نہج البلاغہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نہج البلاغہ کے ایک قدیم نسخہ کا صفحہ

نہج البلاغہ (عربی: نهج البلاغة ) حضرت علی بن ابو طالب کرم اللہ وجہہ کے خطبات اور خطوط کا ایک مجموعہ ہے جسے تیسری صدی ہجری میں سید شریف رضی نے مرتب کیا۔ سید شریف رضی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے تمام خطبات اس میں شامل نہیں کیے بلکہ کچھ خطبات اور خطوط منتخب کیے تھے جن کی حیثیت مستند و مصدقہ تھی۔ سید شریف رضی نے انہیں منتخب کرتے ہوئے مذہبی حیثیت کی بجائے عربی ادب کو ملحوظ خاطر رکھا تھا۔ اس کتاب کا مقام عربی ادب اور صحافت و بلاغت میں بہت بلند ہے۔ شیعہ مسلمانوں کے نزدیک اسے قرآن و حدیث کے بعد اعلیٰ مذہبی مقام حاصل ہے۔

تعارف[ترمیم]

نہج البلاغہ میں علی ابن ابی طالب کے 241 خطبات، 79 خطوط اور 489 مختلف چھوٹی تقریریں شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر ان کی اپنی خلافت کے زمانہ میں مسجد کوفہ میں دیے جانے والے خطبات ہیں۔ خطبات کے بنیادی موضوعات توحید، قیامت کی نشانیاں، دنیا کی پیدائش، حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اور امام مہدی علیہ السلام کا ظہور وغیرہ ہیں۔

جارج جرداق و نہج البلاغہ[ترمیم]

جارج جرداق ایک مشہور عیسائی عرب مصنف ہے۔ اس نے اپنی کتاب’’ روائع نہج البلاغہ‘‘ میں لکھا ہے کہ قرآن پاک کے بعد یہ سب سے زیادہ فصیح کلام نہج البلاغہ ہے۔

[1]

دانشمندان جہان و نہج البلاغہ[ترمیم]

[2]

  • عزالدین عبدالحمید ابن ابی الحدید معتزلی جو ساتویں صدی میں اہل سنت کے مشہور ترین دانشور ہیں (1) ۔

1۔ انہوں نے اس کتاب کو 20 جلدوں میں لکھا ہے اور کہا ہے کہ میں نے یہ کتاب پانچ سال سے کم میں لکھی ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ میں نے یہ کتاب اتنے ہی سال میں لکھی ہے جتنے سال مولی علی (علیہ السلام) کی خلافت ظاہرہ رہی ہے ۔

انہوں نے اس سلسلہ میں نہج البلاغہ کی شرح میں بارہا کہا ہے اور نہج البلاغہ کی فصاحت و بلاغت کے سلسلہ میں بارہا سر تعظیم خم کیا ہے ۔

انہوں نے ایک جگہ (برزخ کے متعلق 221 ویں خطبہ کے ذیل میں) حضرت علی کے بعض کلام کی شرح کے بعد کہا ہے :

”و ینبغی لو اجتمع فصحاء العرب قاطبة فی مجلس و تلی علیھم ، ان یسجدوا لہ کما سجد الشعراء لقول عدی ابن الرقاع: قلم اصاب من الداوة مدادھا ․․․ فلما قیل لھم فی ذلک قالوا انا نعرف مواضع السجود فی الشعر کما تعرفون مواضع السجود فی القرآن “ ۔

اگر عرب کے تمام فصحاء ایک مجلس میں جمع ہوجائیں اور اس خطبہ کا یہ حصہ ان کے سامنے پڑھا جائے توان کے لیے بہتر ہے کہ وہ اس کے سامنے سجدہ کریں (جیسا کہ روایت بیان ہوئی ہے) جس وقت عرب کے شعرا نے ”عدی بن الرقاع“ کے مشہور شعر کو سنا تو اس کے لیے سجدہ کیا جب ان سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم شعر میں سجدہ کی جگہ کواسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح تم قرآن مجید میں سجدہ کی جگہ کوپہچانتے ہو (2) ۔ [1]

دوسری جگہ جب حضرت علی کے بعض کلام کا چوتھی صدی ہجری کے مشہور خطیب ”ابن نباتہ “ کے کلام سے اجمالی مقایسہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں :

