حاجی عبد الوہاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حاجی عبد الوہاب
تیسرے امیرِ تبلیغی جماعت
مدت منصب
1992 – 2018
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حاجی محمد بشیر
مولانا نذر الرحمٰن Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1923  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 18 نومبر 2018 (95 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات متعدی امراض  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی اسلامیہ کالج لاہور  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ واعظ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

راؤ محمد عبد الوہاب (1 جنوری 1923ء - 18 نومبر 2018ء) پاکستان کی تبلیغی جماعت کے تیسرے امیر تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

1922ء کو ان کی پیدائش دہلی میں ہوئی۔[2] آپ کا آبائی گاؤں گمتھلہ راؤ تحصیل تھانیسر ضلع کرنال انبالہ ڈویژن ہے۔ آپ کا تعلق راجپوت خاندان سے ہے۔ تقسیم ہند سے قبل انہوں نے بطور تحصیلدار فرائض سر انجام دیے۔[2] ۔ ہجرت کے بعد آپ پاکستان میں ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا کے چک نمبر 331/EB ٹوپیاں والا میں آباد ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم انبالہ کے سکولوں میں حاصل کی۔ گریجوایشن اسلامیہ کالج، لاہور سے کی جہاں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی آپ کے استاد رہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ تحصیلدار بھرتی ہو گئے۔

زندگی[ترمیم]

تبلیغی جماعت[ترمیم]

1944ء کے آغاز میں تبلیغی مرکز بستی حضرت نظام الدین انڈیا میں موسسِ تبلیغ حضرت جی مولانا محمد الیاس کاندھلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہی کے ہو رہے۔ اصلاحی تعلق مولانا عبدالقادر رائے پوری علیہ الرحمہ سے تھا اور ان سے خاندانی تعلق بھی تھا۔ آپ پاکستان میں حاجی محمد شفیع قریشی صاحب، حاجی محمد بشیر صاحب اور مولانا ظاہر شاہ صاحب کے بعد چوتھے نمبر پر تبلیغی جماعت کے امیر بنائے گئے۔ تبلیغی جماعت کے تیسرے امیر مولانا محمد انعام الحسن کاندھلوی کی وفات پر تبلیغی جماعت میں شورائی نظام نافذ ہونے کے بعد سے عبدالوہاب صاحب عالمی تبلیغی مرکز رائے ونڈ کی شوریٰ کے امیر اور مرکزی شوریٰ تبلیغی مرکز بستی حضرت نظام الدین دہلی کے رکن ہیں۔ 1944 سے لے کر 2018 تک 75 سال تحریکِ تبلیغ میں سرگرمی سے گزارنے کے بعد راؤ محمد عبدالوہاب صاحب نے 18 نومبر 2018 کو رائے ونڈ میں 96 سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ کسی مذہبی تحریک کے ساتھ کامل یکسوئی سے پورے 75 سال گزار دینے کی کوئی اور مثال ہمارے زمانے میں نہیں ملتی۔

پاکستان امن مذاکرات[ترمیم]

اکتوبر 2013ء کو تحریک طالبان پاکستان اور پاکستان کے درمیان میں امن مذاکرات کے لیے محمد عبد الوہاب کا نام بطور سربراہ لویہ جرگہ تجویز کیا گیا تھا۔ فروری 2014ء میں طالبان نے محمد عبد الوہاب،سمیع الحق،ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام تجویز کیا تھا کہ وہ پاکستان اور طالبان کے درمیان میں امن مذاکرات میں بطور سہولت کار کردار ادا کریں۔[3]

وفات[ترمیم]

18 نومبر 2018ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ تبلیغی مرکز رائے ونڈ اعلامیہ کے مطابق مولانا عبد الوہاب نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ حاجی محمد عبد الوھاب کا جنازہ شیخ الحدیث مولانا مفتی نذر الرحمن نے پڑھایا۔ جو حاجی عبد الوہاب کی وصیت کے مطابق تبلیغی جماعت کے امیر بنائے گئے ہیں۔حاجی عبد الوہاب کے جنازے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 12 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔یہ جنازہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔اس سے پہلے غازی ممتاز قادری کے جنازے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے تھے۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Amir Hajji Muhammad Abd Al Wahhab"۔ دی مسلم 500۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 اگست 2015۔
  2. ^ ا ب پ https://urdu.arynews.tv/tableeghi-jamaat-ameer-haji-abdul-wahab-passes-away/
  3. رحمت اللہ شباب (27 اکتوبر 2013)۔ "حکومت کا طالبان سے مذاکرات کی تیاری ، تجاویز کے لیے لویہ جرگہ بلانے کا فیصلہ، لویہ جرگہ کی صدارت کے لیے تبلیغی مبلغ حاجی عبدالوہاب کا نام تجویز"۔ اردو پوائنٹ۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