عبدالرحمٰن الغافقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبدالرحمٰن الغافقی
Steuben - Bataille de Poitiers.png 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 7  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 7 اکتوبر 732[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
پوئتیے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت اندلس
Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
دیگر معلومات
پیشہ فوجی افسر،  سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ دربار شہداء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

عبد الرحمٰن الغافقی (انتقال: 732ء) بنو امیہ کے ایک جرنیل اور اندلس کے گورنر تھے جن کی زیر قیادت اموی افواج نے فرانس پر حملہ کیا اور 10 اکتوبر 732ء میں جنگ ٹورس میں شکست کھائی۔ اس شکست کے نتیجے میں مغربی یورپ میں اسلام کی پیش قدمی ہمیشہ کے لیے رک گئی۔

عبد الرحمٰن کا تعلق یمنی قبیلے غافق سے تھا جو پہلے افریقیہ (موجودہ تیونس) اور بعد ازاں المغرب (موجودہ مراکش) میں قیام پزیر ہوا۔

721ء میں جنگ ٹولوس میں السمح ابن ملک کی ہلاکت کے بعد عبد الرحمٰن نے مشرقی اندلس کی قیادت سنبھالی۔ تاہم عنبسہ بن سحیم الکلبی کی تقرری کے بعد وہ قیادت سے دسبردار ہو گئے۔ 726ء میں عنبسہ کی ہلاکت کے بعد متعدد کمانڈروں نے قیادت سنبھالی لیکن کسی کا دور طویل نہ رہا بالآخر 730ء میں خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے عبد الرحمٰن کو الاندلس کا گورنر/کمانڈر مقرر کیا۔

انہوں نے فرانس پر چڑھائی کا ارادہ کیا اور کوہ پائیرینیس عبور کرکے بورڈیکس پر قبضہ کر لیا لیکن ان کی فتوحات زیادہ عرصے تک برقرار نہ رہ سکیں اور 732ء میں ٹورس کے مقام پر ہونے والی جنگ میں انہیں چارلس مارٹیل کی زیر قیادت فرانسیسیوں سے شکست ہو گئی۔ اس جنگ میں عبد الرحمٰن بھی کام آئے۔

مسلم اور یورپی دونوں مورخین اس امر پر متفق ہیں کہ جنگ ٹورس (بلاط الشہداء) میں اموی لشکر کو شکست نہ ہوتی تو تمام مسیحی یورپ مسلمانوں کے زیر نگیں ہوتا اور تاریخ بالکل تبدیل ہو جاتی۔ اس شکست کے بعد مسلمانوں نے کبھی فرانسیسی علاقوں پر چڑھائی نہیں کی اور چارلس کی فتح تاریخ عالم کی فیصلہ کن ترین فتوحات میں شامل ہے جس نے مغربی یورپ کو اسلام کے بڑھتے ہوئے طوفان سے بچایا۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Dictionary of Spanish Biography ID: http://dbe.rah.es/biografias/16966/ibn-abd-allah-al-gafiqi-abd-al-rahman — بنام: Abd al-Rahman Ibn Abd Allah al-Gafiqi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ناشر: Real Academia de la Historia
  2. سی ای آر ایل - آئی ڈی: https://data.cerl.org/thesaurus/cnp02129120 — بنام: ar-Rahman Abd — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ناشر: Consortium of European Research Libraries — اجازت نامہ: Open Data Commons Attribution License اور Creative Commons Attribution 2.0 Generic
  3. برطانیکا