حسینی براہمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہندوؤں میں ایک گروہ حسینی براہمن بھی کہلاتا ہے جن کے مطابق ان کے آباؤ اجداد میدان کربلا میں امام حسین ابن علی کے شانہ بشانہ لشکر یزید سے لڑے اور جاں بحق ہوئے۔ یہ گروہ باقاعدگی سے کربلا کی یاد مناتا ہے۔

ہم جس خطہ میں رہ رہے ہیں وہاں معاشرتی اونچ نیچ کی وجہ سے اپنا نسلی تعلق عرب یا توران سے جوڑنے کا رجحان عام ہے اور یہ فعل عموماً فرد کے بجائے کوئی خاندان یا گروہ یا قبیلہ یا برادری کرتی ہیں اور کئی نسلوں میں یہ عمل مکمل ہوتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کوئی خاندان جس ماحول میں رہتا ہے وہ سماجی اور مالی توقیر کے لیے ایسا دعویٰ کرتا ہے کہ سماجی درجہ بندی میں اس کا مرتبہ بڑھ جائے۔

دعویٰ[ترمیم]

یوٹیوب میں عنوان حسینی برہمن پر ایک ڈاکومنٹری فلم میں ایک خاتون پروفیسر کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ حسینی برہمن ہیں۔ اس میں ان خاتون کا کہنا تھا کہ ہم برہمن ہیں۔ ہمارے جد امجد تجارت کے سلسلے میں عرب گئے تھے اور وہاں کربلا میں امام حسین کے ساتھ ہمارے دو یا تین افراد جو کہ برہمن تھے ساتھ دیا تھا۔ ان میں سے دو مارے گئے اور ایک فرد جس کا نام رائے دت تھا زندہ بچ کر آگیا ہم اسی کی اولاد ہیں۔ مزید انہوں نے بتایا ہم مسلمان نہیں لیکن اپنے کو حسینی برہمن کہتے ہیں اور ہم مندروں میں پوجا وغیرہ نہیں کرتے ہیں۔ ہم پہلے لاہور میں آباد اب ہندوستان میں تقسیم کے بعد آگئے ہیں۔ مزید ان کا کہنا تھا سنیل دت اور نرگس بھی حسینی برہمن ہیں۔ نرگس کے والد مسلمان ہوگئے تھے۔

اعتراض[ترمیم]

یہ دعویٰ بھی اسی طرح کا ہے کہ کوئی مسلم قبیلہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قریشی وغیرہ ہے۔ یہاں غور طلب کچھ باتیں ہیں۔

یہ تجارت کے سلسلے میں عرب گئے تھے اور برہمن تھے۔

وہاں انہوں نے کربلا کے میدان جنگ میں امام حسین کا ساتھ دیا تھا۔   

ان خاتون نے اپنے جد امجد کا نام رائے دت بتایا ہے۔   

سوچنے کی بات یہ ہے کہ برہمن تجارت نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ ایک پروہت ہے اور وہ نیک شگونوں، ناموں، تاریخوں اور نیک وہ بد فعال پر اس سے مشورہ لیا جاتا ہے۔ وہ اس کے بدلے نظرانے اور کھانا اپنے مکلوں سے وصول کرتے ہیں۔ برہمنوں نے تجارت تو انگریزوں کے دور سے اختیار کی ہے۔ ورنہ اسے پہلے اگر کوئی برہمن تجارت کرتا تھا تو وہ اپنی ذات سے گرجاتا تھا۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہاں برہمن تجارت کے سلسلے میں گئے تھے۔

کربلا کے بارے میں کسی مورخ نے نہیں ذکر کیا ہے وہاں لڑائی میں ہندو یا کسی مذہب کے لوگ شریک تھے۔ کربلا کی داستان کے سارے سلسلے ابی مخنف سے ملتے ہیں اور اس نے بھی ایسا کوئی ذکر نہیں ہے کہ لڑائی میں کسی جانب سے کوئی ہندو شریک تھا۔

انہوں نے اپنے جد امجد کا نام رائے دت بتایا ہے۔ لیکن ہندوؤں میں ذات پات کی تقسیم ہوتی ہے اور ہر طبقہ کا نام اسی کی ذات کے مطابق ہوتا ہے۔ تاکہ نجس یا چھوت چھات کا مسلہ نہیں ہو۔ رائے خالص راجپوتانہ نام ہے جس کے معنی حکمران یا بادشاہ کے ہیں۔ یہ لقب صرف حکمران استعمال کرتا ہے۔ مسلم مورخین نے بھی ہندو راجاؤں کو رائے کہہ کر خطاب کیا ہے اور برہمن ہمیشہ ایسے نام رکھتے ہیں جس میں دیوتاؤں کا سیوک ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

