جانثار اختر
جانثار اختر | |
---|---|
معلومات شخصیت | |
پیدائش | 14 فروری 1914ء گوالیار |
وفات | 19 اگست 1976ء (62 سال) ممبئی |
شہریت | بھارت (26 جنوری 1950–) برطانوی ہند (–14 اگست 1947) ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950) |
اولاد | جاوید اختر ، سلمان اختر |
عملی زندگی | |
مادر علمی | علی گڑھ مسلم یونیورسٹی |
پیشہ | شاعر ، غنائی شاعر ، نغمہ نگار ، مصنف |
پیشہ ورانہ زبان | اردو |
تحریک | ترقی پسند تحریک |
اعزازات | |
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (برائے:Khak-e-Dil ) (1976)[1] |
|
IMDB پر صفحات[2] | |
درستی - ترمیم |
جاں نثار اختر (ولادت: 18 فروری 1914ء - وفات: 19 اگست 1976ء) ایک معروف ترقی پسند شاعر اور نغمہ نگار تھے
ولادت
[ترمیم]جانثار اختر 18 فروری 1914ء کو گوالیار (بھارت) میں پیدا ہونے۔ ان کے والد مضطر خیر آبادی اور تایا بسمل خیر آبادی دونوں شاعر تھے۔
تعلیم
[ترمیم]جانثار اختر نے میٹرک کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔ یہاں سے انھوں نے بی اے آنرز اور ایم اے کی ڈگریاں لیں۔
پہلی ملازمت
[ترمیم]جانثار اختر نے وکٹوریہ کالج گوالیار میں اردو کے لیکچرر کی حیثیت سے کام کیا۔
پہلی بارخانہ آبادی
[ترمیم]1943ء میں جانثار اختر کی شادی اسرار الحق مجاز لکھنوی کی ہمشیرہ صفیہ سراج الحق سے ہو گئی۔ ان کے دو بیٹے جاوید اختر اور سلمان اختر 1945ء اور 1946ء میں پیدا ہوئے۔
دوسری ملازمت
[ترمیم]آزادی کے بعد جانثار اختر نے بھوپال کا رُخ کیا اور یہیں کے حمیدیہ کالج میں اردو اور فارسی کے شعبوں کی ذمے داری سنبھالی۔ یہیں سے وہ تحریک ترقی پسند مصنفین سے وابستہ ہوئے اور اپنی بلندآور شخصیت کی وجہ سے اس تحریک کے صدر بنے۔
ممبئ کا رُخ
[ترمیم]1949ء میں جانثار اختر نے تدریس سے استعفیٰ دیا۔ وہ ممبئی چلے گئے۔ ممبئی آنے کے ان کے دو عزائم تھے: ایک فلمی نغمہ نگاری اور دوسرا اپنے شعری مجموعوں کی اشاعت۔ ممبئی میں وہ ملک راج آنند، کرشن چندر ،راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی اور دیگر ترقی پسند ادیبوں سے جاملے تھے۔ جانثار اختر کے شعری مجموعوں میں ’’نذر بتاں‘‘، ’’سلاسل‘‘،’’جاوداں‘‘،’’پچھلی پہر‘‘،’’گھر آنگن‘‘،اور ’’خاک دل‘‘ شامل ہیں۔’’خاک دل‘‘پر انھیں 1976میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ملا۔ جانثار اختر نے مجموعی طور پر 151فلمی گیت لکھے۔ انھوں نے زیادہ تر سی رام چندر،اوپی نیر اور خیام جسے سنگیت کاروں کے ساتھ کام کیا۔ 1976ء میں وہ رضیہ سلطان فلم کے نغمے اپنی زندگی کے آخری فلم کے طور پر لکھے تھے۔
پہلی بیوی کا سانحہ ارتحال اوردوسری بارخانہ آبادی
[ترمیم]1953ء میں جانثار کی اہلیہ صفیہ کا انتقال ہوا۔ صفیہ کے جانثار اختر کے نام خطوط کے مجموعوں کوجانثار نے 1955میں شائع کیا۔ یہ مجموعے دو عنوانوں سے ’’حرف آشنا‘‘اور ’’زیر لب‘‘ چھاپے گئے تھے۔ ستمبر 1956ء میں جانثار اختر نے خدیجہ طلعت نامی خاتون سے شادی کر لی تھی۔
شاعری کے اہم عناصر
[ترمیم]جانثار کی شاعری میں عمومًا رومانیت کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ گاہے گاہے اشتراکی نظریات سے بھی متاثر معلوم ہوتے ہیں۔
نمونہ کلام
[ترمیم]- "اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
- کچھ شعر فقط اُن کو سنانے کے لیے ہیں"
انتقال
[ترمیم]جانثار اختر کا انتقال 19 اگست 1976ء میں ہوا تھا۔[3]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
- ↑ میوزک برینز آرٹسٹ آئی ڈی: https://musicbrainz.org/artist/d9b0eade-0eb0-4b8b-b66b-2cef7ee1b84e — اخذ شدہ بتاریخ: 13 ستمبر 2021
- ↑ Roznama Dunya: اسپیشل فیچرز :- جانثار اختر: یہ زندگی تو کوئی بددعا لگے ہے مجھے
- 1914ء کی پیدائشیں
- 14 فروری کی پیدائشیں
- 1976ء کی وفیات
- 19 اگست کی وفیات
- ممبئی میں وفات پانے والی شخصیات
- ساہتیہ اکیڈمی کے اعزاز یافتگان
- اردو شعرا
- بیسویں صدی کے بھارتی شعرا
- بیسویں صدی کے بھارتی مرد مصنفین
- بیسویں صدی کے شعرا
- بیسویں صدی کے مرد مصنفین
- بھارتی اردو شعرا
- بھارتی مرد شعرا
- ساہتیہ اکیڈمی اعزاز یافتگان برائے اردو ادب
- گوالیار کی شخصیات
- مدھیہ پردیش کے شعرا
- ہندوستانی غنائی شعرا
- جامعہ علی گڑھ کے فضلا
- بھوپال کے مصنفین