قتل علی بن ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قتل علی بن ابی طالب
Rashidun Caliph Ali ibn Abi Talib - علي بن أبي طالب.svg
اسم علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
مقام کوفہ، خلافت راشدہ (آج کے دور میں عراق)
متناسقات 32°01′43″N 44°24′03″E / 32.02861°N 44.40083°E / 32.02861; 44.40083متناسقات: 32°01′43″N 44°24′03″E / 32.02861°N 44.40083°E / 32.02861; 44.40083
تاریخ

ضرب:
19 رمضان 40ھ
26 جنوری 661ء

وفات:
21 رمضان 40ھ
28 جنوری 661ء
نشانہ علی بن ابی طالب
ہلاکتیں 1
مرتکب ابن ملجم

اہل سنت کے چوتھے خلیفہ اور اہل تشیع کے پہلے امام علی بن ابی طالب پر خارجی ابن ملجم نے 26 جنوری 661ء بمطابق 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود تلوار کے ذریعہ نماز کے دوران میں قاتلانہ حملہ کیا، علی بن ابی طالب زخمی ہوئے، اگلے دو دن تک آپ زندہ رہے لیکن زخم گہرا تھا، چنانچہ جانبر نہ ہو سکے اور 21 رمضان 40ھ کو وفات پائی۔[1] آپ تیسرے خلیفہ تھے جن کو خلافت کے دوران میں قتل کیا گیا، آپ سے پہلے عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان کو قتل کیا جا چکا تھا۔

علی بن ابی طالب، 656ء میں قتل عثمان کے بعد خلیفہ بنے تھے۔ تاہم انھیں معاویہ بن ابو سفیان اور دیگر افراد کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اور نتیجتاً اسلام میں پہلی خانہ جنگی ہوئی۔ اسے پہلا فتنہ بھی کہا جاتا ہے، اس کے بعد اسلامی خلافت دو حصوں میں بٹ گئی اور یوں خلافت راشدہ کے ساتھ خلافت امویہ کا آغاز ہوا۔ پہلے فتنے کا آغاز تیسرے خلیفہ راشد عثمان بن عفان کے 656ء میں قتل سے ہوا جو علی بن ابی طالب کے چار سالہ دور خلافت تک جاری رہا۔[2] 657ء میں علی بن ابی طالب نے جنگ صفین میں معاویہ بن ابو سفیان کے ساتھ ثالثی کرنے پر آمادہ ہوئے، یہ نوبت علی بن ابی طالب کی فوج میں کچھ لوگوں کی بغاوت کی وجہ سے آئی تھی جنھیں بعد میں خارجی کہا جانے لگا۔[3]:390 انھوں نے علی بن ابی طالب کے کچھ فوجیوں کو قتل کر ڈالا، لیکن جلد ہی 658ء میں جنگ نہروان میں علی بن ابی طالب کی افواج نے انھیں کچل ڈالا۔[4]:260–261

عبد الرحمن بن ملجم مرادی، نے مکہ میں دوسرے دو خارجی برک ابن عبد اللہ اور عمرو بن بکر تمیمی سے ملاقات کی۔ ان لوگوں نے تین بڑی اسلامی شخصیتوں علی بن ابی طالب، معاویہ بن ابی سفیان اور گورنر مصر عمرو بن عاص کو مسلمانوں کے موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دیا اور اپنے وقت کی "ناپسندیدہ صورت حال" کو حل کرنے کے لیے، ان تین شخصیات کو قتل کرنے اور اپنے اصحاب نہروان کے قتل کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ دراصل ابن ملجم کا علی بن ابی طالب کو قتل کرنے کا محرک نہروان کی وہ خاتون بنی جس سے اسے محبت تھی، اس عورت کا باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ اس خاتون نے اس شرط پر شادی کی ہامی بھری کہ ابن ملجم علی بن ابی طالب کو قتل کر دے۔ چنانچہ کوفہ کی مسجد میں ابن ملجم نے علی پر حملہ کیا، جس سے وہ شہید ہو گئے۔ جوابی کارروائی میں اگلے خلیفہ حسن ابن علی نے ابن ملجم کو سزائے موت دے دی۔[5]

