روح اللہ خمینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(آیت اللہ خمینی سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
روح اللہ خمینی


در منصب
3 دسمبر 1979ء – 3 جون 1989ء
صدر ابوالحسن بنی صدر
محمد علی رجائی
آیت‌اللہ علی خامنہ‌ای
وزیرِ اعظم مہدی بازرگان
محمد علی رجائی
محمد جواد باہنر
محمد رضا مہدوی کنی
میر حسین موسوی
پیشرو محمد رضا شاہ پہلوی
بطور شاہ ایران
جانشین آیت‌اللہ علی خامنہ‌ای

پیدائش 24 ستمبر 1902 (1902-09-24)[1][2][3][4][5]
خمین, ایران
وفات 3 جون 1989 (عمر 86 سال)
تہران، ایران
قومیت ایرانی
سیاسی جماعت حزب جمہوری اسلامی
ازواج خدیجہ ثقفی (m.1929 – will.1989)
بچے مصطفی خمینی
زہرا مصطفوی
صدیقہ مصطفوی
فریدہ مصطفوی
احمد خمینی
مذہب اہل تشیع[6][7][8]
دستخط
Styles of
روح اللہ خمینی
Emblem of Iran.svg
Reference style مرجع، آیت اللہ العظمی امام خمینی[9]
Spoken style امام خمینی[10]
Religious style آیت اللہ العظمی روح اللہ خمینی[10]
مقبرہ سید روح‌الله خمینی یہ ایک ثقافتی اور سیاحتی سینٹر بھی ہے جس کی تعمیر کے پہلے سال میں ملکی بجٹ سے دو ارب ڈالر مختص کئے گئے۔[11]

ایران کے مذہبی رہنما۔ بانی اسلامی جمہوریہ ایران ۔ آیت اللہ العظمٰی امام روح اللہ موسوی خمینی 24 ستمبر 1902ء کو خمین میں پیدا ہوئے جو تہران سے تین سو کلومیٹر دور ہے۔ ایران ، عراق ، اور اراک (ایران کا ایک شہر) میں دینی علوم کی تکمیل کی۔ 1953ء میں رضا شاہ کے حامی جرنیلوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر تودہ پارٹی کے ہزاروں ارکان کو تہ تیغ کر دیا تو ایرانی علماء نے درپردہ شاہ ایران کے خلاف مہم جاری رکھی، اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی سیاست کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔

شاہ ایران کے قوانین[ترمیم]

28 اكتوبر1964ء كا ذكر ہے شاه كى حكومت نے اىک قانون كى منظورى دى جس كے تحت امرىكى فوجى مشن كے افراد كو سفارتكاروں كے ہم پلہ وه حقوق دئیے گئے جو وىانا كنونشن كے تحت سفارتكاروں كو حاصل ہیں اس كے معنى یہ ہیں کہ امرىكى جو چاہیں کرتے رہیں ان پر اىرانى قانون لاگو نہ ہو گا – اگلے دن امام خمینى نے مدرسہ فىضىہ قم مىں وه شہره آفاق تقرىركى جو اىک عظىم انقلاب كا دىباچہ بن گئى انہوں نے کہا:

مىرا دل درد سے پھٹا رہا ہے میں اس قدر دل گرفتہ ہوں کہ موت كے دن گن رہا ہوں اس شخص نے ہمیں بىچ ڈالا ہمارى عزت اور اىران كى عظمت خاک میں ملا ڈالی اہل اىران كا درجہ امرىكى كتے سے بهى كم كر دىا گیا ہے اگر شاه اىران كى گاڑی كسى امرىكى كتے سے ٹکرا جائے تو شاه كو تفتىش كا سامنا ہو گا لىكن كوئى امرىكى خانساماں شاه اىران ىا اعلى ترىن عہدے داروں كو اپنى گاڑی تلے روند ڈالے تو ہم بے بس ہوں گے آخر كىوں ؟ كىونكہ ان كو امرىكى قرضے كى ضرورت ہے- اے نجف، قم،مشہد، تہران اور شىراز كے لوگو! میں تمہیں خبردار كرتا ہوں یہ غلامى مت قبول كرو كىا تم چپ رہو گے اور كچھ نہ کہو گے ؟ کیا ہمارا سودا كر دىا جائے اور ہم زبان نہ كهولىں۔۔۔

گرفتاری و جلا وطنی[ترمیم]

اس تقرىر نے تخت شاہی کو ہلا كرركھ دىا پورا اىران ارتعاش محسوس كرنے لگا سات دن بعد امام خمینى كو گرفتار كركے تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سےجلا وطن كر دىا امام ایک سال ترکی میں رہے، اور 4 اکتوبر 1965ء میں نجف اشرف چلے گئے۔ عراق کی سرزمین بھی آپ کے لیے تنگ ہوگئی تو 6 اکتوبر 1978ء کو فرانس منتقل ہوگئے۔ اور پیرس کے قریب قصبہ نوفل لوش تو میں سکونت اختیار کی۔ جلاوطنی کے اس سارے عرصے میں شاہ ایران کے خلاف تحریک کی ’’ جس میں ملک کے تمام محب وطن عناصر شامل تھے‘‘ رہنمائی کرتے رہے۔ 17 جنوری 1979ء کو شاہ ایران ملک سے چلے گئے۔

خطاب بہ نوجوانان اسلام[ترمیم]

امام خمینی جلا وطنی کے دوران ایک اور شہرہ آفاق تقریری کی جو انقلاب اسلامی ایران کی بنیاد بن گئی۔ اس تقریر کو فرانس سے جلاوطنی ہی کے دوران فارسی زبان میں شائع کیا گیا تھا۔ اس تاریخی خطاب میں امام خمینی نے بہت اہم جملے ارشاد فرمائے جسے ہر ایرانی نے ہمیشہ کیلئے پلے باندھ لیا:

دنیا کی اسلامی اور غیر اسلامی طاقتوں میں ہماری قوت اس وقت تک تسلیم نہیں ہوسکتی جب تک مکہ اور مدینہ پر ہمارا قبضہ نہیں ہوجاتا۔ چونکہ یہ علاقہ مبحط الوحی(وحی اترنے کی جگہ) اور مرکز اسلام ہے۔اسلیئے اس پر ہمارا تسلط اور غلبہ ضروری ہے ۔۔۔ میں جب فاتح بن کر مکہ اور مدینہ میں داخل ہونگا تو سب سے پہلا میرا یہ کام ہوگا کہ حضورﷺ کے روضہ پر پڑے ہوئے دو بتوں(مرادحضرت ابوبکر_صدیق ﷜ اور حضرت عمر_بن_خطاب ﷜) کونکال باہر کردونگا۔

[12]

وطن واپسی[ترمیم]

