ماجد صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ماجد صدیقی
ماجد صدیقی ۔ ۲.jpeg
ماجد صدیقی
پیدائش June 1, 1938
نورپور، ضلع چکوال، پنجاب، پاکستان
وفات March 19, 2015
راولپنڈی، پاکستان
پیشہ تدریس
قومیت پاکستانی
دور 1962–2015
اصناف اردو، پنجابی اور انگریزی زبانوں میں مختلف اصناف
ویب سائٹ
www.majidsiddiqui.com

ماجد صدیقی (پیدائش: جون 1، 1938ء – وفات: مارچ 19، 2015ء) قلمی نام ماجد صدّیقی اور پیدائشی نام عاشق حسین سیال۔ اردو ۔ پنجابی اور انگریزی کے ممتاز شاعر جن کا شمار منفرد لب و لہجے کے جدیدیت پسند اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ان کی شناخت بطور مترجم بھی ہے۔ صحافت سے بھی وابستگی رہی۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

وہ یکم جون 1938ء کو ضلع چکوال کے گاؤں نور پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد خان سیال اور والدہ کا نام اللہ رکھی تھا جو خود بھی شاعرہ تھیں۔ ابتدائی تعلیم علاقائی سکولوں میں پائی اور انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ کالج چکوال سے کیا۔ ماجد صدّیقی نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پہلے بی اے اور پھر ایم اے اردو کی ڈگری 1962ء میں حاصل کی۔ ضلع چکوال کے دیہی علاقوں ڈھڈیال، دھرابی اور کریالہ میں تدریسی فرائض ادا کرنے کے بعد اکتوبر 1964ء میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں بطور لیکچرار ان کا تقرر ہو گیا۔ ستمبر 1966ء میں ان کا تبادلہ اٹک کالج (اس وقت کیمبل پور کالج) میں اور دو سال کے بعد تلہ گنگ میں ہو گیا۔ ستمبر 1973ء میں ان کی تقرری اصغر مال کالج راولپنڈی میں ہوئی جہاں وہ بائیس سال تک شعبۂِ اردو میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے اور 1995ء میں ریٹائر ہوئے۔[1]

شعری رجحان[ترمیم]

ماجد صدیقی ایک زود گو شاعر تھے انہوں نے اردو، پنجابی اور انگریزی میں نظم، غزل اور نثر کے 49 مجموعے شائع کیے۔ علاوہ ازیں ان کے 13 مجموعے شائع ہوئے جن میں انہوں نے دوسرے شعرا کا کلام اردو، پنجابی اور انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ماجد صدیقی کی شاعری کو کسی خاص ادبی تحریک سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ وہ ترقی پسندانہ رجحانات رکھتے تھے مگر وہ اپنی طرز کے تخلیق کار رہے، ان کا ادبی حلقوں میں آنا جانا نہیں تھا اور ان کا حلقۂِ احباب تقریباً تمام عمر بہت محدود رہا۔ ان کے قریبی دوستوں میں ساجد علوی، اختر امام رضوی، عابد جعفری، خاقان خاور، آفتاب اقبال شمیم، سید عارف اور جمیل آذر شامل تھے، اپنے دوستوں میں وہ خاقان خاور اور اختر امام رضوی کو بہت عزیز گردانتے تھے۔ ان کی شاعری حقیقت سے قریب تر رہی اور انہوں نے اپنے آپ کو اردو ادب کے روایتی موضوعات اور طرزِ اظہار سے شعوری طور پر دور رکھا۔

1978ء میں انہوں نے پنجابی میں نثری نظموں کا ایک مجموعہ ’’گُنگے دیاں رمزاں‘‘ کے نام سے شائع کیا جو پنجابی میں نثری نظم کا سب سے پہلا مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 80 کی دہائی میں اردو زبان میں پنجابی کی طرز پر بولیوں کی صنف بھی متعارف کروائی

نمونہِ کلام[ترمیم]

خس و خاشاک بھی کب کے ہیں بھنور سے نکلے

اک ہمیں ہیں یا نہیں نرغۂ شر سے نکلے

زخم وہ کھل بھی تو سکتا ہے سلایا ہے جسے

ہم بھلا کب ہیں حد خوف و خطر سے نکلے

یہ سفر اپنا کہیں جانب محشر ہی نہ ہو

ہم لیے کس کا جنازہ ہیں یہ گھر سے نکلے

کل جو ٹپکے تھے سر کوچۂ کوتہ نظراں

اشک اب کے بھی وہی دیدۂ تر سے نکلے

اعزازات[ترمیم]

پاکستان رائٹرز گلڈ نے پنجابی شاعری کی کتاب ’’میں کنّے پانی وچ آں‘‘ پر بہترین کتاب کا ایوارڈ دیا۔ اس کے علاوہ ان کو نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن، پاکستان کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔

وفات[ترمیم]

لاٸف ٹاٸم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب سے چار دن پہلے وہ بعمر 77 سال ۔ 19 مارچ 2015ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔[2] انہیں بعد از نماز جمعہ ریس کورس قبرستان۔ راوپنڈی میں سپرد خاک کیا گیا

تحقیقی مقالات[ترمیم]

این یو ایم ایل (نمل) یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبہ زوبیہ خان نے ایم اے اردو کے لیے ان کے دو مجموعوں ’’آغاز ‘‘ اور ’’آنگن آنگن رات ‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھا، جب کہ شازیہ خان نے علامہ اقبال یونیورسٹی میں ان کی غزل پر ایم فل کے پروگرام کے تحت مقالہ لکھا۔ مسعود عباسی تیسرے طالبِ علم ہیں جنہوں نے بہاولپور یونیورسٹی سے ایم فل کرتے ہوئے ان کی اردو نظم پر مقالہ تحریر کیا۔ اس کے علاوہ لاہور کالج برائے خواتین سے ہادیہ اسلم نے ان کی پنجابی شاعری پر ماجد صدیقی دی پنجابی شاعری دا تحقیقی تے تنقیدی ویروا کے عنوان سے مقالہ لکھا۔

