مندرجات کا رخ کریں

بہمنی سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بہمنی سلطنت
1347ء–1527ء
1473ء میں وزیر محمود گاواں کے تحت بہمنی سلطنت اپنے عروج پر[1][2]
1473ء میں وزیر محمود گاواں کے تحت بہمنی سلطنت اپنے عروج پر[1][2]
حیثیتسلطنت
دار الحکومت
سرکاری زبانیںفارسی[3]
عمومی زبانیںکنڑ
دکنی
مراٹھی
تلگو
مذہب
سنی اسلام[4]
شیعہ اسلام[4][5]
صوفیت[6]
حکومتبادشاہت
سلطان 
• 1347–1358
علاء الدین بہمن شاہ
• 1525ء–1527ء
کلیم اللہ شاہ بہمنی
تاریخی دوراواخر قرون وسطی
• Established
3 اگست 1347ء
• Disestablished
1527ء
کرنسیٹکہ
ماقبل
مابعد
سلطنت دہلی
سلطنت بیجاپور
سلطنت گولکنڈہ
سلطنت احمد نگر
سلطنت برار
سلطنت بیدر
موجودہ حصہبھارت

بہمنی سلطنت یا سلطنتِ بہمنیہ اواخر قرونِ وسطیٰ کی فارسی مسلم بادشاہت تھی جو برصغیر کے دکن کے علاقے پر حکمرانی کرتی تھی۔ دکن کی پہلی مستقل مسلم سلطنت سمجھا جانے والا یہ اقتدار 1347ء میں اس وقت قائم ہوا جب اسماعیل مُخ نے دہلی کے سلطان محمد بن تغلق کے خلاف بغاوت کی۔ بعد میں اسماعیل مخ نے دستبرداری اختیار کی اور اقتدار ظفر خاں کے سپرد کیا جنھوں نے بہمنی سلطنت کی بنیاد رکھی۔

بہمنی سلطنت اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہمیشہ جنگوں میں گھری رہی خصوصاً جنوب میں واقع اپنی حریف وجے نگر سلطنت کے ساتھ جو بہمنیوں کے بعد بھی قائم رہی۔ مدرسہ محمود گاواں کی تعمیر وزیر السلطنت خواجہ محمود گاواں نے کرائی جو 1466ء سے لے کر اپنی سزائے موت 1481ء تک سلطنت کے نگران اعلیٰ رہے۔ یہ واقعہ غیر ملکی (آفافی) اور مقامی (دکنی) امرا کے باہمی تنازع کے دوران پیش آیا۔ قلعہ بِیدر کا تعمیری کام احمد شاہ ولی بہمنی کے دور (1422ء تا 1436ء) میں ہوا اور انھوں نے دار السلطنت کو بیدر منتقل کیا۔ احمد شاہ نے وجے نگر، مالوہ اور گجرات کی سلطنتوں کے خلاف مہمات چلائیں اور 1423ء کی وجے نگر کے خلاف مہم میں دار الحکومت کا محاصرہ بھی شامل تھا، جس کے نتیجے میں بہمنی اقتدار میں وسعت آئی۔ بعد میں محمود گاواں نے بھی مالوہ، وجے نگر اور گجاپتی حکمرانوں کے خلاف مہمات چلائیں اور سلطنت کو اس کی سب سے زیادہ سرحدی وسعت تک پہنچایا۔

سلطنت کی کمزوری کا آغاز محمود شاہ بہمنی ثانی کے دور میں ہوا۔ داخلی انتشار اور پانچ صوبائی گورنروں (طرف داروں) کی بغاوت کے نتیجے میں بہمنی سلطنت ٹوٹ کر پانچ ریاستوں میں بٹ گئی جنھیں مجموعی طور پر دکن کی سلطنتیں کہا جاتا ہے۔ 1490ء میں یوسف عادل شاہ، ملک احمد نظام شاہ اور فتح اللہ عماد الملک کی بغاوتوں اور 1492ء میں قاسم برید اوّل کی سرکشی نے بہمنی اقتدار کو عملاً ختم کر دیا۔ آخر میں 1518ء میں گولکنڈہ کی آزادی کے ساتھ دکن پر بہمنیوں کی 180 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔ آخری چار بہمنی سلاطین دراصل برید سلطنت کے حکمران امیر برید اوّل کے زیرِ اثر کٹھ پتلی فرماں روا تھے اور سلطنت باقاعدہ طور پر 1527ء میں ختم ہو گئی۔

اصل

[ترمیم]

معاصر مورخ عبد الملک عصامی لکھتے ہیں کہ بہمن شاہ کی پیدائش غزنی، افغانستان میں ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق وہ یا تو افغانی تھے یا ترک النسل۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق وہ خراسان کے ایک مہم جو تھے جو خود کو بہرام گور کی نسل سے بتاتے تھے۔ مورخ فرشتہ لکھتے ہیں کہ بعد کے کچھ شعرا (جو ان کی خوشامد کرنا چاہتے تھے) انھیں بہرام گور کی نسل سے قرار دیتے تھے مگر وہ اس نسبت کو نا قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔ ہندوستان کے نامور محقق آندرے وِنک کے مطابق بہمن شاہ افغانی تھے۔ فرشتہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بہمن شاہ کی گمنامی کی وجہ سے ان کی اصل تلاش کرنا مشکل ہے البتہ یہ واضح ہے کہ وہ پیدائشی طور پر افغان تھے۔

بہمنی سلطنت کے حکمران

[ترمیم]
نام دور حکومت
دہلی سلطنت کے سلطان، محمد بن تغلق سے خود مختاری-
علاء الدین حسن گنگو بہمن شاہ 13 اگست1347ء تا 11 فروری 1358ء
محمد شاہ بہمنی اول فروری 1358ء تا 21 اپریل 1375ء
علاء الدین مجاہد شاہ بہمنی 21 اپریل 1375ء تا 16 اپریل 1378ء
داود شاہ بہمنی 16 اپریل 1378ء تا 21 مئی 1378ء
محمود شاہ بہمنی اول 12 مئی 1378ء تا 20 اپریل 1397ء
عیاث الدین شاہ بہمنی 20 اپریل 1397ء تا 14 جون 1397ء
شمس الدین شاہ بہمنی
لاچین خان ترک کے ماتحت ایک کٹھ پتلی
14 جون 1397ء تا 16 نومبر 1397ء
تاج الدین فیروز شاہ بہمنی 16 نومبر 1397ء تا 22 ستمبر 1422ء
شہاب الدین احمد شاہ ولی بہمنی 22 ستمبر 1422ء تا 17 اپریل 1436ء
علاء الدین احمد شاہ بہمنی 17 اپریل 1436ء تا 6 مئی 1458ء
علاء الدین ھمایوں شاہ ظالم بہمنی 6 مئی 1458ء تا 4 ستمبر 1461ء
نظام الدین احمد، نظام شاہ بہمنی 4 ستمبر 1461ء تا 30 جولائی 1463ء
محمد شاہ بہمنی دوم، محمد شاہ لشکری 30 جولائی 1463ء تا 26 مارچ 1486ء
محمود شاہ بہمنی دوم، ویرا شاہ 26 مارچ 1486ء تا 7 دسمبر 1518ء
احمد شاہ بہمنی دوم
امیر برید اول کے ماتحت ایک کٹھ پتلی
7 دسمبر 1518ء تا 15 دسمبر 1520ء
علاء الدین شاہ بہمنی دوم
امیر برید اول کے ماتحت ایک کٹھ پتلی
15 دسمبر 1520ء تا 5 مارچ 1523ء
ولی اللہ شاہ بہمنی
امیر برید اول کے ماتحت ایک کٹھ پتلی
5 مارچ 1523ء تا 1526ء
کلیم اللہ شاہ بہمنی
امیر برید اول کے ماتحت ایک کٹھ پتلی
1526ء تا 1538ء
پانچ چھوٹی سلطنتوں برید شاہی، عماد شاہی، نظام شاہی، عادل شاہی اور قطب شاہی میں بٹ گئی-

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Joseph E. Schwartzberg (1978). A Historical atlas of South Asia (بزبان انگریزی). Chicago: University of Chicago Press. p. 147. ISBN:0-226-74221-0.
  2. Satish Chandra (2014). History of Medieval India 800–1700 A.D (بزبان انگریزی). pp. 146–148.
  3. Ansari 1988, pp. 494–499
  4. ^ ا ب Umar Khalidi (1990). "The Shiʿites of the Deccan: An Introduction". Rivista degli studi orientali (بزبان انگریزی). 64, Fasc. 1/2, SGUARDI SULLA CULTURA A SCIITA NEL DECCAN GLANCES ON SHI'ITE DECCAN CULTURE: 5.
  5. John Morris Roberts, Odd Arne Westad (2013). The History of the World (بزبان انگریزی). Oxford University Press. ISBN:978-0-19-993676-2.
  6. Eaton 1978, p. 49

بیرونی روابط

[ترمیم]