عزیز الحق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عزیز الحق
আযিযুল হক
عزیز الحق

معلومات شخصیت
پیدائش 1892
شانتی پور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1947
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ Kaniz Khatun
عملی زندگی
مادر علمی کلکتہ یونیورسٹی
پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ Advocate, diplomat
اعزازات
کمپینین آف دی آرڈر آف دی انڈین ایمپائر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

سر محمد عزیز الحق کے سی ایس آئی ، سی آئی ای (27 نومبر1892ء- 23 مارچ 1947ء) محمد عزیز الحق کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ ایک بنگالی وکیل، مصنف اور سماجی کارکن تھے۔ انہوں نے کلکتہ میں پریزیڈینسی کالج اور یونیورسٹی لا کالج میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے بنیادی طور پر دیہی علاقوں کے مسلمانوں کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا۔ اسی وجہ سے انہیں برصغیر کے نامور مسلم سیاست دانوں کی قیادت میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جن میں شیر بنگال اے- کے فضل الحق ٬ سر عبد اللہ سہر وردی، سر سلیم اللہ اور سر محمد علی جناح شامل ہیں۔ عزیز الحق 27نومبر 1892ء میں شانتی پور، ویسٹ بنگال بھارت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد معروف مصنف ، شاعر اور صحافی ایم ڈی مزمل الحقی تھے۔ عزیز الحق ایک باصلاحیت طالب علم تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سانتی پور مسلم سکول سے مکمل کی اور سال 1907ء میں یونیورسٹی کا داخلہ کا امتحان پاس کیا۔ 1912ء میں انہوں نے اپنا بی اے کلکتہ یونیورسٹی سے کیا۔ اس کے بعد کلکتہ یونیورسٹی لا کالج سے اپنی ایچ ایل( بیچلر آف لا) ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 1915ء میں کریشنانگر میں ججز کی عدالت میں ایک پریکٹس وکیل کی طور پر اپنے کام کا آغاز کیا۔ جلد ہی وہ وکیل کے طور پر بہت کامیابی حاصل کر گئے اور اپنے کام سے جانے جاتے تھے۔ جلد ہی وہ ضلع نادیہ میں عوامی پروسیکوٹر کی حیثیت اختیار کر گئے۔ انہیں 1926ء میں برطانویوں نے "خان بہادر" کا لقب دیا[1]۔ انہیں 1926ء اور 1934ء کے درمیاں ضلع نادیہ میں بورڈ کے نائب چئیرمین کی پوزیشن پر تعینات کیا گیا۔ اس کے بعد 1933ء میں کرشن نگر کے میونسیپلٹی کے سربراہ بن گئے۔ سال 1934ء میں وہ بنگال کے وزیر تعلیم کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے بنگال میں ناخواندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔ عزیز الحق وہ انسان تھے جنہوں نے سب سے پہلے مفت پرائمری تعلیم کے لیے بل متعارف کروایا۔ اپنے عہد میں انہوں نے بنگال کے تعلیمی ڈھانچے کو بہت بہتر بنا دیا تھا اور اس کے تحت شہروں اور دیہی علاقوں میں بہت سے نئے سکول تعمیر کیے گئے اور ان سکولوں کا نظام بہت منظم طور پر بہتر بنایا گیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]