اس پر اعتراض کیا جاسکتا ہے اور چچ خاندان کی مثال دی جاسکتی ہے۔ مگر میں اپنے ایک مضمون میں لکھ چکا ہوں کہ چچ خاندان کے جتنے نام تھے وہ راجپوتوں والے یا جٹوں والے تھے اور اس بارے میں لکھنے والے راوی کو غلط فہمی ہوگئی ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ وہاں کے لوگ جاٹ تھے اور جاٹوں کے ان ہی نسل کے پجاری ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے چچ نامہ میں ہمیں برہمنوں کا نہیں البتہ پجاروں کا ذکر ملتا ہے۔ رہی بات ماتم کرنے کی تو بہت سے ہندو بڑے دھوم ڈھام سے محرم کے جلوس میں حصہ لیتے ہیں۔ لیکن کیا ماتم کرنے سے یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا ہے۔   

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا وجہ ہے انہوں نے برہمن ہونے باوجود خود کو حسینی برہمن کہا ؟ برہمن بنیادی طور پر ایک پروہت ہے اور وہ اپنے موکلوں کی شگونوں، ناموں، تاریخوں اور نیک وہ بد کے سلسلے میں رہنمائی بھی کرتا ہے اور وہ اس کے بدلے نظرانے اور کھانا لیتے ہیں۔ ان دستور تھا کہ وہ ہر سال اپنے مکلوں کے پاس جاکر ان سے نذرانے لیتے ہیں اور یہی کام خیبر بختون خواہ، بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے سید بھی کرتے تھے۔ حالانکہ سید ان کاموں میں کوئی کام نہیں کرتے ہیں۔ تاہم وہ اپنے مریدوں یا عقیدت مندوں سے نظرانوں کے لیے سالانہ گشت کرتے تھے اور اب بھی یہ عمل کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ اور یہ ایک ایسے علاقہ رہتے رہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور مندر وغیرہ کم ہی ہیں ۔ اس لیے یہ لوگوں سے حسین کے نام سے نذرانے لیتے رہے ہیں اور مسلمانوں میں رہنے کی وجہ سے یہ چھوت چھات کو نہیں مانتے اور نہ ہی یہ مندروں میں جاتے ہیں ۔  

یہاں بات ہو رہی ہے حسینی سید کی۔ ابسن نے 1881 کی مردم شماری میں ڈیرہ اسمعیل خان میں 3500 حسینی برہمن بتاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے۔ یہ ہندوؤں سے دیوتاؤں کے نام سے اور مسلمانوں سے اللہ کے نام سے نذرانے وصول کرتے ہیں۔ ان کی اکثریت مسلمان ہے۔ یہ وہی حسینی برہمن ہیں۔ جو کہ موکلین کے مسلمان ہوجانے پر خود بھی مسلمان ہوگئے اور غالباً یہ اب سید بن چکے ہیں۔ کیوں کہ بنیادی کام ان کا نذریں وصول کرنا ہے اور جو مسلمان نہیں ہوئے انہوں نے حسینی کہلانے کے لیے یہ کہانی گھڑلی ہے۔

تاریخ اور کتابوں میں ذکر[ترمیم]

