بہمنی سلطنت
بہمنی سلطنت | |||||||||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| 1347ء–1527ء | |||||||||||||||||
| حیثیت | سلطنت | ||||||||||||||||
| دار الحکومت | |||||||||||||||||
| سرکاری زبانیں | فارسی[3] | ||||||||||||||||
| عمومی زبانیں | کنڑ دکنی مراٹھی تلگو | ||||||||||||||||
| مذہب | سنی اسلام[4] شیعہ اسلام[4][5] صوفیت[6] | ||||||||||||||||
| حکومت | بادشاہت | ||||||||||||||||
| سلطان | |||||||||||||||||
• 1347–1358 | علاء الدین بہمن شاہ | ||||||||||||||||
• 1525ء–1527ء | کلیم اللہ شاہ بہمنی | ||||||||||||||||
| تاریخی دور | اواخر قرون وسطی | ||||||||||||||||
• Established | 3 اگست 1347ء | ||||||||||||||||
• Disestablished | 1527ء | ||||||||||||||||
| کرنسی | ٹکہ | ||||||||||||||||
| |||||||||||||||||
| موجودہ حصہ | بھارت | ||||||||||||||||
بہمنی سلطنت یا سلطنتِ بہمنیہ اواخر قرونِ وسطیٰ کی فارسی مسلم بادشاہت تھی جو برصغیر کے دکن کے علاقے پر حکمرانی کرتی تھی۔ دکن کی پہلی مستقل مسلم سلطنت سمجھا جانے والا یہ اقتدار 1347ء میں اس وقت قائم ہوا جب اسماعیل مُخ نے دہلی کے سلطان محمد بن تغلق کے خلاف بغاوت کی۔ بعد میں اسماعیل مخ نے دستبرداری اختیار کی اور اقتدار ظفر خاں کے سپرد کیا جنھوں نے بہمنی سلطنت کی بنیاد رکھی۔
بہمنی سلطنت اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہمیشہ جنگوں میں گھری رہی خصوصاً جنوب میں واقع اپنی حریف وجے نگر سلطنت کے ساتھ جو بہمنیوں کے بعد بھی قائم رہی۔ مدرسہ محمود گاواں کی تعمیر وزیر السلطنت خواجہ محمود گاواں نے کرائی جو 1466ء سے لے کر اپنی سزائے موت 1481ء تک سلطنت کے نگران اعلیٰ رہے۔ یہ واقعہ غیر ملکی (آفافی) اور مقامی (دکنی) امرا کے باہمی تنازع کے دوران پیش آیا۔ قلعہ بِیدر کا تعمیری کام احمد شاہ ولی بہمنی کے دور (1422ء تا 1436ء) میں ہوا اور انھوں نے دار السلطنت کو بیدر منتقل کیا۔ احمد شاہ نے وجے نگر، مالوہ اور گجرات کی سلطنتوں کے خلاف مہمات چلائیں اور 1423ء کی وجے نگر کے خلاف مہم میں دار الحکومت کا محاصرہ بھی شامل تھا، جس کے نتیجے میں بہمنی اقتدار میں وسعت آئی۔ بعد میں محمود گاواں نے بھی مالوہ، وجے نگر اور گجاپتی حکمرانوں کے خلاف مہمات چلائیں اور سلطنت کو اس کی سب سے زیادہ سرحدی وسعت تک پہنچایا۔
سلطنت کی کمزوری کا آغاز محمود شاہ بہمنی ثانی کے دور میں ہوا۔ داخلی انتشار اور پانچ صوبائی گورنروں (طرف داروں) کی بغاوت کے نتیجے میں بہمنی سلطنت ٹوٹ کر پانچ ریاستوں میں بٹ گئی جنھیں مجموعی طور پر دکن کی سلطنتیں کہا جاتا ہے۔ 1490ء میں یوسف عادل شاہ، ملک احمد نظام شاہ اور فتح اللہ عماد الملک کی بغاوتوں اور 1492ء میں قاسم برید اوّل کی سرکشی نے بہمنی اقتدار کو عملاً ختم کر دیا۔ آخر میں 1518ء میں گولکنڈہ کی آزادی کے ساتھ دکن پر بہمنیوں کی 180 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔ آخری چار بہمنی سلاطین دراصل برید سلطنت کے حکمران امیر برید اوّل کے زیرِ اثر کٹھ پتلی فرماں روا تھے اور سلطنت باقاعدہ طور پر 1527ء میں ختم ہو گئی۔
اصل
[ترمیم]معاصر مورخ عبد الملک عصامی لکھتے ہیں کہ بہمن شاہ کی پیدائش غزنی، افغانستان میں ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق وہ یا تو افغانی تھے یا ترک النسل۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق وہ خراسان کے ایک مہم جو تھے جو خود کو بہرام گور کی نسل سے بتاتے تھے۔ مورخ فرشتہ لکھتے ہیں کہ بعد کے کچھ شعرا (جو ان کی خوشامد کرنا چاہتے تھے) انھیں بہرام گور کی نسل سے قرار دیتے تھے مگر وہ اس نسبت کو نا قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔ ہندوستان کے نامور محقق آندرے وِنک کے مطابق بہمن شاہ افغانی تھے۔ فرشتہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بہمن شاہ کی گمنامی کی وجہ سے ان کی اصل تلاش کرنا مشکل ہے البتہ یہ واضح ہے کہ وہ پیدائشی طور پر افغان تھے۔
بہمنی سلطنت کے حکمران
