جاوید احمد غامدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جاوید احمد غامدی
Jawed ahmed ghamdi.jpg

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 18 اپریل، 1951ء
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت جماعت اسلامی پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ متکلم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ابو الاعلی مودودی،  ابن رشد،  امین احسن اصلاحی،  شبلی نعمانی  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جاوید احمد غامدی پاکستان سے تعلق رکھنے والے شاعر، مصلح، اور قومی دانشور ہیں۔ [1]

سوانحی خاکہ

جاوید احمد غامدی کی پیدایش 18 اپریل 1951ء کو ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں جیون شاہ کے نواح میں ہوئی۔ آبائی گاؤں ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ اور آبائی پیشہ زمینداری ہے۔ ابتدائی تعلیم پاک پتن اور اس کے نواحی دیہات میں پائی۔ اسلامیہ ہائی اسکول پاک پتن سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور اس کے ساتھ انگریزی ادبیات میں آنرز (حصہ اول) کا امتحان پاس کیا۔ عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم ضلع ساہیوال ہی کے ایک گاؤں نانگ پال میں مولوی نور احمد صاحب سے حاصل کی۔ دینی علوم قدیم طریقے کے مطابق مختلف اساتذہ سے پڑھے۔ قرآن و حدیث کے علوم و معارف میں برسوں مدرسۂ فراہی کے جلیل القدر عالم اور محقق امام امین احسن اصلاحی سے شرف تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دادا نور الٰہی کو لوگ گاؤں کا مصلح کہتے تھے۔ اسی لفظ مصلح کی تعریب سے اپنے لیے غامدی کی نسبت اختیار کی اور اب اسی رعایت سے جاوید احمد غامدی کہلاتے ہیں۔ دانش سرا، المورد، ماہنامہ اشراق، ماہنامہ رینی ساں Renaissance کے بانی اور ب رہان، میزان، البیان، اشراق اور خیال و خامہ کے مصنف ہیں۔

کام

جاوید احمد غامدی نے کم و بیش 30 برس پہلے اپنے کام کا آغاز جس احساس کی بنا پر کیا، وہ انھی کے الفاظ میں یہ ہے

تفقہ فی الدین کا عمل ملت میں صحیح نہج پر قائم نہیں رہا۔ فرقہ وارانہ تعصبات اور سیاست کی حریفانہ کشمکش سے الگ رہ کر خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر دین حق کی دعوت مسلمانوں کے لیے اجنبی ہو چکی ہے۔ قرآن مجید جو اس دین کی بنیاد ہے، محض حفظ و تلاوت کی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ امت کی اخلاقی اصلاح اور ذہنی ترقی کے لیے اس سے رہنمائی نہیں لی جاتی اور ہم عمل کے لیے اس قوت محرکہ سے محروم ہوگئے ہیں جو صرف قرآن ہی سے حاصل ہو سکتی تھی۔ مذہبی مدرسوں میں وہ علوم مقصود بالذات بن گئے ہیں جو زیادہ سے زیادہ قرآن مجید تک پہنچنے کا وسیلہ ہو سکتے تھے۔ حدیث، قرآن و سنت میں اپنی اساسات سے بے تعلق کر دی گئی ہے اور سارا زور کسی خاص مکتب فکر کے اصول و فروع کی تحصیل اور دوسروں کے مقابلے میں ان کی برتری ثابت کرنے پر ہے

المورد

تصنیف و تالیف

غامدی 1980ء سے دینی علوم پر علمی اور تحقیقی کام انجام دے رہے ہیں۔ ان کے کام کے وہ اجزا حسب ذیل ہیں جو تصانیف کی صورت اختیار کر چکے ہیں:

  • البیان (الفاتحہ۔ البقرہ) قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر
  • البیان (الملک۔ الناس) قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر
  • میزان: دین کی تفہیم و تبیین
  • ب رہان: تنقیدی مضامین کا مجموعہ
  • مقامات: دینی، ملی اور قومی موضوعات پر متفرق تحریریں
  • خیال و خامہ: مجموعہء کلام

يہ كتب المورد كی ويب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ كی جا سكتی ہيں۔