فہرست کتب[ترمیم]

[3] ان کی 62 کتب کی فہرست یہ ہے۔

اردو غزل[ترمیم]

  1. آغاز۔ 1971ء
  2. ہوا کا تخت۔ 1978ء
  3. تمازتیں۔ 1978ء
  4. سُخناب۔ 1984ء
  5. غزل سرا۔ 1987ء
  6. آنگن آنگن رات۔ 1988ء
  7. مکر کا جال اور شہر۔ 2000ء
  8. سُرخ لبوں کی آگ۔ 2002ء
  9. اکھیاں بِیچ الاؤ۔ 2002ء
  10. دِل دِل کرب کمان۔ 2002ء
  11. شہر پناہ۔ 2002ء
  12. ٹوٹتے خمار کے دن۔ 2015ء
  13. چاند رات۔ 2015ء

اردو نثر[ترمیم]

  1. جب ہم نے سفرآغازکیا (صورت احوال آنکہ)۔ خود نوشت۔ 1981ء
  2. رُونمائیاں۔ خاکے۔ 2003ء
  3. پُرسانِ حال۔ اخباری کالم ۔

اردو نظم[ترمیم]

  1. شادبادمنزلِ مراد۔ قومی نظمیں۔ 1975ء
  2. سروِ نور۔ مجموعۂِ نعت۔ 1977ء
  3. یہ انسان۔ 1978ء
  4. دونیم تیرا بدن۔ نوحے بنام وامق منیر یاسر۔ 1981ء
  5. عورت ایک مقدس ہستی عورت ایک کھلونا۔ 1988ء
  6. بنتِ مشرق۔ 1989ء
  7. خواب تتلیوں جیسے۔ 1989ء
  8. دیوارِ گریہ۔ کشمیروفلسطین پر نظمیں۔ 1991ء
  9. مرقّعِ بقائے وطن۔ 1993ء
  10. سانجھ سبھاؤ۔ 2002ء
  11. دہرآشوب۔ 2002ء
  12. دشتِ انتظار۔ 2002ء
  13. ماجد نشان۔ 2007 ء
  14. انگناں اُترا چاند۔ 2008ء
  15. برسبیل قہقہہ۔ مزاحیہ شاعری۔ 2008ء
  16. قطرے میں دجلہ۔ اردوبولیاں۔ 2008ء
  17. کنگلی زرد خزاں۔ ہائیکوز۔ 2008ء

بچوں کی شاعری[ترمیم]

  1. منّے تُو سچ بولا کر۔ بچوں کی نظمیں۔ 1989ء
  2. منظوم لوری قاعدہ۔ 1996 ء
  3. منظوم بچہ کہانیاں۔ بچوں کی نظمیں۔ 2003ء

پنجابی نظم[ترمیم]

  1. سوُنہاں لیندی اکھ۔ 1964ء
  2. وتھاں ناپدے ہتھ۔ 1963ء
  3. رتینجناں۔ 1978ء
  4. میں کنّے پانی وچ آں۔ 1978ء
  5. گنگے دیاں رمزاں (پنجابی زبان میں نثری نظموں کا پہلا مجموعہ)۔ 1978ء
  6. ہاسے دا سبھا۔ 1978ء
  7. ادھ اسمان۔ 1983ء
  8. سچ سہاگ۔ 1980ء
  9. اچیچ۔ 1980ء
  10. ڈھلدی شام دا رُکھ۔ 2000ء
  11. جُھوٹے مائیاں گُڈیاں کِھڈائیاں(بال شاعری تے پہلا منظوم پنجابی قاعدہ)۔ 2000ء

پنجابی نثر[ترمیم]

  1. اگوں دیاں خبراں(کالم)۔ 1985ء

تراجم[ترمیم]

  1. کلامِ شاہ مراد۔ 1976ء
  2. دوہڑے شاہ شرفؒ۔ 1979ء
  3. دوسرا ورق:ترجمہ کلامِ فخرزمان۔ 1980ء
  4. دوآتشہ (ترجمہ پنجابی کلام ِشعرائے جدید)۔ 1976ء
  5. رات دی رات (ترجمہ کلامِ فیض)۔ 1974ء
  6. پرتاں(ترجمہ کلامِ فراز)۔ 1979ء
  7. ت رہیائی سدھر(ترجمہ کلامِ میر)۔ 1982ء
  8. سُون سنگھار(ترجمہ منتخبہ کلامِ ندیم)۔ 1982ء

انگریزی شاعری[ترمیم]

  1. The Soul of Wit - 1986

انگریزی تراجم[ترمیم]

  1. THE FLAVOUR - Selected verses of Faiz Ahmad Faiz - 1986
  2. THE JUNGLE NIGHT - Rendering of short urdu poems by Khaqan Khawar - 1989
  3. SELECTED VERSES OF MODERN URDU POETS - 1987
  4. OUR SWEETESTSONGS - Rendering of own selected verses - 1983
  5. DRY LEAVES - Rendering of punjabi poems by Safi Safdar - 1984

صحافت[ترمیم]

عمر کے آخری عشرے میں وہ ایک ادبی مجلہ بنام ’’ماہنامہ انتظار‘‘ بھی شائع کرتے رہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حالاتِ زندگی، "ماجد صدیقی"، ماجد صدیقی کی ویب سائٹ'
  2. اعزازات،
  3. فہرست کتب "فہرست کتب از ماجد صدیقی"