انقلاب ایران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(انقلاب اسلامی ایران سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

انقلابِ ایران یا انقلاب اسلامی ایران کی اصطلاح 1979ء میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
اس انقلاب کی قیادت ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی نے کی۔ انقلاب سے ایران میں محمد رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کا خاتمہ ہوا اسلامی جمہوریہ ایران وجود میں آیا۔ جس کے پہلے رہبر معظم (سپریم لیڈر) آیت اللہ خمینی بنے۔ اسلامي انقلاب دنيا بھر ميں ايک ايسا نظام ايجاد کرنے کي کوشش ميں ہے جس کي بنيادمذہب پر ہے [1]

فکر امام خميني رح[ترمیم]

حضرت امام خميني رح دنيا کو اسلامي نظريہ حيات کو اپنانے کي تاکيد کرتے تھے اور اسے صرف جہان اسلام کے ليۓ مخصوص خيال نہيں کرتے تھے - انہوں نے مغربي طرز زندگي کي نفي کي اور مغربي طور طريقوں کو انسان کي نجات کے ليۓ ناکافي جانا - اسي دوران مسلمانوں ميں سے بہت سے مفکرين کے نزديک اس طرح کے نظريات کو اتني اہميت نہيں دي جاتي تھي - گذشتہ پانچ يا چھ صديوں ميں امام خميني رح وہ واحد رہبر ہيں جنہوں نے نہ صرف انقلاب کے متعلق نظرياتي تھيوري بيان کي اور اس کو عملي جامعہ بھي پہنايا - تاريخ ميں ايسے کم ہي لوگ ملتے ہيں جو يہ بھي لکھيں کہ کيسے اور کيونکر انقلاب لايا جاۓ اور پھر خود ميدان عمل ميں شامل ہو کر اپني کہي باتوں کو سچ کر دکھائيں - حقيقت ميں نظر و عمل کا جوڑ اسلامي انقلاب کو لانے ميں امام خميني رح کي کاميابي کے اہم دلائل ہيں - مطلوبہ معاشرے ميں تحريک پيدا کرنے کے ليۓ دين سے رہنمائي حاصل کرنا امام خميني اور اسلامي انقلاب کے اسلامي بيداري کي تحريکوں پر اہم ترين اثرات ہيں جبکہ اس سے قبل يہ تحريکيں لبراليزم اور کميونزم کے غبار سے آلودہ تھي - بہت ہي کم لوگ ايسے تھے جو انقلاب لانے کے ليۓ دين پر يقين رکھتے تھے - امام خميني رح کي رہنمائي نے مسلمانوں ميں بيداري کي لہر پيدا ہوئي اور ان پر يہ واضح ہو گيا کہ اصل قدرت اللہ تعالي کي ذات ہے اور اس کي مدد اور اس کے بتاۓ ہوۓ اصولوں پر عمل کرکے انسان اپنے دنياوي حقوق کو بھي حاصل کر سکتا ہے - امام خميني رح نے تمام جہان اسلام اور کمزور اقوام پر يہ واضح کر ديا کہ مشروعيت ، مقبوليت، سادہ زندگي ، انسانوں کي نجات ،ثقافتوں کي نجات اور نظر و عمل کي ترکيب سازي صرف اور صرف دين الہي کے راستے پر چلنے سے ہي ممکن ہے - وہ دين جو تمام جہان کے ليۓ جامعہ ہے - دوسرے الفاظ ميں ہم يہ کہہ سکتے ہيں کہ حضرت امام خميني رح اور ايران کے اسلامي انقلاب نے بڑے اچھے انداز ميں رہتي دنيا کو يہ پيغام ديا ہے کہ نجات کا واحد راستہ اسلام کے اصولوں پر عمل پيرا ہو کر ممکن ہے اور يہ وہ راز ہے جومسلکی لحاظ سے گمراہ اور تھکی ہوئي دنيا کو بيدار کرنے کے ليۓ کافي ہے -

انقلاب اسلامی ایران کے خصوصیات[ترمیم]

انقلاب اسلامی ایران جو ۱۳۵۷ ش )۱۹۷۹ء (میں حضرت امام خمینی رح کی رہبری میں کامیابی سے ہمکنار ہوا اکثر صاحبان نظر، دانشوروں اور بالخصوص اس کے اصلی معمار کی نظر می کچھ دنیادی خصوصیات اور امتیازات کا حامل[2] ہے جو اس کو دوسرے انقلابات سے ممتاز کرتے ہیں کہ ہم اس مقالے میں بعض اہم خصوصیات[3] کا ذکر کررہے ہیں:

