عمر بن سعد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمر بن سعد
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 620  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 686 (65–66 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قاتل مختار ثقفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں قاتل (P157) ویکی ڈیٹا پر
والد سعد بن ابی وقاص  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں سانحۂ کربلا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

عمر بن سعد (ولادت-620ء وفات 65ھ یا 66ھ یا 67ھ/684ء یا 685ء یا 686ء) مشہور صحابی رسول سعد بن ابی وقاص کے فرزند جنہیں واقعہ کربلا کی ایک سرکردہ شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ واقعہ كربلا کے وقت یہ ابن زیاد کی فوج میں سپہ سالار تھے اکثر روایت میں انہیں واقعہ کربلا کے مجرمین میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ متعدد اس کے برخلاف ہیں جیسا کہ عمر بن سعد نے حتی المقدور کوشش کی کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوجائے۔[1]

نسب[ترمیم]

عمر بن سعد بن ابی وقاص مالک بن اہيب بن عبد مناف بن زہرہ بن كلاب بن مرہ بن كعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن كنانہ بن خزيمہ بن مدركہ بن الياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان الزہری القرشی الكنانی۔

عمر بن سعد کی ولادت ابن حجر عسقلانی کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں[2] اور بعض روایات کے مطابق اس سال، جس سال عمر بن خطاب کوشہید کیا گيا، جب کہ طبری کی روایت کہ 17ھ میں فتح عراق میں اس نے شرکت کی۔ اور سعد بن ابی وقاص نے اسے رائس عین کی مہم سونپی۔ اس سے پہلی روایت کو تقویت ملتی ہے۔[3]

اولاد[ترمیم]

  • حفص، جو اپنے باپ کے ساتھ کربلا میں حاضر تھے اور مختار ثقفی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
  • محمد جس نے عبد الرحمن بن محمد بن اشعث کے ساتھ مل کر حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کی اور مارے گئے۔
  • عامر، 140ھ میں وفات ہوئی۔
  • مصعب، 130ھ میں وفات ہوئی۔
  • اور موسی

وفات[ترمیم]

سنہ 66ھ میں عمر بن سعد اور ان کے بیٹے حفص کو مختار نے دھوکے سے کوفہ میں شہید کرا دیا اگرچہ مختار عمر بن سعد کو پہلے ہی امان دے چکا تھا مگر بعد میں وہ اپنے وعدے سے مکر گیا۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر اسرار احمد۔ "سانحہ کربلا"۔ Archive.org۔ مرکزی انجمن خدّام القرآن۔
  2. ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، جلد 7 صفحہ451۔
  3. امام ابن جریر،طبری، تاریخ طبری، جلد 5 صفحہ 534
  4. اکبر شاہ خاں نجیب آبادی۔ "تاریخ اسلام"۔ محدث لائبریری۔ دار الاندلس لاہور۔ صفحہ ١٠١۔
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