غلام ربانی تاباں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(غلام ربانی تابان سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
غلام ربانی تاباں
معلومات شخصیت
پیدائش 15 فروری 1914
قائم گنج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 1992
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ اردو شاعر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
پرم شری
ساہتیہ اکیڈمی اعزاز

غلام ربانی تاباں (انگریزی: Gulam Rabbani Taban) بھارت کے ایک وکیل اور اردو زبان کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ ان کا تخلص تاباں تھا۔ [1] انہوں نے اردو شاعری کے کئی اصناف پر قلم اٹھایا مگر غزل میں انہوں نے نمایاں مقام حاصل کیا۔[2] ان کے عظیم کاموں میں ذوق سفر[3] نوائے آوارہ[4]،پوئےٹکس ٹو پالیٹکس اور سزائے لرزاں[5] شامل ہیں۔ نوائے آوارہ کے لیے انہیں 1979ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز کے انعام سے نوازا گیا۔ حکومت ہند نے انہیں 1971ء میں ملک کے چوتھے بڑے اعزاز پدم شری اعزاز سے نوازا۔[6]

حالات زندگی[ترمیم]

تاباں کی ولادت 15 فروری 1914ء کو بھارت کی ریاست اترپردیش کے ضلع فرخ آباد کے شہر قائم گنج میں ہوئی۔ وہ صاحبِ ثروت زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔[1] علاقائی اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ چلے گئے۔ انہوں نے کالج کے وقت ہی سے شعرگوئی کی ابتدا کر دی تھی۔ شروع میں فرچت تخلص کرتے تھے مگر بعد میں تاباں تخلص کرنے لگے۔ وہ سیاسی مزاج کے تھے اور لیفٹ کی حمایت کرتے تھے جس کی وجہ سے ماقبل آزادی انگریزوں اور مابعد آزادی حکومت ہند کی طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بہر حال انہوں نے دہلی میں موجود مکتبہ جامعہ سے تعلقات استوار کیے اور سنجیدگی سے قلم کو تھام لیا۔[7]

وہ ایک طویل عرصہ تک مکتبہ جامعہ کے جنرل منیجر رہے اور یہیں سے 1975ء میں مستعفی ہوئے۔[1] ریٹائر ہونے کے بعد بھی وہ لکھتے رہے اور صحافت سے بھی جڑے رہے۔ حکومت ہند نے انہیں 1971ء میں پدم شری اعزاز دیا۔[6] 1979ء میں نوائے آوارہ کے لیے انہیں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز کے انعام سے نوازا گیا۔[8]

ذاتی زندگی[ترمیم]

غلام ربانی تاباں کو تین بیٹیاں ہوئیں۔ عزرہ وضوی[9] ان میں مصنفہ گزری ہیں۔ تینوں بہنیں لکھتی تھیں۔ دیگر دو بیٹیاْن اجمل اجمالی اور صغری مہدی ہیں جنہوں نے تاباں کی سوانح حیات لکھی ہے جسے ماہنامہ کتاب نما، نئی دہلی نے 1993ء میں شائع کیا تھا۔ کتاب کا عنوان غلام ربانی تاباں- شخصیت اور ادبی خدمت تھا۔[10]

وفات[ترمیم]

غلام ربانی تاباں کی وفات 1992ء میں ہوئی۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "A song to Delhi's unsung poet.۔."۔ The Hindu۔ 30 ستمبر 2002۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2015۔
  2. "Ghazals of Taban Ghulam Rabbani"۔ Rekhta۔ 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2015۔
  3. Ghulam Rabbani Taban۔ Zauq-i safar۔ Hab,bah Taban۔ صفحہ 192۔ اے ایس آئی این B0000CRMIC۔
  4. Ghulam Rabbani Taban۔ Nava-e-avara۔ Rajapala enda Sanza۔ صفحہ 79۔ اے ایس آئی این B0000CR9TR۔
  5. Ghulam Rabbani Taban۔ Saz-i larzan۔ Indian Literary Society۔ صفحہ 140۔ اے ایس آئی این B0000CRPAQ۔
  6. ^ ا ب "Padma Shri" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Padma Shri۔ 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 نومبر 2014۔
  7. "Maktaba-e-Jamia"۔ Open Library۔ 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2015۔
  8. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Sahitya Akademi Award winners نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  9. ^ ا ب "Ghulam Rabbani Taban"۔ Urdu Youth Forum۔ 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2015۔
  10. Ajaml Ajmali, Sughra Mehdi and Azra Rizvi۔ Ghulam Rabbani Taban: shakhsiyat aur adabi khidmat۔ Mahnamah Kitab Numa۔ صفحہ 160۔