اردو ماہنامہ

اشراق اردو زبان میں غامدی کے افکار کا ترجمان ہے۔ اس کا آغاز 1985ء سے ہوا۔ 1985ء تک یہ ایک سلسلۂ منشورات کے طریقے پر شائع ہوتا رہا۔ 1985ء میں اسے باقاعدہ ڈیکلریشن مل گیا۔ اس وقت سے یہ رسالہ باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ اس کے اہم سلسلے یہ ہیں: قرآنیات، معارف نبوی، دین و دانش، نقد و نظر، نقطۂ نظر، حالات و وقائع، تبصرۂ کتب۔

انگریزی ماہنامہ

رینی ساں (Renaissance) انگریزی زبان میں غامدی کے افکار کا ترجمان ہے۔ اس کا آغاز 1991ء سے ہوا۔ اور اس وقت سے یہ رسالہ باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ اس کے اہم سلسلے یہ ہیں: Editorial, Quranic Exegesis, Reflections, Book Review, Queries, Selection, New and Views, Dialouge, Islamic Law, Scriptures

ادارۂ علم و تحقیق

یہ ادارہ 1991ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد اسلامی علوم سے متعلق علمی اور تحقیقی کام، تمام ممکن ذرائع سے وسیع پیمانے پر اس کی نشر و اشاعت اور اس کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہے۔


عقائد و نظریات

 جاوید احمد غامدی کا ایک نہیں بلکہ بہت سے عقائد ایسے ہیں جو صریحاً حدِ کفر کو پہنچتے ہیں اور قرآن و حدیث کے صریح نصوص سے بلکل متصادم ہیں۔ اس بنا پر اکثریت کے نزدیک غامدی صاحب خارج از اسلام ہیں۔ امت کے جمہور آئمہ نے بھی اس طرح کے کفریہ عقائد رکھنے والوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔ غامدی صاحب کے نظریات میں سے چند درج ذیل ہیں:

 (1) عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔[2]

(2) قیامت کے قریب کوئی مہدی نہیں آئے گا۔[3]

(3) غلام احمد پرویز سمیت کوئی بھی کافر نہیں، کسی بھی امتی کو کسی کی تکفیر کا حق نہیں ہے۔[4]

(4) حدیث سے دین میں کسی عمل یا عقیدے کا اضافہ بالکل نہیں ہوسکتا۔[5]

(5) سنتوں کی کل تعداد صرف 27 ہے۔ [6]

(6) ڈاڑھی سنت اور دین کا حصہ نہیں۔[7]

(7) اجماع دراصل دین میں بدعت کا اضافہ ہے۔[8]

(8) مرتد کی شرعی سزا نبی کریم ﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص تھی (اب منسوخ ہو چکی ہے)۔ [9]

(9) شراب نوشی کی کوئی شرعی سزا (حد) نہیں۔[10]

(10) اسلام میں ”فساد فی الارض“ اور ”قتل نفس“کے علاوہ کسی بھی جرم کی سزا قتل نہیں ہوسکتی۔[11]

(11) قرآن پاک کی صرف ایک قرأت ہے، باقی قرأتیں عجم کا فتنہ ہیں۔[12]

(12) فقہاءکی آراء کو (اہمیت دینے سے پہلے) اپنے علم و عقل کی روشنی میں پرکھا جائے گا۔[13]

(13) ہرآدمی کو اجتہاد کا حق ہے۔ اجتہاد کی اہلیت کی کوئی شرائط متعین نہیں۔ جو سمجھے کہ اسے تفَقُّہ فی الدین حاصل ہے وہ اجتہاد کرسکتا ہے۔[14]

(14) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے بعد غلبہءِ دین کی خاطر جہاد (بِا السَّیف) ہمیشہ کے لیے ختم (منسوخ ہو چکا) ہے۔[15]

(15) "تصوف" عالم گیر ضلالت (گمراہی) اور اسلام سے متوازن (یعنی دونوں کے درمیان) ایک الگ دین ہے۔[16]

(16) حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ باغی تھے اور یزید بہت متحمل مزاج اور عادل بادشاہ تھا۔ واقعۂ کربلا سو فیصد افسانہ ہے۔[17]

(17) مسلم و غیرمسلم اور مرد و عورت کی گواہی میں فرق نہیں ہے۔[18]

