جنگ نہروان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جنگ نہروان
بسلسلہ پہلا فتنہ
تاریخ 659ء
مقام نہروان، عراق
نتیجہ

مسلمانوں کی فتح

شریک جنگ
Black flag.svg Islamic Imam یا خلافت راشدہ خارجی
سپہ سالار و رہنما
Black flag.svgعلی بن ابی طالب
Black flag.svgحسن ابن علی
Black flag.svg الاشتہ ابن قیس الکندی[1]
عبداللہ بن وھب الراصبی
عبداللہ بن العباد
ہرکس بن زہیر
عبد اللہ بن شجرہ

جنگ نہروان خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب اور خوارج کے درمیان لڑی گئی
خوارج کوفہ کے زاہدوں کی ایک جماعت تھی، جو علی بن ابی طالب کی اطاعت سے اس وقت نکل گئے جب علی بن ابی طالب اور امیر معاویہ کے درمیان دو فیصلہ کرنے والوں کو مقرر کیا گیا، اس کا سبب یہ تھا کہ جب علی بن ابی طالب اور امیر معاویہ کے درمیان جنگ طول پکڑ گئی تو دونوں فریق اس پر متفق ہوگئے کہ خلافت کس کا حق ہے؟ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ابوموسیٰ اشعری اورعمرو بن العاص کو مقرر کردیا جائے اور دونوں فریق ان کا فیصلہ پر راضی ہوں گے اس وقت خوارج نے کہا : "حکم صرف اللہ کا ہے" علی بن ابی طالب نے فرمایا : یہ کلمہ برحق ہے لیکن انس سے جس معنی کا ارادہ کیا گیا ہے وہ باطل ہے، خوارج کی تعداد بارہ ہزار تھی، انہوں نےعلی المرتضی کی خلافت کا انکار کیا اور اپنی مخالفت کا جھنڈا نصب کردیا اور خون ریزی اور ڈاکے مارنا شروع کردیئے علی المرتضی نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنے فیصلہ سے رجوع کرلیں۔ مگر یہ لوگ جنگ کرنے کے سوا کسی بات سے راضی نہیں ہوئے۔ پھر علی المرتضی نے نہروان کے علاقہ میں ان سے جنگ کی، نہروان بغداد کے قریب ایک شہر ہے، علی المرتضی نے ان میں سے اکثر کو قتل کردیا اور ان میں سے بہت کم زندہ بچے[2] اس فرقہ کا سرغنہ عبداللہ بن شداد کوفی تھا پہلے تو علی بن ابی طالب نے اس فرقہ کی فہمایش کے لئےعبداللہ بن عباس کو حروراء مقام پر بھیجا یہ حروراء وہ جگہ ہے جہاں ان لوگوں نے سکونت اختیار کی تھی اس سبب سے یہ فرقہ حروریہ کہلاتا ہے عبداللہ بن عباس کی فہمایش سے یہ لوگ چند روز کے لئے راہ راست پر آگئے اور پھر ان لوگوں نے مسلمانوں کا قتل راہزنی اور طرح طرح کے فساد برپا کئے جن کے سبب سے علی المرتضی نے ان پر چڑھائی کی اور نہروان مقام پر اس فرقہ کی اور علی المرتضی کی لڑائی ہوئی اس لڑائی میں خارجی فرقہ کے لوگ یہاں تک قتل ہوئے کہ صرف دس بارہ آدمی ان میں سے بچ گئے ذوالخویصرہ بھی اس لڑائی میں مارا گیا یہ وہی شخص ہے جس نے حنین کے مال کی تقسیم کے وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا نہروان کی لڑائی میں سے دس بارہ خارجی جو بچ گئے تھے عبدالرحمن بن ملجم بھی ان میں ہی تھا جس نے موقع پاکر علی المرتضی کو شہید کیا [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://books.google.co.uk/books?id=F2F92guvrgAC&pg=PA79&dq=Battle+of+Nahrawan&hl=en&sa=X&ei=Qy1JUvHuBoX74QSI2YHQDw&ved=0CD8Q6AEwAw#v=onepage&q=Battle%20of%20Nahrawan&f=false
  2. تفسیر تبیان القرآن، غلام رسول سعیدی سورہ غافر:12
  3. تفسیر احسن التفاسیر، حافظ محمد سید احمد حسن، التوبہ:58

بیرونی روابط[ترمیم]

متناسقات: 34°31′17″N 43°47′03″E / 34.521389°N 43.784167°E / 34.521389; 43.784167