”فلیتامل اھل المعرفة بعلم الفصاحة والبیان ھذا الکلام بعین الانصاف یعلموا ان سطرا واحدا من کلام نہج البلاغة یساوی الف سطر منہ بل یزید و یربی علی ذلک“۔

علم فصاحت وبلاغت سے آشنا افراد اگر علی کرمﷲ وجہہ کی اس گفتگو کو انصاف کی نظر سے دیکھیں تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ نہج البلاغہ کی ایک سطر ، مشہور مولف ابن نباتہ کی ہزار سطروں سے زیادہ بہتر ہے بلکہ اس کے اوپر اس ایک سطر کو برتری حاصل ہے ۔

پھر اسی سلسلہ میں انہوں نے ایک عجیب بات کہی ہے جب یہ ابن نباتہ کے جہاد کے سلسلہ میں ایک خطبہ کو نقل کرتے ہیں جس میں حضرت علی کے خطبہ جہاد کے کلمات سے استفادہ کیا ہوا ہے ” ما غزی قوم فی عقر دارھم الا ذلوا“۔ کسی بھی قوم و ملت کے گھروں میں دشمنوں نے ان پر حملہ نہیں کیا مگر یہ کہ وہ ذلیل ہو گئے ۔

  • ابن ابی الحدید کہتے ہیں : اس جملہ میں غور و فکر کرو اور دیکھو کہ ابن نباتہ کے پورے خطبہ کے درمیان یہ جملہ کس طرح فریاد کررہا ہے اور اپنی فصاحت و بلاغت کو سننے والوں کے سامنے اعلان کررہا ہے کہ یہ اس خطبہ کے خزانہ کا حصہ نہیں ہے ، خدا کی قسم اسی ایک جملہ نے ابن نباتہ کے خطبہ کو ایسی زینت بخشی ہے جس طرح کسی خطبہ میں قرآن کریم کی ایک آیت پورے خطبہ پر نور افشانی کرتی ہے ۔(3) ۔

[2]

آخر کار ان کی بات کو ان کی کتاب کے مقدمہ میں ایک جملہ پر ختم کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : ”و امام الفصاحة فھو (علیہ السلام) امام الفصحاء و سید البلغاء و فی کلامہ قیل : دون کلام الخالق و فوق کلام المخلوقین و منہ تعلم الناس الخطابة والکتابة “ ۔

ان کی فصاحت ،فصحاء اور بلغاء کی فصاحت کی سردار ہے لہذا ان کے کلام کے متعلق کہا گیا ہے : کہ یہ خالق کے کلام سے کم اور مخلوق کے کلام سے زیادہ ہے اور لوگوں نے خطابت کی راہ و رسم اسی کتاب سے سیکھی ہے (1) ۔ [3]

  • جارج جرداق: لبنان کے مشہور عیسائی مصنف نے اپنی قیمتی کتاب ”الامام علی صوت العدالة الانسانیة“ میں حضرت علی (علیہ السلام) کی شخصیت کے متعلق اس طرح کہا ہے :

بلاغت میں آپ کا کلام سب سے بلیغ ہے ، آپ کا کلام ، قرآن کے مقام سے کم ہے جس میں عربی زبان کی تمام خوبصورتیاں جمع ہو گئی ہیں ،یہاں تک کہ مولی علی (علیہ السلام) کے متعلق کہاہے : ان کا کلام ، خالق کے کلام سے کم اور مخلوق کے کلام سے زیادہ ہے (2) ۔

