محرم کی عزاداری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
احیائے محرم
سوگواری محرم
Sham Ghariban, Tehran, 2016-10-12 02.jpg
ایران کے شہر تہران میں غم عاشورا اور موم بتیاں روشن کرنے کے لیے مسلمان جمع۔
قسم اسلامی
اہمیت یاد شہادتِ حسین ابن علی (اہل تشیع)
رسومات غم اور شہادتِ حسین سے اخذ شدہ پیغامات (اہل تشیع)
روزہ (اہل سنت)
2018ء  تاریخ 11 ستمبر
2019ء  تاریخ 31 اگست
2020 تاریخ 21 اگست

محرم کی عزاداری یا ماتم حسین یا عزاداری زیادہ تر شیعوں کے اعمال سے منسوب سالانہ عمل ہے۔ جس میں یہ حضرات ماتمی جلوسوں، مجلسوں، وعظ، سوگواری، خیرات اور سینہ کوبی کے ذریعے واقعہ کربلا میں میں شہید ہونے والے افراد کو یاد کرتے ہیں۔

برصغیر میں عزاداری کی تاریخ[ترمیم]

قرائن اشارہ کرتے ہیں کہ عزاداری حضرت امام حسین ؑ منانے کا سلسلہ ملتان میں شروع ہوا جب وہاں تیسری صدی ہجری کے اوائل میں قرامطہ اسماعیلیوں کی حکومت قائم ہوئی اور یہاں مصر کے فاطمی خلفاء کا خطبہ پڑھا جانے لگا۔ ابن تعزی کے مطابق مصر اور شام میں فاطمیوں کی حکومت کے قیام کے بعد 366ہجری قمری/978ء عیسوی میں عزاداری سید الشہداء برپا پونا شروع ہوئی[1]۔ محمود غزنوی کے حملے کے نتیجے میں ملتان میں اسماعیلی حکومت کے خاتمے اور اسماعیلی پیشواؤں کے صوفیا کی شکل اختیار کر لینے کے بعد صوفیا کی درگاہوں اور سنی بادشاہوں کے قلعوں پر عشرہ محرم کے دوران عزاداری تذکر کے نام سے برپا کی جاتی رہی ہے۔ جنوبی ہندوستان میں یہ روایت دکن کی شیعہ ریاستوں میں زیادہ منظم رہی اور برصغیر کا پہلا عاشور خانہ (آج کل کی اصطلاح میں امام بارگاہ) بھی وہیں قائم ہوا - مغلیہ دور کے سیکولر طرز حکومت میں محرم کی عزاداری کا بہت سے سیاحوں نے اپنے سفرناموں میں ذکر کیا ہے۔ محمد بلخی، جو یکم محرم 1035 ھجری/3 اکتوبر 1625ء کو لاہور پہنچا،لکھتا ہے:۔

"سارا شہر محرم منارہا تھا اور دسویں محرم کو تعزیے نکالے گئے،تمام دکانیں بند تھیں۔ اتنا رش تھا کہ بھگڈر مچنے سے تقریبا 50 شیعہ اور 25 ہندؤ اپنی جان گنوابیٹھے"[2]۔

کچھ ایسا ہی منظر1620ء کے عشرے میں ڈچ تاجر پیلے سارٹ نے آگرہ میں دیکھا:۔

"محرم کے دوران شیعہ فرقے کے لوگ ماتم کرتے ہیں- ان دنوں میں مرد اپنی بیویوں سے دور رہتے ہیں اور دن میں فاقے کرتے ہیں۔ عورتیں مرثیے پڑھتی ہیں اور اپنے غم کا اظہار کرتی ہیں۔ ماتم کے لیے تعزیے بنائے جاتے ہیں کہ جنھیں خوب سجا کر شہر کی سڑکوں پر گھمایا جاتا ہے۔ جلوس کے وقت کافی شور و غوغا ہوتا ہے۔ آخری تقریبات شام غریباں کو ہوتی ہیں۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خدا نے پورے ملک کو غم و اندوہ میں ڈبو دیا ہے"[3]۔

