میراجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
میراجی
Merajee.JPG
قلمی نام میراجی
پیشہ اردو شاعر
قومیت بھارتی
صنف غزل ، نظم ، آزاد نظم
ادبی تحریک ترقی پسند تحریک

میراجی ، جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ تھا ۔ منشی محمد مہتاب الدین کے ہاں 25 مئی، 1912ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ پہلے ”ساحری“ تخلص کرتے تھے۔ لیکن ایک بنگالی لڑکی ”میرا سین“ کے یک طرفہ عشق میں گرفتار ہو کر ”میراجی“ تخلص اختیار کر لیا۔ میراجی کی ذات سے ایسے واقعات وابستہ ہیں کہ ان کی ذات عام آدمی کے لیے ایک افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔ اُن کا حلیہ اور ان کی حرکات و سکنات ایسی تھیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا انہوں نے سلسلہ ملامتیہ میں بیعت کر لی ہے۔ لمبے لمبے بال ،بڑی بڑی مونچھیں ، گلے میں مالا ، شیروانی پھٹی ہوئی، اوپر نیچے بیک وقت تین پتلونیں، اوپر کی جب میلی ہوگئی تو نیچے کی اوپر اور اوپر کی نیچے بدل جاتی۔ شیروانی کی دونوں جیبوں میں بہت کچھ ہوتا۔ کاغذوں اور بیاضوں کا پلندہ بغل میں دابے بڑی سڑک پر پھرتا تھااور چلتے ہوئے ہمیشہ ناک کی سیدھ میں دیکھتا تھا۔ وہ اپنے گھر اپنے محلے اور اپنی سوسائٹی کے ماحول کو دیکھ دیکھ کر کڑتا تھا اس نے عہد کر رکھا تھا کہ وہ اپنے لئے شعر کہے گا۔ صرف 38 سال کی عمر میں 3 نومبر، 1949ء کو مرگئے۔ اس مختصر سی عمر میں میراجی کی تصانیف میں ”مشرق و مغرب کے نغمے“ ”اس نظم میں “”نگار خانہ“”خیمے کے آس پاس“ شامل ہیں۔ جبکہ میراجی کی نظمیں ، گیت ہی گیت، پابند نظمیں اور تین رنگ بھی شاعری کے مجموعے ہیں۔حوالہ درکار؟

اخترالایمان کی مہمان نوازی[ترمیم]

اختر الایمان جب ممبئی، بھارت میں نوشادی شدہ تھے، میراجی ان کے گھر میں مہمان تھے۔ اختر کی سوانح ، اس آباد خرابے میں کے بقول، وہ اچھے مہمان نہیں تھے، ان کی صحت خراب رہتی تھی، یہ ان کا آخری زمانہ تھا۔ پھر بھی نوشادی شدہ جوڑا ان کی دیکھ ریکھ میں کوئی کمی نہیں چھوڑا تھا۔ اپنے قیام کے دور میں اخترالایمان کے یہاں ایک لڑکی شہلا پیدا ہوئی تھی۔ اس پر میراجی نے ایک نظم یوں لکھی تھی:

[1]

افق پر اختر و سلطانہ کے بفضل خدا ستارہ آج نمودار ہو گیا پہلا​
ابھی تو ننہی سی ہے یہ کرن مگر اک روز مثال ماہ چمک اٹھے گی اک روز​
اگر ہے دعوٰی سخن آوری کا تجھے تو مار غوطہ ذرا شعر ایک دو کہ لا
میاں اب آج سے تم طے کرویہ کاروبار اب اس کو گود میں لے اور باغ میں ٹہلا​
کہ اللہ آمیں کی بچی ہے نام ہے شہلا ایمان کی قسم​

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اخترالایمان، میرے والد، اسما حسین، ہماری زبان، 02-05-16