سید ابوالحسن اصفہانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید ابوالحسن اصفہانی
سید ابوالحسن اصفہانی
سید ابوالحسن اصفہانی

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1860  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اصفہان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 5 اکتوبر 1946 (85–86 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فقیہ،  الٰہیات دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

سید ابوالحسن اصفہانی (ولادت 1284 وفات 1365 ہجری)، نامی گرامی فقیہ امامیہ اور مرجع تقلید شیعیان عالم اور وسیلۃ النجاۃ و صراط النجاۃ جیسی کتب کے مؤلف ہیں۔ وہ آخوند خراسانی کے شاگرد خاص تھے اور ان کے اپنے شاگردوں میں میرزا حسن بجنوردی، سید محمود شاہرودی، سید محسن حکیم، سید ہادی میلانی، سید محمد حسین طباطبائی اور محمد تقی بہجت فومنی جیسے اکابرین شامل ہیں۔ ان کے بعض مشہور اساتذہ میں ملا محمد کاشانی، سید محمد باقر دُرچہ ای، جہانگیرخان قشقائی، میرزا حبیب اللہ رشتی، سید محمد کاظم طباطبائی یزدی (صاحب عروۃ الوثقی)، فتح اللہ شریعت اصفہانی۔

سید اصفہانی آخوند خراسانی کی مانند آئینی حکومت کے اصولوں اور استبدادیت کی طاقت کو محدود کرنے کے قائل تھے۔ وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ سیاسی معاملات ـ بالخصوص آئینی حکومت کی تحریک ـ میں موقف اپناتے تھے۔ علاوہ ازیں حتی کہ ان کی وفات بھی ایک سیاسی تحریک کی صورت میں بدل گئی اور نومبر 1946ء میں ان کے جنازے میں عوام کی بڑی شرکت آذربائیجان میں ڈموکریٹ فرقے کی شکست میں مؤثر رہی۔

سید ابوالحسن اصفہانی کی زندگی کے اہم واقعات و حادثات میں سے ایک ان کے بیٹے سید حسن کا قتل تھا۔ سید حسن جو لوگوں کی مالی امداد کی درخواستیں اپنے والد کو پہنچانے کا ذریعہ تھے، سنہ 1349 ہجری کو قتل کیے گئے۔ گوکہ سید ابوالحسن نے قاتل کو بخش دیا اور اس کے قصاص سے چشم پوشی کی۔

جائے ولادت[ترمیم]

سید ابوالحسن اصفہانی سنہ 1284 ہجری میں، صوبہ اصفہان کے شہر لنجان کے نواحی گاؤں "مدیسہ" میں پیدا ہوئے؛۔[1] ان کے آباء و اجداد بہبہان کے موسوی سادات میں سے تھے جن کا سلسلۂ نسب 31 واسطوں سے موسی بن ابراہیم بن امام موسیٰ کاظم تک پہنچتا ہے۔[2] وہ ضلع دنا، صوبہ کہگیلویہ و بویراحمد میں مدفون امام زادہ محمود طیار کی اولاد و احفاد میں سے ہیں۔ ان کے والد سید محمد (ولادت کربلا)۔[3] (مدفن: خوانسار)۔[4] ہیں جو لنجان میں رہائش پزیر تھے۔

ان کے جدّ سید عبد الحمید ـ جو بہبہان میں پیدا ہوئے تھے اور اصفہان میں مدفون ہیں ـ علمائے دین اور صاحب جواہر شیخ محمد حسن نجفی اور شیخ موسی کاشف الغطاء کے شاگرد تھے۔ انھوں نے نہ صرف اپنے استاد شیخ موسی کے فقہی دروس کی تقریرات کو تالیف کیا ہے بلکہ محقق حلی کی کتاب شرائع الاسلام پر شرح تحریر کی ہے۔۔[5][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سید محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ، ج2، ص231.
  2. وجیزه در زندگانی آیة الله اصفهانی، ص12-13۔
  3. اعیان الشیعة، ج2، ص332۔
  4. وجیزه در زندگانی آیةالله اصفهانی، ص13-14۔
  5. الذریعه، ج13، ص325۔
  6. تذکرة القبور یا دانشمندان و بزرگان اصفهان، ص38۔