پریم چند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
منشی پریم چند
مقامی نام मुंशी प्रेमचंद
پیدائش دھنپت رائے سری واستو31 جولائی 1880 (1880-07-31)لمہی، شمال مغربی صوبہ، برطانوی ہند
وفات 8 اکتوبر 1936 (عمر 56 سال)وارانسی، برطانوی ہند کے متحدہ صوبے، برطانوی ہند
پیشہ ناول نگار، افسانہ نگار، انشائیہ نگار
زبان اردو-ہندی
قومیت برطانوی ہند
نمایاں کام گودان، بازار حسن، کرم بھومی، شطرنج کے کھلاڑی
شریک حیات شِوا رانی دیوی
اولاد سری پتھ رائے، امرت رائے، کملہ دیوی

دستخط

نام دھنپت رائے لیکن ادبی دنیا میں پریم چند مشہور ہیں 1885ء میں منشی عجائب لال کے ہاں موضع پانڈے پور ضلع بنارس میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہوگئی ۔ایک سال بعد والد کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پرہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور ٹیوٹر پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔ اسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
پریم چند کو ابتدا سے ہی کہانیاں پڑھنے اور سننے کا شوق تھا اور یہی شوق چھوٹے چھوٹے افسانے لکھنے کا باعث بنا۔ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز 1901ء سے ہوا۔ جب آپ نے رسالہ (زمانہ) کانپور میں مضامین لکھنے شروع کیے۔ اول اول مختصر افسانے لکھے اور پھر ناول لیکن مختصرافسانہ نویسی کی طرح ناول نگاری میں بھی ان کے قلم نے چار چاند لگا دئیے۔ انہوں نے ناول اور افسانے کے علاوہ چند ایک ڈرامے بھی یادگار چھوڑے ہیں۔
پریم چند مہاتما گاندھی کی تحریک سے متاثر ہوئے اور ملازمت سے استعفا دے دیاتھا۔ وہ دل و جان سے ملک کی آزادی کے یے لڑنا چاہتے تھے ۔ لیکن اپنی مجبوریوں کی بنا پر کسی تحریک میں عملی حصہ نہ لے سکے۔ پریم چند کو اردو ہندی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ 1936ء میں بنارس میں ان کا انتقال ہوا۔

پریم چند کے مکمل نگارشات کی طباعت[ترمیم]

بھارت کے سرکاری ادارےقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے پریم چند کی ہر طرح کی نگارشات کو 20 جلدوں میں شائع کیا ہے۔اس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔

جلد نمبر مشمولات تفصیل
1 تا 8 ناول جلد نمبر۔1: ۱) اسرارِ معابد، ۲) ہم خرما و ہم ثواب، ۳) جلوہ ایثار، ۴) بیوا جلدنمبر۔2، جلدنمبر۔3، گوشہ عافیت جلد نمبر۔4، جلدنمبر۔5، جلدنمبر۔6، جلدنمبر۔ 7، جلدنمبر۔ 8
9 تا 14 افسانے جلدنمبر۔9، جلدنمبر۔ 10، جلد نمبر۔11، جلدنمبر۔12، جلدنمبر۔13، جلدنمبر۔ 14,
15تا 16 ڈرامے جلدنمبر۔15، جلدنمبر۔ 16
17 خطوط
18تا 20 متفرقات جلدنمبر۔18، جلدنمبر۔ 19، جلدنمبر۔ 20
21 تا 22 تراجم جلدنمبر۔21، جلدنمبر۔22

افسانوی مجموعے[ترمیم]

آنندی
پریم پچیسی
پریم بتیسی
سوز وطن
زاد راہ
واردات

فہرستِ تخلیقات[ترمیم]

ناول[ترمیم]

نام ناشر تاریخ طوالت (صفحات) تفصیل
اسرارِ معابد (اردو)
دیوستھان رہسیہ (ہندی)
آوازِ خلق (سلسلہ وار) 1903ء (8 اکتوبر)-1905ء (فروری) English translation of the title: "The Mystery of God's Abode"
کشنا[1] میڈیکل ہال پریس، بنارس 1907ء 142 Now lost; satirises women's fondness for jewellery
ہم خرما و ہم ثواب[2] (اردو)پریما (ہندی)
انڈین پریس/ہندستان پبلشنگ ہائوس 1907ء Amrit Rai overcomes social opposition to marry the young widow Poorna, giving up his rich and beautiful fiance Prema. (Penned under the name "Babu Nawab Rai Banarsi")
روٹھی رانی زمانہ (سلسلہ وار) 1907ء (اپریل - اگست)
سوزِ وطن (مجموعہ) زمانہ کا ناشر 1907ء ,1909ء 1909ء میں برطانوی حکومت نے ممنوع کر دیا
وردان (ہندی)
جلوۂ ایثار (اردو)
گرنتھ بھنڈار اور دهنجو 1912ء
سیوا سدن (ہندی)
بازارِ حسن (اردو)
کلکتہ پستک ایجنسی (ہندی) 1919ء (ہندی); 1924ء (اردو) 280 An unhappy housewife first becomes a courtesan, and then manages an orphanage for the young daughters of the courtesans.
پریماشرم (ہندی)
گوشۂ عافیت (اردو)
1922ء
رنگ بھومی (ہندی)
چوگانِ ہستی (اردو)
دار الاشاعت (اردو, 1935ء) 1924ء
نرملا ادارۂ فروغِ اردو 1925ء 156 English title: The second wife. About the dowry system in India (serialised in the magazine Chand between November 1921 and November 1926, before being published as a novel)
کایاکلپ (ہندی)
پردۂ مجاز (اردو)
لجپت رائے اینڈ سنس، لاہور (اردو) 1926ء (ہندی)، 1934ء (اردو) 440
پرتگیہ (ہندی)
بیوا (اردو)
1927ء Deals with widow remarriage
غبن (also transliterated as Ghaban) سرسوتی پریس، بنارس ؛ لجپت رائے اینڈ سنس، اردو بازار 1928ء 248
کرمہ بھومی (ہندی)
میدانِ عمل (اردو)
مکتبہ جامعہ، دہلی 1932ء
گودان سرسوتی پریس 1936ء 344 English title: The Gift of the Cow. Themed around the socio economic deprivation as well as the exploitation of the village poor.
منگل سوترا (نامکمل) ہندستان پبلشنگ ہائوس

مزید دیکھیے[ترمیم]

پریم چند کی افسانہ نگاری

  1. کلیات پریم چند ، ۱، قومی کونسل براے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی، پہلا اڈیشن، جولائی ستمبر ۲۰۰۰، ص ۹
  2. کلیات پریم چند ، ۱، قومی کونسل براے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی، پہلا اڈیشن، جولائی ستمبر ۲۰۰۰، ص ۱۰