پس منظر

وفات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فوری بعد پیغمبر اسلام کی جانشینی پر امت مسلمہ میں پیدا ہونے والے تنازع میں اس سانحہ کی جڑیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ جہاں اجتماع نے ابوبکر صدیق کی سقیفہ بنی‌ساعده کے مقام پر بیعت کر لی۔[4]:30–32 سنی مسلمان یہ مانتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے بعد اپنے جانشین کو فائز نہیں کیا، جبکہ، اہل تشیع کا کہنا ہے کہ، غدیر خم کے مقام پر علی بن ابی طالب کو خدا کے حکم سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا نائب نامزد کر دیا تھا۔[6]:43–48[7]:193–194 ابوبکر نے عمر بن خطاب کو نامزد کر دیا تھا، جن کو 644ء میں قتل کر دیا گیا۔ عمر بن خطاب کی وفات کے بعد، علی بن ابی طالب جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اور عثمان بن عفان خلافت کے لیے موزوں سمجھے گئے، عٹمان کو شوریٰ نے ایک مخصوص انتخابی عمل سے نیا خلیفہ نامزد کر دیا۔ علی بن طالب، عثمان بن عفان کے 656ء میں قتل کے بعد خلیفہ بنے۔[7]:203–204[7]:203–204

علی بن ابی طالب کا دور خلافت پہلے فتنے کا ہم زمان ہے۔[2] اگرچہ وہ عثمان کے قتل کے پانچویں دن، چوتھے خلیفہ راشد منتخب ہو گئے، لیکن اپنے اقتدار کے دوران ان کو مخالفت (حزب اختلاف) کا سامنا رہا۔ ایک طرف عائشہ زوجہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر ابن عوام نے مکہ میں ان کے خلاف بغاوت کر دی اور دوسری طرف امیر معاویہ، گورنر شام نے، بطور نئے خلیفہ کے بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ لہذا، خانہ جنگی شروع ہوئی، علی بن ابی طالب کے ان مقابل افراد کا صرف ایک ہی اعتراض تھا کہ، قتل عثمان کا بدلہ کیوں نہیں لیا جا رہا۔ 656ء میں پہلی خانہ جنگی سانحۂ جمل میں علی بن ابی طالب کو فتح ملی، مخالفت میں زوجہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عائشہ بنت ابی بکر کی زیر کمان صحابہ تھے۔ پھر، علی بن ابی طالب نے امیر معاویہ کے خلاف 657ء میں صفین کی لڑائی لڑی۔ یہ جنگ ایک معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی، جس کے تحت معاویہ بن ابی سفیان کو الگ حکومت بنانے کا موقع ملا۔[7]:203–204

جنگِ صفین کے بعد جب علی نے معاویہ کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تو علی کی فوج کے ایک گروہ نے جنگ بندی سے انکار کیا۔ اس گروہ کو بعد میں خارجی کہا گیا۔ انہوں نے دینی معاملات میں انسانی فیصلے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ فیصلہ صرف اللہ کا ہی ہوگا۔[3]:390 658ء میں میں انہوں نے بیعت کی خلاف ورزی کی اور بغاوت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جو مسلمان ان کا ساتھ نہ دے گا، وہ اسے قتل کر دیں گے۔ علی نے نہراون کی جنگ میں انہیں شکست دی۔ علی کی خلافت کے دوران خوارج کا قتل سب سے مشکل مرحلہ تھا کہ معاویہ کے خلاف جنگ کے دوران وہ علی کے سب سے پکے حمایتی تھے۔[4]:261

ابنِ ملجم نے دو اور افراد برک ابن عبد اللہ اور عمرو بن بکر التمیمی کے ساتھ مکہ میں ملاقات کی اور عمرے کے بعد طویل بحث کی۔ انہوں نے طے کیا کہ مسلمانوں کی موجودہ حالتِ زار کا سبب علی، معاویہ اور عمرو بن العاص ہیں ”جو ان کے خیال میں غلطی پر تھے۔“ انہوں نے تینوں کو قتل کرنے کی قسم اٹھائی تاکہ نہروان پر اپنے ساتھیوں کے قتل کا بدلہ لیا جا سکے۔ انہوں نے مطلوبہ تاریخ پر اتفاق کیا اور اپنے اپنے ہدف چن لیے۔[8]

اپنی موت کے متعلق علی کی پیش گوئی

اس بارے دو مختلف روایات پائی جاتی ہیں کہ علی کی شہادت سے قبل ان کو اپنے انجام کا علم ہو چکا تھا۔ یہ پیشگی علم یا تو انہوں نے خود کسی طور دیکھ لیا تھا یا پھر انہیں پیغمبر اسلام نے اس بارے میں بتایا تھا۔ متعدد روایات کے مطابق علی کے سر سے بہتا خون ان کی داڑھی کو رنگ رہا تھا جو انہیں یا تو خود علم ہوا یا پھر پیغمبر نے بتایا۔ ایک اور روایت کے مطابق قدما میں سب سے برا شخص وہ تھا جس نے پیغمبر صالح کی اونٹنی کو ہلاک کیا تھا اور موجودہ انسانوں میں سب سے برا وہ ہوگا جو علی کو قتل کرے گا۔ قتل کی رات علی نے بتا دیا تھا کہ ان کا وقت آن پہنچا ہے اور بعد میں ان کی بات سچ ثابت ہوئی۔[5]

قتل

مصر کے ایک خارجی ابن ملجم نے علی کو شہید کیا۔ ابن ملجم آبائی طور پر حمیر کا رہنے والا تھا مگر اس کی رشتہ داری مراد سے بھی تھی۔ سلطنت نجد کی شاخ کندہ کے قبیلہ بنی جبالہ کے ساتھ بھی قرابت داری تھی۔ ابن ملجم کوفہ میں النہروان پر علی کی فوج کے ہاتھوں خارجیوں کے سربراہ کے قتل کا علی سے بدلہ لینے کی نیت سے داخل ہوا تھا۔[4]:308 کوفہ میں اس کی ملاقات قبیلہ تیم الرباب کے دس لوگوں سے ہوئی جن میں ایک عورت "قطام" بھی شامل تھی یہ لوگ علی سے اپنے رشتہ داروں کی موت کا بدلہ لینے کو اکٹھے ہوئے تھے۔ قطام کے والد اور بھائی بھی النہروان پر علی کی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔[5] ابن ملجم نے جونہی قطام کو دیکھا تو عالم دین علی الصلابی کے مطابق اپنے ہوش گنوا بیٹھا اور کوفہ آمد کا مقصد بھول گیا۔ ابن ملجم نے قطام کو شادی کی دعوت دی تو قطام نے شادی کے بدلے اپنی شرائط رکھی کہ اُسے ہزاروں سونے کی اشرفیاں، مغنیہ اور ایک غلام مرد کے علاوہ علی کی موت بطور مہر چاہیے۔ ابن ملجم نے ایک آدمی شبیب کو اپنی مدد کے لیے تیار کیا۔[9]:79 اس کے ساتھ شبیب بن بجرہ، وردان ابن مجالد بھی مل گئے۔[4]:308 انہوں نے بڑی چالاکی سے کوفہ مسجد کے اس داخلی دروازے پر خفیہ موچے سنبھال لیے جہاں سے علی مسجد میں داخل ہوتے تھے۔[5]

