قدریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ایک اسلامی فرقہ ان کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ جو کام ہم کرتے ہیں اس کا اختیار ہمارے پاس ہے کام کرنے میں خدا کا ارادہ شامل نہیں ہے۔ یہ جبریہ کے مقابل پیدا ہوئے۔

قدریہ کا عقیدہ[ترمیم]

قدریہ فرقے کے لوگ خدا کی حکمت سے منکر ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ کام کرنے نہ کرنے، کھانا کھانے یا نہ کھانے اور خیر و شر میں خدا کا ارادہ شامل نہیں ہوتا بلکہ انسان خود مختار ہے جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔[1]

وجہ تسمیہ[ترمیم]

فرقہ قدریہ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں محققین مختلف الرائے ہیں لیکن انہیں قدریہ کہنے کی صحیح وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ خدا سے تقدیر کی نفی کرکے اسے بندے کے لیے ثابت کرتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر چیز انسان کے ارادہ و قدرت کے تابع ہے، گویا انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے۔

بانی عقیدہ قدریہ[ترمیم]

عقیدہ انکار تقدیر کے سرخیل، معبد جہنی اور غیلان دمشقی نامی دو اشخاص تھے۔ اول الذکر نے عراق اور ثانی الذکر نے دمشق کو اپنی دعوت و تبلیغ کا مرکز بنایا۔ عبد الرحمن بن اشعث کی بغاوت جب ناکام ہو گئی (اس بغاوت مین معبد برابر کا شریک تھا) تو حجاج نے معبد کو قتل کر دیا۔ غیلان عرصہ دراز تک شام میں اپنے عقائد کی اشاعت میں سرگرم رہا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز اور اس کے درمیان متعدد تحریری مناظرے بھی ہوئے جس سے متاثر ہو کر غیلان نے اپنے عقائد کی تبلیغ بند کردی۔ مگر خلیفہ مذکور کے انتقال کے بعد وہ پھر قدری عقائد کی دعوت دینے لگا۔ یہاں تک خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے اس کے فتنہ کو روکنے کے لیے فقیہ شام امام اوزاعی سے اس کا مناظرہ کرایا تاکہ اس کے قتل کیے جانے کی دلیل ہاتھ آسکے۔ مناقب الاوزاعی میں اس مناظرہ کی پوری تفصیلات نقل کرنے کے بعد مذکور ہے کہ امام موصوف نے اس مناظرہ میں غیلان کو دلائل قاطعہ سے خاموش کر دیا۔ بعض محققوں نے لکھا ہے کہ غیلان نے امام اوزاعی کا ترکی بہ ترکی مدلل و مسکت جواب دیا اور مناظرہ بالکل برابر اور ہم پلہ تھا مگر اس کا مقصد تو صرف بہانہ قتل کی تلاش تھی اس لیے ہشام نے اسے قتل کرادیا۔

قدریہ کی تاریخ[ترمیم]

قدری مذہب غیلان کے خاتمہ کے بعد بھی بصرہ میں صدیوں پھلتا پھولتا رہا۔ بعض علما کا خیال ہے کہ قدری مذہب نے بعد میں ثنویہ عقائد کا لبادہ اوڑھ لیا۔ ثنویہ کا عقیدہ ہے کہ دنیا پر دو قوتیں حاکم ہیں۔ ایک نور دوسری ظلمت۔ نور خیر کا مصدر و ماخذ ہے اور ظلمت شر کو جنم دیتی ہے۔ ثنویہ نیک اعمال کو خدا کی طرف منسوب کرتے تھے اور افعال قبیحہ کو اپنی طرف۔ اسلام چونکہ توحید کا علمبردار ہے اس لیے اس کے نزدیک ثنویت یعنی دو خدا ماننے کا مطلب خدا کے تصور کی نفی ہے۔ اسلام میں کوئی باقاعدہ ثنوی فرقہ نہیں ہے۔ یہ اصطلاح ایک خاص مکتب خیال کے لیے مستعمل ہے جو تین غیر مسلم افراد بن دیصان، مانی، فردک اور ان کے پیروؤں تک محدود ہے۔[2]

شیخ شنقیطی رحمہ اللہ کا قول ہے:

اللہ تعالی کا فرمان ہے "جسے اللہ تعالی ہدایت نصیب فرمائے وہ راہ راست پر ہے اور جسے گمراہ کر دے تو یہ نا ممکن ہے کہ آپ اس کا کوئی کارساز اور راہنما پاسکیں" الکہف/ 17

اللہ جل وعلا نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا صرف اللہ وحدہ کے ہاتھ میں ہے تو جسے وہ ہدایت نصیب فرمادے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔

اور اسی معنی کی وضاحت بہت سی دوسری آیات میں کی گئی ہے ۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے۔

"اور جسے اللہ تعالی ہدایت نصیب کرے تو وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ راہ سے بھٹکا دے ناممکن ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو اس کا مدد گار پائیں ایسے لوگوں کا ہم قیامت کے دن اوندھے منہ حشر کریں گے اور ان کا یہ حال ہوگا کہ وہ اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے" الاسراء/ 97

اور فرمان باری تعالی ہے۔

"جسے اللہ ہدایت دیتا ہے تو وہی ہدایت والا ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو ایسے ہی لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں" الاعراف 178

اور اللہ تعالی کا یہ ارشاد:

"جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ تعالی ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے" القصص 56

اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے۔

"اور جس کو فتنہ میں ڈالنا اللہ کو منظور ہو تو آپ اس کے لیے ہدایت الہی میں سے کسی چیز کے مختار نہیں" المائدہ 41

اور فرمان ربانی ہے:

"گو آپ انکی ہدایت کے خواہش مند رہے ہیں لیکن اللہ تعالی اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کر دے اور نہ ہی انکا کوئی مددگار ہوتا ہے" النحل 37

اور فرمان باری تعالی ہے:

"تو جس شخص کو اللہ تعالی ہدایت دینا چاہے تو اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو گمراہ کرنا چاہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کردیتا ہے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہے" الانعام 125

اور اس طرح کی آیات بہت ہی زیادہ ہیں۔

تو ان اور قرآن کی اس طرح کی دوسری آیات سے قدریہ کے مذہب کا باطل ہونا اخذ کیا جاسکتا ہے کہ: انسان اپنے عمل بھلائی اور برائی کرنے میں مستقل ہے اور یہ کہ یہ مشیت الہی نہیں بلکہ بندے کی اپنی چاہت ہے تو اللہ اس سے پاک اور بلند بالا ہے کہ اس کی ملک میں اس کی مشیت کے بغیر واقع کوئی ہو جائے اور اللہ تعالی اس سے بلند اور بڑا ہے۔ .

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. 73 فرقے کیسے بنے؟، موسیٰ جلالزئی، فکشن ہاؤس، لاہور۔ صفحہ 60
  2. اردو دائرۃ معارف العلوم