دینی رجحان[ترمیم]

انقلاب اسلامی ایران کی ایک اہم خصوصیت اس کا خدا محور[4] ہونا ہے۔ جمہوری اسلامی ایران کےقانون اساسی کی ۵۶ ویں بند میں ہم ملاحظہ کرتےہیں: عالم اور انسان پر حاکمیت مطلق خدا کی ہےاور اسی نے انسان کو اس کی اجتماعی تقدیر پر حاکم بنایا ہے۔ بانی انقلاب اسلامی ایران کے وصیت نامہ میں اس سلسلے میں اس طرح آیا ہے: ہم جانتے ہیں کہ اس عظیم انقلاب نے جو ستمگروں اور جہاں خواروں کے ہاته کو ایران سے دور کردیا ہے وہ الہی تائیدات کے زیر سایہ کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔ اگر خداوند متعال کی تائید پر نہ ہوتی ممکن نہ تها کہ ایک)۳۶ ملیون(تین کروڑ ۶۰ لاکھ پر مشتمل آبادی اسلام اور روحانیت مخالف پروپیگنڈوں کے باوجود بالخصوص اس آخری صدی میں ایک ساتھ قیام کرے اور پورے ملک میں ایک رائے ہو کر حیرت انگیزاور معجزہ آساقربانی اور نعرہ اللہ اکبر کے سہارے خارجی اور داخلی طاقتوں کو بے دخل کردے۔ بلا تردید اس مظلوم دبی کچلی ملت کے لئے خداوند منان کی جانب سے یہ ایک تحفہ الہی اور ہدیہ غیبی ہے۔ (صحیفہ امام ، ج۲۱، ص۴۰۱)

انقلاب کا عوامی ہونا[ترمیم]

دوسرے انقلابات میں بهی انقلاب کا عوامی ہونا دکهائی دیتا ہے لیکن انقلاب اسلامی ایران میں یہ صفت زیادہ، آشکار اور نمایاں ہے۔ اس انقلاب میں زیادہ تر لوگ میدان میں آئے اور شاہی حکومت کی سرنگونی اور اسلامی نظام کی برقراری کا مطالبہ کیا۔ فوجی، کاریگر، مزدور، کسان، علماء و طلاب اسٹوڈنٹس، معلم، غرض ملک کے ہر طبقہ کے لوگ اس انقلاب میں حصہ دار اور شریک تهے۔ انقلاب کے عوامی ہونے کی یہ صفت بہت ہی نمایاں ہے۔ دوسرے انقلابات میں زیادہ تر فوجیوں اور پارٹیوں کا ہاته رہا ہے جنہوں نے مسلحانہ جنگ کرکے کام کو تمام کیا ہے اور عوام نے ان کی حمایت کی ہےلیکن ہمارے انقلاب میں سارے لوگ شریک رہے ہیں اور پورے ملک میں پوری قوت کے ساتھ رضا شاہ پہلوی کا مقابلہ کیا۔

رہبری و مرجعیت[ترمیم]

انقلاب اسلامی ایران کی ایک اہم خصوصیت جس کا سرچشمہ انقلاب کا الہی ہونا ہے ، دین اور علماء دینی کا انقلاب کی رہبری اور ہدایت کرنا ہے۔ دوسرے سارے انقلاب ایک طرح سے دین و مذہب کے مقابلے میں تهے لیکن یہ انقلاب علمائے دین کی ہدایت و رہبری سےآغاز ہوا او رانجام کو پہنچا ہے۔ان میں سرفہرست امام خمینی رح تهے جو بلند ترین دینی منصب یعنی مرجعیت کے حامل تهے۔ آپ کی رہبری نمایاں خصوصیات کی حامل تهی جن میں سے بعض کو ہم ہدیہ قارئین کررہےہیں: الف: امام خمینی رح جو ایک دینی مرجع ہونے کے ساتھ ساتھ تهے وسیع اور زبردست عوامی حمایت کے بهی مالک تهے۔ ب: آپ نے ۱۵/جون کے قیام کی بنیاد رکه کر اور اس جانسوز حادثہ میں اپنی جلاوطنی کے زمانہ میں بے نظیر مدیریت اور شجاعت کا مظاہرہ کرکے اپنی سیاسی اور انقلابی رہبری کا لوہا منوایا۔ ج: امام نے انقلاب کا نقشہ اور منصوبہ بهی بنایا اور اس کے بانی، مدیر اور مجری بهی تهے۔