امام حسین نے ہندوستان میں متعدد گروہوں کے جذبات اور حسیات کو متحرک کیا۔نانپارا کے سنی راجا نے اپنی صوبائی نشست پہ شیعہ علما کو رکھا ہوا تھا تاکہ وہ اس کو مصائب کربلا سنائیں[4]۔ الہ آباد میں، سنّی 220 میں سے 122 تعزیے اٹھایا کرتے تھے[5]۔ دیہی مسلمان محرم کی رسومات میں اتنی بڑی تعداد میں شرکت کرتے تھے اور یہ رسومات بغیر فرقے کی تمیز کے ہوا کرتی تھیں[6]۔ شہری اور دیہی علاقوں میں، اکثر ہندؤ امام حسین کو بہت عزت و احترام دیتے تھے اور انہوں نے ان سے جڑی رسوم اور ایام کو اپنی رسومات میں خاص تقدیس کے ساتھ شامل کر لیا [7]۔ ڈبلیو ایچ سلیمن نے وسطی اور جنوبی ہندوستان کے ہندؤ شہزادوں اور یہاں تک کہ برہمن جات کے پنڈتوں کو محرم مناتے پایا۔ گوالیار ایک ہندؤ ریاست میں محرم عظیم الشان نمائش کے ساتھ منایا جاتا تھا[8]۔ سیاحوں نے ہندوؤں کو ریاست اودھ میں سبز لباس میں حسین کے فقیر بنے دیکھا۔ ایک ہندی اخبار نے جولائی 1895ء میں خبر دی۔' محرم بنارس میں مکمل طور پہ امن و امان سے گزرا۔جب ہندؤ ہی سب سے زیادہ اس کے منانے والے تھے تو پھر خوف کیسا ہونا تھا؟[9] مرہٹہ راجا شیو پرشاد نے ایک خصوصی تعزیہ بہانے کے لیے تیار کیا تھا۔ محرم کے دسویں روز، آدمی جتنا بلند قامت روشن کاغذوں سے بنا تعزیہ نما مقبرہ اور اور اس سے لٹکی زنجیریں جلوس میں دفنانے کے لیے لائی جاتی تھیں، مسلم خادم سوز خوانی کرتے،جبکہ شیو پرشاد اور اس کے بیٹے ننگے پاؤں اور ننگے سر احترام میں ان کے پیچھے چلتے تھے[10]۔

ہندوؤں میں ایک گروہ حسینی براہمن بھی کہلاتا ہے جن کے مطابق ان کے آباؤ اجداد میدان کربلا میں امام حسین ابن علی کے شانہ بشانہ لشکر یزید سے لڑے اور جاں بحق ہوئے۔ یہ گروہ باقاعدگی سے کربلا کی یاد مناتا ہے۔ ہندوستان کے سابق رجواڑوں میں بھی ہندو حضرات کے یہاں امام حسین علیہ السلام سے عقیدت اور عزاداری کی تاریخی روایات ملتی ہیں جس میں راجستھان، گوالیار، مدھیہ پردیش، اندھرا پردیش[11] قابل ذکر ہیں۔

سلطنت اودھ میں عزاداری[ترمیم]

برصغیر میں مسلم تہذیب نوابان اودھ کے دور میں عروج کو پہنچی۔ لکھنؤ کی عزاداری کے بارے میں عبد الحلیم شرر اپنی کتاب "گزشتہ لکھنؤ" میں یوں منظر کشی کرتے ہیں:۔

"محرم میں اور اکثر مذہبی عبادتوں کے ایام میں لکھنؤ کے گلی کوچوں میں تمام گھروں سے پر سوز و گداز تانوں اور دلکش نغموں کی عجیب حیرت انگیز صدائیں بلند ہوتی تھیں اور کوئی مقام نہیں ہوتا تھا جہاں یہ سماں نہ بندھاہو۔ آپ جس گلی میں کھڑے ہو کے سننے لگئے، ایسی دلکش آوازیں اور ایسا مست و بے خود کرنے والا نغمہ سننے میں آ جائے گا کہ آپ زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔ ہندوؤں اور بعض خاص خاص سنیوں کے مکانوں میں تو خاموشی ہوتی تھی، باقی جدھر کان لگائیے نوحہ خوانی کے قیامت خیز نغموں ہی کی آوازیں آتی ہوتی تھیں۔تعزیہ داری چونکہ نوحہ خوانی کا بہانہ ہے اس لیے سنی اور شیعہ دونوں گروہوں کے گھروں میں نوحہ خوانی کے شوق میں تعزیہ داری ہونے لگی اور سنی مسلمان ہی نہیں، ہزار ہا ہندو بھی تعزیہ داری اختیار کر کے نوحہ خوانی کرنے لگے"[12]۔

