مجروح سلطانپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مختصر تعارف[ترمیم]

  • نام : اسرارالحسن خان
  • قلمی نام : مجروح سلطانپوری
  • پیدائش : یکم اکتوبر 1919 (ضلع سلطانپور، اترپردیش)
  • وفات : 24 مئی 2000 (عمر 80 سال)

________________________________

مجروح سلطانپوری کا اصل نام اسرارالحسن خان تھا۔ وہ یکم اکتوبر 1919 کو اترپردیش کے ضلع سلطانپور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ایک سب انسپکٹر تھے۔

تعلیم[ترمیم]

مجروح نے صرف ساتویں جماعت تک اسکول میں پڑھاتھا۔ اس کے بعد انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی جس کے ساتھ ہی انہوں نے سات سال کا کورس پورا کیا تھا۔ درس نظامی کا کورس مکمل کرنے کے بعد عالم قرار پائے تھے۔ اس کے بعد لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طریقہ علاج میں تعلیم حاصل کی اورحکیم بن گئے۔

دنیائے حکمت سے میدان شعرگوئ میں قدم[ترمیم]

ایک موقع پر سلطان پور میں مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر مجروح نے غزل پڑھی جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ یہیں سے حکمت پس منظر میں چلی گئی اور شاعری میدان عمل میں رہنما بن گئی تھی۔ جگر مرادآبادی بھی مجروح کے مصاحبوں میں سے ایک تھے۔

مشاعروں سے فلمی دنیا کا رُخ[ترمیم]

1945ء میں مجروح ایک مشاعرے میں شرکت کی غرض سے ممبی آئے تھے۔ مشاعرہ گاہ میں انہیں خوب سراہا گیا تھا۔ مداح شرکا میں پروڈیوسر اے۔ آر۔ کاردار بھی تھے۔ انہوں نے مجروح کو نوشاد سے ملایا۔ نوشاد نے مجروح کو ایک دھن سنائی اور اس پر ایک نغمہ لکھنے کو کہا۔ مجروح نے اس دھن پر یوں لکھا:

جب اس نے گیسو بکھرائے

نوشاد کو یہ گیت پسند آیا اور انہوں نے مجروح کے ساتھ فلم شاہ جہاں کے گیت لکھنے کا معاہدہ کیا۔ اس فلم کے گیت بے حد مقبول ہوئے۔

مجروح نے پچاس سال فلمی دنیا سے جُڑے رہے۔ انھوں نے300 سے بھی زائد فلموں میں ہزاروں گیت لکھے جو بے حد مقبول ہوئے تھے۔

انتقال[ترمیم]

مجروح کا 24 مئی 2000 کوانتقال ہو گیا تھا۔[1]

نمونۂ کلام[ترمیم]

  • مجھے سہل ہو گئیں منزلیں

مجھے سہل ہو گئیں منزلیں، وہ ہوا کے رُخ بھی بدل گئے ترا ہاتھ، ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے

وہ لجائے میرے سوال پر کہ اُٹھا سکے نہ جھکا کے سر اُڑی زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے

وہی بات جو وہ نہ کر سکے میرے شعر و نغمہ میں آ گئی وہی لب نہ میں جنہیں چھو سکا قدحِ شراب میں ڈھل گئے

اُنہیں کب کے راس بھی آ چکے تیری بزمِ ناز کے حادثے اب اُٹھ کے تیری نظر پھرے جو گِرے تھے گِر کے سنبھل گئے

میرے کام آ گئیں آخرش یہی کاوشیں یہی گردشیں بڑھیں اس قدر میری منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے ​

➖➖➖➖➖➖➖

*چلتے چلتے، یونہی کوئی مل گیا تھا

چلتے چلتے، یونہی کوئی مل گیا تھا سرِ راہ چلتے چلتے وہیں تھم کے رہ گئی ہے میری رات ڈھلتے ڈھلتے یونہی کوئی مل گیا تھا ۔۔۔

جو کہی گئی نہ مجھ سے وہ زمانہ کہہ رہا ہے کہ فسانہ بن گئی ہے میری بات چلتے چلتے یونہی کوئی مل گیا تھا ۔۔۔

شبِ انتظار آخر کبھی ہوگی مختصر بھی یہ چراغ بجھ رہے ہیں میرے ساتھ جلتے جلتے یونہی کوئی مل گیا تھا ۔۔۔ سرِ راہ چلتے چلتے ۔۔۔​

حوالہ جات[ترمیم]