مندرجات کا رخ کریں

قاضی بیضاوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بیضاوی سے رجوع مکرر)
قاضی بیضاوی
(عربی میں: عبد الله بن عمر بن محمد بن علي الشيرازي)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 13ویں صدی[2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صوبہ فارس ،  اردکان (فارس)   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1286ء (84–85 سال)[3][1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تبریز [4]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ایل خانی سلطنت   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ حاکم فوجداری ،  الٰہیات دان ،  فلسفی ،  قاضی ،  مفسر قرآن [1]،  مفسرِ قانون [5]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [2]،  فارسی [6]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تفسیر قرآن ،  الٰہیات [7]،  مطالعہ مذہب [7]،  قانون [7]،  فلسفہ [7]  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں تفسیر بیضاوی ،  طوالع الانوار من مطالع الانظار (کتاب)   ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

قاضی بیضاوی (جنہیں ناصر الدین بیضاوی بھی کہا جاتا ہے؛ وفات جون 1319ء،) ایک فقیہ، متکلم اور مفسرِ قرآن تھے۔ انھوں نے سلجوقی دور کے بعد اور ابتدائی منگول عہد میں اپنی زندگی گزاری ۔ وہ کئی کلامی رسائل کے مصنف بھی تھے اور ان کے کام پر بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں۔[8] وہ سلغوریوں کے دور میں رہے۔ اس دور میں ایرانی خطہ ایک پناہ گاہ تھا کیونکہ سلغوریوں کے منگولوں کے ساتھ تعلقات اچھے تھے۔ اسی وجہ سے یہ خطہ علما کا پسندیدہ اور محفوظ علاقہ بن گیا۔ انھوں نے یہاں آنے والے دیگر علما سے بھی استفادہ کیا۔ ان کی زندگی کے بارے میں تفصیلات ان کی کتاب "الغایۃ القصویٰ" میں دستیاب ہیں۔[9] بیضاوی کی واحد فارسی تصنیف "کتاب نظام التواریخ" ایران کی نسلی و قومی تاریخ کو پیش کرنے والی پہلی تاریخی کتاب ہے۔[10]

سوانح

[ترمیم]

بیضاوی کا تعلق بیضا سے تھا (جہاں سے ان کی نسبت ماخوذ ہے)، جو جنوبی ایران کے علاقے فارس کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔[11] 1148ء سے یہ خطہ سلغوریوں کے زیرِ اثر تھا، جو ترکمان نژاد ایک خاندان تھا اور وہ 1282ء میں اپنے زوال تک سلجوقوں، خوارزم شاہیوں اور منگولوں کے باجگز ار کے طور پر حکومت کرتے رہے۔[12] بیضاوی کی تاریخِ پیدائش نامعلوم ہے، تاہم ان کے علمی کیریئر کی کامیابیوں کا جائزہ لینے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سلغوری اتابک (حکمران) ابوبکر بن سعد (دورِ حکومت: 1226–1260ء) کے عہد میں کسی وقت پیدا ہوئے تھے۔ اس دور میں فارس میں ثقافت کو خوب فروغ حاصل ہوا؛ ابوبکر نے بہت سے ہسپتالوں اور اعلیٰ درجے کے مذہبی اداروں کی تعمیر کا حکم دیا جنھوں نے کثیر تعداد میں علما کو اپنی طرف راغب کیا۔[11]

فارس کی اکثریتی آبادی کی طرح، بیضاوی بھی شافعی مذہب کے ایک سنی مسلمان تھے۔[13] بیضاوی کی تعلیم و تربیت کے حالات پردۂ اخفا میں ہیں۔ مورخ الیافعی کے مطابق، بیضاوی کو ان کے والد عمر نے تعلیم دی تھی، جو مجیر الدین محمود بن ابی المبارک البغدادی الشافعی کے شاگرد تھے، وہ معین الدین ابی سعید منصور بن عمر البغدادی کے شاگرد تھے، جنھوں نے مشہور فلسفی غزالی سے تعلیم حاصل کی تھی۔[14]

ان کے والد، امام الدین ابو القاسم عمر بن سعید فخر الدین عبد اللہ بیضاوی، صوفی بزرگ ابو طالب عبد المحسن بن ابی العمید شافعی خفیفی ابهری (وفات 624ھ/1227ء) کے مرید تھے، جو مذہبی قوانین کے ماہر تھے اور چھٹی صدی ہجری کے اواخر اور ساتویں صدی کے اوائل کے ایک نامور مسلم عالم تھے۔[15][16]

بیضاوی تبریز میں ایک صوفی بزرگ، محمد بن محمد کنجانی کے مرید ہوئے۔[17][18] ایک بار وہ ارغون خان کے دورِ حکومت میں فارس کے قاضی بننا چاہتے تھے، چنانچہ انھوں نے اس معاملے میں شیخ سے مدد کی درخواست کی، کیونکہ ارغون خان شیخ کے بارے میں بلند رائے رکھتا تھا اور ہر جمعرات کو شیخ کی خدمت میں حاضری دیا کرتا تھا۔ ایک دن جب ارغون خان ان کی زیارت کو آیا، تو شیخ نے اس سے کہا کہ "ایک فارسی عالم نے ان سے جہنم کا ایک ٹکڑا مانگا ہے جو جائے نماز کے برابر ہے"۔ ارغون خان نے اس قول کی مزید وضاحت چاہی۔ اس پر شیخ نے اسے بتایا کہ ناصر الدین بیضاوی فارس کے قاضی کا عہدہ چاہتے ہیں۔ ارغون خان نے شیخ کی سفارش پر انھیں دوبارہ قاضی مقرر کر دیا۔

