روح اللہ خمینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(آیت اللہ خمینی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
روح اللہ خمینی
(فارسی میں: سید روح الله موسوی خمینیخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
روح‌اللّه خمینی.jpg 

مناصب
رہبر معظم ایران[1]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
3 دسمبر 1979  – 3 جون 1989 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد رضا شاہ پہلوی 
سید علی خامنہ ای  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 24 ستمبر 1902  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
خمین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 جون 1989 (87 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
تہران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پروسٹیٹ کینسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن حرم سید روح اللہ خمینی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت حزب جمہوری اسلامی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ خدیجہ ثقفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد مصطفیٰ خمینی،احمد خمینی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،شاعر،مذہبی رہنما،آخوند،الٰہیات دان،متصوف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان فارسی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Ruhollah Khomeini signature.png 
مقبرہ سید روح‌اللہ خمینی یہ ایک ثقافتی اور سیاحتی سینٹر بھی ہے جس کی تعمیر کے پہلے سال میں ملکی بجٹ سے دو ارب ڈالر مختص کئے گئے۔[4]

ایران کے مذہبی رہنما۔ بانی اسلامی جمہوریہ ایران ۔ آیت اللہ العظمٰی امام روح اللہ موسوی خمینی 24 ستمبر 1902ء کو خمین میں پیدا ہوئے جو تہران سے تین سو کلومیٹر دور ایران ، عراق ، اور اراک (ایران کا ایک شہر) میں دینی علوم کی تکمیل کی۔ 1953ء میں رضا شاہ کے حامی جرنیلوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر تودہ پارٹی کے ہزاروں ارکان کو تہ تیغ کر دیا تو ایرانی علماء نے درپردہ شاہ ایران کے خلاف مہم جاری رکھی، اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی سیاست کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے-آپ کا خاندان نے کشمیر سے ہجرت اور خاندان نسبت سید ہسید علی ہمدانی سے ملتا ہے

شاہ ایران کے قوانین[ترمیم]

28 اكتوبر 1964ء كا ذكر ہے شاہ كى حكومت نے اىک قانون كى منظورى دى جس كے تحت امرىكى فوجى مشن كے افراد كو سفارتكاروں كے ہم پلہ وہ حقوق دئیے گئے جو وىانا كنونشن كے تحت سفارتكاروں كو حاصل ہیں اس كے معنى یہ ہیں کہ امرىكى جو چاہیں کرتے رہیں ان پر اىرانى قانون لاگو نہ ہو گا – اگلے دن امام خمینى نے مدرسہ فىضىہ قم مىں وہ شہرہ آفاق تقرىركى جو اىک عظىم انقلاب كا دىباچہ بن گئى انہوں نے کہا:

مىرا دل درد سے پھٹا رہا ہے میں اس قدر دل گرفتہ ہوں کہ موت كے دن گن رہا ہوں اس شخص (اشارہ: رضاشاہ پہلوی) نے ہمیں بىچ ڈالا ہمارى عزت اور ایران كى عظمت خاک میں ملا ڈالی،اہل ایران كا درجہ امریكى كتے سے بهى كم كر دیا گیا ہے اگر شاہ ایران كى گاڑی كسى امریكى كتے سے ٹکرا جائے تو شاہ كو تفتىش كا سامنا ہو گا لىكن كوئى امریكى خانساما شاہ ایران یا اعلى ترىن عہدے داروں كو اپنى گاڑی تلے روند ڈالے تو ہم بے بس ہوں گے، آخر كیوں ؟ كیونكہ ان كو امریكى قرضے كى ضرورت ہے- اے نجف، قم،مشہد، تہران اور شیراز كے لوگو! میں تمہیں خبردار كرتا ہوں یہ غلامى مت قبول كرو كیا تم چپ رہو گے اور كچھ نہ کہو گے ؟ کیا ہمارا سودا كر دیا جائے اور ہم زبان نہ كهولىں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

گرفتاری و جلا وطنی[ترمیم]