ایک مصنف انتظار حسین[1] اپنے انگریزی کالم Brahmans in Karbala[1] میں لکھتے ہیں کہ وہ پہلے حسینی برہمن کو صرف ہندو افسانہ (Legend) ہی سمجھتے تھے اس لیے انہوں نے اپنے قیام دہلی کے دوران میں کسی محفل میں تقریر کرتے ہوئے اس بات کو جھٹلا دیا۔ وہیں اس محفل سے ایک خاتون مدبر پروفیسر نونیکا دت[2] اٹھی اور انھوں نے کہا کہ وہ خود حسینی برہمن ہے اور ان کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ بعد میں اپنے ساتھ اپنے بزرگوں کے بارے میں لکھی گئی دو انگریزی کی کتابیں بھی لے کر آئیں جو بہت عرصہ پہلے شائع ہوئی تھیں خاتون نے بتایا کہ ان کے جد امجد راہیب دت اپنے سات بیٹوں اور دو دوسرے برہمنوں کے ساتھ مل کر ہندوستان سے اس مشن میں حصہ لینے گئے تھے۔ ان میں سے ایک یعنی راہیب دت بچ کر واپس آئے۔ وہ افغانستان کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے اور سیالکوٹ کے ایک گاؤں ورن وتن Vatan Viran کے مقام پر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد یہ خاندان بھارت چلا گیا اور یہ لوگ مختلف شہروں میں پھیل گئے۔ اس نے مزید بتایا کہ مشہور فلمی اداکار سنیل دت[3] کا تعلق بھی انہی حسینی برہمنوں کے خاندان سے ہے جس کی تصدیق فلمی اداکار منوج کمار نے بھی کی۔ بلکہ نرگس کے والد بھی پہلے حسینی برہمن تھے بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ راہیب دت واپسی پر اپنے ساتھ امام حسین بن علی کا ایک بال مبارک بھی لے کر آئے تھے۔ جو کشمیر میں کسی جگہ موجود ہے۔ انتظار حسین نے نونیکا دت سے پوچھا کہ گویا آپ لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ ہم ہندو برہمن ہی ہیں مگر حسینی ہونے کے ناطے ہم مندروں وغیرہ میں نہیں جاتے نہ دوسری ہندووانہ رسومات ادا کرتے ہیں اور یہ کہ وہ محرم کے دنوں میں حسین کا ماتم بھی کرتے ہیں اور اپنے شہیدوں کی یاد بھی مناتے ہیں۔

واقعہ کربلا کا بین الاقوامی اثر[ترمیم]

واقعہ کربلا کے عظیم المیہ نے حق پسند انسانی معاشرے اورانسانی تہذیب کو ہر دور میں متاثرکیا ہے۔ یہی سبب ہے ہندوستانی معاشرہ میں شہید انسانیت امام حسین کی یاد نہ صرف مسلم معاشرہ کی تہذیبی وتاریخی روایت رہی ہے بلکہ غیر مسلم معاشرہ میں بھی انسانیت کے ا س عظیم رہنماکی یاد بڑی عقیدت واحترام کے ساتھ عصرحاضرمیں بھی قائم ہے۔ مشترکہ تہذیب کے گہوارہ ہندوستان میں ہندوﺅں کی امام حسین سے غیر معمولی عقیدت کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔

ہندوؤں میں عزاداری امام حسین[ترمیم]

ہندوستان کے سابق رجواڑوں میں بھی ہندو حضرات کے یہاں امام حسین علیہ السلام سے عقیدت اور عزاداری کی تاریخی روایات ملتی ہیں جس میں راجستھان، گوالیار، مدھیہ پردیش، اندھرا پردیش[4] قابل ذکر ہیں۔

رانی لکشمی بائی اور عزاداری[ترمیم]

جھانسی کی رانی لکشمی بائی کو امام حسین سے غیر معمولی عقیدت تھی۔ پروفیسر رفیعہ شبنم نے اپنی کتابہندوستان میں شیعیت اور عزاداری میں جھانسی کی رانی کے تعلق سے لکھا ہے کہ وہ یوم عاشورہ بڑے خلوص وعقیدت کے ساتھ مجلس عزا برپا کرتی تھی۔ مہارانی لکشمی بائی کی قائم کردہ مجلس اب تک جھانسی پولیس کوتوالی میں منعقد کی جاتی ہے جہاں پہلے اس رانی کا قلعہ تھا جس نے امام حسین علیہ السلام سے حق پر ڈٹے رہنے کا سبق حاصل کیا تھا ۔ منشی جوالہ پرشاد اختر لکھتے ہیں کہصوبہ اودھ میں امام حسین کی فوج کے سپہ سالار اور علمبردار عباس کے نام کا پہلا علم اودھ کی سرزمین سے اٹھا جس کے اٹھانے کا سہرا مغلیہ فوج کے ایک راجپوت سردار دھرم سنگھ کے سر ہے۔ اودھ سلطنت میں لکھنؤ کی عزاداری کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ محرم کی مجلسوں اور جلوسوں میں ہندوﺅں کی شرکت و عقیدت ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا ایک ایسا نمونہ ہے جس نے قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

لکھنؤ کے ہندوؤں کی امام حسین سے عقیدت[ترمیم]