17[4]:308 یا 19 رمضان کو علی کوفہ مسجد میں فجر کی نماز کے لیے داخل ہوئے[10][11] تو ابن ملجم نے زہریلی تلوار سے علی کے سر پر وار کیا[5] جس سے علی زخمی ہو گئے شبیب کا وار ضائع گیا اور تلوار دروازے کی لکڑی میں جا لگی۔ کہتے ہیں کہ جب علی کو زخم آیا تو مسجد داخل ہوئے[1][12] یا نماز فجر میں علی نے سورہ الانبیاء کی تلاوت کی۔[13]:54 شبیب وہاں سے بھاگا مگر کندہ کی مقام پر اسے اوامیر نے گھیر لیا مگر رش کی بنا پر وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ وردان اپنے گھر پلٹا مگر اس کے اقرار جرم کے نتیجے میں اس کے رشتہ دار عبد اللہ بن نجبہ بن عبید نے قتل کر دیا۔ ابن ملجم کو ایک ہاشمی حسب نسب والے المغیرہ ابن نوفل ابن حارث نے دبوچ لیا۔[4]:309 علی نے حکم صادر کیا کہ اگر اس کی وفات اس زخم سے ہوئی تو ابن ملجم سے اس کا بدلہ لیا جائے 2 دن بعد 19 یا 21 رمضان 661ء میں 62 یا 63 سال کی عمر میں علی کی وفات ہو گئی۔[1] حسن بن علی نے اپنے والد علی کی وصیت کے مطابق ابن ملجم کو قصاص کے طور پر قتل کر دیا۔[4]:309[14]

اشعث بن قیس کا کردار

کوفہ میں کندہ قبیلے کا سردار اشعث بن قیس تھا۔[4]:83 تاریخ دان ولفرڈ ماڈلنگ کے مطابق خلافتِ علی کے آخری دنوں میں علی کا رجحان معاویہ کی طرف تھا اس نے علی کو رقوم کی پیشکش بھی کہ بدلے میں معاویہ سے رنجش ختم کر دی جائے۔[4]:276 بعض ذرائع کے مطابق اشعث کو علی کے قتل کے منصوبے کی پہلے سے خبر تھی۔[5] الیعقوبی کے مطابق اشعث نے ایک ماہ تک ابن ملجم کی میزبانی بھی کی جس دوران ابن ملجم اپنی تلوار تیار کرتا رہا۔ ابن سعد کے مطابق جس رات علی قتل ہوا اس رات مسجد میں اشعث بھی ٹھہرا تھا اور ساری رات ابن ملجم سے صلاح مشورے کرتا رہا۔ اور یہ اشعث ہی تھا جس نے آمد علی کی اطلاع یہ کہہ کر ابن ملجم کو دی کہ "صبح ہو گئی صبح ہو گئی۔"[9] ذرائع کی اکثریت اور شیعہ میلان رکھنے والوں کے مطابق اشعث کا ذومعنی جملہ کہ "صبح ہو گئی" دراصل ابن ملجم کے لیے حملے کا اشارہ تھا۔ قتلِ علی کے بعد حجر بن عدی نے اشعث پر الزام بھی لگایا۔ بعض کے مطابق اشعث نے علی کو ابن ملجم کے ارادے کی خبر بھی دی تھی۔[5] لوراویشیا واگلیری کے مطابق بعض روایات ایسی ملتی ہیں جس میں علی کے خلاف مختلف سازشوں کا ذکر ملتا ہے اور بعض میں علی کے ساتھ اشعث کی وفاداری کا بھی۔