  • جاحظ جن کا شمار عرب کے بزرگ ادبا اور نوابغ میں ہوتا ہے ، انہوں نے اپنی مشہور و معروف کتاب ”البیان والتبیین“ میں حضرت علی کے کچھ کلمات کو نقل کیا ہے اور آپ کی تعریف و توصیف بیان کی ہے ،جس وقت اپنی کتاب کی پہلی جلد میں مولی کے ایک کلمات قصار(قیمة کل امرء ما یحسنہ انسان کی قیمت وہ ہنر ہے جو اس شخص میں ہے (3)) پر پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں : اگر اس کتاب میں صرف یہی جملہ ہوتا تو کافی تھا ، بلکہ کفایت کی حد سے زیادہ کہا ہے : کیونکہ بہترین بات یہ ہے کہ آپ کو اس کی کم مقدار ، زیادہ سے بے نیاز کر دے اور اس کا مفہوم ظاہر اور آشکار ہو ،گویا خداوند عالم نے اپنی عظمت و جلالت کا جامہ اور نور و حکمت کا پردہ اس کے اوپر ڈال رکھا ہے جو بولنے والے کی پاک و پاکیزہ نیت، بلندفکر اور بے نظیر تقوی سے سازگار ہے ۔
  • کتاب ”الطراز “ کے مصنف (امیر یحیی علوی) نے اپنی کتاب میں جاحظ کا یہ جملہ نقل کیا ہے جس میں کہا ہے : یہ مرد جو فصاحت و بلاغت میں بے مثال ہے ، انہوں نے اپنے بیانات میں اس طرح کہا ہے : مولی علی (کرم اللہ وجہہ) کے کلام کے علاوہ کبھی بھی میرے کانوںنے خدا اور پیغمبر اکرم کے کلام کے بعد ایسا کلام نہیں سنا جس کا میں نے مقابلہ نہ کیا ہو لیکن مولی علی کے کلام سے مقابلہ کرنے کی مجھ میں کبھی ہمت نہیں ہوئی ۔ مولی کا ایساکلام جس میں آپ نے فرمایا : ” ما ھلک امرء عرف قدرہ“۔ جو اپنے وجود کی قیمت کو پہچان لے وہ کبھی ہلاک نہیں ہوگا ۔ ” من عرف نفسہ عرف ربہ“ ۔ جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے خدا کوپہچان لیا ۔ ” المرء عدو ما جھل“ ۔ انسان جس چیز کو نہیں جانتا اس کا دشمن ہوتا ہے ۔ ” و استعن عمن شئت تکن نظیرہ و احسن الی من شئت تکن امیرہ و احتج الی من شئت تکن اسیرہ“۔جس سے بھی تم کچھ چاہتے ہو اس سے بے نیاز ہوجاؤ تاکہ اسی کے جیسے ہو جاؤ اور جس کے ساتھ چاہو نیکی کرو تاکہ اس کے امیر اور سردار ہوجاؤ اور جس کے چاہو اس کے محتاج ہوجاؤ تاکہ اس کے غلام اور سیر بن جاؤ !۔

اس کے بعد مزید کہتے ہیں : جاحظ اپنی اس بات میں انصاف کے ساتھ نظر کرو اوراس کی کوئی دلیل نہیں ہے مگر یہ کہ علی کرمﷲ وجہہ کی بلاغت نے ان کے کانوں کے پردے ہلا دیے ہیں اور اعجاز و فصاحت کی وجہ سے ان کی عقل حیران ہو گئی ہے ، جب جاحظ جیسے آدمی کا یہ حال ہے جن کو بلاغت میں ید بیضا حاصل ہے تو پھر دوسروں کی تکلیف واضح اور روشن ہے (1) ۔ [4]

اسی وجہ سے (کتاب الطراز کے مصنف) زیدی نے تعجب کا اظہار کیا ہے کہ معانی وبیان کے بزرگ علما جو فصاحت و بلاغت کو حاصل کرنے کے لیے کلام خدا اور کلا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) کے بعد شعرا عرب کے دیوان اورخطباء کے کلمات پر تکیہ کرتے تھے انہوں نے علی (علیہ السلام) کے کلام کو فراموش کر دیا ،جب کہ وہ جانتے تھے کہ نہج البلاغہ فصاحت و بلاغت کی سطح سے بہت زیادہ بلند ہے اور جس چیز کی بھی ان کو ضرورت ہے وہ اس میں موجود ہے جیسے استعارہ، تمثیل، کنایة، خوبصورت مجازاور دقیق معانی سب کچھ موجود ہے (2) ۔

[5]