اصالت[ترمیم]

انقلاب اسلامی ایران کی اصالت کے دو پہلو ہیں: نظری اور عملی۔ نظری اور فکری پہلو میںِ اس انقلاب کے اہداف و مقاصد اور افکار و نظریات خارجی نہ تهے خود ایرانی تاریخ اور ایرانیوں کی پیداوار تهے۔ اسلام اور عقائد اسلامی کو ایرانیوں نے چودہ سو برس پہلے قبول کیا تها اور اس مدت میں اسلام اور اسلامی عقائد ہماری قومیت اور تہذیب و ثقافت کے ایک اصلی اور اساسی عنصر میں تبدیل ہوگئے اور عملی پہلو میں ایرانی عوام اپنی قدرت و طاقت کے بل پر مغرب ومشرق یا ہمسایہ ممالک سے مالی اور اسلحوں کی مدد کے بغیر خدا کی ذات پر تکیہ کیا اور شمشیر پر خون کی کامیابی کا نعرہ لگاتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

انقلاب کا اسلامی یعنی دینی ہونا[ترمیم]

ایرانی انقلاب کی سب سے پہلی شرط اسلام ہے اور یہ اس کے طرز تفکر، ماہیت اور اغراض و مقاصد کی وجہ سے ہے۔ اس انقلاب کے رہبر ایک روحانی تهے جو مرجعیت دینی کے منصب پر تهے، اس کی تنظیم و ترتیب حوزہ علمیہ دینی کے ہزار سالہ مرکزی ادارہ کے ذریعے ہوئی۔ عوام اور اس انقلاب کے بانیوں کا مقصد اسلام اور قوانین اسلامی کی حاکمیت اور استبداد داخلی اور استبداد عالمی کے چنگل سے رہائی تها۔ لہذا شرائط انقلاب ایران میں دین اسلام کی اساسی نقش کی وجہ سے یہ انقلاب صفت اسلامی سے متصف ہوا۔

انقلاب کا عاشورائی مقصد[ترمیم]

بہت سارے دانشوروں کی نگاہ میں جنہوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے اسباب و علل پرنظریہ پردازی کی ہے کہ مذہب سب سے قوی اور اصلی ترین محرک اور سبب ہے جس نے انقلاب کی پیدائش اور اس کی کامیابی میں سب سے اہم رول ادا کیا ہے اور اسی طرح انقلاب اسلامی ایران کس طرح برپا ہوا اس کے سلسلے میں رائج سیاسی ادبیات، نعروں، تقریروں اور رہبران تحریک کے بیانات کا مطالعہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ مذہبی عناصر کے درمیان سے عاشورائی تہذیب اورامام حسین علیہ السلام کی نہضت کا اس انقلاب میں بڑا ہاته ہے۔ شہادت طلبی، باطل سےہمیشہ ٹکراؤ طاغوت سے پیکار، رضائے پروردگار کی پیروی، مصالح مسلمین، نظارت عمومی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسی عاشورائی خصوصیات نے انقلاب اسلامی پر بہت گہرا اثر چهوڑا ہے۔ عاشورائی تہذیب کے گوناگوں اثرات کو رہبر انقلاب کی فکر ان کے عمل کو انقلابی افراد کے اہداف و مقاصد اور مقابلہ کی روش میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔

مقاصد کو اجاگر کرنے والے نعرے[ترمیم]