(18) ایک ریاست کو زکٰوۃ کے نصاب میں تبدیلی کا حق حاصل ہے۔[19]

(19) یہود و نصاریٰ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں، اِس کے بغیر بھی اُن کی بخشش ہوجائے گی۔[20]

(20) موسیقی اور گانا بجانا جائز ہے۔[21]

(21) بت پرستی کے لیے بنائی جانے والی تصویر کے علاوہ ہر قسم کی تصویریں جائز ہیں۔[22]

(22) بیمہ (Insurance) جائز ہے۔[23]

(23) یتیم پوتا اپنے دادے کی وراثت کا حق دار ہے۔ مرنے والے کی وصیت ایک ثلث تک محدود نہیں۔ وارثوں کے حق میں بھی وصیت درست ہے۔[24]

(24) سور (خنزیر) کی نجاست صرف گوشت تک محدود ہے۔ اس کے بال، ہڈیوں، کھال وغیرہ سے دیگر فوائد اٹھانا جائز ہے۔[25]

(25) سنت صرف دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دین کی حیثیت سے جاری رکھا۔ اور یہ قرآن سے مقدم ہے۔ اگر کہیں قرآن کا ٹکراؤ یہود و نصاریٰ کے فکر و عمل سے ہوگا تو قرآن کے بجائے یہود و نصاریٰ کے متواتر عمل کو ترجیح ہوگی۔[26]

(26) عورت بھی مردوں کی امامت کرا سکتی ہے۔[27]

(27) دوپٹہ ہمارے ہاں مسلمانوں کی تہذیبی روایت ہے، اس کے بارہ میں کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔ دوپٹے کو اس لحاظ سے پیش کرنا کہ یہ شرعی حکم ہے اس کا کوئی جواز نہیں (ناجائز ہے)۔[28]

(28) مسجدِ اقصی پر مسلمانوں کا نہیں، اس پر صرف یہودیوں کا حق ہے۔[29]

(29) بغیر نیت، الفاظِ طلاق کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔[30]

بیرونی روابط

  1. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 5 مارچ 2020 — ناشر: Bibliographic Agency for Higher Education
  2. [میزان، علامات قیامت، ص:178،طبع 2014]
  3. [میزان، علامات قیامت، ص:177،طبع مئی2014]
  4. [اشراق،اکتوبر2008،ص:67]
  5. [میزان، ص:15]
  6. [میزان،ص:14]
  7. [مقامات، ص:138،طبع نومبر2008]
  8. [اشراق، اکتوبر2011،ص:2]
  9. [اشراق، اگست2008،ص:95]
  10. [برہان،ص:35 تا 146،طبع فروری 2009]
  11. [برہان، ص:146،طبع فروری 2009]
  12. [میزان،ص:32،طبع اپریل2002....بحوالہ تحفہ غامدی از مفتی عبدالواحد مدظلہم]
  13. [سوال وجواب، ہٹس 727، 19جون 2009]
  14. [سوال وجواب،ہٹس 612،تاریخ اشاعت:10 مارچ 2009]
  15. [اشراق، اپریل2011، ص:2]
  16. [برہان، ص:181، طبع 2009]
  17. [بحوالہ غامدیت کیا ہے؟ از مولاناعبدالرحیم چاریاری]
  18. [برہان، ص:25 تا 34،طبع فروی 2009]
  19. [اشراق، جون 2008، ص:70]
  20. [ایضاً]
  21. [اشراق، فروری2008،ص:69]
  22. [اشراق،مارچ، 2009، ص:69]
  23. [اشراق، جون 2010، ص:2]
  24. [اشراق، مارچ2008، ص:63 ... مقامات: 140، طبع نومبر2008]
  25. [اشراق،اکتوبر1998،ص:89....بحوالہ : غامدیت کیا ہے؟]
  26. [میزان،ص:14،طبع2014]
  27. [ماہنامہ اشراق، ص 35 تا 46،مئی2005]
  28. [ماہنامہ اشراق، ص 47،شمارہ مئی2002]
  29. [ اشراق جولائی، 2003اور مئی، جون2004]
  30. [اشراق،جون2008،ص:65]