  • امام محمد غزالی نے اپنی مشہور کتاب ”نظرات فی القرآن“ میں سازجی کی سفارش کو نقل کیا ہے اس کی عین عبارت یہ ہے : ” اذا شئت ان تفوق اقراتک فی العلم والادب صناعة الانشاء فعلیک بحفظ القرآن و نہج البلاغہ“ ۔ اگرتم چاہتے ہو کہ علم ،ادب اور تحریر میں سب سے برتر و بلند ہوجاؤ تو قرآن کریم اور نہج البلاغہ کو حفظ کرنے کی کوشش کرو (1) ۔
  • یقینا اسی دلیل کی وجہ سے مشہور مفسر شہاب الدین آلوسی نے ( نہج البلاغہ کا تذکرہ کرتے ہوئے) کہا ہے ، اس کتاب کا یہ نام اس لیے ہے کہ یہ ایسے کلمات پر مشتمل ہے جس کے بارے میں انسان تصور کرتا ہے کہ یہ مخلوق کے کلام سے بلند اور خالق کے کلام سے کم ہے ، یہ ایسے کلمات ہیں جو اعجاز سے نزدیک ہیں اور حقیقت ومجاز میں ایجادات اور ابتکار سے کام لیا گیا ہے (2) ۔
  • استاد محمد محیی الدین عبدالحمید نے نہج البلاغہ کی تعریف میں اس طرح کہا ہے :

یہ ایسی کتاب ہے جس میں بلاغت و فنون کے چشمہ جاری ہیں،اس کتاب نے اپنے قائین کے لیے فصاحت کے اسباب فراہم کردیے ہیں ،اس کے شیرین پھلوں کوحاصل کرنے کا وقت آگیا ہے ،کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد فصیح ترین مخلوق کی زبان سے یہ کلمات جاری ہوئے ہیں، جس کی قدرت ، منطق اور لغات پر تسلط سب سے زیادہ ہے ، وہ جس طرح چاہے ان کو اپنے لیے استعمال کرسکتا ہے ،ایسا حکیم ہے جس کے بیانات سے حکمت کے فنون خارج ہوتے ہیں، ایسا خطیب جس کے سحر بیان سے دل مسحور ہوجاتے ہیں ،ایسا عالم اور دانشور جس کے لیے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اورکتابت وحی کی ہمنشینی اور زبان و شمشیر سے دین کادفاع کرنے کی وجہ سے ایسے امکانات فراہم ہو گئے تھے جو کسی اور کے لیے فراہم نہیں ہوسکتے تھے (3) ۔

  • نہج البلاغہ کے مشہور و معروف شارح شیخ محمد عبد،اہل سنت کے بزرگ اور مشہور عالم ، عرب کے مشہور مصنف نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس بات کا اعتراف کرنے کے بعد کہ نہج البلاغہ سے ان کی آشنائی اتفاقی طور پر ہوئی ہے، نہج البلاغہ کے متعلق بہت بلند مطالب بیان کیے ہیں جیسے :

میں نے جب نہج البلاغہ کے بعض صفحات کا مطالعہ کیا اور اس کی بعض عبارتوں میں غور و فکر کیا اور اس کے مختلف موضوعات پر توجہ کی تو میری نظر میں اس طرح سے مجسم ہو گیا کہ گویا اس کتاب میں عظیم جنگ بپا ہے وحکومت بلاغت کے ہاتھ میں اور قدرت فصاحت کے اختیار میں ہے ، اوہام اور نصیحتیں بے ارزش ہیں ، خطابت کی فوج اور فصاحت کے لشکر نے اوہام پر حملہ کیا ہے اور قوی دلایل کے اسلحہ سے وسوسوں اور اوہام پر حملہ کیا ہے ۔

باطل قدرت کو ہر جگہ شکست دی ہے ، شک و تردیک کو درہم و برہم کر دیا ہے، اوہام کے فتنوں کو خاموش کر دیا ،میں نے دیکھا کہ اس حکومت کا حاکم اور کمانڈر اور اس کا کامیاب علمبردار صرف اور صرف امیرالمومنین علی بن ابی طالب ہیں ۔ (1) ۔

  • سبط بن جوزی جو خود اہل سنت کے ایک خطیب، مورخ اور مفسر ہیں ، نے اپنی کتاب تذکرة الخواص میں ایک چھوٹا سا جملہ تحریر کیا ہے :

” وقد جمع اللہ لہ بین الحلاوة والملاحة والطلاوة والفصاحة لم یسقط منہ کلمة و لا بارت لہ حجة ، اعجزالناطقین و حاز قصب السبق فی السابقین الفاظ یشرق علیھا نور النبوة و یحیر الافھام والالباب“۔

خداوند عالم نے حلاوت، خوبصورتی اور فصاحت کے امتیازات کو حضرت علی کے وجود میں جمع کر دیا ہے ،کوئی کلمہ ان سے ساقط نہیں ہوا ہے اورکوئی حجت و دلیل ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹی ہے ۔ انہوں نے تمام خطباء کو ناتوان کر دیا ہے گو یا انہوں نے سب پر سبقت حاصل کرلی ہے ،ایسے کلمات جن پر نبوت کا نور چمک رہا ہے ، افکار و عقول ان کلمات سے حیران ہو گئے ہیں.

