احمد سہیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Picture of Ahmad Sohail

اردو کے شاعر، ادبی اور ثقافتی نقاد، ادبی ،محقّق اور عمرانیات نظریہ دان، مقالہ نگار، مترجم، ماہر عمرانیات اور  ماہر جرمیات، احمد سہیل کا اصل نام سہیل احمد  خان ہے۔ " ۔۔۔۔۔ ان کی پیدائش 2 جولائی 1953، کو کراچی، پاکستان میں ہوئی۔

تعلیم[ترمیم]

بی اے (امتیازی) ایم اے عمرانیات جامعہ کراچی پی ایچ ڈی {تقابلی ادب} سین اینٹونیو ٹرینیٹی کالج ٹیکساس۔ امریکا

مکتب فکر[ترمیم]

کوئی نہیں۔ ادبی، عمرانیاتی، ثقافتی بشریاتی نظریات کا آزدانہ مطالعہ کسی ادبی رجحان یا تحریک سے منسلک نہیں ہیں۔

خصوصی دلچسپی[ترمیم]

تمام ادبی تنقیدی نظریات، امریکی نیگرو شاعری اور لاطینی ادب کے تراجم، ادبی عمرانیات ،نئے مرکوز تخلیقی اور فکری تصورات و نظریات: پس رد تشکیل، ایبانک تنقید سابقہ نو آبادیاتی نیوکلیائی مخاطبہ، نئی نئی ساختیات، نو آبادیات، پس بالائی ساختیات۔

’’احمد سہیل کا انتقادی نظریہ اُردو کے دیگر ناقدین سے مختلف اور منفرد ہے وہ تنقید نگاری میں مناجیاتی تکنیک ضروری تصور کرتے ہیں۔ ان کی تنقید کا سفر جز سے کل اور کل سے جز کی سمتوں میں سفر کرتا ہے اور ایک امتزاجی نکتے پر تخلیقی تنقید خلق کرتا ہے۔ احمد سہیل نے امریکا میں اپنے عہد کے مشہور ماہر عمرانیات کے نظریہ دانوں اور ناقدین کی زیر نگرانی ’’نظریات‘‘ کا مطالعہ کیا۔ ان کی ادبی و نظریاتی تنقید میں عملیات اور نئی عقل پسندی کے محفوص فکری نظامیانے کا عمل دخل نظر آتا ہے۔ ان کی تنقید میں تجربی، تجزیاتی، تقابلی اور عملی تنقید کے نمونے نظر آتے ہیں۔ جس میں عمرانیاتی اور بشریاتی آگہی کی جہات حاوی ہے۔ ان کی مناجیاتی رسائی تنقید کی نئی فکری استدلالیت کو دریافت کرتی ہے۔ احمد سہیل پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، آسٹریلیا، کنیڈا، اسپین، امریکا کے ادبی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ کئی بین الاقوامی کانفرنسوں اور سمیناروں میں بھی شرکت کی ہے۔ ان کی شاعری کا سلسلہ شاہ نصیر، آتش دہلوی، داغ دہلوی، سیماب اکبر آبادی اور صبا متھراوی سے ہوتا ہوا ان تک آیا ہے۔

احمد سہیل کی شاعری اپنی جدید تر شعری حسیّات  اور اداسی میں لتھٹری ہوئی یاسیت اوررجائی رموزیات سے بھری  ہوئی ہے۔   جس میں تجربات، مشاہدات، تشکیک، استخراق، تمثالیت شعرانہ کلام میں نثری معنویت اور منفرد شعریات بھی خلق ہوتی ہے۔   ان کا شاعرانہ تجربہ نقطہ زمان سے تجربے اور جذبات کا وفور بہت حساس اور نازک ہے۔   ان کا شعری فہم  تخیّل کا "عنصر فائق" ہے۔   اس میں  علت ومعمول اور ذات کی واردات ان کی تخلیقیت  کے حاوی فکری اور جمالیاتی  مرکبات ہیں۔   احمد سہیل کے شعری وجدان کی کیفیت معاشرتی مزاحمت، تاریخ کی مشکوکیت، تہذیب اور ثقافتی بحران سے بے چینی کی کیفیت کی  تاثر پذیری بھی ہے۔   احمد ہمیش نے لکھا ہے ۔۔۔ " احمد سہیل کی نثری نظمیں اپنی موضوعی توسیع میں معروضی اسباب کی الٹی ہوئی بساط ظاہر کرتی ہیں۔ یہ بیک وقت ایک استہرئیہ بھی ہے ۔۔۔۔ " (" تشکیل"، کراچی، صفحہ 181،  جنوری 93 تا جون 94)

