مملوک علی نانوتوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مملوک علی نانوتوی
Grave of Mamluk Ali Nanautawi.jpg
نانوتوی کا مرقد

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1789  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 7 اکتوبر 1851 (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مہدیان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Captured flag of the Mughal Empire (1857).png مغلیہ سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فقہی مسلک حنفی
مکتب فکر اہل سنت
اولاد محمد یعقوب نانوتوی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رشتے دار خلیل احمد سہارنپوری (نواسہ)
عملی زندگی
تلمیذ خاص محمد قاسم نانوتوی،  مولانا رشید احمد گنگوہی،  محمد یعقوب نانوتوی،  سر سید احمد خان،  ڈپٹی نذیر احمد،  فضل الرحمن عثمانی دیوبندی،  احمد علی سہارن پوری  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

مملوک علی نانوتوی دہلی کے عربک کالج میں مدرس تھے۔ آپ کے مایہ ناز شاگردوں میں محمد قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی اور محمد یعقوب نانوتوی کا شمار ہوتا ہے۔

نام و نسب[ترمیم]

ان کا نام مملوک العلی یا مملوک علی ہےـ اور سلسلہ نسب یہ ہے: مملوک علی بن احمد علی بن غلام شرف بن عبد اللہ بن عبد الفتح بن محمد معین بن عبدالسمیع بن محمد ہاشم بن شاہ محمد بن قاضی طہ بن مفتی مبارک بن امان اللہ بن شیخ جمال الدین بن قاضی میراں بڑے بن قاضی مظہر الدین بن نجم الدین الثانی بن نور الدین الرابع بن قیام الدین بن ضیاء الدین بن نور الدین ثالث بن نجم الدین بن نور الدین ثانی بن رکن الدین بن رفیع الدین بن بہاؤالدین بن شہاب الدین بن خواجہ یوسف بن خلیل بن صدرالدین بن رکن الدین السمرقندی بن صدرالدین الحاج بن اسمعیل شہید بن نور الدین قتال بن محمود بن بہاؤالدین بن عبد اللہ بن زکریا بن نور بن سراح بن شادی الصدیقی بن وحیدالدین بن مسعود بن عبدالرزاق بن قاسم بن محمد بن ابو بکرـ [1]

سوانح[ترمیم]

مولانا مملوک علی مشہور عالم خلیل احمد المدنی کے نانا تھے۔ مملوک علی صاحب نے درسیات کا اکثر حصہ شاہ عبد العزیز صاحب کے شاگرد مولانا رشید الدین خان صاحب سے پڑھا تھا۔ فلکِ علم کے نیّرین رشید احمد گنگوہی، محمد قاسم نانوتوی اور محمد مظہر صاحب صدرالمدرسین مظاہر علوم سہارنپور جیسی مشہور ہستیوں کے استاد تھے۔ ان سب حضرات نے علومِ دینیہ و فنونِ ادبیہ کی پیاس اسی بحرِ زخار کے آبِ دہن سے بجھائی اور ہر چہار طرف سے پریشان ہو کر اسی آستانہ پر شفا وتسکین پائی تھی۔

سر سید احمد خان اور محمد قاسم نانوتوی، مملوک علی کے شاگرد تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پروفیسر نور الحسن شیرکوٹی. "حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی". In دیوبندی، نواز. سوانح علمائے دیوبند. 2 (ایڈیشن جنوری 2000). دیوبند: نواز پبلیکیشنز. صفحات 90–214. 

کتابیات[ترمیم]

  • مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی. "حضرت مولانا مملوک العلی نانوتوی". In دیوبندی، نواز. سوانح علمائے دیوبند. 1 (ایڈیشن جنوری 2000). دیوبند: نواز پبلیکیشنز. صفحات 122–150.