اس تقرىر نے تخت شاہی کو ہلا كرركھ دىا پورا اىران ارتعاش محسوس كرنے لگا سات دن بعد امام خمینى كو گرفتار كركے تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سےجلا وطن كر دىا امام ایک سال ترکی میں رہے، اور 4 اکتوبر 1965ء میں نجف اشرف چلے گئے۔ عراق کی سرزمین بھی آپ کے لیے تنگ ہوگئی تو 6 اکتوبر 1978ء کو فرانس منتقل ہوگئے۔ اور پیرس کے قریب قصبہ نوفل لوش تو میں سکونت اختیار کی۔ جلاوطنی کے اس سارے عرصے میں شاہ ایران کے خلاف تحریک کی ’’ جس میں ملک کے تمام محب وطن عناصر شامل تھے‘‘ رہنمائی کرتے رہے۔ 17 جنوری 1979ء کو شاہ ایران ملک سے چلے گئے۔

وطن واپسی[ترمیم]

امام خمینى جب 1 فرورى 1979ء كو سولہ سالہ جلا وطنى كے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سے بہشت زہرا كے قبرستان تک لاكهوں اىرانىوں نے ان كا استقبال كىا بعض لوگوں نے یہ تعداد 1 كروڑ سے بهى زىادہ لكهى ہے یہ بهى عجىب دن تها شاہانہ جاہ و جلال ركهنے والا اىک حكمران امرىكہ كى بهرپور سرپرستى اىک بڑى سپاہ اور ساواک جىسى خونخوار اىجنسى كے باوجود اىک خرقہ پوش كے ہاتهوں شكست كها كر ملک سے فرار ہو چكا تها اس كى نامزد كردہ حكومت خزاں رسىدہ پتے كى طرح كانپ رہى تهى شاہ پور بختىار تمام تر كاغذى اختىارات كے باوجود ردى كے كاغذ كا اىک پرزہ بن چكا تها جو كسى لمحے کوڑا دان كا رزق بننے والا تها- شاہ نے قم كے حوزہ علمىہ فىضىہ كى آواز دبانے كے لئےكىا كىا جتن نہ کئے كون كون سے مظالم نہ توڑے لىكن امام خمینى كى آواز نہ دبائى جاسكى امرىكہ كى گود مىں بیٹها بادشاہ اہل اىران كى خودى اور ان كى زندگیوں سے كهىل رہا تهاامام خمینى كچھ وقت قم میں گزارنے کے بعد تہران آئے تو کہا میں عوام کے درمىان كسى سادہ سے گھر میں رہوں گا حجت الاسلام سىد مہدى نے بارگاہ حسىنىہ جماران سے متصل اپنا گھر پىش كىا امام خمینى نے کہا میں كرا‎ئے كےبغىر نہیں رہوں گا 80 ہزار اىرانى رىال ىعنى تقرىباً 650 روپے ماہانہ كراىہ مقرر ہوا جنورى 1980ء سے 3 جون 1989ء تک امام اسى كواٹر نما گھرمیں مقىم رہے یہ وہ دور تها جب اىران میں ان كى فرمانروائى تهى ان كے اشارہ ابرو كے بغىر ایک پتا بهى حركت نہ كرتا تها اىران كے انقلاب كى سارى صورت گرى اسى حجرے میں ہوئى۔آپکا انقلاب اسلامی اس بات کی واضح دلیل تھی کہ آپ کچھ کر گزرنے والے انسان تھے۔ جس چیز کا عزم فرماتے اسے پورا کرنے کے لیے رکاوٹوں کے ہونے باوجود بلا جھجھک اس میں کود پڑتے اور جان کی بازی لگانے سے کبھی نہ ڈرتے تھے انکے قول اور فعل میں تضاد بالکل نہ تھا یہاں تک فرانس والے وعدے کو عالم اسلام کے ہر فرد نے دیکھا جب اسے ہر سال حج کے موقع پر اخبارات کی شہ سرخیوں میں درج ڈیل باتیں ملاحظہ کرنی پڑیں:

  • 10,000 دس ہزار ایرانیوں کا خانہ کعبہ کے سامنے مظاہرہ۔
  • کئی ہزار ایرانی مردوں اور عورتوں نے مسجد نبوی کے سامنے امریکا مردہ باد کے نعرے لگائے۔
  • تین سو ایرانیوں کو حج کے موقع پر نعرہ بازی کے جرم میں سعودی عرب سے نکال دیا گیا۔
  • ایک لاکھ ایرانیوں نے خانہ کعبہ کے سامنے مظاہرہ کیا۔[5]

وفات[ترمیم]

کینسرکی وجہ سے ان کا انتقال 3 جون 1989ء میں ہوا۔ تہران کے قریب دفن ہوئے۔ [6] == سید علی ہمدانی سے خانرانی ==

مکتوبات خمینی[ترمیم]

  • شرح دعای سحر
  • شرح حدیث رأس الجالوت
  • حاشیہ امام بر شرح حدیث رأس الجالوت
  • التعلیقہ علی الفوائد الرضویہ
  • شرح حدیث جنود عقل و جہل
  • مصباح الہدایۃ الی الخلافۃ و الولایۃ
  • تعلیقات علی شرح فصوص الحکم و مصباح الانس
  • شرح چہل حدیث (اربعین حدیث)
  • سرالصلوۃ
  • آداب نماز (آداب الصلوۃ)
  • رسالہ لقاءاللہ
  • حاشیہ بر اسفار
  • کشف الاسرار
  • انوار الہدایہ فی التعلیقہ علی الکفایہ 2 جلد
  • بدایع الدرر فی قاعدہ نفی الضرر
  • الرسائل العشرہ
  • رسالہ الاستصحاب
  • رسالہ فی التعادل و التراجیح
  • رسالہ الاجتہاد و التقلید
  • مناہج الوصول الی علم الاصول 2 جلدی
  • رسالہ فی الطلب و الارادہ
  • رسالہ فی التقیہ
  • رسالہ فی قاعدہ من ملک
  • رسالۃ فی تعیین الفجر فی اللیالی المقمرہ
  • کتاب الطہارۃ - 4 جلد
  • تعلیقۃ علی العروۃ الوثقی
  • المکاسب المحرمہ 2 جلد
  • تعلیقہ علی وسیلۃ النجاۃ
  • رسالہ نجاۃ العباد
  • حاشیہ بر رسالہ ارث
  • تقریرات درس اصول آیۃ اللہ العظمی بروجردی
  • تحریر الوسیلہ 2 جلد
  • ترجمہ تحریر الوسیلہ 4 جلد
  • کتاب البیع - 5 جلد
  • حکومت اسلامی یا ولایت فقیہ
  • کتاب الخلل فی الصلوۃ
  • جہاد اکبر یا مبارزہ با نفس
  • رسالہ توضیح المسائل
  • مناسک حج «احکام مطابق با فتاوای حضرت امام خمینی»
  • تفسیر سورہ حمد
  • استفتائات 3 جلد
  • دیوان شعر
  • سبوی عشق
  • رہ عشق
  • بادہ عشق
  • نقطہ عطف
  • محرم راز
  • مقام رہبری در فقہ اسلامی با استفادہ از کتاب البیع
  • مسائل امر بہ معروف و نہی از منکر از تحریر الوسیلہ
  • مسئلہ قضاوت از کتاب تحریر الوسیلہ
  • جہاد نفس از کتاب اربعین حدیث
  • رابطہ نیت و اخلاص از کتاب اربعین حدیث
  • صحیفہ امام «مجموعہ آثار امام خمینی » 22 جلد
  • صحیفہ نور
  • وصیت نامہ
  • لمحات الاصول
  • کوثر 3 جلد
  • منشور روحانیت
  • وعدہ دیدار
  • فریاد برائت
  • آوای توحید

عکس[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

سیاسی دفاتر
پیشرو 
New title
Supreme Leader of Iran
1979–1989
جانشین 
آیت‌اللہ علی خامنہ‌ای

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ترتیب در سلسلہ: 1
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11907692p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11907692p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. Khomeini's Tomb Attracts PilgrimsNEW YORK TIMES ،جولائی 8, 1990
  5. جنگ اخبار، 3ستمبر، 1984ء
  6. عرفان صدىقى روزنامہ جنگ - كالم ىہ خرقہ پوش