اسلامی فلسفے میں منطق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

منطق کا اسلامی فلسفے میں اہم کردار رہا ہے۔ اسلامی قانون دلائل و براہین کی تشکیل کو خاص اہمیت دیتا ہے، جس نے علم کلام میں منطق کو غیر معمولی اہمیت دی۔ لیکن بعد میں یہ طرز نظر اپنی اہمیت کھو بیٹھا، اس کی وجہ قبل از اسلام کے یونانی و ہیلینیائی فلسفیانہ خیالات اور معتزلی فلسفی تھے جن کے پاس انتہائی قابل قدر ارسطوی ارغنون تھی، یہ اثرات عرصۂ دراز تک قائم رہے۔ قرون وسطی کے یورپ میں ارسطوی منطق کے استقبال میں ہیلینیائی کے زیر اثر اسلامی فلسفیوں کے کام کے ساتھ ساتھ ابن رشد کی طرف سے ارسطوی منطق کی شرحوں کا بہت اہم کردار تھا۔ فارابی، ابن سینا، غزالی اور فارسی مسلمان منطقین نے ارسطوی منطق پر تنقیدی نگاہ ڈالی، اس کی اصلاح کی اور ذاتی طور پر منطق میں کئی اہم طرز نظر متعارف کرائے۔ نشاۃ ثانیہ کے دوران میں یورپی منطق کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

ملاحظات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  • Rescher, Nicholas 1964. Studies in the History of Arabic Logic، Pittsburgh: University of Pittsburgh Press.
  • Street, Tony 2004. Arabic Logic۔ in: Gabbay, Dov & Woods, John (eds.)،Greek, Indian and Arabic Logic، Volume I of the Handbook of the History of Logic، Amsterdam: Elsevier, pp. 523–596.

بیرونی روابط[ترمیم]

  • "Avicenna (Ibn Sina): Logic"۔ انٹرنیٹ دائرۃ المعارف برائے فلسفہ۔
  • Routledge Encyclopedia of Philosophy: اسلامی فلسفے میں منطق، روتلدگے، 1998ء
  • Muslimphilosophy.com: اسلامی فلسفے میں منطق
  • قدیم اسلامی (عربی و فارسی) منطق اور وجودیات، راول کورزیز پر نظریہ اور تاریخ وجودیات۔