سادہ اور عوامی شکل میں ہر انقلاب کی ماہیت اور روش کا اندازہ اس کے نعروں سے ہوتا ہے اور نعرے بہت پہلے سے اہداف کی شناسائی اور لوگوں کے مطالبات کو پہچنوانے اور منوانے کا ذریعہ رہے ہیں۔ ایرانی عوام کے نعرے جو ان کے مطالبات کو بیان کرتے ہیں ذیل کے چار اصلی عناوین میں خلاصہ ہوتے ہیں: ۱۔ استقلال بلاتردیدظالم شاہی حکومت کے خلاف ہوئے مقابلوں میں لوگوں کا سب سے بنیادی نعرہ استقلال طلبی تها۔ شاہ کے زمانے کا ایران علاقہ میں محافظ دستہ کے حکم میں امریکا اور مغرب کے لئے کام کرتا تها۔ قانون سرمایہ داری جو حکومت نے پیش کیا اور اس وقت کی قومی مجلس عاملہ نے اس کو تصویب کیا اس سے امریکی مشیر کاروں کو تحفظ ملا، تاکہ وہ کسی اضطراب اور وحشت کے بغیر ایران کے اندر عوام کی عمومی ثروت و اموال کو لوٹ لیں۔ شاہ کی فوج بهی مکمل طورپرامریکی جنرل کے اختیار میں تهی اور اس کا اپنا کوئی ارادہ نہ تها، استقلال اور آزادی ایرانی عوام کے لئے انقلاب اسلامی کا بہت بڑا تحفہ تهی، یہی وجہ ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کااساسی قانون اپنے متعدد بند میں واضح الفاظ میں استقلال پر زور دیتا ہے اور آج بلا مبالغہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ایران آزادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے اچها ملک شمار ہوتا ہے۔ ۲۔ آزادی آزادی آخری دو صدیوں میں عوامی مطالبات کے زمرے میں ہمیشہ انقلابوں اور تحریکوں کے اہداف و مقاصد میں سرفہرست ایران کی استقلال طلبی اور آزادی خواہی رہی ہے۔ ظالم اور ڈکٹیٹر شاہ پہلوی نے اضطراب اور گهٹن کا ماحول بنا کر ایرانی قوم کو معمولی آزادی سے بهی محروم کردیا تهااور اس جگہ پرقید خانے راہ حق میں جہاد کرنے والوں سے بهرے ہوئے تهے اور مجلسیں اور کٹه پتلی حکومتیں یکے بعد دیگرے آتی جاتی رہتی تهیں اور اس درمیان جس چیز کی کوئی اہمیت نہ تهی وہ قانون اور عوام کا کردارتها ۔ شاہ کی ہر طرح سے حمایت کرنے کے لئے ایران میں ۲۸/مرداد ۱۳۳۲ه ش)۱۰/اگست ۱۹۵۳م( کی بغاوت کے بعد امریکا اور انگلینڈ کی ہدایت کے مطابق فوجی حکومت تشکیل پائی اوراس نے آزادی اور مجاہدین راہ حق کو کچلنے اور پسپا کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ایسے گهٹن کے ماحول میں ایرانی عوام نے جمہوری اسلامی کے ہمراہ آزادی اور "استقلال" کا نعرہ بلند کیا ۔ ۳۔ جمہوری اسلامی شہید آیۃ اللہ مطہری کا خیال تها کہ "جمہوری" حکومت کی شکل ہے اور اس کا اسلامی ہونا ادارہ ملک کے مفہوم کی نشاندہی کرتا ہے۔ جمہوری اسلامی نے ۹۸فیصد سے زیادہ ایرانی عوامکے ووٹ سےشاہی سلطنت کی جگہ لی ۔ امام خمینی رح نے اس دن کو عید کا دن اعلان کیا اور اپنے پیغام میں فرمایا: تمہیں وہ دن مبارک ہو جس دن تم نے جوانوں کی شہادت اور طاقت فرسا مصیبتوں کےبعد دیو صفت دشمن اور فرعون وقت کو زمیں بوس کردیا اور اس کو ایران سے فرار کرنے پر مجبور کردیا اور اپنے قیمتی ووٹ کے ذریعے بهاری اکثریت سے شاہی سلطنت کی جگہ جمہوری اسلامی کو بٹها کر حکومت عدل الہی کا اعلان کیا، ایسی حکومت جس میں سب کو ایک ہی نظر سے دیکها جائے گا اور عدل الہی کا سورج سب پر یکساں نورافشانی کرے گا اورقرآن و سنت کی باران رحمت سب پر یکساں نازل ہوگی۔ )صحیفہ امام، ج۶، ص۴۵۳( نہ شرقی نہ غربی کا اہم نعرہ گویا ملک کےداخلی امور میں غیروں کے تسلط کی نفی ہے ۔اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ جمہوری اسلامی کی نہ غربی نہ شرقی نعرہ کے ضمن میں خارجہ پالیسی مندرجہ ذیل چند اصول پر استوار ہے: ہرطرح کی تسلط جوئی اور تسلط پذیری کی نفی: ہمہ جانبہ استقلال اور ملک کی سرزمین اور سرحدوں کی حفاظت، تمام مسلمانوں کے حقوق کا دفاع، سامراجی اغیار سے کوئی عہد و پیمان نہ کرنے کا عہد، جنگ نہ کرنے والی حکومتوں سے صلح آمیز روابط، ہر اس معاہدہ پر پابندی جو اغیار کے تسلط کا موجب ہو اور دنیا کے کسی بهی گوشہ و کنار میں موجود مستکبرین عالم کے مقابلے میں مستضعفین عالم کے حق طلب مقابلہ کی حمایت، ایسی سیاست اپنانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایران میں استعماری طاقتوں سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا اور اغیار سے جنگ کرنے اور سامراج مخالف تہذیب و تمدن کی بنیاد پڑی۔