[ترمیم]| نام | دور حکومت |
|---|---|
| دہلی سلطنت کے سلطان، محمد بن تغلق سے خود مختاری- | |
| علاء الدین حسن گنگو بہمن شاہ | 13 اگست1347ء تا 11 فروری 1358ء |
| محمد شاہ بہمنی اول | فروری 1358ء تا 21 اپریل 1375ء |
| علاء الدین مجاہد شاہ بہمنی | 21 اپریل 1375ء تا 16 اپریل 1378ء |
| داود شاہ بہمنی | 16 اپریل 1378ء تا 21 مئی 1378ء |
| محمود شاہ بہمنی اول | 12 مئی 1378ء تا 20 اپریل 1397ء |
| عیاث الدین شاہ بہمنی | 20 اپریل 1397ء تا 14 جون 1397ء |
| شمس الدین شاہ بہمنی لاچین خان ترک کے ماتحت ایک کٹھ پتلی |
14 جون 1397ء تا 16 نومبر 1397ء |
| تاج الدین فیروز شاہ بہمنی | 16 نومبر 1397ء تا 22 ستمبر 1422ء |
| شہاب الدین احمد شاہ ولی بہمنی | 22 ستمبر 1422ء تا 17 اپریل 1436ء |
| علاء الدین احمد شاہ بہمنی | 17 اپریل 1436ء تا 6 مئی 1458ء |
| علاء الدین ھمایوں شاہ ظالم بہمنی | 6 مئی 1458ء تا 4 ستمبر 1461ء |
| نظام الدین احمد، نظام شاہ بہمنی | 4 ستمبر 1461ء تا 30 جولائی 1463ء |
| محمد شاہ بہمنی دوم، محمد شاہ لشکری | 30 جولائی 1463ء تا 26 مارچ 1486ء |
| محمود شاہ بہمنی دوم، ویرا شاہ | 26 مارچ 1486ء تا 7 دسمبر 1518ء |
| احمد شاہ بہمنی دوم امیر برید اول کے ماتحت ایک کٹھ پتلی |
7 دسمبر 1518ء تا 15 دسمبر 1520ء |
| علاء الدین شاہ بہمنی دوم امیر برید اول کے ماتحت ایک کٹھ پتلی |
15 دسمبر 1520ء تا 5 مارچ 1523ء |
| ولی اللہ شاہ بہمنی امیر برید اول کے ماتحت ایک کٹھ پتلی |
5 مارچ 1523ء تا 1526ء |
| کلیم اللہ شاہ بہمنی امیر برید اول کے ماتحت ایک کٹھ پتلی |
1526ء تا 1538ء |
| پانچ چھوٹی سلطنتوں برید شاہی، عماد شاہی، نظام شاہی، عادل شاہی اور قطب شاہی میں بٹ گئی- | |
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Joseph E. Schwartzberg (1978). A Historical atlas of South Asia (بزبان انگریزی). Chicago: University of Chicago Press. p. 147. ISBN:0-226-74221-0.
- ↑ Satish Chandra (2014). History of Medieval India 800–1700 A.D (بزبان انگریزی). pp. 146–148.
- ↑ Ansari 1988, pp. 494–499
- ^ ا ب Umar Khalidi (1990). "The Shiʿites of the Deccan: An Introduction". Rivista degli studi orientali (بزبان انگریزی). 64, Fasc. 1/2, SGUARDI SULLA CULTURA A SCIITA NEL DECCAN GLANCES ON SHI'ITE DECCAN CULTURE: 5.
- ↑ John Morris Roberts, Odd Arne Westad (2013). The History of the World (بزبان انگریزی). Oxford University Press. ISBN:978-0-19-993676-2.
- ↑ Eaton 1978, p. 49
بیرونی روابط
[ترمیم]- Chronology of Deccan rulersآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ hostkingdom.net (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- Hameed Akhtar Siddiqui, "History of Bahmanis of Deccan, a Gulbarga Saltanate of India"آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ indiancoins.8m.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- Library of Congress – A Country Study: India
| ویکی ذخائر پر بہمنی سلطنت سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- بہمنی سلطنت
- ایشیا کی سابقہ فرماں روائیاں
- ایشیا کے سابقہ ممالک
- ایشیا میں 1347ء کی تاسیسات
- بھارت کی سابقہ ریاستیں اور علاقہ جات
- بہمنی حکمران
- تاریخ کرناٹک
- تاریخ ہندوستان
- تلنگانہ میں قلعے
- تلنگانہ
- جنوبی ایشیا کے سابقہ ممالک
- چودہویں صدی میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- دکن
- سابقہ سلطنت
- سلطنتیں
- شیعہ شاہی سلاسل
- ضلع بیدر
- کرناٹک
- ہندوستان کا اسلامی دور
- ہندوستان کی قدیم بادشاہتیں اور مملکتیں
- ہندوستان میں چودہویں صدی کی تاسیسات
- ہندوستان میں 1527ء کی تحلیلات
- 1347ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- 1527ء میں تحلیل ہونے والی ریاستیں اور عملداریاں
- 1527ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے