غلام ربانی تابان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غلام ربانی تابان کی پیدائش پتوڑہ، فرخ آباد، اترپردیش میں 1914 میں ہوئ تھی ۔

تعلیم[ترمیم]

تابان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انٹرمیڈیٹ کیا۔ بی اے سینٹ جانس کالج، آگرہ سے کیا اور ایل ایل بی آگرہ کالج، آگرہ سے کیا۔

پیشہ وکالت سے اہل قلم کی دنیا تک کا سفر[ترمیم]

قانونی پیشے میں تابان نام بنانے میں ناکام رہنے پر انہوں نے شاعری اور سیاست پر توجہ مرکوزکی۔ انہوں نے مزاحیہ شعرگوئ لکھ کر اپنی شاعری کا آغاز کیا اور 1941 میں سنجیدہ شاعری کا سہارا لیا اور جلد ہی وہ ترقی پسند مصنفین کے ایک سرگرم رکن بن گئے۔

دنیائے ادب کے کارناموں کی مختصر روداد[ترمیم]

1957 سے تابان مکتبہ جامعہ، دہلی میں شمولیت اختیار کی اور 1970. تک اس کے مینیجر کے طور پر کام کیا۔ اور وہ اپنی زندگی کے باقی ایام دہلی میں ٹھہرے رہے۔ تابان ایک وسیع پیمانے پر سفر کرچکے شاعر تھے۔ وہ بھی پدما شری سمیت کئی ایوارڈ کے وصول کنندہ بنے۔ ان کی شعری مجموعوں میں "ساز لرزاں" (1950)، "حدیث دل" (1960)، "ذوق سفر" (1970)، "نوائے آوارہ" اور "غبار منزل" شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اردو میں انگریزی سے کئی کتابوں کا ترجمہ بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اس طرح قلی قطب شاہ، ولی دکنی، میر اور درد کے طور پر کئی کلاسیکی شعرا کے کلام کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے 1951 میں غم دوران (محب وطن نظموں کا مجموعہ) شائع کیا اور 1953میں شکست زنداں (آزادی ہند کی جدوجہد اور دیگر ایشیائی ملکوں کے بارے میں نظموں کا انتخاب) کو چھپوایا تھا۔

انتقال[ترمیم]

دہلی میں 1993 میں تابان کا انتقال ہو گیا تھا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]