سہرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اردو شاعری میں وہ نظم جو شادی کے موقع پر نکاح کے بعد رشتہ داروں اور دولھا دلہن کو مبارک باد اور دعائیں دینے کے لیے لکھی جائے۔ عموماً اسے بعد نکاح پڑھا جاتا ہے۔ اس میں دولہا کی آنے والی زندگی کے لیے، اچھی امیدوں کا اظہار کیا جاتا ہے اور دولہا کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔ سہرا کی ایک قسم نعتیہ ہے حس میں معراج النبی کا ذکر کیا جاتا ہے۔

لغوی معنی[ترمیم]

موتیوں یا پھولوں کی لڑیاں، مقیش یا چاندی سونے کے تاروں کے ساتھ جو بیاہ کے وقت دُلھا دلہن کے سر پر باندھ کر مُنہ کی طرف چھوڑ دیتے ہیں جن سے چہرہ ڈھک جاتا ہے۔ قبر یا تعزیہ پر چڑھانے کا پھولوں کا ہار جو کسی چیز پر گولائی میں چپکا دیا جاتا ہے۔

صنف شاعری[ترمیم]

وہ نظم جو شادی بیاہ کے موقع پر شعرا، دولھا اور اس کے اعزہ کو خوش کرنے کے لیے لکھتے ہیں اور اس میں سہرے کی تعریف اور دولھا کے چہرے پر اس کی سجاوٹ کی شاعرانہ تمثیلیں اور تشبیہیں ہوتی ہیں۔ "سہرا ایک طرح کی فرمائشی نظم ہوتی ہے۔"، [1]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ( 1983ء، اصنافِ سخن اور شعری ہیئتیں، 197 )