تاہم الصلابی کے مطابق اشعث کے خلاف سازش اور قتل علی کی تمام روایات من گھڑت ہیں کیونکہ خاندان علی ابن ابو طالب کا کوئی ایک بھی جملہ نہیں ملتا جو اشعث کے خلاف لگنے والے الزامات کی تائید کرتا ہوں نیز یہ کہ اشعث علی کا وفادار اور خارجیوں کے ظہور کے وقت سے ان کے خلاف تھا اور النہروان پہ خارجیوں کے خلاف جنگ بھی لڑ چکا تھا۔ مزید یہ کہ جنگ صفین میں شامیوں کے خلاف وہ علی کے وفادار کی حیثیت سے حصہ بھی کے چکا تھا۔[9] علی کے زخمی ہونے کے بعد اشعث نے اپنے بیٹے علی کی تیمارداری کو بھجوائے اور اس کی باتوں سے لگتا تھا کہ اسے علی کے بچنے کے کوئی امید نا تھی۔[8]

تدفین

علی کے جسدِ خاکی کو ان کے بیٹوں حسن، حسین، محمد بن حنفیہ اور ان کے ایک بھتیجے عبد اللہ بن جعفر نے غسل دیا۔ پھر انہیں انہی حضرات اور عبیدہ ابن العباس نے رازداری سے دفن کر دیا کیونکہ اس بات کا خدشہ تھا کہ ان کے جسدِ خاکی کو نکال کر بے حرمتی کی جائے گی۔[1][4]:309 اہل تشیع کے مطابق علی کی تدفین امام علی مسجد، نجف میں ہوئی[15]:37 جبکہ اہل سنت کے مطابق قصر الاِمارہ، کوفہ میں دفن کیے گئے۔[16][17][18] ایک ضعیف روایت کے مطابق انہیں افغانستان کے شہر مزارِ شریف کے پاس رواضی شریف میں دفن کیا گیا تھا۔[19] شیعہ مسلمان ہر سال علی بن ابی طالب کی وفات کا سوگ مناتے ہیں۔[20]

انجام

ویلفرڈ میڈلنگ کے مطابق ایک چھوٹی اقلیت کے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ علی نبی پاک کے وصال کے بعد مسلمانوں میں سب سے بہتر انسان تھے اور انہیں حکمرانی کا حق تھا۔ علی کی شہادت کے بعد لوگوں میں تقسیم پیدا ہوئی اور معاویہ کی جانب بداعتمادی اور مخالفت بڑھی جن کے پیروکار اکثریت میں تھے۔ علی کے حامی بنو امیہ کے غرور، نا انصافی اور مظالم کی وجہ سے بعد میں اکثریت میں بدل گئے۔[4]:309

علی کی شہادت کے بعد شیعہ لوگوں نے ان کے بڑے بیٹے حسن کو ان کا جانشین مان کر انہیں خلیفہ قرار دے دیا۔ تاہم حسن کو خلافت میں دلچسپی نہیں تھی اور مزید خون خرابے سے بچنے کے لیے انہوں نے معاویہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔ معاویہ مدینہ میں 45 کی عمر میں 669 میں فوت ہوئے اور ان کی جگہ 61 ھجری میں یزید اول خلیفہ بنے۔ تاہم حسن کے بھائی حسین ابن علی نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا۔ اسی سال عراق کے شیعہ افراد کی طرف سے دعوت دینے پر انہوں نے عراق کی سمت مارچ شروع کیا۔ تاہم کربلا میں قیام کے دوران ان کے خاندان کو یزید کی فوج نے 10 محرم کو قتل کر دیا۔[21] یہ دس اکتوبر کا دن تھا اور ان کی شہادت کو شیعہ ہر سال مناتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمان محرم کے مہینے میں نبی کے نواسے حسین ابن علی کی شہادت پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔[22]

