اخباری (اہل تشیع)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اخباری اثنا عشریہ اہل تشیع میں نمودار ہونے والا ایک ذیلی تفرقہ کہا جاسکتا ہے جس میں قرآن، حدیثِ محمد اور حدیثِ امامیانِ عشریہ کی جانب سے آنے والی خبر پر قیام کیا جاتا ہے اور ان کے مطابق کسی دیگر عالم (علما) کے اجتہاد کی اہمیت دینی امور میں محض فتاوی کی حد تک ہی محدود ہوتی ہے نا کہ اس کے برعکس تفرقے اصولی کی طرح علما کو امام کے بارے میں اجتہاد کی اجازت فراہم کی جائے۔ شیعاؤں میں اس تحریک یا تفرقے کی ابتدا کا زمانہ سترہویں صدی (یا اس سے کچھ قبل)۔[1] بیان کیا جاتا ہے اور اس کا مقام ایران تسلیم کیا جاتا ہے ؛ اس زمانے میں وہ علما جو اجتہاد کو رد کرتے تھے ان سے ہی اس کا آغاز ہوا جبکہ سنی تفرقے والوں کے برخلاف (جن کے مطابق اجتہاد کی اب ضرورت باقی نہیں رہی) شیعہ اخباریوں کے خیال میں قرآن اور سنت (جس میں امامیان کی احادیث یعنی خبریں بھی شامل ہیں) تمام اقسام کے مسائل کی وضاحت کے لیے کافی ہیں اور غیبت صغرٰی کے زمانے میں عقل اور اجماع کو استعمال کرتے ہوئے علما کے پاس مذہب میں مداخلت کی گنجائش نہیں [2]

اخباری (اہل تشیع) کے منابع[ترمیم]

  • قرآن کریم
  • احادیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وآئمہ اہلبیت اطہار علیھم السلام[3]

موجودہ اخباری عالم دین[ترمیم]

ماضی کے اخباری عالم دین[ترمیم]

1.شیخ یوسف بحرانی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Islamic law: theory and practice By Robert Gleave, Eugenia Kermeli; I.B.Tauris 2001گوگل کتاب
  2. Transnational Shia Politics By Laurence Louėr; Columbia Uvi Press. 2008 گوگل کتاب
  3. Welcome to Akhbari.com
  4. Welcome to Akhbari.com
  5. syed waheed uddin hyder - YouTube