مسز میر حسن علی نے لکھنؤ کی عزاداری کے سلسلہ میں اہل ہنود کی امام حسین سے غیر معمولی عقیدت و احترام کا ذکر اپنی ایک تحریر میں کرتی ہوئی لکھتی ہیں کہ لکھنؤ کا مشہور روضہ کاظمین ایک ایسے ہی ہندو عقیدت مند جگن ناتھ اگروال نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی طرح راجا جھاﺅلال کا عزاخانہ جو آج بھی لکھنؤ کے ٹھاکر گنج محلہ میں واقع ہے جسے نواب آصف الدولہ کے دور میں راجا جھاﺅلال نے تعمیر کرایا تھا۔ راجا بلاس رائے اور راجا ٹکیل رائے نے بھی عزاخانے تعمیر کرائے اور ان میں علم اور تعزیے رکھے۔ گوالیار کے ہندومہاراجاﺅں کی امام حسین سے عقیدت خصوصی طور پر قابل ذکر ہے جو ہر سال ایام عزا کا اہتمام بڑی شان و شوکت سے کرتے تھے۔مدھیہ پردیش کے علاقہ گونڈوانہ کے ضلع بیتول میں بلگرام خصوصًا بھاریہ نامی قصبہ میں ہریجن اور دیگر ہندو حضرات امام حسین سے بے پناہ عقیدت و محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے اہم اور ضروری کاموں میں کامیابی کے لیے حسین بابا کا تعزیہ اٹھانے کی منت مانتے ہیں۔

عصر حاضر کے نامور صحافی جمناداس اختر نے ہندوﺅں کی عزاداری کے بیان میں حسینی برہمنوں میں عزاداری کی تاریخی روایات کی طرف نشان دہی کرتے ہوئے لکھاہے۔ حسینی برہمنوں میں دت اور موہیال ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو عقیدت مندوں کا تعلق زیادہ تر صوبہ پنجاب سے ہے حسینی برہمنوں کے بزرگ راہیب نے نصرت امام میں اپنے بیٹوں کو قربان کر دیا تھا۔ راہیب کو سلطان کا خطاب بخشا گیا تھا اسی مناسبت سے انہیں حسینی برہمن یا حسینی پنڈت بھی کہا جاتا ہے وہ امام حسین کے تقدس و احترام کے بڑے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہمیراتعلق موہیالیوں کی دت ذات سے ہے اور ہمیں حسینی برہمن کہا جاتا ہے۔ عاشورہ کے روز ہم لوگ سو گ مناتے ہیں۔ کم از کم میرے خاندان میں اس دن کھانا نہیں کھایا جاتا ہے۔ سری نگر کے امام باڑے میں حضرت امام حسین کا موئے مبارک موجود ہے جو کابل سے لایا گیا ہے۔ ایک حسینی برہمن اسے سو سال قبل کابل کے امام باڑے سے لایا تھا۔

کشمیر سے کنیا کماری تک پھیلے ہوئے ہندوستان میں ماہ محرم آتے ہی یہاں کے مختلف شہروں، قصبوں، پہاڑی بستیوں اور دیہاتوں میں عزاداری سیدالشہدا کی مجالس اور جلوس عزا میں مشترکہ تہذیب کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں جس میں ہندو عقیدت مند مسلمان عقیدت مندوں کے ساتھ شریک عزا ہوتے ہیں۔ کہیں ہندو حضرات عزاداروں کے لیے پانی و شربت کی سبیلیں لگاتے ہیں تو کہیں عزاخانوں میں جا کر اپنی عقیدتوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اور اپنی منتیں بڑھاتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ عقیدت مند ہندو خواتین اپنے بچوں کو علم اور تعزیوں کے نیچے سے نکال کر حسین بابا کی امان میں دیتی ہیں۔

راجستھان اور آندھرا میں ہندوؤں کی عزاداری[ترمیم]

آندھراپردیش کے لاجباڑی ذات سے تعلق رکھنے والے اپنے منفرد انداز میں تیلگو زبان میں دردناک لہجہ میں پر سوز المیہ کلام پڑھ کر کربلا کے شہیدوں کو اپنی عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح راجستھان کی بعض ہندو ذات کے لوگ کربل اکی جنگ کا منظرنانہ پیش کرتے ہیں اور ان کی عورتیں اپنے گاﺅں کے باہر ایک جلوس کی شکل میں روتی ہوئی نکلتی ہیں۔ یہ عورتیں اپنی مقامی زبان میں یزیدی ظلم پر اسے کوستی ہیں اور اپنے رنج وغم کا اظہار اپنے بینوں کے ذریعے کرتی ہیں۔ راجستھان میں ہندوﺅں کی عزاداری کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ مہاراجے جو ہندو سوراج کے لقب سے جانے جاتے تھے شب عاشور سر و پا برہنہ نکلتے تھے اور تعزیہ پر نقدی چڑھایا کرتے تھے۔