  • عیسائی مصنف میخائیل نعیمة نے اس طرح کہا ہے :

علی اسلام کے لیے تن تنہا سردار تھے کیونکہ ایک عیسائی مصنف نے 1956 میں ان کی سوانح حیات اور ان کے واقعات میں تحقیق کی (عیسائی اور لبنانی مصنف جورج جرداق، صاحب کتاب الامام علی صوت العدالة الانسانیة، مراد ہیں) اور ایک عاشق شاعر کی طرح ان تمام دلفریب قضایا ، حکایات اور آپ کی تعجب آور بہادری کو اپنے اشعار میں بیان کرتا ہے یہ امام ایسا پہلوان تھا جو صرف میدان جنگ ہی میں نہیں تھا بلکہ ان کی بلاغت، سحربیانی، اخلاق فاضلہ، ایمان کا جذبہ، ہمت کی بلندی ،غریبوں کا مددگار ، حق کی پیروی اور تمام نیک صفات اس ایک پہلوان میں موجود تھے ۔ [6] اپنے مقدمہ میں دوسری جگہ کہا ہے :

عرب کے اس نابغہ نے جو کچھ سوچا،کہا اور عمل کیا اس کو نہ کسی کان نے آج تک سنا ہے اور نہ کسی آنکھ نہ دیکھا ہے اور ان کے متعلق مورخ اپنی زبان اور قلم سے جتنا بھی لکھے وہ سب کم ہے لہذا ہم ان کے متعلق جس قدر بھی لکھے وہ سب ناقص اور بے قیمت ہے.[7]

  • نہج البلاغہ کے مشہور شارح ”ابن ابی الحدید معتزلی“ اس کتاب کے متعلق لکھتے ہیں : مجھے بہت زیادہ تعجب ہے اس شخص پر جو میدان جنگ میں ایساخطبہ پڑھتا ہے جو گواہی دیتا ہے کہ اس کی طبیعت و فطرت ،شیروں کی طبیعت جیسی ہے ، پھر اسی میدان جنگ میں جب موعظہ اور نصیحت کرنا چاہتا ہے تو اس کی زبان سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ ان کی طبیعت ایسے راہب کی طرح ہے جو اپنے مخصوص لباس میں چھپا ہوا ہے اور اپنے دیر میں زندگی بسر کرر ہے ، وہ نہ کسی جانور کا خون بہاتا ہے اور نہ کسی جانور کا گوشت تناول کرتا ہے ۔

کبھی ”بسطام بن قیس“، ”عتیبہ بن حارث“ اور ”عامر بن طفیل“ (1) کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اورکبھی ”سقراط حکیم“، ”یوحنا“ اور ”مسیح بن مریم“ کی شکل میںظاہر ہوتا ہے ۔

میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کی تمام امتیں قسم کھاتی ہیںمیںنے اس خطبہ (خطبہ الھکم التکاثر 221) کو پچاس سال سے اب تک ایک ہزار بار سے زیادہ پڑھا ہے اور جب بھی اس کو پرھتا تھا خوف و وحشت اور عمیق بیداری میرے تمام وجود پر طاری ہوجاتی تھی اور میرے قلب پر ایک گہرا اثر ہوتا تھا اور میرے جسم کے اعضاء میں لرزہ پیدا ہوجاتا تھا ۔ جب بھی میں اس کے بلند مضامین میں غور و فکر کرتا تو اپنے خاندان،رشتہ دار اور دوستوں کے مردہ افراد کو یاد کرنے لگتا اور ایسا لگتا تھا کہ شاید میں وہی ہوں جن کی امام (علیہ السلام) اس خطبہ میں تعریف کر رہے ہیں ۔

کتنے واعظ، خطیب اور فصیح و بلیغ انسانوں نے اس سلسلہ میں اپنے اقوال بیان کیے ہیں اور کتنی مرتبہ میں نے ان کے اقوال کو پڑھا ہے لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی مجھے متاثر نہیں کیا جس قدر اس کلام نے مجھے متاثر کیا ہے (1) ۔ [8]