خدا کي حاکميت کي طرف رحجان[ترمیم]

ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد يہاں پر اسلامي نظام کي تشکيل ہوئي -عراق کے اسلامي انقلاب کي مجلس کے ايک رہبر نے اس بارے ميں يوں کہا : ہم اس وقت کہتے تھے کہ اسلام ايران ميں کامياب ہو گيا ہے اور اس کے بعد جلد ہي عراق ميں بھي کامياب ہو گا - اس ليۓ ضروري ہے کہ ہم اس سے سبق حاصل کريں اور اسے اپني مشق کا حصہ بنا ليں - دوسرے الفاظ ميں اسلامي انقلاب نے تقريبا ڈيڑھ بلين مسلمانوں کو جگايا اور انہيں کرہ زمين پر اللہ کي حاکميت کے زير سايہ حکومت تشکيل دينے کے ليۓ متحرک کيا - يہ عمل اساس نامے ، معاصر سياسي اسلامي تحريکوں کے گفتار و عمل ميں مختلف صورتوں ميں قابل مشاھدہ ہے - اسلامي حکومت کے قيام کے ليۓ متحرک مسلمانوں کي خواہش مختلف طريقوں سے پوري ہوئي ہے - جيسے بعض اسلامي جماعتوں نے امام خميني رح کي اسلامي حکومت کي کتب ( مثلا اليسار الاسلامي مصر ) کا ترجمہ کرکے اور اسلامي جمہوريہ ايران کي پيروي کرکے ( مانند جبھہ نجات اسلامي الجزاير ) ايک اسلامي حکومت کے قيام کے ليۓ اپني خواہش اور دلچسپي کا اظہار کيا ہے[5] - آيت اللہ محمد باقر صدر جنگ تحميلي کے شروع ہونے سے قبل اس کوشش ميں تھے کہ عراق کي رژيم کو سرنگوں کرکے وہاں پر اسلامي جمہوريہ ايران کي طرز پر ايک اسلامي حکومت تشکيل دي جاۓ جو ولايت فقيہ کي بنياد پر ہو - بعض دوسري اسلامي تحريکيں بھي اصل ولايت فقيہ کو تسليم کرتے ہوۓ اسلامي انقلاب ايران کي رہبري کي پيروي کرتي ہيں - يہ دو طرح کے گروہ ہيں - ايک وہ گروہ جو مذھبي اور عقيدتي لحاظ سے اسلامي انقلاب کے رہبر کي تقليد کرتا ہے جيسے لبنان ميں تحريک امل جبکہ دوسرا گروہ وہ ہے جو سياسي اور مذھبي لحاظ سے رہبر انقلاب اسلامي ايران کا تابع ہے جيسے لبان ميں حزب اللہ -

بعد از انقلاب[ترمیم]

خواتین[ترمیم]

Flag of ایران قبل از 1979ء ایران میں خواتین Flag of ایران آج
42.33% خواندگی (15–24)[6] 98.52%
69.42% خواندگی (>15)[6] 80.66%
48,845 طالبات[7] 2,191,409
122,753 فارغ التحصیل[8] 5,023,992
2.4% فارغ التحصیل (%)[8] 18.4%
19.7 شادی وقت عمر[9] 23.4