احمد سہیل کی ایک نظم کا اقتباس ملاخطہ کریں :

" یادداشتیں تاریخ کا گمان ہیں

   جو وہم کی صورت میں لکھی جاتی ہیں

    اپنی محرومی کا گیان ازلی خاموشی ہے

    جلاوطنی کی مفتوح سوچیں

     ایک آدمی خوابوں میں روپوش ہے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ میں تمہیں  حفظ نہ  کرسکا

     علم الکلام میں اس کی تفسیر موجود نہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔{" زمین کا داروغہ" }

احمد سہیل نے غزلیں بھی لکھی ہیں :

 ان کے چند  غزلیہ اشعار پیش کیے جاتے ہیں :

1۔ چاند کو روک دیا  میں نے ہواوں میں سہیل

   تم مجھے روک بھی کو جادو یہ دکھاو تم بھی

2۔ گر گئی تاریخ میرے ہاتھوں سے احمد سہیل

   اک نئے انسان کا خاکہ سا زیر غور ہے

3۔ میری مٹھی میں چھپا ہے میرا ایک وقت غروب

    زندگی  تاک میں بیٹھی ہے کہ مجھے دار تو ہے

ان کے اب تک کوئی سات سو مقالات مختلف جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔

دیگر دلچسپیاں[ترمیم]

ریڈیو ڈرامے، فلم اور اسٹیج پر مضامین، بچوں کی کہانیاں اور نظمیں

مشاغل[ترمیم]

باسکٹ بال، ٹیبل ٹینس، کرکٹ، باکسنگ، باغبانی، نظارہ طیور، شکار، ماہی گیری، سیاحت، کلاسیکل موسیقی۔

تصانیف[ترمیم]

  • جدید تھیٹر، 1985، ثقافت پاکستان، اسلام آباد[1][2]
  • ساختیات، 1999ء تاریخ نظریہ اور تنقید، نئی دہلی بھارت[3]
  • تنقیدی تحریریں، 2004ء، ممبئی، بھارت

تنقیدی مخاطبہ، 2017ء، ممبئی بھارت

تنقیدی تحریریں[ترمیم]

زیر نظر تصنیف بھی ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جس میں انھوں نے منطقی اشاریت و جدید شعری ابہام ، اردو کی کلاسیکی شاعری میں مغائرت، چھٹی دہائی کے بعد اردو غزل، اردو افسانے کا ناسٹیلجیا، اردو افسانے کی مناجیاتی ساخت اور مقولے کا مسٗلہ، امداد امام اثر کا تنقیدی نظریہ، بجنوری محاسنِ کلام غالب اور اس کے نقاد، خارجی اور باطنی آگہی سے دوچار شاعر، ن، م، راشد، میرا جی اور ترجمے کی تجرید جیسے نظریات اور نقد ونظر پر فکر انگیز گفتگو کی ہے۔

ادبی جریدوں کا مطالعہ کرنے والے، سائبر سپیس اور سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے قارئین اور بیشتر ادیب و شاعرو تنقید نگار انھیں اس بات پر بہت بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اکثر اپنی بات کہنے کے لیے اصول ریاضی کے مروج طریق کار کو استعمال کرتے ہوئے باقاعدہ گراف بنا کر قارئین تک اپنی بات پہنچا دیتے ہیں۔

[4]

حوالہ جات[ترمیم]

http://ahmedsohail.writernetwork.com/index.htmlhttp://ahmedsohail.writernetwork.com/index.html http://www.punjnud.com/ArticleList.aspx? https://www.facebook.com/احمد-سہیل-34718317207