امام خمینى جب ىكم فرورى 1979ء كو سولہ سالہ جلا وطنى كے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سے بہشت زہرا كے قبرستان تک لاكهوں اىرانىوں نے ان كا استقبال كىا بعض لوگوں نے یہ تعداد 1 كروڑ سے بهى زىاده لكهى ہے یہ بهى عجىب دن تها شاہانہ جاه و جلال ركهنے والا اىک حكمران امرىكہ كى بهرپور سرپرستى اىک بڑى سپاہ اور ساواک جىسى خونخوار اىجنسى كے باوجود اىک خرقہ پوش كے ہاتهوں شكست كها كر ملک سے فرار ہو چكا تها اس كى نامزد كرده حكومت خزاں رسىده پتے كى طرح كانپ رہى تهى شاه پور بختىار تمام تر كاغذى اختىارات كے باوجود ردى كے كاغذ كا اىک پرزه بن چكا تها جو كسى لمحے کوڑا دان كا رزق بننے والا تها- شاه نے قم كے حوزه علمىہ فىضىہ كى آواز دبانے كے لئےكىا كىا جتن نہ کئے كون كون سے مظالم نہ توڑے لىكن امام خمینى كى آواز نہ دبائى جاسكى امرىكہ كى گود مىں بیٹها بادشاه اہل اىران كى خودى اور ان كى زندگیوں سے كهىل رہا تهاامام خمینى كچھ وقت قم میں گزارنے کے بعد تہران آئے تو کہا میں عوام کے درمىان كسى ساده سے گھر میں رہوں گا حجت الاسلام سىد مہدى نے بارگاہ حسىنىہ جماران سے متصل اپنا گھر پىش كىا امام خمینى نے کہا میں كرا‎‎ئے كےبغىر نہیں رہوں گا 80 ہزار اىرانى رىال ىعنى تقرىباً 650 روپے ماہانہ كراىہ مقرر ہوا جنورى 1980ء سے 3 جون 1989ء تک امام اسى كواٹر نما گھرمیں مقىم رہے یہ وه دور تها جب اىران میں ان كى فرمانروائى تهى ان كے اشاره ابرو كے بغىر ایک پتا بهى حركت نہ كرتا تها اىران كے انقلاب كى سارى صورت گرى اسى حجرے میں ہوئى.آپکا انقلاب اسلامی اس بات کی واضح دلیل تھی کہ آپ کچھ کر گزرنے والے انسان تھے۔ جس چیز کا عزم فرماتے اسے پورا کرنے کیلئے رکاوٹوں کے ہونے باوجود بلا جھجھک اس میں کود پڑتے اور جان کی بازی لگانے سے کبھی نہ ڈرتے تھے انکے قول اور فعل میں تضاد بالکل نہ تھا یہاں تک فرانس والے وعدے کو عالم اسلام کے ہر فرد نے دیکھا جب اسے ہر سال حج کے موقع پر اخبارات کی شہ سرخیوں میں درج ڈیل باتیں ملاحظہ کرنی پڑیں:

  • 10,000دس ہزار ایرانیوں کا خانہ کعبہ کے سامنے مظاہرہ۔
  • کئی ہزار ایرانی مردوں اور عورتوں نے مسجد نبوی کے سامنے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے۔
  • تین سو ایرانیوں کو حج کے موقع پر نعرہ بازی کے جرم میں سعودی عرب سے نکال دیا گیا۔
  • ایک لاکھ ایرانیوں نے خانہ کعبہ کے سامنے مظاہرہ کیا۔[13]

وفات[ترمیم]

کینسرکی وجہ سے ان کا انتقال 3 جون 1989ء میں ہوا۔ تہران کے قریب دفن ہوئے۔ [14]

مکتوبات خمینی[ترمیم]

