ام وہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ام وہب بنت عبد (شہادت 61 ھ) عبد اللہ بن عمیر کلبی کی زوجہ اور شہدائے کربلا میں سے ہیں۔

ام وہب اپنے شوہر کے ہمراہ شب میں کوفہ سے کربلا آئیں اور میدان کربلا میں امام حسین (ع) کے لشکر سے ملحق ہوئیں۔ روز عاشورا جب ان کے شوہر جنگ کے لیے چلے گئے تو انہوں نے امام جنگ کی اجازت طلب کی لیکن امام نے منع فرمایا۔ شوہر کی شہادت کے بعد وہ ان کے چہرے سے خون صاف کر رہی تھیں کہ شمر بن ذی الجوشن کے غلام رستم نے انہیں بھی شہید کر دیا


واقعہ کربلا میں شریک عظیم خواتین میں سے ایک جناب " ام وھب " بھی ہیں

وہ ایک بہادر خاتون تھیں جو اپنے شوہر عبد اللہ بن عمیر کلبی کے ہمراہ کربلا میں شہادت کے درجے پر فائز ہوئیں۔ قابل ذکر ہے کہ کربلا کے دلخراش واقعے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے قافلے میں تین ایسی شجاع و بہادر خاتون تھیں جنہوں نے یزيدیوں سے مقابلہ کیا جن میں سے دو عورتیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے حکم سے میدان جنگ سے خارج ہوگئیں لیکن ام وھب کربلا کی جنگ میں موجود تھیں اور شہادت کے اعلی درجے پر فائز ہوئیں ۔

ام وھب کا شمار ان معدودے چند خواتین میں ہوتا ہے جو اپنے شوہر سے والہانہ عشق و محبت کے علاوہ امام وقت حضرت امام حسین علیہ السلام سے بے پناہ عقیدت رکھتی تھیں اور ان کا شمار خالص شیعوں میں ہوتا تھا اس طرح کی عظیم خواتین کا وجود نہ صرف دنیا کی تاریخ بلکہ تاریخ اسلام میں بھی بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے

روایت میں ہے کہ جب عبد اللہ میدان کارزار میں گئے تو ام وہب نے ایک لکڑی اٹھائی اور ان کے پیچھے پیچھے میدان جنگ کی طرف گئیں تاکہ اپنے شوہر کی مدد اور دشمنوں سے جنگ کریں جب عبد اللہ نے ام وہب کو میدان میں دیکھا تو ان کے قریب آئے اور کہا کہ تم فورا خیمے میں واپس چلی جاؤ اور جنگ کو مردوں کے لیے چھوڑدو لیکن ام وہب نے اپنے شوہر نامدار سے کہا : میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتی یہاں تک کہ تمہارے ساتھ اپنی جان قربان کردوں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام جو پیار و محبت کے اس حسین منظر کا مشاہدہ کر رہے تھے عبد اللہ بن عمیر کلبی کی شریک حیات ام وھب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے ام وہب ، خدا تجھے اجر دے ، تم خیمے میں جاکر خواتین کے ساتھ بیٹھ جاؤ ، کیونکہ خواتین پر جہاد واجب نہیں ہے۔ ام وہب نے جب امام حسین علیہ السلام کے اس فرمان کو سنا تو حکم امام کی اطاعت کرتے ہوئے خیمے میں واپس چلی گئیں لیکن خیمہ گاہ سے اپنے شوہر کی شجاعت و بہادری کا نظارہ کرتی رہیں لیکن جب عبد اللہ نے جام شہادت نوش کیا تو دوڑتے ہوئے اپنے شوہر کے سرہانے پہنچ گئیں اور کہا " اے میرے سرتاج تمہیں بہشت مبارک ہو ، میں اس خدا سے جس نے تمہیں جنت کی نعمت سے سرافراز کیا ہے التجا کرتی ہوں کہ مجھے بھی تمہارے ساتھ جنت میں ہم نشیں قرار دیدے"۔

ام وہب کی شجاعت و بہادری اور حضرت امام حسین علیہ السلام اور اپنے شوہر سے ان کی وفاداری کو دیکھ کر شمر حیران و پریشان ہو گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابن زياد کے کچھ سپاہی لشکر حسینی میں شامل ہوجائیں اس لیے اس نے اپنے غلام رستم کو حکم دیا کہ فورا ام وہب کے سر پر ایسا گرز مارو کہ وہ ختم ہوجائیں۔ رستم نے بھی ایسا ہی کیا اور اس طرح عبد اللہ عمیر کلبی کی شجاع و بہادر شریک حیات ام وھب اپنے شوہر کی شہادت کے کچھ ہی لمحوں بعد وہ شہادت کے درجے پر فا‏ئز ہوگئیں اور اپنا مدعا حاصل کر لیا