تبادلۂ خیال:جاوید احمد غامدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اتنے لمبے چوڑے مضمون کو سیدھا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

آراء و افکار[ترمیم]

میرے خیال میں اِس مضمون سے آراء و افکار کو حذف کردینا چاہئیے. --محبوب عالم 14:49, 20 اکتوبر 2008 (UTC) بسم اللہ الرحمن الرحیم

عرض ناشر لفظ ’’سیاست‘‘ عربی لفظ ہے اور حکومت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ احادیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔ زیر نظر کتاب ’’السیاسۃ الشرعیہ‘‘ میں ’’حکمران، بیوروکریسی اور عوام‘‘ کے باہمی ربط اور حقوق و فرائض پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ عملی سیاست کی تعریف کچھ اس طرح سے کی جا سکتی ہے کہ ’’ہر وہ عمل، قول، فعل، معاملہ، سوچ و فکر، تدبر، اشارہ اور کام وغیرہ وغیرہ جو باقی سب کی رائے، قول و عمل پر حاوی ہو جائے اور باقی سب اس کے مطیع ہو جائیں‘‘ عملی سیاست کہلاتی ہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ’’اپنی بات ، کام اور سوچ دوسروں پر غالب کر دینا‘‘ عملی سیاست کہلاتی ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کے قرآن کی یہ آیت بطورِ دلیل پیش کی جا سکتی ہے: ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (اللہ تعالیٰ) وہ ذات ہے جس نے رسول بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ وہ ’’اس کو غالب کردے‘‘باقی تمام ادیان (زندگی گذارنے کے راستوں اور طریقوں) پر (توبہ:33) اس آیت کریمہ میں لفظ ’’لِیُظْہِرَہٗ ‘‘عملی سیاست کا مظہر ہے۔ اور شرعی اصطلاح میں ’’السیاسۃ الشرعیہ‘‘ وہ ہے جس کے تحت دین اسلام باقی تمام ادیان (یعنی زندگی گذارنے کے راستوں اور طریقوں) پر غالب کر دیا جائے۔ دین اسلام ہو یا کوئی بھی نظام، اسے دنیا میں نافذ کرنے کے لیے ایک تو قائد/ لیڈر/ امام/ حاکم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ جن پر نظام نافذکیا جائے گا۔ یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ اب ان کی کیا کیا صفات ہونی چاہئیں کہ وہ نظام کامیابی سے ہمکنار ہو، وہ مقصد پورا ہو، ذیل میں ہم اسی نقطے پر بحث کریں گے۔ قائد/لیڈر/امام/ حاکم وغیرہ وہ شخصیت ہوتی ہے جو لوگوں کے لیے اپنی اعلیٰ ترین خوبیوں کو بروئے کار لا تے ہوئے ان کی ہر قسم کی رہنمائی کرے، اور انہیں منزل مقصود تک لے کر چلے۔ اس کی شخصیت میں بہت ساری خوبیاں پائی جاتی ہیں جن میں دو کا ذکر اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں سورئہ بقرہ میں کچھ اس انداز سے کیا ہے: وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ اور اُس (قائد) کو علم و جسم میں زیادتی عطا فرمائی ہے۔ (البقرۃ:247)۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اگر کسی شخصیت کا بطورِ قائد چناؤ کیا جائے تو یہ دیکھا جائے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے، پھر ان علم والے لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر اور شجاع کون ہے؟ کیونکہ اس آیت کا تقاضہ یہی ہے کہ قائد بنانے سے پہلے، کسی کی بیعت کرنے سے پہلے، اس کے پیچھے چلنے سے پہلے یہ تو دیکھ لیا جائے کہ کیا یہ شخصیت از رُوئے قرآن مجید قائد بننے کے لائق بھی ہے یا نہیں؟ اسی طرح جسمانی طاقت کے معنی قوتِ دل بھی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایک تو یہ جسم ہی کا حصہ ہے اور دوسرے یہ کہ بعض اوقات کمزور اور بددل بڑے جثے والے لوگ دل ہار جاتے ہیں اور قوی دل والے لوگ ان پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح قوتِ ضبط، قوتِ فیصلہ، قوتِ ارادہ، قوتِ دماغ، ثابت قدمی، پھرتی، صحیح نشانہ بازی، تلوار بازی، رعب و دبدبہ، ظالم و جابر حکمران کے سامنے کلمہء حق کہنے کی جرأت وغیرہ بھی جسمانی قوت و طاقت ہی میں شمار کی جا سکتی ہیں جو کہ ایک ’’قائد‘‘ کے اندر لازماً ہونی چاہئیں اور یہ ایسی صفات ہیں کہ ان پر الگ الگ کتاب بھی ترتیب دی جا سکتی ہے لیکن اختصار کی خاطر سب کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح تدبر، غور و فکر، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، حکمت و دانائی اور سیاست وغیرہ بھی قائد کی شخصیت کو نمایاں کرتی ہیں کہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّا ٓ اُولُوا الْاَلْبَابِ یعنی ’’وہ اللہ جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا گیا وہ بہت ساری بھلائی دیا گیا اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں‘‘۔ (بقرہ:269)۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت و فتح پر یقین کامل اور غیر متزلزل ایمان بھی اسی طاقت کا خاصہ ہیں۔ اور دراصل یہی چیزیں قوموں کے کسی بھی معرکے اور پنجہ آزمائی میں فتح و شکست میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ طاقت کے بعد جو سب سے بڑی خوبی ہونی چاہیئے وہ اخلاص ہے۔ اخلاص، اللہ کے ساتھ اور اللہ کے بندوں کے ساتھ۔ اخلاص ہے تو باقی عمل قابل قبول ہیں۔ اخلاص کی مثال روح کی سی ہے کہ روح ہے تو بدن ’’زندگی‘‘ کا حسین نمونہ ہے۔ کلمہء طیبہ کی بنیاد اخلاص پر موقوف ہے۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن میں اخلاص کا پیغام اور اقرار ہے۔ اَلَا ِﷲِ اَلدِّیْنُ الْخَالِص، زندگی گزارنے کے طریقے اور راستے یعنی ’’دین‘‘ میں اخلاص ہے۔ وَمَا اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُ اﷲَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْن اور رَبِّ کائنات کا حکم بھی ’’اخلاص‘‘ ہے۔مختصر یہ کہ اخلاص ہو گا تو منزل کی جانب بڑھنے کا عمل قابل قبول ہے ورنہ نہیں۔ قائد کی دو انتہائی اعلیٰ ترین خوبیاں قائد میں مزید دو خوبیاں ہوتی ہیں جو اُس کی شخصیت کو درجہء کمال تک پہنچتاتی ہیں ان میں سے ایک تو یہ کہ تمام لوگ اپنے قائد سے خوف کھاتے ہوں۔ اور دوسری یہ کہ سب لوگ اس سے محبت بھی رکھتے ہوں۔ 1۔ تمام لوگ اپنے قائد سے خوف کھاتے ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قائد خوفناک قسم کی بلا ہو یا اُس کا چہرہ خوفناک ہو تاکہ لوگ اُس سے خوف کھائیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کوتاہی، لاپرواہی اور بری بات پر ہر شخص کو اپنے قائد کا خوف ہو کہ وہ کسی بھی صورت معاف نہیں کرے گا۔ اور یہ چیز صرف اسی صورت ممکن ہو سکتی ہے کہ قائد بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کی متعین کردہ حدود کے اندر رہ کر عمل کرنے والا ہو اور لوگوں سے بھی عمل کروانے والا ہو۔ جب کبھی کسی کا کوئی بھی عمل اللہ کی حدود سے تجاوز کرے اور شریعت نے اُس حد پر سزا مقرر کر رکھی ہو تو پھر اس سزا پر بھی پورا پورا عمل کروائے اور اس سزا میں کسی بھی قسم کی لچک یا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کرے۔ اور حدود نافذ کرنے میں کبھی کسی کی سفارش، رشوت، دھونس یا دھمکی حتی کہ پوری دنیا کی طاقت کے سامنے بھی سرنگوں نہ ہو اور کوئی بھی ’’سمجھوتہ‘‘ کئے بغیر اس حد کو نافذ کر دے تو پھر ’’قائد‘‘ کی شخصیت سے تمام لوگ خوف کھائیں گے اور کسی کو بھی دم مارنے کی جرأت نہیں ہوگی۔ مثلاً رسول اللہ ا نے قریش خاندان کی عورت فاطمہ پر چوری کا الزام ثابت ہونے پر اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا تو اُسامہ ص کی سفارش پر اُن کو ڈانٹ دیا اور پوری اُمت کو درسِ عبرت دیا کہ تم سے پہلی قومیں اسی لیے برباد ہو گئیں کہ اُن کا بڑا اگر کوئی گناہ کرتا تو اُس کو چھوڑ دیتے اور اگر کمزور شخص گناہ کرتا تو اُس پر حد جاری کر دیتے۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ رسول اکرم ا کے سامنے کسی کو بات کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح سیدنا ابوبکر ص نے اپنی وفات سے پہلے جب مسلمانوں کا ’’قائد‘‘ سیدنا عمر فاروق ص کو مقرر فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ ان میں اور تو کچھ بھی نہیں صرف ’’سخت مزاج‘‘ ہیں۔ گویا وہ عمر ص کی شخصیت سے خوف کھاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے شہروں کے درمیان سفر کرنے والی ایک عورت اپنے پورے زیورات کے ساتھ کئی ہفتوں تک اکیلی سفر کرتی لیکن اُسے کسی چوری اور ڈاکہ زنی کا ڈر یا خوف نہیںہوتا تھا۔ چنانچہ اسی بات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: وَ لَــکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰـاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرۃ:179) اور تمہارے لیے قصاص (یعنی حدود کے نفاذ) میں ہی زندگی (کا راز پوشیدہ) ہے اے عقلمندو۔ تاکہ تم (ناکامی و نامرادی اور معاشرتی بگاڑ سے) بچ جاؤ۔ 2۔ تمام لوگ اپنے قائد سے محبت کرتے ہوں۔ قائد کی دوسری انتہائی اعلیٰ ترین خوبی یہ ہے کہ لوگ اس سے محبت بھی کرتے ہوں۔ اپنے قائد کی بات کو خوش دلی سے ماننا اور عمل کرنا، قائد کی ہر ادا کو سمجھنا، اس سے بحث و تکرار کئے بغیر اس کے قول و فعل کو اختیار کرنا، اختلاف رائے رکھنے کے باوجود قائد کی بات کو ہی ترجیح دینا اور اپنی ذات پر قائد کو مقدم جاننا۔ کیونکہ جب تک محبت کا یہ معیار قائم نہیں ہو گا اُس وقت تک کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ قائد کے ایک ایک اشارے پر جان نچھاور کرنے سے ہی اندرونی اور بیرونی سازشوں، بغاوتوں اور یلغاروں کو کامیابی سے ختم کیا جا سکتا ہے اور حملہ آوروں کو واقعی داندان شکن جواب دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر قائداللہ اور اس کے رسول e کی بات کے خلاف کسی بات کا حکم کرے تو اُس سے انکار کرنا اور اس بات پر عمل نہ کرنا بھی فرضِ عین ہے۔ مثلاً امیر المؤمنین سیدنا علی ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک شخص کو حاکم (امیر) بنایا۔ اُس نے آگ جلائی اور لوگوں سے کہا کہ اس میں داخل ہو جاؤ۔ بعض لوگوں نے چاہا کہ اس میں داخل ہو جائیں اور بعض نے کہا کہ ہم آگ سے بھاگ کر تو مسلمان ہوئے (اور جہنم سے ڈر کر کفر چھوڑا تو اب پھر آگ ہی میں گھسیں تو یہ ہم سے نہ ہو گا)۔ پھر اس کا ذکر رسول اللہ ا سے کیا، تو آپ ا نے ان لوگوں سے جنہوں نے داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا یہ فرمایا کہ اگر تم داخل ہو جاتے تو قیامت تک ہمیشہ اسی میں رہتے (کیونکہ یہ خودکشی ہے جو شریعت میں حرام ہے) اور جو لوگ داخل ہونے پر راضی نہ ہوئے، ا ن کی تعریف کی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے بلکہ اطاعت اسی میں ہے جو جائز بات ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ سیدنا عوف بن مالک ص رسول اللہ ا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ا نے فرمایا: تمہارے بہتر حاکم وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو اور وہ تمہیں چاہتے ہیں اور وہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تم اُن کے لیے دعا کرتے ہو۔ اور تمہارے بُرے حاکم وہ ہیں جن کے تم دشمن ہو اور وہ تمہارے دشمن ہیں، تم اُن پر لعنت کرتے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہیں۔ قائد کی وہ خوبیاں جن کی وجہ سے عوام اس سے محبت کریں اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کونسے عوامل ہیں کہ لوگ اپنے قائد سے محبت کریں؟ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ’’قائد‘‘ اپنے لوگوں کے مال و دولت پر ’’نگاہ‘‘ نہ رکھے بلکہ اپنی ملکیت میں آنے والا تمام مال و دولت اور دیگر اشیائ، مثلاً خمس اور مالِ غنیمت وغیرہ کا حصہ، اور اپنی جیب سے بھی لوگوں کی تألیف قلب کے لیے خرچ کر دے تو لوگ اپنے قائد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ قائد اپنے لوگوں پر ’’ٹیکس‘‘ نہ لگائے، مالی بوجھ نہ ڈالے۔ مثلاً امیر المؤمنین ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ث اور بنو امیہ کا شہزادہ جناب عمر بن عبدالعزیز a، یہ سب مسلمانوں کے قائد بنے تو اپنی ساری دولت بیت المال میں جمع کروا دی اور بیت المال سے صرف اتنا وظیفہ لیتے کہ گھر میں صرف ضرورت کے مطابق روٹی بنتی اور ایک ایک جوڑا بناتے، جمعہ کے روز اُسی جوڑے کو دھو کر دوبارہ پہنتے حتی کہ پھٹ جاتا۔ اس سے زیادہ کبھی بھی نہیں لیا۔ خود رسول اللہ eکی طرف دیکھ لیجئے کہ خمس کی رقم آپ e کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی تھی، یعنی مالِ غنیمت میں اگر ایک لاکھ اشرفیاں آتیں تو ان میں سے بیس ہزار اشرفیاں رسول اللہ e کے لیے مخصوص ہوتیں لیکن رسول اللہ e نے کبھی بھی کوئی اشرفی شام تک اپنے پاس نہ چھوڑی بلکہ سب کی سب عوام الناس میں بانٹ دیں۔ یہی وجہ تھی کہ تمام صحابہ کرام ث رسول اللہ e کو اپنی جان سے زیادہ عزیز جانتے تھے۔ کسی بھی طرح لوگوں کے گھروں، دوکانوں وغیرہ میں جاسوسی نہ کروائے، اُن کی جان کو اپنی جان کی طرح عزیز رکھے، کسی کو اپنے سے حقیر نہ جانے، کالے کو گورے پر ترجیح نہ دے، معاملات میں اپنی برادری کو آگے نہ رکھے، ہمیشہ لوگوں میں سے جو سب سے زیادہ کسی بات کا اہل ہو اُسے آگے لائے، سب لوگوں کو ایک ہی تعلیم دے پھر جو کوئی سب سے بہتر ہو اُسے کسی منصب پر فائز کرے، بھلے وہ کسی مزدور کا بیٹا ہو۔ کیونکہ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ حکمران اپنے ’’بیٹوں، بیٹیوں‘‘ اور دیگر رشتہ داروں کو ہی ’’اچھی تعلیم‘‘ دلاتے ہیں اور غریب لوگوں کے لیے ’’تعلیم‘‘ حاصل کرنے کے تمام راستے بند کر دیتے ہیں تاکہ نہ تو عوام میں سے کوئی تعلیم حاصل کرے اور نہ ہی کبھی کوئی اُن کے سامنے بولنے کی جرأت کر سکے نتیجتاً اُن کی ’’حکومت و دولت‘‘ ہمیشہ قائم رہے۔ قائد کو اللہ کے علاوہ کسی کا خوف یا ڈر نہ ہو ہر نماز میں جب قائد ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن‘ ‘کہتا ہو،اپنا رب صرف اللہ ہی کو جانتا ہو، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے بھیک نہ مانگتا ہو، اللہ تعالیٰ کے فرامین کے مقابلہ میں کسی کی ڈکٹیشن قبول نہ کرتا ہو، جان ہتھیلی پر رکھ کر اللہ کے دین کو دنیا میں نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے شہادت کی موت کا متمنی ہو، حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرتا ہو، اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی مکمل پیروی کرتا ہو، نماز اور صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت و استعانت طلب کرتا ہو، جنت کا حصول اور جہنم کی آگ سے بچاؤ کا تصور ہر وقت اس کے سامنے ہو، اپنی منزل ’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ سلامتی اور رضا والی ملاقات‘‘ کے لیے بیتاب ہو تو پھر اُسے صرف اللہ ہی کا ڈر ہوتا ہے اور باقی تمام جن و انس کا ڈر خوف اُس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَلا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِیْ (تم دنیا والوں میں سے کسی سے بھی مت ڈرو اور صرف اللہ ہی سے ڈرو)۔ قائد کا ’’مشن‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسلم ’’قائد‘‘ کا ایک ہی مشن رکھا ہے اور وہ زمین پر ’’توحید‘‘ کا قیام ہے۔ رسول اللہ ا نے توحید کی بات لوگوں تک پہنچائی، جتنے لوگوں نے مانی انہی کو لے کر شرک والی برائی کو دنیا سے بزورِ شمشیر مٹایا، اور ہر مسلمان کی ڈیوٹی لگائی کہ توحید کی یہ بات دوسرے (غیر مسلم) لوگوں تک پہنچائے۔ جب پوری مسلم قوم نے دوسروں تک یہ بات پہنچائی، اپنے خون سے اس دعوت کی آبیاری کی اور اپنی تلوار سے اس دعوت کی حفاظت کی تو پھر آپ ا اور آپ اکے جانشینوں کے ہاتھوں پوری دنیا میں توحید کا نظام نافذ ہو گیا۔ تمام دنیا کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں آگئی، پوری دنیا کی دولت ان کے قدموں میں سمٹ آئی۔ آج بھی جو قائد اس دنیا میں فتح و کامرانی چاہتا ہے اُسے یہی مشن اختیار کرنا پڑے گا کیونکہ صرف اسی ایک ’’مشن‘‘ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی، مسلمانوں کے قائد اور مسلمانوں کی مدد کا یقین دلایا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اﷲُ بِاَیْدِیْکُمْ وَ یُخْزِھِمْ وَ یَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ (التوبہ:14) کافروں سے (خوب) لڑو، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا، انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔ اسی طرح فرمایا: یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اﷲَ یَنْصُرْکُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (سورئہ محمد:7) اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ قائد! اپنی پوری قوت سے برائی کو ختم کرے قائد کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ غیر مسلم برائی کو مسلمان معاشرے میں پھیلاتے جارہے ہیں، ایک نارمل مسلمان جب اس برائی کو دیکھتا ہے تو اُس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے لیکن حکمران اور اُس کی انتظامیہ کے لوگ، عام مسلمان کو برائی کے خلاف بات کرنے اور برائی کو ہاتھ سے روکنے سے منع کرتے ہیں، مولوی حضرات اس برائی کے خلاف فتویٰ نہیں دیتے بلکہ ’’حکمت‘‘ سے کام لینے کی تلقین فرماتے ہیں۔ چنانچہ حکمران اور علماء عام مسلمان کو ’’عقل سے سوچنے‘‘ کی دعوت دیتے ہیں کہ کیوں اپنی جان کے دشمن بنتے ہو، پولیس ہے، فوج ہے، حکومت ہے وہ یہ کام خود کر لیں گی، تمہارے اوپر فرض نہیں۔ جب تک وہ مسلمان کچھ سوچتا ہے، اُس وقت تک وہ برائی پورے معاشرے کی گھٹی میں پڑ چکی ہوتی ہے، جس کا تدارک ناممکن ہو جاتا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ا نے فرمایا تھا: من رأیٰ منکم منکراً … کہ جوکوئی تم میں سے برائی کو دیکھے تو اُسے اپنے ہاتھ سے روکے … لہٰذا قائد کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر پوری طاقت سے اس ’’برائی کے اسباب‘‘ کا سدِّباب عوام الناس کے ہاتھوں سے کروا دے۔ اس سے پہلے کہ غیر مسلم، ان کے کارندے، ’’جدید مسلم‘‘ حکومتیں اور ’’جدید علمائ‘‘ عام مسلمان کو عقل سے سوچنے کی دعوت دیں اور اس کے دینی جذبات کو ٹھنڈا کر دیں۔ جب عام مسلمان عقل سے سوچتا ہے تو اُس کی دینی غیرت میں کمی واقع ہوتی ہے، توکل علی اللہ والی خوبی ماند پڑ جاتی ہے، وہ تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے والی اطاعت ختم ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اسلام کے لیے جامِ شہادت نوش کرنے کی تمنا بھی دم توڑ جاتی ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اسوئہ حسنہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں بھی مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ جب انہوں نے قوم کے ساتھ میلے میں شرکت نہ کی۔ قوم کو کھیل کود اور تماش بینی میں مشغول دیکھ کر اُن کے عقائد پر ضربِ کاری لگائی اور سوائے ایک کے باقی تمام بتوں کو توڑ دیا جنہیں وہ اللہ کے ہاں اپنا ’’سفارشی‘‘ سمجھا کرتے تھے ۔ ان چار لائنوں سے کئی سبق ملتے ہیں مثلاً: 1۔ کھیل تماشے کی بجائے اللہ کے دین کو نافذ کرنے کے لیے قدم اٹھانا۔ 2۔ لوگوں کی سیاہ کاریوں میں ملوث ہونے سے اپنے آپ کو بچانا۔ 3۔ اکیلے آدمی کا لوگوں کے عقائد پر ضربِ کاری لگانا۔ اور انہیں تہس نہس کر دینا۔ 4۔ برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ’’بڑی جماعت‘‘ کی ضرورت نہیں بلکہ ایک آدمی جو کچھ بھی کر سکے اُسے کرنا چاہیئے۔ 5۔ One man action یعنی ایک ہی آدمی کی کاروائی کا فائدہ۔ 6۔ آدمی کے ذہن میں جو پلان ہے وہ اس پر عمل کرنے سے پہلے کسی کو اسکی بھنک بھی نہ آنے دے۔ 7۔ اکیلے آدمی (خواہ وہ قائد ہو یا رعایا میں سے عام انسان) کا پلان بنانا اور اکیلے ہی اس پر عمل کرنے سے سیکورٹی کی انتہائی اعلیٰ اقدار حاصل کی جا سکتی ہیں۔ دلچسپ بات ہم دیکھتے ہیں کہ ’’مسلمان‘‘ اپنے ’’داڑھی‘‘ رکھے ہوئے ہر شخص کو (بھلے وہ عالم ہو یا جاہل) ہر لحاظ سے (گناہوں سے بالکل پاک صاف) ’’فرشتہ‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں، ان میں کسی قسم کی میل کچیل، گناہ یا کسی قسم کی کوئی لغزش دیکھنا پسند ہی نہیں کرتے جبکہ عیسائی لوگ اپنے ’’قائد‘‘ کو ہر لحاظ سے (گناہوں سے بالکل پاک صاف) ’’فرشتہ‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں،ا س میں کسی قسم کی میل کچیل، گناہ یا کسی قسم کی کوئی لغزش دیکھنا پسند ہی نہیں کرتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں میں ’’قائد‘‘ زندہ ہیں جبکہ مسلمانوں میں ان کا ’’دین‘‘ زندہ اور باقی ہے۔ مثال کے طور پر سابقہ امریکی صدر کلنٹن اپنے جنسی اسکینڈل پر پوری قوم سے معافی مانگتا ہے حالانکہ اُس کی پوری قوم ’’مادر پدر ننگی تہذیب‘‘ کی ’’مشترکہ ماں باپ‘‘ کی پیداوار ہے۔ نہ کسی کو اپنے باپ کا علم ہے اور نہ کسی کواپنی ماں کا۔ نہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے ’’بوائے فرینڈ‘‘ کے ساتھ راتیں گزارنے سے روک سکتا ہے اور نہ ہی باپ اپنی بیٹی کو۔ تو پھر یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ فلاں فلاں کی بیٹی یا بیٹا ہے۔ یہ اعزاز صرف اور صرف اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس میں نہ صرف خاندان کی روایات زندہ و پائندہ ہیں بلکہ عورتوں کو پردے میں بٹھا کر، غیر محرم مرد و زن کے اختلاط کو روک کر، شادی شدہ اور غیر شادی شدہ مرد و زن کو ’’زنا‘‘ سے روک کر، بالغ ہوتے ہی ان کی شادیاں کروا کر، اور زنا ہونے کی صورت میں پتھر مار مار کر ختم کرنے اور غیر شادی شدہ کو 100کوڑے اور ایک ایک سال کی جلاوطنی دے کر، انہیں دنیا میں سب سے بڑے فتنے (مردوں اور عورتوں کی آوارگی) سے مردوں کوبچا کر اسلامی غیرت و حمیت کا کامیابی سے دفاع کیا گیا ہے۔ سادگی و غربت والی زندگی اختیار کرنا آجکل کے نام نہاد ’’قائدین‘‘ اور حکمرانوں سمیت کوئی بھی اس بات کا جواب نہیں دے سکتا کہ رسول اللہ ا نے اور آپ کے جانشینوں نے اپنا تمام مال و دولت اللہ کی راہ میں لوگوں میں تقسیم کر کے ’’غربت زدہ‘‘ زندگی گزارنے کو کیوں ترجیح دی۔ ہماری نظر میں تو ایک ہی بات ہے کہ نبی کریم ا کی حدیث کے مطابق جب انسان کا پیٹ بھوک سے بیتاب ہو تو انسان اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا بلکہ تعلق باﷲ مضبوط رہتا ہے اور دوسرا یہ کہ انسان کو تقویٰ بھی حاصل ہوتا ہے۔ وہ رات کو اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں اپنی حاجات اور اپنی رعایا کی بہتری کے لیے دعا گو رہتا ہے۔ اور قیامت کے دن چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور امیروں کی طرح جنت واجب ہونے کے باوجود مال و دولت کا حساب دیتے رہنے سے بھی بچ جاتا ہے۔ نہ کہ آجکل کے امراء کی طرح کہ راتیں شراب و شباب اور رقص و سرود کی محفلوں میں گزاریں اور صبح کو بھی اللہ کی یاد سے غافل ہو کرعوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑیں۔ چنانچہ جب ’’قائد‘‘ اپنی دولت عوام الناس میں تقسیم کر دیتا ہے تو عوام الناس اس سے محبت کرتے ہیں، اس پر جان نچھاور کرتے ہیں، اس کی من و عن اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اور جب اس دولت کے بل بوتے پر ’’قائد‘‘ اپنی ’’اولاد‘‘ کو غیر مسلموں کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لیے نہیں بھیجتا تو پھر وہ انہی غیر مسلموں کے ہاتھوں ’’بلیک میل‘‘ ہونے سے بچ جاتا ہے اور اپنی پوری قوم کی خیر خواہی کرتا ہے بصورتِ دیگر ……… اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔ قائد کو سیدھا رکھنا اس سے بڑھ کر یہ کہ قائد کو سیدھا رکھنا بھی عوام ہی کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ صحیح مسلم کی ایک حدیث کے مطابق عیسائی لوگوں میں چار انتہائی اعلیٰ خوبیاں ہیں جن میں سے چوتھی، جو سب سے بڑی خوبی کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ عیسائی لوگ اپنے ’’قائدین‘‘ کو سب سے زیادہ سیدھا رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ کام صرف اور صرف مسلمانوں کا ہی تھا۔ مثلاً امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق ص کے کسی مجلس میں حاضرین سے پوچھنے پر ایک بوڑھے نے ننگی تلوار لہرا کر کہا کہ اگر تو اللہ اور اس کے رسول eکے حکم کے علاوہ اپنی خواہش کے مطابق حکم دے گا تو میری یہ تلوار تمہاری گردن تن سے جدا کر دے گی۔ اس پر امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق ص نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ابھی عمر کو سیدھا کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ اس عہد زریں کے بعد بڑے بڑے ائمہ کرام اور صالحین لوگوں نے اپنے اپنے دور کے ’’قائدین‘‘ کو سیدھا رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، خواہ اس مشکل ترین راہ میں اُنہوں نے جان سے ہاتھ دھو لیے یا جوانی اور بڑھاپا جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا۔ خواہ کوڑے مارنے سے اُن کی پیٹھ ٹیڑھی ہو گی یا ہاتھ ہمیشہ لٹکے ہی رہے، خواہ اُن کی نعشیں جیل سے برآمد ہوئیں یا بھری محفلوں میں انہیں تہِ تیغ کر دیا گیا، اُنہوں نے اپنے ’’قائدین‘‘ کو بہرحال سیدھا رکھا۔ بھلے اپنے ’’قائد‘‘ کی صرف ایک ہی غلط بات پر اُسے باز رکھنے کی کوشش کی۔ مثلاً زبردستی طلاق واقع ہونے کی ضد کو امام مالک a نے حدیث کی رو سے غلط کہا اور ڈٹ گئے۔ وہ خود تو دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن گئے لیکن قائد کی غلط بات کو تسلیم نہ کر کے دین کوہمیشہ کے لیے زندہ کر گئے۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل a

نے بادشادہ کی سوچ ’’قرآن مخلوق ہے‘‘ کی مخالفت کی اور قرآن و حدیث سے ایسے دلائل پیش کئے کہ ’’قائد‘‘ کی تمام دلیلیں ختم ہو گئیں، چنانچہ اسی سچ کی پاداش میں امام صاحب کو کوڑے لگائے جاتے رہے، پوری جوانی اور بڑھاپا جیل کی سلاخوں کی نذر کر دیا گیا لیکن اپنے چار قائدین کی ایک ہی غلط بات کو کبھی مصلحت کے تحت بھی ’’ٹھیک‘‘ نہ کہا جس کا نتیجہ پوری اُمت پر احسان کی صورت میں نکلا کہ قرآن کو مخلوق کہہ کر ختم کرنے کی سازش بھی ختم ہو گئی۔ 