عورت انساني معاشرے کا ايک لازمي اور ضروري حصّہ ہے جو معاشرے کي تشکيل اور بہتري ميں مرد کے شانہ بشانہ کھڑي ہے - معاشرے کي ترقي کے ليۓ عورت اور مرد دونوں کو اپني صلاحيتوں کو بروۓ کار لانا پڑتا ہے جس کے بعد معاشرہ ايک فلاحي راستے کي طرف گامزن ہوتا ہے - اس سارے عمل ميں عورت کا کردار کسي سے بھي ڈھکا چھپا نہيں ہے اور اس کي صلاحيتوں سے بھي جديد دور ميں کسي کو انکار نہيں ہے - اسلامي انقلاب ، اس طراوت و نشاط کي پہلي کرن ہے اور مرد و عورت سب پر خداوند عالم کي رحمت و معنويت کي زندہ نشاني ہے - اسلامي انقلاب نے سيرت حضرت ختمي مرتبت اور امير المومنين عليہ السلام کي تعليمات کي روشني و پيروي ميں تمام خواتين کو اُن کے عظيم و بلند مقام پر فداکار اور محبت نچاور کرنے والي ماوں، صابر، مونس و غمخوار بيويوں، استقامت اور قدم جما کر (ميدان جنگ سميت تمام محاذوں پر لڑنے والي) مجاہدہ خواتين کي صورت ميں پرورش دي ہے- آج کي ايراني عورت کو ہر لحاظ سے معاشرے ميں عزت و احترام حاصل ہونے کے ساتھ زندگي کے ہر ميدان ميں ترقي کرنے کے يکساں مواقع ميسر ہيں - ايران ميں 1979ء ميں عظيم اسلامي انقلاب برپا ہوا جس کے نتيجے ميں اس ملک ميں اسلامي حکومت قائم ہوئي- اس کے بعد معاشرے ميں بنيادي تبديلي آئي اس کے اثرات خواتين پر بھي پڑے عورت کے رجحانات ميں تبديلي آئي؛ وہ فکري، علمي، ثقافتي اور اجتماعي مسائل کي ترقي کے راستے پر گامزن ہونے لگي؛ حضرت امام خميني (رہ) نے اسلامي انقلاب کے انہي ابتدائي دنوں ميں معاشرے ميں مسلمان خواتين کے کردار کي وضاحت کرتے ہوئے فرمايا تھا[10] : "اسلام يہ چاہتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں ترقي کريں- اسلام نے عورت کو جاہليت کي خرابيوں سے بچايا - اسلام يہ چاہتا ہے جيسے مرد اہم کاموں کو سرانجام ديتا ہے عورت اس طرح انجام دے - اسلام يہ چاہتا ہے کہ عورت اپني حيثيت اور قدر و منزلت کو محفوظ رکھے- اسلام نے عورت کي جو خدمت کي ہے اس کا سراغ کہيں اور نہيں ملتا ہے-" حضرت امام خميني (رہ) کے ارشادات نے ايراني عورت ميں ايک نئي روح پھونک دي اور اس نے سياسي، اجتماعي سرگرميوں ميں شرکت کو اپني مقبوليت کا ثبوت دينے کے لئے بہتريں طريقہ سمجھا- انقلاب کے دوران بھي خواتين نے بہت شاندار حصہ ليا- وہ اسلامي حکومت کے لئے بے چين تھيں- وہ اس دن کا انتظار کرتي تھيں کہ اپنے رہبر کي قيادت ميں اپني چھپي ہوئي صلاحيتوں کا اظہار کريں- اس دن کو پانے کے لئے وہ انقلاب کے جلوسوں ميں نعرے لگاکر اپني موجودگي کا احساس دلاتي تھيں- خواتين نے اپني صلاحيتوں کو وسعت دينے کے لئے اپني اجتماعي سرگرميوں کو علم و دانش کے چراغ سے سجايا اور يوں عورت کي الہي فطرت اور پہچان سب پہلو‏ۆں ميں نماياں ہوتي گئي - ايران کے اسلامي جمہوريہ کا آئين، اسلام کے قانون سے پھوٹا ہے- اسي بنا پر حکومت نے اپنے قوانين ميں خواتين کے سارے اسلامي حقوق کو مدنظر رکھا ہے- ايران کي اسلامي قومي اسمبلي ميں معاشرے ميں خواتين کي سرگرميوں کے بارے ميں انتہائي مفيد قوانين منظور کيے گئے ہيں- اس قانون سےخواتين کو کافي حمايت ملي- خاص طور پر بے کس اور بےسہارا عورتوں کے لئے کافي سہولتيں پيدا ہوئي ہيں- اسلامي جمہوريہ ايران کے عظيم رہبر حضرت آيت اللہ خامنہ اي فرماتے ہيں[11]:"اسلام نے عورت پر پردے کو فرض قرار ديا ہے کيونکہ وہ ايک آزاد انسان ہے اور اس طرح وہ پاک و صحت مند ماحول ميں اپنے معاشرتي فرائض کو انجام دے سکتي ہے-" آج کي ايراني خواتين کے لئے مثالي نمونہ مغربي عورت نہيں بلکہ سب سے بہترين آئيڈيل حضرت فاطمہ زہرا(س) ہيں-

نگار خانہ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]