پریم چند کا مشہور ڈراما کربلا حق و باطل سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اسی طرح اردو ادب میں ایسے ہندو شاعروں کی تعداد کچھ کم نہیں جنہوں نے اپنی معرکہ آرا منظوم تخلیقات میں معرکہ کربلا سے انسانیت کے اعلیٰ کرداروں کی خوشہ چینی کی ہے۔ ایسے قابل ذکر شعرا بیجاپور کے رامارواﺅ، مکھی داس، منشی چھنولال دلگیر، راجا بلوان سنگھ، لالہ رام پرشادبشر، دیاکشن ریحان، راجا الفت رائے، کنوردھنپت رائے، کھنولال زار، دلورام کوثری، نانک لکھنوی، منی لال جوان، روپ کماری، یوگیندر پال صابر جوش ملیشانی منشی گوپی ناتھ امن، چکبست، باواکرشن مغموم، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر،کرشن بہاری، ڈالٹر دھرمیندر ناتھ، ماتھر لکھنوی، مہیندر سنگھ اشک، بانگیش تیواری، گلزاردہلوی، بھون امروہوی وغیرہ کا کلام امام حسین سے ان کی غیر معمولی عقیدتوں کا مظہر ہے۔

بھارتی مصنف یوگندر سکند[5] دی ملی گزٹ اور راکیش شرما[6] اپنے مقالات میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان کے معروف مؤرخ اور تاریخ دان سیسر کمار مترہ اپنی کتاب The Vision of India کے صفحہ 183 پر لکھتے ہیں کہ اسلام سے قبل بھی ہندوستان اور عرب ممالک میں تجارتی تعلقات تھے اور بہت سے ہندو تاجر جو مال تجارت ہندوستان سے عرب لیجاتے تھے وہ عرب میں مقیم تھے۔ اور اعلان رسالت کے بعد بھی ان ہندووں میں سے بیشتر افراد رسول خدا کی محفلوں میں شرکت کرتے، اس طرح ان کے تعلقات خاندان رسول سے قائم ہوا۔ جب اکتوبر 680 عیسوی میں واقعہ کربلا پیش آیا تو راہیب دت نامی ہندو تاجر امام حسین کی فوج میں اپنے سات بیٹوں شاس رائے، شیر خا، رائے پن، رام سنگھ، دھارو او ر پورو اور دو دیگر برہمنوں کے ساتھ شامل ہوا اور یزیدی لشکر سے جنگ کی۔ امام حسین نے راہیب کو سلطان کا خطاب بھی عطا کیا۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا[7] اپنی اشاعت 21 جنوری 2008 کو، حسینی برہمن، کے عنوان سے لکھتا ہے کہ محرم کے ایام ہندوستان میں بڑی عقیدت سے منائے جاتے ہیں خصوصاً راجستھان، پنجاب اور مدھیہ پردیش کہ جہاں پر حسینی برہمنوں کے کئی خاندان اور ان کے ماننے والے آباد ہیں۔ یہ لوگ دت بھی کہلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے بزرگ راہیب اور ان کے بیٹوں نے 10 اکتوبر 680 عیسوی میں کربلا کے میدان میں حسینی فوج کے ساتھ مل کر یزیدی لشکر سے جنگ کی۔ یہ لوگ عاشورہ کے روز واقعہ کربلا کا نقشہ کھینچتے ہیں، ان کی عورتوں اور بچوں نے بینر اٹھا رکھے ہوتے ہیں جن پر امام حسین اور راہب کی یاد میں کلامات درج ہوتے ہیں۔ یہ بلند آواز میں یزیدی ظلم کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ ماتم بھی کرتے ہیں، بلیڈ سے اپنا سینہ اور زنجیروں سے کمر کو زخمی کرتے ہیں اور نذر نیاز بھی دیتے ہیں۔[8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

ماخذ[ترمیم]

یوٹیوب

پنجاب کی ذاتیں۔ سر ڈیزل ابسن

بیرونی روابط[ترمیم]