بیضاوی نے جب شیخ کے ان کلمات کے بارے میں سنا تو وہ بہت مضطرب ہوئے۔ انھوں نے ان الفاظ کو ایک انتباہ سمجھا اور تائب ہو گئے اور آخر کار اپنے مطلوبہ عہدے کے حصول کا خیال ترک کر دیا۔ انجامِ کار وہ دنیاوی امور سے بے نیاز ہو کر مستقل طور پر تبریز میں قیام پزیر ہو گئے اور اپنی بقیہ زندگی وہیں گزاری۔[19] تبریز میں قیام کے دوران وہ وفات تک باقاعدگی سے اپنے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔[19] ایک روایت یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنی تفسیرِ قرآن اسی شیخ کے اشارے پر مکمل کی۔ انھوں نے اپنا بڑھاپا تبریز میں صوفیانہ مشاغل میں گزارا۔[20][21]

زرکوب کے مطابق، بیضاوی نے تبریز میں وفات پائی اور انھیں چرنداب قبرستان میں دفن کیا گیا،[22] اور ان کی قبر ان کے روحانی پیشوا شیخ محمد بن محمد کنجانی کے مزار کے قریب واقع ہے۔[23] محمد معصوم شیرازی کی روایت کے مطابق وہ اسی قبرستان میں شیخ ضیاء الدین یحییٰ کے مزار کے مشرق میں مدفون ہیں۔[17]

تخلیقات

[ترمیم]

بیضاوی نے فقہ، تاریخ، عربی قواعد، تفسیر اور علمِ کلام سمیت کئی موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان کا سب سے اہم کام قرآن کریم کی تفسیر ہے جس کا عنوان انوار التنزیل و اسرار التاویل ہے۔ یہ کام بڑی حد تک زمخشری کی تفسیر کشاف کا ایک مختصر اور ترمیم شدہ نسخہ ہے۔ کشاف کئی ایک جگہ معتزلہ کے نظریات سے متاثر ہے جو بیضاوی نے ترمیم ، تردید یا حذف کرکے درست کرنے کی کوشش کی ہے۔ کشاف سے بھرپور استفادہ کرنے کے علاوہ، بیضاوی کی تفسیر فخر الدین رازی اور راغب اصفہانی کی تفاسیر پر بھی انحصار کرتی ہے۔ انھوں نے فارسی زبان میں 'نظام التواریخ تصنیف کی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ عراق کے حکمران اباقا خان کی حوصلہ افزائی کی ایک کوشش کا حصہ ہے تاکہ وہ اسلام قبول کر کے عراق میں ایلخانی حکومت کو جائز قرار دے سکیں۔ اس کتاب نے ایران کی نسلی و قومی تاریخ کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا، کیونکہ یہ اس کی قومی تاریخ کے لیے وقف پہلی کتاب تھی۔[10] بیضاوی کی الہیاتی یا کلامی تصنیف طوالع الانوار من مطالع الانظار اسلامی کلامی روایت میں منطقِ کلام کے بارے میں ہے۔ان کی دیگر تصانیف میں درج ذیل ہیں:[24]

  • الغایۃ القصویٰ
  • منہاج الوصول الی علم الاصول
  • لب الالباب
  • رسالہ فی تعریفات العلوم
  • تحفۃ الابرار
  • خواص القرآن شامل

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — ناشر: دار العلم للملایین —  : اشاعت 15 — جلد: 4 — صفحہ: 110 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
  2. ^ ا ب مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb145562923 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. عنوان : Байдави Абдуллах
  4. عنوان : Баидави — اقتباس: ... умер в Таврисе в 1286 г. по Р. X.
  5. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=jn20020102046 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 دسمبر 2022
  6. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=jn20020102046 — اخذ شدہ بتاریخ: 8 فروری 2023
  7. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=jn20020102046 — اخذ شدہ بتاریخ: 7 نومبر 2022
  8. Thatcher 1911
  9. آئی کاچ مصطفیٰ (2016). "ناصر الدین البیضاوی اور عثمانی روایتِ کلام میں ان کا مقام". اسلامی تحقیقات (İslami Araştırmalar) (بزبان ترکی). 27 (3): 389.
  10. ^ ا ب اشرف 2006, pp. 507–522
  11. ^ ا ب ابراہیم 1979, p. 311
  12. لمبرٹ 2004, p. 12
  13. ابراہیم 1979, pp. 311–312
  14. ابراہیم 1979, p. 312
  15. زرکوب۔ شیراز نامہ۔ ص 136
  16. انجم رحمانی۔ Nizam ut-Tawarikh by Qadi Baydawi, Translated in English [(Arrangement of Histories)]۔ Institute of Islamic Culture, Lahore۔ ص xxii
  17. ^ ا ب محمد معصوم شیرازی۔ Tari'q al-Haqaa'iq, vol 2۔ ص 664
  18. محمد باقر۔ Rauzat al-Jannah۔ ص 435
  19. ^ ا ب بہاء الحق رعنا۔ Nizam ul Tawarikh (Urdu Translation)۔ ص 18 (preface)
  20. خفاجی۔ Hashiya Tafsir al-Baydawi۔ ص 1
  21. حاجی خلیفہ۔ Kashf al-Zanun, vol 1۔ ص 187
  22. زرکوب۔ شیراز بانامہ۔ ص 65
  23. حاجی خلیفہ۔ Kashf al-Zanun, vol 1۔ ص 186–194
  24. مصطفیٰ آئی کاچ (2016). "ناصر الدین البیضاوی اور عثمانی روایتِ کلام میں ان کا مقام". اسلامی تحقیقات (İslami Araştırmalar) (بزبان ترکی). 27 (3): 390.