حوالہ جات

  1. ^ ا ب پ ت Laura Veccia Vaglieri۔ "ʿAlī b. Abī Ṭālib."۔ Encyclopædia of Islam, Second Edition۔ Brill Online۔ ڈی او آئی:10.1163/1573-3912_islam_COM_0046۔
  2. ^ ا ب Martin Hinds۔ "Muʿāwiya I"۔ Encyclopaedia of Islam (اشاعت 2nd۔)۔ Brill Brill۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 ستمبر 2014۔
  3. ^ ا ب Annie C. Higgins (2004)۔ "Kharijites, Khawarij"۔ بہ Richard C. Martin۔ Encyclopedia of Islam and the Muslim World v.1۔ Macmillan۔
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ Wilferd Madelung۔ The Succession to Muhammad: A Study of the Early Caliphate۔ Cambridge University Press۔ آئی ایس بی این 978-0-521-64696-3۔
  5. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج Laura Veccia Vaglieri۔ "Ibn Muld̲j̲am."۔ Encyclopædia of Islam, Second Edition۔ Brill Online۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جون 2016۔
  6. Maria Massi Dakake (2008)۔ The charismatic community : Shiʻite identity in early Islam۔ Albany: State University of New York Press۔ آئی ایس بی این 978-0-7914-7034-3۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جون 2016۔
  7. ^ ا ب پ ت Chase F. Robinson۔ The New Cambridge History of Islam۔ Cambridge University Press۔
  8. ^ ا ب Manouchehri Faramarz Haj؛ Melvin-Koushki Matthew؛ Reza Shah-Kazemi؛ Ali Bahramian؛ Ahmad Pakatchi؛ Waley Muhammad Isa؛ Mohammad Daryoush؛ Masoud Tareh؛ Keven Brown؛ Mohammad Reza Jozi؛ Sadeq Sajjadi؛ Rahim Gholami؛ Ali A. Bulookbashi؛ Farzin Negahban؛ Mahbanoo Alizadeh؛ Yadollah Gholami۔ "ʿAlī b. Abī Ṭālib."۔ Encyclopaedia Islamica۔ Brill۔
  9. ^ ا ب پ Ali al-Sallabi۔ Biography of Ali ibn Abi Talib۔ Darussalam Publishers۔
  10. Seyyed Hossein Nasr۔ "Ali"۔ Encyclopædia Britannica Online۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 مارچ 2015۔
  11. I. K. Poonawala۔ "ʿAli B. Abi Ṭaleb"۔ Encyclopædia Iranica۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جولا‎ئی 2014۔
  12. Robert M. Gleave۔ "ʿAlī b. Abī Ṭālib"۔ دائرۃ المعارف الاسلامیہ (انگریزی زبان میں) (اشاعت 3rd۔)۔ Brill Online۔
  13. David Cook (2007)۔ Martyrdom in Islam۔ Cambridge University Press۔ آئی ایس بی این 978-0-521-61551-8۔
  14. Ali Abbas۔ "The Life of the Commander of the Faithful Ali Ibn Abu Talib (as)"۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 دسمبر 2015۔
  15. Reza Shah-Kazemi۔ Ali ibn Abu Talib۔ Medieval Islamic Civilization: An Encyclopedia۔ Taylor & Francis۔ آئی ایس بی این 978-0-415-96691-7۔
  16. مجموع الفتاوى، ابن تيمية، (27 / 446)
  17. وفيات الأعيان، ابن خلكان، (4 / 55)
  18. تاريخ بغداد، الخطيب البغدادي، (1 / 136)
  19. Frank Harold۔ "BALKH AND MAZAR-e-SHARIF"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2016۔
  20. J. Gordon Melton, editor, with James A. Beverley, Christopher Buck, Constance A. Jones (2011)۔ Religious celebrations : an encyclopedia of holidays, festivals, solemn observances, and spiritual commemorations۔ Santa Barbara, Calif.: ABC-CLIO۔ آئی ایس بی این 978-1-59884-205-0۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2016۔
  21. Matti Moosa (1987)۔ Extremist Shiites: The Ghulat Sects۔ Syracuse University Press۔ آئی ایس بی این 978-0-8156-2411-0۔
  22. Juan E. Campo (2009)۔ Encyclopedia of Islam۔ New York: Facts On File۔ آئی ایس بی این 978-0-8160-5454-1۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2016۔