  • شیخ بہائی نے اپنے کشکول میں کتاب الجواہر سے ابوعبید کا قول نقل کیا ہے : علی (علیہ السلام) نے نو (9) جملے کہے ہیں ، عرب کے فصیح اور بلیغ علما ان جیساایک جملہ بھی نہیں لا سکتے ، آپ نے تین جملہ مناجات میں ، تین جملہ علوم میں اور تین جملہ ادب میں بیان فرمائے ہیں (2) ۔[9]

پھر ان نو جملوں کی وضاحت کی ہے جن میں سے بعض نہج البلاغہ اور بعض کلمات دوسری کتابوں میں موجود ہیں ۔

  • ڈاکٹر زکی مبارک نے کتاب عبقریة الشریف الرضی میں کہا : میرا عقیدہ ہے کہ نہج البلاغہ میںغوروفکر کرنے سے انسان کو مردانگی، شہامت اور بزرگی حاصل ہوتی ہے ،کیونکہ یہ کتاب بزرگ روح کی بزرگ فکر سے صادر ہوئی ہے جس نے مشکلات اور حوادث میں بہت ہی قدرت و طاقت سے کام لیا ہے.

[10]

  • ابن ابی الحدیدکا بیان:

”سبحان اللہ ! کس نے یہ تمام گرانقدر امتیازات اور شریف خصوصیات اس نمونہ عمل مرد حضرت علی کو عطاء کیے ہیں ، کس طرح ہوسکتا ہے کہ مکہ کا ایک انسان جس نے اسی ماحول میں زندگی بسر کی ہو اور کسی ایک فلسفی کے ساتھ ہم نشینی اختیار نہ کی ہو لیکن علوم الہیہ اور حکمت متعالیہ میں افلاطون اور ارسطو سے آگاہ اور عالم ہو ۔ جس نے کبھی عرفان اور اخلاق کے اساتید کے ساتھ معاشرت نہ کی ہو اس سلسلہ میں وہ سقراط سے بلند و بالا ہے ،جس نے بہادروں کے درمیان پرورش حاصل نہ کی ہو (کیونکہ اہل مکہ تاجر تھے جنگجو نہیں تھے) اس میں اس قدر شجاعت پائی جاتی ہو (1) ۔[11]

  • سید رضی مؤلف نہج الطلاغہ:

نے اس کتاب میں جگہ جگہ پر نہج البلاغہ کے مضامین کی عظمت کی طرف اشارہ کیا ہے جو قابل ملاحظہ ہے ، آپ اکیسویں خطبہ کے ذیل میں کہتے ہیں : ”ان ھذا الکلام لو وزن بعد کلام اللہ سبحانہ و بعد کلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بکل کلام لمال بہ راجحا و برز علیہ سابقا “ ۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ کلام خدا و رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد جس کلام سے بھی ان کلمات کا موازنہ کیا جائے تو حسن و خوبی میں ان کا پلہ بھاری رہے گا اور ہر حیثیت سے بڑھے چڑھے رہیں گے ۔

انہوں نے اکیسویں خطبہ ”فان الغایة امامکم و ان ورائکم الساعة تحدوکم، تخفوا تلحقوا فانما ینتظر باولکم آخرکم “ ۔ تمہاری منزل مقصود تمہارے سامنے ہے ،موت کی ساعت تمہارے عقب میں ہے جو تمہیں آگے کی طرف لے جارہی ہے ،ہلکے پھلکے رہو تاکہ آگے بڑھنے والوں کو پا سکو ، تمہارے اگلوں کو پچھلوں کا انتظار کرایا جارہا ہے ۔ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : کلام خدا و رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد جس کلام سے بھی ان کلمات کا موازنہ کیا جائے تو حسن و خوبی میں ان کا پلہ بھاری رہے گا ۔

کلمات قصارکی 81 ویں حکمت کے ذیل میں بھی اسی معنی کے مشابہ بیان کیے ہیں اور کہا ہے : یہ ایک ایسا انمول جملہ ہے کہ نہ کوئی حکیمانہ بات اس کے ہم وزن ہوسکتی ہے اور نہ کوئی جملہ اس کا ہم پایہ ہوسکتا ہے ۔

