وحید بہبہانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وحید بھبھانی
کوائف
مکمل ناممحمد باقر بن محمد اکمل اصفہانی
لقب/کنیتوحید عصر
تاریخ ولادت1118 ھ
آبائی شہراصفہان
تاریخ وفات1205 ھ،
مدفنکربلا
نامور اقرباءوالد: سید محمد طباطبایی بروجردی
علمی معلومات
اساتذہوالد: سید محمد طباطبایی بروجردی و سید صدر الدین قمی ہمدانی۔
شاگردملاّ مہدی نراقی • بحر العلوم • ابو علی حائری • سید محمد جواد عاملی • کاشف الغطاء • میرزای قمی • صاحب ریاض • شیخ اسد الله کاظمی • ملا احمد نراقی • شیخ محمد تقی اصفہانی • حاج محمد ابراہیم کلباسی اصفہانی • سید محمد حسن زنوزی خویی •
تالیفاتابطال القیاس • اثبات التحسین و التقبیح العقلیین • الاجتہاد و الاخبار • اصالہ البرائہ • اصالہ الصحہ فی المعاملات و عدمها • الاستصحاب • اصول الاسلام و الایمان • التحفہ الحسینیہ • التعلیقہ البھبھانیہ • التقیہ • حاشیہ ارشاد علامہ • حاشیہ تہذیب علامہ • حاشیہ ارشاد اردبیلی • حاشیہ مسالک الافہام • حاشیہ معالم • شرح مفاتیح الکلام •
خدمات

محمد باقر بن محمد اکمل اصفہانی (1118۔1205 ھ)، وحید بھبھانی کے نام سے مشہور، آقا کے لقب سے ملقب، بارہویں صدی ہجری کے شیعہ امامیہ فقیہ اور اصولی ہیں۔ انہیں وحید عصر کا لقب بھی دیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ استاد اکبر، استاد کل، علامہ ثانی و محقق ثالث جیسے القاب سے بھی مشہور ہیں۔ انہوں نے اخباریت اور شدت پسند اخباریوں سے مقابلہ کیا۔ ان کی فعالیت کی وجہ سے اخباریت زوال پزیر ہوئی۔ وحید بھبھانی نے کربلا میں وفات پائی اور حرم امام حسین (ع) میں دفن ہیں۔

ولادت و نسب[ترمیم]

محمد باقر بھبھانی سن 1118 ع اصفہان میں پیدا ہوئے۔[1] ان کے والد محمد اکمل اصفہانی علامہ مجلسی کے شاگردوں میں سے تھے[2] اور ان کی والدہ آقا نور الدین بن ملا صالح مازندرانی کی بیٹی تھیں۔[3] بعض نے وحید بھبھانی کا سلسلہ نسب شیخ مفید (متوفی 413 ھ) تک پہچایا ہے۔[4] البتہ کیوان سمیعی نے سردار کابلی سے نقل کیا ہے کہ شیخ مفید سے ان کے سلسلہ نسب کا انتساب جعلی ہے۔{حوالہ درکار}

تعلیم و تحصیل[ترمیم]

وحید بھبھانی نے بچپن اور نوجوانی کا زمانہ اصفہان میں بسر کیا۔ علوم عقلی کو اپنے والد کے پاس پڑھا[5] اور ان کے انتقال اور محمود افغان کے اصفہان پر حملے اور قبضے کے بعد وہ اصفہان کو ترک کرکے نجف روانہ ہو گئے۔

نجف میں انہوں نے سید محمد طباطبایی بروجردی (خسر)، سید صدر الدین قمی ہمدانی (شارح وافیہ الاصول) جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔[6]

محمد باقر بھبھانی استاد الکل فی الکل معروف ہیں۔[7]

اقامت[ترمیم]

  • بہبہان

انہوں نے عراق میں تحصیل علم کے بعد بہبہان کا رخ کیا اور 1140 سے 1170 ھ تک تقریبا 30 سال تک وہاں رہائش اختیار کی۔[8]

ان کے بہبہان ہجرت کرنے کے اسباب میں سے مہم ترین سبب اس علاقہ کی پر سکون زندگی تھی جو اصفہان کے حالات خراب ہو جانے کی وجہ سے اہل علم حضرات کی پناہ گاہ میں تبدیل ہو گیا تھا۔ ان کی ہجرت کا دوسرا سبب اخباریت سے مقابلہ کرنا تھا جو اس وقت شیخ عبد اللہ سماہیجی بحرینی (متوفی 1135 ھ) کی ذات کی وجہ سے بہبہان میں رونق حاصل کر رہی تھی اور ان کے بعد ان کے شاگرد سید عبد اللہ بلادی (متوفی 1165 ھ) کے ہاتھوں پروان چڑھ رہی تھی۔[9]

  • کربلا

وحید بھبھانی نے بہبہان میں اخباریت سے مستمر مقابلہ علمی کے بعد اپنے بعض رشتہ داروں اور علاقے والوں کے ساتھ کربلا کا سفر کیا اور وہیں رہایش اختیار کی اور آخر عمر تک وہیں رہے۔[10]

شاگرد[ترمیم]

ان کے بعض شاگردوں کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں:

  • ملا مہدی نراقی (متوفی 1209)
  • سید محمد مہدی طباطبایی مشہور بہ بحر العلوم (متوفی 1212)
  • ابو علی حائری، مؤلف منتہی المقال (متوفی 1215)
  • سید محمد جواد عاملی، مؤلف مفتاح الکرامہ (متوفی 1226)
  • شیخ جعفر نجفی، کاشف الغطاء (متوفی 1228)
  • میرزا ابو القاسم قمی، مؤلف قوانین (متوفی 1231)
  • میر سید علی طباطبایی، مؤلف ریاض المسائل (متوفی 1231)
  • شیخ اسد الله کاظمی، مؤلف مَقابِس الانوار (متوفی 1234)
  • ملا احمد نراقی (متوفی 1245)
  • شیخ محمد تقی اصفہانی، مؤلف ہدایة المسترشدین (متوفی 1248)
  • محمدابراہیم کلباسی اصفہانی (متوفی 1261)
  • سید محمد حسن زنوزی خویی، مؤلف ریاض الجنّة (متوفی 1246)۔[11]

تالیفات[ترمیم]

محمد باقر بھبھانی نے ملا محسن فیض کاشانی کی کتاب مفاتیح الشرایع کے ابواب عبادات پر شرح اور سید محمد عاملی کی کتاب مدارک الاحکام پر حواشی تحریر کیے۔ وہ علم رجال اور حدیث میں بھی تبحر رکھتے تھے۔ علم رجال کی ان کی تحقیقات میں جو انہوں نے کتاب منہج المقال پر تعلیقہ کی صورت میں تحریر کی ہے، سعی کی ہے کہ ان روات کو جن کی وثاقت واضح طور پر ثابت نہیں ہے، انہیں قرائن و شواہد کی مدد سے توثیق کریں۔ اسی وجہ سے وہ متاخرین ماہرین علم رجال کی طرف مورد تنقید بھی قرار پائے ہیں۔[12]

ان کی تالیفات و آثار میں 119 رسائل اور کتابیں باقی ہیں۔ ذیل میں ان میں سے بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے:

  • الحاشیہ علی مدارک الاحکام
  • الرسائل الأصولیہ
  • الرسائل الفقہیہ
  • الفوائد الحائریہ
  • حاشیہ الوافی (بھبھانی)
  • حاشیہ مجمع الفایدة و البرہان
  • رسالہ عملیہ (مع التعلیقات للمجدد الشیرازی)
  • مصابیح الظلام فی شرح مفاتیح الشرایع
  • ابطال القیاس
  • اثبات التحسین و التقبیح العقلیین
  • الاجتہاد و الاخبار
  • اصالہ البرائہ
  • اصالہ الصحہ فی المعاملات و عدمہا
  • الاستصحاب
  • اصول الاسلام و الایمان
  • التحفہ الحسینیہ
  • التعلیقہ البھبھانیہ
  • التقیہ
  • حاشیہ ارشاد علامہ
  • حاشیہ تہذیب علامہ
  • حاشیہ ارشاد اردبیلی
  • حاشیہ مسالک الافہام
  • حاشیہ معالم
  • شرح مفاتیح الکلام۔[13]

اخباریت سے مقابلہ[ترمیم]

آیت اللہ بھبھانی کا اخباریت سے مقابلہ ان کے بہبہان میں طویل اقامت کے ساتھ ہی شروع ہوا۔ بہبہان بہت سے بحرینی علما کی وہاں مہاجرت کی وجہ سے اخباریت کی نشر و اشاعت کا مرکز بن چکا تھا۔ وحید بھبھانی نے وہاں تدریس، اقامہ نماز، دینی امور کی انجام دہی اور سب سے اہم اخباریت کے نظریات کی تبیین و تنقید کے سلسلہ میں کتاب کی تالیف کا کام کیا۔

انہوں نے کتاب الاجتہاد و الاخبار مسلک اجتہاد کے دفاع میں سن 1155 ھ میں بہبہان میں تحریر کی اور اس میں اخباریت کے نظریات پر تنقید کی۔

وحید بھبھانی نے کربلا میں جو اس وقت اخباریوں کا گڑھ تھا، کچھ دن شیخ یوسف بحرانی (1186 ھ جو فقہائے عصر کے سرکردہ اور اخباریت کے آخری نمائندہ تھے) کے درس میں شرکت کی، اس کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ وہ کچھ عرصہ تک شیخ یوسف بحرانی کی جگہ درس دینا چاہتے ہیں اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے شاگردوں سے ان کے درس میں شامل ہونے کی سفارش کریں۔

بحرانی جو معتدل اخباری تھے اور خود ان کے بقول انہوں نے راہ اعتدال و راہ وسط کا انتخاب کیا تھا،[14] وہ علما کی اصولی و اخباری تقسیم بندی اور بزرگ شیعہ مجتہدین کے سلسلہ میں بدگوئی پر تنقید کرتے تھے لہذا انہوں نے اپنے مجلس درس کو جو اس زمانہ میں سے سب سے بڑا مجلس درس تھا، آقا وحید بھبھانی کے حوالے کر دیا اور انہوں نے محض تین دن کے اندر نظریہ اجتہاد کی تبیین اور اخباریوں کے نظریات پر تنقید کے ذریعہ بحرانی کے دو سوم شاگردوں کو اخباریت کے افکار سے نکال کر اپنا ہم خیال بنا لیا۔[15]

محمد باقر بھبھانی 30 سے زیادہ عرصہ کربلا میں رہے اور آخرکار انہوں نے اخباری مسلک کو کنارے کرکے اپنے اجتہادی نظریات کو قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔[16]

اولاد[ترمیم]

ان کے بڑے فرزند آقا محمد علی کرمان شاہ میں مشہور فقیہ تھے۔ ان کے ایک دوسرے بیٹے جن کا نام عبد الحسین تھا، اہل سلوک، ریاضت و مجاہدہ با نفس تھے، والد کی مرجعیت کے زمانہ میں وہ مالی امور اور استفتائات کے ذمہ دار تھے۔[17]

ان کی ایک بیٹی بھی تھی جو میر سید علی طباطبایی (صاحب ریاض) کی زوجہ تھیں اور ان کے بیٹوں میں سے ایک سید محمد مجاہد (متوفی 1242 ھ) صاحب المناہل ہیں جنہوں نے فتح علی شاہ قاجار کے دور میں تزاری روس کے خلاف جہاد کا فتوی صادر کیا تھا۔[18]

وفات[ترمیم]

وحید بھبھانی نے 83 برس عمر پائی اور اواخر عمر میں انہوں نے درس و مباحثہ کو ترک کر دیا تھا اور وہ فقط کربلا میں شرح لمعہ کا درس دیا کرتے تھے۔ انہوں نے حکم دیا کہ ان کے شاگردوں میں سب سے بڑے علامہ سید بحر العلوم نجف لوٹ جائیں اور مستقل طور پر سلسلہ درس و تدریس قائم اور شیعوں کے امور کی رسیدگی کریں۔