"مجلس کی نشست کی شان یہ تھی کہ لکڑی کا ایک ممبر جس میں سات آٹھ زینے ہوتے، دالان یا کمرے کے ایک جانب رکھا ہوتا اور لوگ چاروں طرف دیوار کے برابر پر تکلف فرش پر بیٹھتے۔ اور اگر مجمع زیادہ ہوا تو بیچ کی جگہ بھی بھر جاتی۔ جب کافی آدمی جمع ہو جاتے تو ذاکر صاحب ممبر پر رونق افروز ہو کر پہلے ہاتھ اٹھا کر کہتے، "فاتحہ"۔ ساتھ ہی تمام حاضرین ہاتھ اٹھا کر چپکے چپکے سورہ فاتحہ پڑھ لیتے۔ اس کے بعد اگر وہ حدیث خوان یا واقعہ خوان ہوتے تو کتاب کھول کر بیان کرنا شروع کرتے اور اگر مرثیہ خوان ہوتے تو مرثیے کے اوراق ہاتھ میں لے کر مرثیہ سنانے لگتے۔ مجتہدوں اور حدیث خوانوں کے بیان کو لوگ خاموشی اور ادب سے سنتے اور رقت کے موقعوں پر زار و قطار روتے۔ مگر مرثیوں کے سنتے وقت مجمع حاضرین سے، بجز رقت کے بندوں کے جبکہ رونے سے فرصت نہیں ملتی، برابر صدائے آفرین و مرحبا بلند ہوتی رہتی تھی۔سوز خوان ممبر پر نہیں بیٹھتے بلکہ لوگوں کے بیچ میں ایک جانب بیٹھ کر نوحے اور مرثیے سناتے اور اکثر داد بھی پاتے تھے۔

نوابی دور میں مجلس عزا کی عکاسی

اکثر مجلسوں میں مختلف ذاکر یکے بعد دیگرے پڑھتے اور عموما حدیث خوانی کے بعد مرثیہ خوانی اور اس کے بعد سوز خوانی ہوتی تھی۔ سوز خوانی چونکہ دراصل گانا ہے اس لیے اس کا رواج اگرچہ لکھنؤ ہی نہیں، سارے ہندوستان میں کثرت سے ہو گیا ہے۔  مگر مجتہدین اور ثقہ اور پا بند شرع بزرگوں کی مجلسوں میں سوز خوانی نہیں ہوتی تھی۔ مجتہدین کے وہاں کی مجلسوں میں پابندی دین کا بہت خیال رہتا تھا۔ خصوصا یہاں غفران مآب کے امام باڑے میں نویں محرم کو جو مجلس ہوتی تھی وہ خاص شان اور امتیاز رکھتی تھی۔ اس کی شرکت کے شوق میں لوگ دور دور سے آتے تھے۔ اس میں اثنائے بیان میں اونٹ حاضرین کے سامنے لائے جاتے جن پر کجاوے یا محملیں ہوتیں اور ان پر سیاہ پوششیں پڑی ہوتیں۔ اور مومنین کو یہ منظر نظر آ جاتا کہ دشت کربلا میں اہلبیت کا لوٹا مارا اور تباہ شدہ قافلہ کس مظلومیت اور ستم زدگی کی شان سے شام کی طرف چلا تھا۔  حاضرین پر اس المناک منظر کا ایسا اثر پڑتا کہ ہزار ہا حاضرین سے دس بیس کو غش ضرور آ جاتا۔ جو بڑی مشکل سے اٹھا کر اپنے گھروں کو پہنچائے جاتے"[13]۔

عزاداری کی رسمیں[ترمیم]

عزاداری محرم سے متعلق تفاصیل[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن تغری بردی، جمال الدين ابي المحاسن يوسف، النجوم الزّاهرہ في ملوك مصر و القاہرہ ج 4، ص 126.
  2. محمد بلخی، بحر الاسرار، مرتبہ ریاض الاسلام، کراچی،1980،ص 7-10
  3. ڈاکٹر مبارک علی،"جہانگیر کا ہندوستان"، صفحہ 87، تاریخ پبلیکیشنز لاہور (2016).
  4. Cole, "Roots of North Indian Shiísm", pp. 105
  5. C.A. Bayly, The Local Roots of Indian Politics-Allahabad, 1880-1920 (Oxford, 1975), p. 81;
  6. W. Crooke, "The North-Western Provinces of India: their History , Ethnology, and Administration", p. 263
  7. Cole, "Roots of North Indian Shiísm", pp. 116-7
  8. P.D. REEVES (ed.), Sleeman in Oudh: An Abridgement of W.H. Sleeman' s Journey Through the  Kingdom of Oude in 1849-50 (Cambridge, 1971), pp. 158-9
  9. Nita Kumar The Artisans of Bañaras: Popular Culture and Identity 1880-1986 (Princeton New Jersey, 1988), p. 216.
  10. Attia Hosain. Phoenix Fled (Ruper Paperbacks. 1993). p. 176
  11. Syed Akbar Journalist: Muharram: Hussaini Brahmins of Telangana
  12. عبدالحلیم شرر، گزشتہ لکھنؤ -مشرقی تمدن کا آخری نمونہ، صفحہ 215،نسیم بک ڈپو، 1974
  13. عبدالحلیم شرر، گزشتہ لکھنؤ -مشرقی تمدن کا آخری نمونہ، صفحہ 358،نسیم بک ڈپو، 1974