  • شرح دعای سحر
  • شرح حدیث رأس الجالوت
  • حاشیہ امام بر شرح حدیث رأس الجالوت
  • التعلیقہ علی الفوائد الرضویہ
  • شرح حدیث جنود عقل و جہل
  • مصباح الہدایۃ الی الخلافۃ و الولایۃ
  • تعلیقات علی شرح فصوص الحکم و مصباح الانس
  • شرح چہل حدیث (اربعین حدیث)
  • سرالصلوۃ
  • آداب نماز (آداب الصلوۃ)
  • رسالہ لقاءاللہ
  • حاشیہ بر اسفار
  • کشف الاسرار
  • انوار الہدایہ فی التعلیقہ علی الکفایہ ۲ جلد
  • بدایع الدرر فی قاعدہ نفی الضرر
  • الرسائل العشرہ
  • رسالہ الاستصحاب
  • رسالہ فی التعادل و التراجیح
  • رسالہ الاجتہاد و التقلید
  • مناہج الوصول الی علم الاصول ۲ جلدی
  • رسالہ فی الطلب و الارادہ
  • رسالہ فی التقیہ
  • رسالہ فی قاعدہ من ملک
  • رسالۃ فی تعیین الفجر فی اللیالی المقمرہ
  • کتاب الطہارۃ - ۴ جلد
  • تعلیقۃ علی العروۃ الوثقی
  • المکاسب المحرمہ ۲ جلد
  • تعلیقہ علی وسیلۃ النجاۃ
  • رسالہ نجاۃ العباد
  • حاشیہ بر رسالہ ارث
  • تقریرات درس اصول آیۃ اللہ العظمی بروجردی
  • تحریر الوسیلہ ۲ جلد
  • ترجمہ تحریر الوسیلہ ۴ جلد
  • کتاب البیع - ۵ جلد
  • حکومت اسلامی یا ولایت فقیہ
  • کتاب الخلل فی الصلوۃ
  • جہاد اکبر یا مبارزہ با نفس
  • رسالہ توضیح المسائل
  • مناسک حج «احکام مطابق با فتاوای حضرت امام خمینی»
  • تفسیر سورہ حمد
  • استفتائات ۳ جلد
  • دیوان شعر
  • سبوی عشق
  • رہ عشق
  • بادہ عشق
  • نقطہ عطف
  • محرم راز
  • مقام رہبری در فقہ اسلامی با استفادہ از کتاب البیع
  • مسائل امر بہ معروف و نہی از منکر از تحریر الوسیلہ
  • مسئلہ قضاوت از کتاب تحریر الوسیلہ
  • جہاد نفس از کتاب اربعین حدیث
  • رابطہ نیت و اخلاص از کتاب اربعین حدیث
  • صحیفہ امام «مجموعہ آثار امام خمینی » ۲۲ جلد
  • صحیفہ نور
  • وصیت نامہ
  • لمحات الاصول
  • کوثر ۳ جلد
  • منشور روحانیت
  • وعدہ دیدار
  • فریاد برائت
  • آوای توحید

عکس[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

سیاسی دفاتر
پیشتر
New title
Supreme Leader of Iran
1979–1989
اگلا
آیت‌اللہ علی خامنہ‌ای

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ DeFronzo 2007, p. 286. "born 22 September 1902..."
  2. ^ "History Of Iran Ayatollah Khomeini - Iran Chamber Society". Iranchamber.com. http://www.iranchamber.com/history/rkhomeini/ayatollah_khomeini.php۔ اخذ کردہ بتاریخ 2013-01-05.
  3. ^ "Khomeini Life of the Ayatollah By BAQER MOIN". The New York Times. http://www.nytimes.com/books/first/m/moin-khomeini.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 January 2012.
  4. ^ "Imam Khomeini Official Website | پرتال امام خمینی". Imam-khomeini.ir. http://www.imam-khomeini.ir/۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 March 2012.
  5. ^ Karsh 2007, p. 220. "Born on 22 September 1902
  6. ^ Bowering، Gerhard; Crone، Patricia; Kadi، Wadad et al۔، eds۔ (28 Nov 2012). The Princeton Encyclopedia of Islamic Political Thought. Princeton University Press. p. 518. ISBN 9781400838554.
  7. ^ Malise Ruthven (8 Apr 2004). Fundamentalism : The Search For Meaning: The Search For Meaning (reprint ed۔). Oxford University Press. p. 29. ISBN 9780191517389.
  8. ^ Jebnoun، Noureddine; Kia، Mehrdad; Kirk، Mimi، eds۔ (31 Jul 2013). Modern Middle East Authoritarianism: Roots, Ramifications, and Crisis. Routledge. p. 168. ISBN 9781135007317.
  9. ^ Constitution of the Islamic Republic of Iran, Chapter 1, Article 1, Constitution of the Islamic Republic of Iran, https://en.wikisource.org/wiki/Constitution_of_the_Islamic_Republic_of_Iran
  10. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام a کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  11. ^ Khomeini's Tomb Attracts Pilgrims NEW YORK TIMES ,July 8, 1990
  12. ^ خطاب بہ نوجوانان اسلام، امام خمینیؒ فرانس جلا وطنی کے دوران انقلاب اسلامی ایران سے پہلے کیا گیا تاریخی خطاب
  13. ^ جنگ اخبار، 3ستمبر، 1984ء
  14. ^ عرفان صدىقى روزنامہ جنگ - كالم ىہ خرقہ پوش