علیٰ ھٰذا القیاس جب تک مسلمانوں نے اپنے قائد کو سیدھا رکھا، ان کا دین بھی زندہ رہا اور ان کی حکومت و سیادت بھی۔ ان کی سیاست بھی چلتی رہی اور دنیا پر حکمرانی بھی۔ ان کی تہذیب و تمدن بھی زندہ رہا اور معاشرتی اقدار بھی۔ لیکن جب کبھی بھی یہ چیز ختم ہوئی اور ’’یس سر‘‘ (Yes Sir) کہنے والے لوگ قائدین کے گرد رہے، مسلمانوں کو ہمیشہ شکست و ریخت کا ہی سامنا رہا۔ جیسا کہ آجکل ہے۔ یہ سب یہودیوں کی ریشہ دوانیاں ہیں کہ ’’بیچارہ مسلمان‘‘ ان کے چنگل میں پھنس کر ہمیشہ Yes Sir ہی کہتا ہے۔ایک فون کی گھنٹی پر ہی سجدہ میں گر جاتا ہے۔ موازنہ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ مسلمانوں میں سے چند ایک آدمیوں نے اپنے ’’قائدین‘‘ کو سیدھا رکھنے کے لیے اپنی جانی و مالی قربانیاں پیش کیں لیکن اس وقت بھی بہت سے لوگ اپنے انہیں ’’قائدین‘‘ کے گن گاتے، کوئی خوشی سے اور کوئی ناخوشی سے۔ کوئی جبر و ستم سہنے کے بعد اور کوئی مالی فوائد حاصل کرنے کے بعد۔ علی ھٰذا القیاس ہم اس کی وجہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ سطحی نظر سے دیکھنے والوں نے قرآن مجید کی آیت: اطیعوا اﷲ واطیعوا الرسول واولو الامر منکم کے تحت اپنے قائدین کے سیاہ و سفید کو ’’حق‘‘ جانا اور بخوشی قبول کیا لیکن دقیق نظر اہل علم نے رسول اللہ e کی حدیث کے مطابق قائد ایسے منصب کے دفاع کے لیے انتھک کوششیں کیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’’جب تک حکام دین کو قائم رکھیں ان (حکام) سے عداوت مت رکھو‘‘۔ اسی طرح فرمایا: پسندیدہ اور ناپسند تمام اُمور میں مسلمان امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا ضروری ہے جب تک وہ گناہ کا حکم نہ کریں اور جب وہ معصیت کا حکم کرے تو نہ اُس کی بات سنی جائے اور نہ اطاعت کی جائے‘‘۔ (مختصر صحیح بخاری کتاب الاحکام:2015) لہٰذا جن دقیق اہل نظر نے اس حدیث پر عمل کیا اور ان کی بات کو سنا، مانا اور سراہا گیا تو اس وقت تک حاکم/قائد بھی سیدھے رہے اور ان کی حکومت اور رعایا اور دنیا سیدھی رہی مثلاً سیدنا عمر فاروق ص۔ لیکن جب ان اہل نظر کی بات کو ’’نہ تو سنا ہی گیا اور نہ ہی مانا‘‘ گیا بلکہ ان پر ظلم و ستم روا رکھے جانے شروع ہوئے تو حکمرانوں کی حکومتیں کمزور ہو گئیں۔ دنیا برباد ہوئی اور آخرت میں اللہ ہی اُن کے انجامِ کار سے واقف ہے۔ مثلاً بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومتیں۔ پھر جب یہ دور بھی ختم ہوا اور طوائف الملوکی آئی اور دقیق نظر اہل علم کی جگہ مداحوں/ طبلہ نوازوں/ شاعروں اور ناچ گانے والوں نے لے لی اور اہل علم کی آوازاگر کہیں اٹھی بھی تو کبھی ’’قائدین‘‘ کے کانوں تک نہ پہنچی اور کبھی پہنچنے نہ دی گئی اور اگر کبھی بادلِ نخواستہ قائدین نے وہ بات سنی تو اس کا الٹ ہی مطلب سمجھا اور جن لوگوں نے درمیانی واسطہ بن کر بات سنائی انہوں نے اور بھی مرچ مصالحہ لگا کر بتائی۔ نتیجتاً قائدین نے اپنے ہاتھوں سے اپنی فوجوں اور سپاہیوں سے اپنے ہی عوام کو جو کہ اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، گولیوں کی بارش سے بھون ڈالا اور یہ ’’آوازیں‘‘ ہمیشہ کے لیے بند کر دی گئیں۔ نفاذِ اسلام کی ترتیب باندازِ محمد رسول اللہ e ہادئ اعظم، رہبر کامل، فخر انسانیت، سید اولادِ آدم احمد مجتبیٰ محمد مصطفی e کی زندگی پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ دین اسلام کے نفاذ کے لئے سات چیزوں کی ضرورت ہے۔ 1 تعلیم و تربیت 2 میڈیا 3ہجرت 4قانون۔ 5سیکورٹی اور انٹیلی جنس6قوت و جہاد فی سبیل اللہ 7دولت کی تقسیم۔ آج اُن لوگوں کی کمی نہیں جو اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس ترتیب کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ مثلاً کوئی جہاد و قتال تو کرتا ہے لیکن اس سے پہلے ترتیب نفاذِ شریعت اسلامیہ کی پانچ چیزوں کو پس پشت ڈال کر کر رہا نتیجہ یہ کہ اُس کی تعلیم ایک ’’ہاتھ‘‘ میں ہے تو میڈیا کسی ’’دوسرے ہاتھ‘‘ میں۔ قانون ’’کسی اور‘‘ کا مانتا ہے جبکہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کی ’’ذمہ داری‘‘ کسی دوسرے فریق کے ذمے ہے۔ چنانچہ جب ’’چوں چوں کا یہ مربہ‘‘ ہضم کرنے کے بعد جہاد و قتال ہو گا تو ’’شریعت اسلامیہ‘‘ کیسے نافذ ہو گی؟ یعنی پانچ چیزوں کو چھوڑ کر ’’ڈائریکٹ‘‘ چھٹی چیز کو ہاتھ میں لینا اور اسی پر اکتفا کر لینے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں وہ سب کہنے کی بات نہیں بلکہ سب کو ’’نظر‘‘ آرہے ہیں۔ چنانچہ ہم باری باری ان سات چیزوں کو اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت اسلام میں تعلیم کی بنیاد کلمہء توحید پر ہے۔ اور دراصل توحید ہی وہ تعلیم ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے، اللہ کا خوف دِل میں بٹھا کر حقوق العباد کو پورا کرنے کی رغبت دلاتی ہے اور معاشرتی ناہمواریاں دُور کرتے ہوئے امن و آتشی کو فروغ دیتی ہے۔ کمزور طبقات کا حق انہیں دِلاتی ہے۔ اور دُنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت مہیہ کرتی ہے۔ اسی تعلیم کو رسول اللہ e نے دنیا میں روشناس کروایا اور اسی کے بل بوتے پر دنیا میں اسلام نافذ ہوا۔ توحید ہی کی وجہ سے نظام کائنات مسلسل چل رہا ہے۔ اور جب تک توحید کو ماننے والا ایک بھی شخص زمین کی پشت پر موجود ہے قیامت نہیں آئے گی۔ اور جب وہ شخص بھی اس دنیا سے رخصت ہو گیا تو پھر وہ سب سے بڑا زلزلہ آئے گا جو سب کچھ زیروزبر کر کے رکھ دے گا۔ اللہ کے نبی e نے پہلے پہل اس تعلیم کو خفیہ انداز سے پھیلایا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تو پیارے نبی محمد رسول اللہ e نے پورے معاشرے کے سامنے توحید کی تعلیم پیش کی۔ لوگوں کی تربیت اسی تعلیم پر کی اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس پر خود بھی عمل کیا۔ کیونکہ صرف بتا دینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اُس بات کا عملی ثبوت پیش کرنا اور جو شخص اپنی خوشی سے اس راستے پر چلنا چاہے اُس کے لئے تربیت مہیا کرنا، اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اس سے عمل کروانا، عمل کرنے کے دوران اس کی معاونت کرنا ہی دراصل تربیت ہے۔ اسی تربیت کی بدولت آسمانِ دنیا نے ابوبکر و عمر عثمان و علی y کا نظارہ کیا۔ بقول شاعر۔ ع۔ وہ کیا گردوں تھا جس کا ہے تو اک ٹوٹا ہوا تارہ۔ میڈیا وہ طریقہء کار یاکوئی بھی کوشش یا منظم تحریک جسے خاص مقصد کے لئے، خاص قسم کی معلومات پھیلانے کی خاطر حرکت میں لایا جائے یا حتی الامکان زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خاص قسم کا نظریہ یا فکر پہنچانے کے لئے حرکت میں لایا جائے تاکہ ان کے افکار، ان کے جذبات پر اثر انداز ہوا جا سکے اور اس طرح سے اپنا مطلوبہ مقصد اور ہدف حاصل کیا جا سکے۔ یہ فنون راہنمائی میں سے ایک فن ہے جسے انبیاء و رُسل نے دعوتِ دین کے لئے استعمال کیا۔ اور اس طرح استعمال کیا کہ کسی بھی وقت، اور کسی بھی حالت میں اسے اپنے سے علیحدہ نہیں کیا بلکہ مسلسل اس کا استعمال کیا اور جو چیزیں رب العالمین نے ان کے ذمہ لگائیں تھیں اُنہیں ہر پلیٹ فارم پر اور ہر شخص تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ تمام احکامات نرم ہوں یا سخت، خوشخبریاں ہوں یا عذاب کی دھمکیاں، کسی خاص مسئلہ سے متعلق احکامات ہوں یا عمومی مسائل، انفرادی معاملات ہوں یا اجتماعی، غرض ہر طرح سے ہر حالت میں پہنچانا فرض قرار دیا۔ یہ انتہائی سخت ڈیوٹی خود اللہ رب العالمین نے اپنے پیغمبر e کی لگائی تھی۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَ اﷲُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اﷲَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ (المائدۃ:67) اے پیغمبر(e)! جو ارشادات اللہ کی طرف سے آپ (e) پر نازل ہوئے ہیں وہ سب کے سب لوگوں تک پہنچا دو اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا (کوئی ایک بھی) پیغام (لوگوں تک) نہیں پہنچایا (یعنی پیغمبری کا حق ہی ادا نہ کیا) اور اللہ آپ (e) کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک اللہ منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اسی طرح مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا: الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اﷲِ وَ یَخْشَوْنَہٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اﷲَ وَ کَفٰی بِاﷲِ حَسِیْبًا (الاحزاب:39) اور جو لوگ اللہ کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اسی (اللہ) سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ ہی حساب کرنے کو کافی ہے۔ ذرا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ شہر مکہ جس کامیڈیا اور میڈیا کی سب کی سب طاقت کافروں کے کنٹرول میں تھی انہیں کے درمیان میں رہتے ہوئے محمد رسول اللہ e نے ’’میڈیا‘‘ کو اس طرح استعمال کیا کہ مکی زندگی میں ہی تمام عرب تک بلکہ عرب سے باہر بھی توحید کی دعوت پھیلا دی۔ آج بھی ضرورت ہے کہ وہی اسلوب اختیار کیا جائے جسے رسول اللہ e نے کبھی اپنے سے الگ نہیں کیا اور اس کی بدولت دنیا میں شمع توحید کی تمام کرنیں منور کر دیں۔ یہ ایک مستقل باب ہے جسے اسوئہ حسنہ سے کھنگالنے کے لیے تحقیق کرنی چاہیے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیے تاکہ اس دنیا میں توحید کو دوبارہ سے نافذ کیا جا سکے۔ آج کے دور میں دنیا کے پاس ایک ایسی قوت ہے جو لوگوں کے ذہنوںمیں خیالات پیدا کرتی ہے اور انہیں آگے بڑھاتی ہے، یہ ’’میڈیا‘‘ کی قوت ہے۔ میڈیا کا اصل کردار یہ ہے کہ ناگزیر ضروریات کی نشاندہی کرے اور عوام کی شکایات اور تکالیف کو سامنے لائے۔ جبکہ موجودہ میڈیا بے اطمینانی اور بے چینی کی فضاء پیدا کر رہا ہے اور ہر ایک برائی کی تشہیر بھی کئے جا رہا ہے۔ یہ میڈیا ہی تو ہے جس کے ذریعہ آزادئ تقریر کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ ’’مسلمان‘‘ چونکہ اس طاقتور ترین حربے کے استعمال سے ناآشنا اور بے بہرہ ہیں لہٰذا یہ طاقت کلی طور پر یہودیوں کے ہاتھ میں آچکی ہے۔ میڈیا ہی کی وجہ سے یہود و نصاریٰ، ہندوؤں اور دیگر غیر مسلموں نے خود کو پس پردہ رکھتے ہوئے ’’مسلمانوں‘‘ پر اثر انداز ہوئے ہیں، اسی کے ذریعے انہوں نے سونے جیسی قیمتی دھات اپنے قبضے میں لے لی ہے اور اب ’’تیل‘‘ کی طاقت کو ہتھیانے کے چکروں میں ہیں۔ چنانچہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بہت اچھے ہیں اگر ان کے اثرات معاشرے پر اس انداز میں پڑیں کہ یہ میڈیا لوگوں کو دینی اُمور کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ کر دے، ان کے جذبات کو شیطانی راہوں پر نہ چلا دے، ان کی نسل کشی نہ کر دے، ان کے ذہنوں سے اسلامی تشخص کو محو نہ کر دے، لغویات اور فضولیات کے پردے میں اسلامی تعلیمات کو بھلا نہ دے، عریانی و فحاشی کو فروغ نہ دے، لوگوں کی عزت و آبرو کو دنیا میں نہ اچھالے، لوگوں کو بلیک میل نہ کرے۔ اور لوگوں کو ان کے دین سے بیگانہ نہ کرے۔ میڈیا پر دبے یا کھلے الفاظ و اشارات یا وعظ و لیکچرز کے ذریعے اسلام کے خلاف شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلمانوں کے ذہنوں کو پراگندہ نہ کرے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا بااختیار حاکم، افسر، سماجی کارکن، این جی او کا سربراہ یا امداد تقسیم کرنے والے لوگ بھی ’’میڈیا‘‘ والوں کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ آئیں تو ہم غریب، مسکین، آفت زدہ لوگوں کی ’’مدد‘‘ کے لئے ان میں رقوم کے ’’چیک‘‘ تقسیم کریں، یا سلائی مشینیں، سائیکل، کمبل، کھانے پینے کی اشیائ، ادویات، وغیرہ تقسیم کریں۔ جب یہ حالت ہو تو للّٰھیت ختم ہو جاتی ہے۔ اور غریب، فاقہ کش اور بیماریوں کے مارے ہوئے لوگ صبح سے شام تک بیٹھے رہتے ہیں اور ’’حکام‘‘ کے لئے ’’میڈیا ٹیم‘‘ کا انتظار کرتے ہیں کہ کب وہ نازل ہو تو ہمیں چند ٹکڑے مل جائیں۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ اس میں تصویر کشی کی جاتی ہے جس سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے بلکہ تصویر کشی کرنے والے کو جہنم کی وعید سنائی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ غیرت کا جنازہ نکل جاتا ہے کہ جب اخبارات کے رنگین صفحات پر ایک طرف اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر مبنی مواد شائع کیا جاتا ہے تو اسی صفحے کے دوسری طرف بے حیائی کے پرسوز مناظر کی تصویریں اور بیہودہ لچر بازی کا بازار گرم ہوتا ہے۔ ریموٹ ہاتھ میں پکڑ کر ایک طرف بے حیائی کا ’’چینل‘‘ ٹیون کر لیا جاتا ہے اور دوسری طرف ’’قرآنی‘‘ چینل ٹیون کر لیا جاتا ہے۔ جب کوئی ’’بزرگ‘‘ آئے تو قرآنی چینل کا بٹن دبا دیا جاتا ہے اور جب وہ چلا جائے تو بے حیائی کا چینل لگا لیا جاتا ہے۔ اگر یہ مسلمانوں کی غیرت کا جنازہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک ہی جگہ تم ’’بلیو پرنٹ‘‘ دیکھو اور اسی جگہ تمہاری مقدس کتاب ’’قرآن‘‘ کے الفاظ بھی دکھائی دیں۔ گویا تم نے قرآن کو کھول کر اسی جگہ رکھ دیا جہاں بے غیرتوں نے زنا کیا۔ میڈیا پر ’’انٹرویو‘‘ کی آڑ میں غیر مسلم اقوام مسلمانوں لیڈروں اور عوام الناس کو جمع کر لیتے ہیں اور ان لیڈروں کی غلطیاں، بیوقوفیاں سربازار لے آتے ہیں چنانچہ ناپختہ ذہن کے لوگوں کے ذہنوں میں اپنے قائدین اور لیڈروں کے خلاف انتقام کے جذبے بھڑک اٹھتے ہیں۔ معاشرے میں ان کی عزت نہیں رہتی، لوگ ان سے متنفر اور بددل ہو جاتے ہیں جو کہ غیر مسلموں کا اصل مقصد ہے۔ چنانچہ وہ تو اس میں کامیاب و کامران ہیں۔ کیونکہ وہ تو ’’بی بی سی‘‘ اور ’’سی این این‘‘ میں مسلمان قائدین اور حاکموں کو بلوا کر ’’ہارڈ ٹالک‘‘ اور ’’لوز ٹالک(Hard Talk and Loos Talk) کرتے رہتے ہیں اور ان سے چھپے ہوئے راز بھی اگلوا لیتے ہیں۔ کیا کبھی ’’مسلمانوں‘‘ کے کسی بھی میڈیا نے غیر مسلم حکمرانوں کے ساتھ ’’ہارڈ ٹالک‘‘ یا ’’لوز ٹالک‘‘ کی ہے؟ اور کیا کبھی انہوں نے اپنے راز میڈیا پر پیش کئے ہیں؟ اسلام نے ’’مسجد‘‘ کو اللہ کا گھر قرار دیا ہے، اس کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جن کے دلوں میں تقویٰ ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کو زمین پر سب سے زیادہ پسند جگہ ’’مسجد‘‘ ہے۔ لیکن جب مسجد کو مسلمانوں کے خلاف چھپ چھپ کر پروپیگنڈہ کرنے کے لئے منتخب کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے نبی ا کو حکم دیا کہ اس مسجد کو ہی گرا دیا جائے۔ اور وہ مسجد گرا دی گئی۔ یہ تو اسلام کی غیرت تھی۔ آج کل یہ کام بہت سی جگہوں سے لیا جا رہا ہے جن میں کئی ’’مساجد، امام بارگاہ اور مزار‘‘ وغیرہ شامل ہیں لیکن سب سے بڑھ کر تو ’’میڈیا‘‘ کی بڑی بڑی خوبصورت اور مرصع بلڈنگ ہیں جن میں اعلانیہ طور پر مسلمانوں کے ذہنوں کو اسلام سے خالی کرنے کا کام لیا جا رہا ہے۔ ’’چنانچہ آج مسلمانوں کے قائد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کی ہر بلڈنگ کو زمین بوس کروا دے جس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے یا لوگوں کے ذہنوں کو اسلام سے خالی کرنے کا کام لیا جارہا ہے‘‘۔ ہجرت رسول اکرم e نے مکہ میں رہتے ہوئے جب دو چیزیں یعنی تعلیم تربیت اور میڈیا پر سخت محنت کر لی تو اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کی اور مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اگرچہ آج ہمارے لئے یہ حکم نہیں کہ ہم سب مدینہ میں ہجرت کر جائیں لیکن اپنے مروجہ اعمال سے رسول اللہ e کے اعمال کی طرف پلٹنا، اپنے طریقے کو چھوڑتے ہوئے رسول اللہ e کا طریقہ اختیار کرنا، اپنی قوم، قبیلہ اور برادری اور برادری کے رسم و رواج کو چھوڑتے ہوئے ’’اسلامی برادری‘‘ اور اسلامی رسم و رواج کی طرف پلٹنا، اور تمام اسلامی برادری کو یکجا کرنا، اُنہیں ایک جگہ رہائش اختیار کروانا وغیرہ یہ سب کام تو آج کے معاشرہ میں اسلام نافذ کرنے کے لئے انتہائی لازمی ہیں۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کی کالونیاں بنی ہوئی ہیں جن میں دوسرے مذہب کے افراد کا داخلہ تک ممنوع ہے۔ مختلف قوموں اور برادریوں کی آبادیاں موجود ہیں، جہاں کسی غیر قوم و برادری کا شخص گھر نہیں بنا سکتا۔ اگر نہیں تو ’’اہل حق‘‘ کہلانے والوں کی آج کوئی ’’کالونی‘‘ نہیں، کوئی ’’آبادی‘‘ نہیں بلکہ یہ مختلف جگہوں پر پھیلے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے درمیان ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں جو اپنی اپنی ’’کالونی‘‘، ’’آبادی‘‘ والوں کو ان کی خبریں دیتے ہیں، ان میں اپنے اپنے ’’رسم و رواج‘‘ کو فروغ دیتے ہیں، اپنی اپنی ’’تعلیم ‘‘ پھیلاتے ہیں، ان میں اپنی خفیہ انٹیلی جنس کے کارندے بھیج کر انہیں ایک جماعت سے دو، دو سے چار اور پھر تقسیم در تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں۔ فاعتبروا یا اُولی الابصار۔ جب تک ’’اہل حق‘‘ ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوں گے اُس وقت تک دُنیا کو ’’نمونہ‘‘ اور ’’آئیڈیل‘‘ کیسے دے سکیں گے کہ حق تعالیٰ نے اسلام پر عمل کرنے کے لیے ’’اہل حق‘‘ کے لیے یہ یہ پیمانے مقرر کیے ہیں اور اس اس طرح سے ان پر عمل کیا جائے گا۔ قانون ہجرت نبوی e کے بعد مسلمانوں کی آبادی و کالونی میں سب سے پہلا کام جو کرنے کا تھا وہ قانون کا مرحلہ تھا۔ قربان جائیے محمد رسول اللہ e کی فراست پر کہ آپ e نے نہ صرف اسلامی قانون مسلمانوں پر نافذ کرنے کی راہ ہموار کی بلکہ یہود و نصاری اور دیگر کافروں سے بھی یہ منوا لیا کہ ’’مسلمانوں کی آبادی‘‘ میں رہنے والے تمام لوگ فیصلہ کروائیں گے تو محمد رسول اللہe سے اور آپ e فیصلہ جو فیصلہ کریں گے وہ آسمانی ہدایت یعنی اسلام کے مطابق کریں گے۔ ملاحظہ ہو میثاقِ مدینہ کی آخری شق جس میں تمام کافر اور مسلمان اللہ کے قانون کے پابند بنا دیئے گئے۔ کیا آج ’’اہل حق‘‘ نے ایسی کوئی کوشش کی ہے؟ کیا انہوں نے آج اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا اور کروانا دیگر مذاہب کے لوگوں سے منوا لیا ہے؟ یا کم از کم اپنے تنازعات کا فیصلہ اسلامی قانون کے مطابق کروا رہے ہیں؟ جواب نفی میں ہے بلکہ فیصلہ کروانے کے لئے اُن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں طاغوت کہا ہے۔ اس ضمن میں سورئہ نساء کی آیات 58 تا 60کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ سیکورٹی اور انٹیلی جنس سیکورٹی اور انٹلیجنس کی مختلف تعریفات کا لب لباب اور مفہوم یہ ہے کہ سیکورٹی اور انٹلیجنس ایسے قواعد و ضوابط اور اسالیب کا مجموعہ ہے جو کسی جماعت کے مخفی /چھپے ہوئے رموز و اسرار، منصوبوں اور عملیات (کاروائیوں) کی دشمن سے حفاظت کی ضامن بن سکیں۔ اور جن کو ملحوظ خاطر رکھنے سے جماعت کے منصوبوں اور کاروائیوں میں نقصان کم سے کم ہو۔ رسول اللہ e نے جس انداز سے اسلام کو اس دنیا میں نافذ کیا، اس طریقہء کار کی پانچویں چیز سیکورٹی اور انٹیلی جنس ہے۔ کیونکہ رسول اللہ e کو اچھی طرح علم تھا کہ جس قوم یا تنظیم کی اپنی سیکورٹی اور انٹیلی جنس نہیں ہوتی اس قوم یا تنظیم کو بہت جلد مختلف حصوں میں بڑی آسانی سے توڑا جا سکتا ہے۔ اس کے لوگوں کو منحرف کیا جا سکتا ہے، ان کے اندر ہی سے ان کے قائد/ لیڈر وغیرہ کے مخالف لوگ تیار کیے جا سکتے ہیں جو آگے چل کر اس کام کرنے والے شخص کے ’’ہاتھ پاؤں‘‘ کاٹ ڈالتے ہیں۔ اور مقصد ادھورے کا ادھورہ رہ جاتا ہے۔ آج جہاد کا کام کرنی والی جماعتوں کی سب سے بڑی غلطی ہی یہ ہے کہ انہوں نے نعرئہ اسلام کو بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کے قیمتی خون کو مختلف جگہوں پر شہادت کے نام پر بہا تو دیا لیکن رسول اللہ e کی اختیار کی ہوئی حکمت عملی کو اختیار نہ کیا حتی کہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کا شعبہ بھی ’’ان دیکھے ہاتھوں‘‘ میں دے رکھا ہے۔ جب صورتِ حال ایسی ہو تو لاکھوں ’’شہادتیں‘‘ حاصل کرنے کے بعد بھی ’’اسلام‘‘ بلند نہیں ہوا کرتا۔ اسی لئے تو رسول اکرم e نے اپنی سیکورٹی اور انٹیلی جنس بنائی۔ رسول اللہ e مدینہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن باخبر ہیں کہ مکہ سے شام جانے والے قافلے اس وقت کہاں کہاں سے گذر رہے ہیں؟ قافلوں میں کتنے افراد ہیں؟ کتنی سواریاں ہیں؟ حفاظت کے کیا کیا سامان ہیں؟ ان کا لیڈر کون ہے؟ کیا کیا مال و دولت ان کے پاس ہے؟ واپس کب آنا ہے؟ کس راستے سے آنا ہے؟ کیا کیا چیزیںلے کر واپس آنا ہے؟ اسی طرح مکہ اور طائف کے درمیان میں کیا کیا نقل و حمل ہے؟ کیا کیا معاہدات ہو رہے ہیں؟ کیا کیا چیزیں رصد کے طور پر پہنچائی جا رہی ہیں؟ اور جب مکہ والوں نے یہ دونوں راستے غیر محفوظ سمجھ کر اپنے قافلے شام پہنچانے کے لیے ’’شام براستہ عراق‘‘ کا سفر اختیار کیا تو وہاں بھی رسول اللہ e کی سیکورٹی اور انٹیلی جنس حرکت میں تھی۔ یہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس ہی کا کمال تھا کہ پورا عرب لاکھوں کروڑوں کی آبادی مل کر بھی ’’ریاست مدینہ‘‘ کی چھوٹی سی آبادی پر شب خون مار کر اسے تاخت و تاراج نہیں کر سکی۔ حالانکہ یہ ریاست اندرونی سازشوں سے بھی گھری ہوئی تھی۔ کیا آج اہل حق کسی تنظیم، جماعت یا قوم میں اسلامی طرزِ سیکورٹی اور انٹیلی جنس موجود ہے؟ یاد رکھیے! جو قوم اپنی سیکورٹی اور انٹیلی جنس قائم کر لیتی ہے درحقیقت وہ اپنی ’’حکومت‘‘ کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار اہل حق کے ’’اہل علم‘‘ جب تک رسول اللہ e کے اُسوئہ حسنہ سے سیکورٹی اور انٹیلی جنس کا مطالعہ کر کے اس پر عمل نہیں کریں گے، ’’حق‘‘ اس دنیا میں بیان بھی نہیں کر سکیں گے۔ جن لوگوں کو ’’کافر‘‘ کہا جاتا ہے، یا جنہیں ’’کافر‘‘ قرار دلوانے کے لئے منظم تحریک چلائی گئی اور قانوناً انہیں ’’کافر‘‘ قرار دلوایا گیا، آج تمام کی تمام سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے مالک یہی لوگ ہیں۔ ایک طرف حال یہ ہے کہ ہر ’’کافر‘‘ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کی خدمات انجام دے رہا ہے جبکہ دوسری طرف ’’اہل حق‘‘ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے اداروں مثلاً پولیس، فوج وغیرہ وغیرہ کی نوکری ہی کے مخالف ہیں۔ اور جو لوگ اتفاقاً ایسے اداروں میں موجود ہیں اُنہیں اپنے آپ کو ’’اہل حق‘‘ کہلوانا بھی کسی اذیت سے کم نہیں، نہ تو وہ ’’بیچارے‘‘ اپنے پلیٹ فارم پر حق بات کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی ’’اہل حق‘‘ کی مدد کر سکتے ہیں۔ کیا آج کوئی اہل حق ’’اہل علم‘‘ ایسا کام کرنے کے لئے تیار ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر انتظار کیجئے کہ چند اسلامی آداب پر عمل کرنے سے بھی عنقریب آپ کو روک دیا جائے گا۔ قوت و جہاد فی سبیل اللہ رسول اکرم e نے چھٹی نمبر پر جو چیز حاصل کی تھی وہ ’’قوت اور جہاد فی سبیل اللہ‘‘ تھی۔ اپنی بنائی ہوئی ’’قوت‘‘ ہی ’’قوت‘‘ ہوتی ہے، مستعار لی ہوئی ’’قوت‘‘ قوت نہیں ہوا کرتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ میں کلاشنکوف رکھتا ہے تو بہت سے لوگ اس سے اُس وقت تک خوف کھاتے رہیں گے جب تک اُس کے ہاتھ میں کلاشنکوف کے اندر گولی موجود ہے۔ لیکن جونہی اُس کی کلاشنکوف کی گولیاں ختم ہوئیں، اُس کی ساری کی ساری ’’قوت‘‘ ختم ہو گئی۔ بس یہی نقطہ اللہ رب العزت نے کچھ یوں سمجھایا ہے: وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اﷲِ وَ عَدُوَّکُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ لَا تَعْلَمُوْنَھُمُ اَﷲُ یَعْلَمُھُمْ (الانفال:60) اور جہاں تک ہو سکے قوت (ونشانہ بازی)سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے اُن کے (مقابلے کے) لئے مستعد رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔ یعنی جتنی بھی زیادہ سے زیادہ تم اپنی قوت و طاقت تیار کر سکتے ہو وہ ضرور کرو۔ کیونکہ مستعار لی ہوئی قوت ’’قوت‘‘ نہیں ہوا کرتی۔ اگر ’’اہل حق‘‘ کا ہر شخص دوپہر کا کھانا نہ کھائے اور یہی پیسہ ’’قوت‘‘ کے حصول اور تیاری میں صرف کر دے تو اللہ رحمن و رحیم چند ہی دنوں میں انہیں اس قابل بنا دے گا کہ یہ دنیا میں اسلام نافذ کر سکیں۔ کیا آج اہل حق اس کام کے لئے تیار ہیں؟ اگر تیار ہیں تو پھر دیر کس بات کی؟ اللہ پر بھروسہ کریں۔ کیونکہ جو شخص اور قوم اللہ پر بھروسہ کرتی ہے، اللہ تعالیٰ اُسے بہت پسند کرتا ہے۔ اور اُس کی ہر حاجت پوری فرما دیتا ہے۔ اب جب اپنی قوت بنا لی جائے تو اُسے اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے استعمال کرنا ہی دراصل ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ اور جس قوم کی اپنی بنائی ہوئی ’’قوت‘‘ موجود نہیں ہوتی تو ازروئے قرآن وہ قوم ذلت اور معاشی تنگدستی میں گھر جایا کرتی ہے۔ اور اپنی شناخت بھی کھو دیتی ہے۔ دولت کی منصفانہ تقسیم اب ساتویں چیز جو کہ اَمارتِ اسلامیہ قائم ہونے کے بعد سب سے زیادہ توجہ کی مستحق ہے وہ دولت کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اس کے متعلق شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ a نے اپنی اسی کتاب میں بہت ہی عمدہ اور مفصل بحث کی ہے۔ چنانچہ اسی پر اکتفا کرتے ہوئے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ مالک الملک، ذوالجلال والاکرام ہماری اس سعی کو مقبول و منظور فرمائے اور اسے ہر خاص و عام کے لیے نفع مند اور توشہء آخرت بنائے آمین۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعا ہے کہ اللہ احکم الحاکمین اس کتاب کو میٹرک و کالج کے طلبہ و طالبات کے نصاب میں شامل کروا دے تاکہ اُن کی ذہنی صلاحیتوں کو جلا مل سکے اور اُن کی تمام تر سعی و کوشش اِسلام کو دُنیا میں نافذ کرنے میں صرف ہو سکے۔ اُن کے ہر اُٹھنے والے قدم سے دین اسلام دنیا میں مضبوط ہو اور کفر نیچا ہو جائے۔ ہم یہ بھی دُعا کرتے ہیں کہ اے حیات و موت کے پیدا کرنے والے! تو ہمیں اُس وقت تک ’’شہادت‘‘ کی بھی موت نہ دے جب تک تیرا دین ہمارے ہاتھوں تیری دُنیا میں نافذ نہ ہو جائے۔ اور جب دین نافذ ہو جائے تو ہمیں اس دُنیا میں رہنے کی کوئی خواہش نہیں۔ بس اُسی لمحے ’’شہادتِ حمزہ t ‘‘ جیسی شہادت کی موت عطا فرما دے۔ آمین یارب العالمین۔