاح میں ’ حقیقت ‘ کہتے ہیں ۔ اس فن میں عالم کی ابتدا ، انتہا ، قیامت ، بعث ، حشر وغیرہ کے مثائل بیان کئے جاتے ہیں ۔

علم حقیقت ( یا حقائق ) میں سب سے اہم اور مستند کتاب ’ اخوان الصفا ‘ ہے ۔ اس کے آخری رسالہ جو ’ جامعہ ‘ نام سے مشہور ہے ۔ اس میں تاویل و حقائق کے بنیادی مسائل بیان کئے گئے ہیں ۔

اسمعیلی فرقے

اسمعیلی دعوت کی ابتد کو بارہ صدیاں سے زیادہ گزر چکی ہےں ۔ اس طویل مدت میں کئی مذہبی اور سیاسی بتدیلیاں ہوئیں ۔ جس کی وجہ سے اس میں مختلف فرقہ پیدا ہوئے ، اس لیے اصل عقیدے میں تبدیلیاں ہوچکی ہیں ۔ ہر فرقہ نے علحیدہ اعتقاد اختیار کیا ۔ اس وقت جو اسمعیلی ہیں ان میں بعض امام کو خدا مانتے ہیں جیسے دروزی ۔ بعض صرف باطن ہی کے قائل ہیں جیسے نزاری جو عام طور پر خوجے کہلاتے ہیں اور بعض باطن سے ساتھ ظاہر کے بھی پابند ہیں جیسے داودی اور سلیمانی ۔

مصر میں اکثریت اہل سنت کی تھی ۔ اسمعیلیوں کے بعد مذہب شیعی مذہب پستی میں چلا گیا ۔ اسمعیلی ہوں خوا اثنا عشری انتہائی پستی میں چلا گیا ۔ اسمعیلی تو ناپید ہوگئے اور شیعہ بھی مصر میں بہت کم ہیں ۔ اسمعیلی اس وقت ہندوستان ، پاکستان ، یمن ، لبنان ، شام اورایران کے بعض دیہات میں پائے جاتے ہیں ۔

ماخذ ڈاکٹر زاہد علی ۔ تاریخ فاطمین مصر

دیگر نام

حوالہ جات