آخرکار 29 شوال 1305 ھ میں جمعہ کے روز وفات پائی اور کربلا میں حرم امام حسین (ع) میں شہدائے کربلا کے پائنتی حصہ میں دفن کیے گئے۔[19]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. علیاری، بہجة الامال، ج 6، ص572
  2. قمی، الکنی، ج2، ص97.
  3. بھبھانی، فوائد الوحید، ص64 ؛ بهبهانی، الرسائل، ص28، 196؛ قمی، فوائد، ج2، ص408.
  4. امین، اعیان الشیعہ، ج3، ص136.
  5. بھبھانی، مرآت الاحوال جہان نما، ج 1، ص 147
  6. بھبھانی، مرآت الاحوال جہان نما، ج1، ص147ـ149؛ دوانی، آقا محمد باقر بن محمد اکمل اصفہانی معروف بہ وحید بھبھانی، ص112.
  7. مازندرانی، ج 6، ص 177 ؛ تنکابنی، قصص العلماء، ص 198 ؛ جاپلقی، روضة البہیہ فی طرق الشفیعیہ، ص 31 ؛ بھبھانی، مرآت الاحوال جہان نما، ج 1، ص 146ـ147
  8. بھبھانی، مرآت الاحوال جهان نما، ج1، ص147ـ149.
  9. جزایری، لاجازة الکبیرة، ص205 ـ 206 ؛ بحرانی، لؤلؤة البحرین، ص 93 و 98.
  10. بھبھانی، مرآت الاحوال جہان نما، ج 1، ص 148 ـ 149.
  11. آقا بزرگ طہرانی، طبقات، جزء2، قسم 1، ص 172 ؛ قمی، فوائد، ج 2، ص 406 ؛ بھبھانی، الفوائد الحائریہ، مقدمہ ، ص 19 ـ 20
  12. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج 2، ص 346 و ج 5، ص 129، 133 و ج 7، ص 60 و ج 16، ص 45 ـ 46
  13. مازندرانی، منتہی المقال، ج 6، ص 180ـ182 ؛ بھبھانی، الفوائد الحائریہ، مقدمہ، ص 20 ـ 26
  14. بحرانی، الحدائق، ج 1، ص 15
  15. مامقانی، نقیح المقال، ج 2، ص 285
  16. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج 16، ص 330 ـ 331
  17. بھبھانی، مرآت الاحوال جہان نما، ج 1، ص 168
  18. بھبھانی، مرآت الاحوال جہان نما، ج 1، ص 128، 179 ؛ دوانی، آقا محمد باقر بن محمد اکمل اصفہانی معروف بہ وحید بھبھانی، ص 256 و 272.
  19. بھبھانی، مرآت الاحوال جہان نما، ج 1، ص 51

مآخذ[ترمیم]

  • آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، چاپ علی نقی منزوی و احمد منزوی، بیروت، 1403ق
  • آقا بزرگ طہرانی، طبقات اعلام الشیعہ، مشہد، 1404ق
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، چاپ حسن امین، بیروت، 1403ق
  • بحرانی، یوسف، الحدائق الناضرة فی احکام العترة الطاہرة، قم، 1363ش
  • بحرانی، لؤلؤة البحرین، چاپ محمد صادق بحر العلوم، قم
  • بھبھانی، احمد، مرآت الاحوال جہان‌ نما، قم، 1373 ش
  • بھبھانی، محمد باقر، الرسائل الاصولیہ، قم، 1416ق
  • بھبھانی، محمد باقر، الفوائد الحائریہ، قم، 1415ق
  • بھبھانی، محمد باقر، فوائد الوحید البھبھانی، چاپ محمد صادق بحر العلوم، قم، 1404ق
  • تنکابنی، قصص العلماء، تہران
  • جاپلقی بروجردی شفیعا، روضة البہیہ فی طرق الشفیعیہ، چاپ سنگی، تہران 1280ش
  • جزایری، الاجازة الکبیرہ، چاپ محمد سمامی حائری، قم، 1409ق
  • خوئی، معجم رجال الحدیث، بیروت، 1403ق
  • دوانی، آقا محمد باقر بن محمد اکمل اصفہانی معروف بہ وحید بھبھانی، تہران، 1362ش
  • علیاری، بہجة الامال فی شرح زبدة المقال، چاپ جعفر حائری، تهران، 1366ش
  • قمی، شیخ عباس، فوائد الرضویہ، تہران
  • قمی، شیخ عباس، الکنی و الالقاب، چاپ افسٹ، قم
  • مازندرانی حائری، منتهی المقال فی احوال الرجال، قم، 1416ق
  • مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال، چاپ سنگی، نجف، 1349ق

سانچہ:علمائے رجال