قمہ زنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قمہ زنی یا تلوار زنی یا تطبیر عزاداری میں ایک رسم کا نام ہے۔ اس عمل کے دوران عزادار چھریوں یا زنجیروں سے اپنے آپ کو زخمی کرتے ہیں تاکہ خون نکل آئے۔ قمہ زنی عام طور پر محرم الحرام اور صفر المظفر میں کی جاتی ہے۔

n بحرین میں عزادارن تطبیر کرتے ہوِے, 2011

فتوے[ترمیم]

شیعہ علما میں قمہ زنی کا مقابلہ ہوا ہے۔ اگرچہ کچھ روایت پسند علما مومنوں کو قمہ زنی میں ملوث ہونے کی اجازت دیتے ہیں ، لیکن جدیدیت پسند علما اسے ناقابل فہم سمجھتے ہیں کیونکہ یہ خود کو نقصان پہنچانے والا سمجھا جاتا ہے ، اس طرح اسلام میں حرام ہے۔ [1] بیشتر مذہبی حکام امام حسین اور ان کے حامیوں کی طرف سے جنگ کربلا کے دوران ہونے والی تکلیف دہ اموات سے متعلقہ طریقوں کے طور پر ہر طرح کے خود بخود اور خون خرابے سے وابستہ ہیں۔ [2]

ابو القاسم الخوئی کا فتویٰ تحیر پر تحریر: آیت اللہ اسحاق الفیض

رہبر معظم کا فتوی[ترمیم]

آیت اللہ سید علی خامنہ ای قمہ زنی کو حرام قرار دیتے ہیں۔ ان کے نظریہ کے مطابق اس سے دین اسلام بدنام ہوتا ہے۔ [3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Monsutti، Alessandro؛ Naef، Silvia؛ Sabahi، Farian (2007). The Other Shiites: From the Mediterranean to Central Asia. Peter Lang. صفحات 146–. ISBN 978-3-03911-289-0. اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2015. 
  2. Tabbaa, Yasser؛ Mervin, Sabrina (28 July 2014). Najaf, the Gate of wisdom. UNESCO. صفحات 154–. ISBN 978-92-3-100028-7. 
  3. فتوی قمہ زنی ناشر از موسسئہ راہ اسلام
  4. "Tatbir is a wrongful and fabricated tradition: Imam Khamenei". Khamenei.ir (بزبان انگریزی). 2016-10-07. اخذ شدہ بتاریخ 10 مئی 2019.