  • مصر کے مشہور مصنف عباس محمود العقاد کا بیان:

(جن کا شمار عرب کے بہترین مصنفین اورمولفین میں ہوتا ہے) ، انہوں نے اپنی کتاب ”عبقریة الاامام“ میں جگہ جگہ بہت بلندتعبیرات استعمال کی ہیں جس سے حضرت علی کی شخصیت اور نہج البلاغہ کے کلمات کے متعلق ان کی عمیق معرفت کا اندازہ ہوتا ہے ۔

ایک جگہ کہتے ہیں : نہج البلاغہ،توحیدی آیات اور الہی حکمت کا ایسا جاری چشمہ ہے جس سے عقاید ، اصول خدا شناسی اور توحید میں بحث کرنے والے کو اچھی آگاہی حاصل ہوتی ہے.[12] دوسری جگہ بیان کرتے ہیں : ” ان کے کلام کا ہر نمونہ ان کی استعداد پر گواہ ہے اور حقایق کو بیان کرنے میں ان کے خداداد املکہ کو بتاتا ہے ، آپ یقینا آدم کی اولاد ہیں جن کو اسماء کا علم سکھا یا گیا تھا ، آپ ”وعلم آدم الاسماء کلھا“ اور اسی طرح ”اوتوالکتاب“ و ”فصل الخطاب“ کے مصداق ہیں .

[13] دوسری جگہ کہتے ہیں : حضرت علی سے بہترین مضامین کے جو کلمات روایت ہوئے ہیں وہ اس قدر بلند ہیں کہ ان کی برتری حکمت سلوک میںنظر نہیں آتی ․․․ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : ”میری امت کے علما ،بنی اسرائیل کے انبیا کی طرح ہیں ، یہ حدیث سب سے زیادہ حضرے علی کرمﷲ وجہہ پر صادق آتی ہے جن کے حکمیانہ کلمات ، انبیا کے حکیمانہ کلمات کے برابر ہیں. [14]

  • معاصر دانشور اور عالم محمد امین نواوی نے نہج البلاغہ کی تعریف میں کہا ہے : یہ ایسی کتاب ہے جو خداوند عالم نے اس حقیقت کے لیے آشکار حجت قرار دیا ہے کہ حضرت علی نور قرآن، اس کی حکمت، علم، ہدایت، اعجاز اور فصاحت کی زندہ مثال ہیں، اس کتاب میں حضرت علی کے لیے ایسے گرانقدر مطالب جمع کیے ہیں جو دنیا کے مشہورفلاسفہ، حکماء اور علما ربانی کو حاصل نہیں ہیں (2)

[15]

  • ڈاکٹر طہ حسینکا بیان:

انہوں نے کسی شخص کے سوال کے جواب میں جو جنگ جمل کے متعلق شک و تردیم میں پڑ گیا تھا،حضرت علی کے کلام کو نقل کرنے کے بعد اپنے اقوال میں کہا : میں نے وحی اور خداوند عالم کے بیان کے بعد اس سے زیادہ سلیس اور با عظمت جواب نہیں سنا ہے۔[3]

مترجم[ترمیم]

اردو: علامہ سید ذیشان حیدر الجوادی کلیم (ابوظہبی)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. 2۔ شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ، ج 11، ص 153۔
  2. 3۔ شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ، ج2، ص 84۔
  3. 1۔ شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ، ج1، ص 24۔
  4. 1۔ الطراز، ج 1، ص 165 ۔ 168۔
  5. 2۔ الطراز، ج 1، ص 165 ۔ 168۔
  6. 1۔ ترجمہ و تنقید از کتاب ”الامام علی ندای عدالت انسانیت“ (2) ۔
  7. 2۔ گذشتہ حوالہ، ص 3۔
  8. 1۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید ، ج 11، ص 153۔
  9. 2۔.کشکول، شیخ بہائی، ج 3، ص 397۔
  10. عبقریة الشریف الرضی ،ج 1 ، ص 396۔
  11. شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ، ج 16 ، ص 146۔
  12. العبقریات ، ج 2، ص 138 (طبع دارالکتاب اللبنانی)
  13. گذشتہ حوالہ ، ص 145۔
  14. گذشتہ حوالہ ، ص 144
  15. 2۔ مصادر نہج البلاغہ، ج1 ، ص 90۔

بیرونی روابط[ترمیم]