میراجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میراجی
معلومات شخصیت
پیدائش 25 مئی 1912  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گوجرانوالہ،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 نومبر 1949 (37 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی،  بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

میراجی، جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ تھا۔ منشی محمد مہتاب الدین کے ہاں 25 مئی، 1912ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ پہلے ”ساحری“ تخلص کرتے تھے۔ لیکن ایک بنگالی لڑکی ”میرا سین“ کے یک طرفہ عشق میں گرفتار ہو کر ”میراجی“ تخلص اختیار کر لیا۔ میراجی کی ذات سے ایسے واقعات وابستہ ہیں کہ ان کی ذات عام آدمی کے لیے ایک افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔ اُن کا حلیہ اور ان کی حرکات و سکنات ایسی تھیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا انہوں نے سلسلہ ملامتیہ میں بیعت کر لی ہے۔ لمبے لمبے بال ،بڑی بڑی مونچھیں، گلے میں مالا، شیروانی پھٹی ہوئی، اوپر نیچے بیک وقت تین پتلونیں، اوپر کی جب میلی ہو گئی تو نیچے کی اوپر اور اوپر کی نیچے بدل جاتی۔ شیروانی کی دونوں جیبوں میں بہت کچھ ہوتا۔ کاغذوں اور بیاضوں کا پلندہ بغل میں دابے بڑی سڑک پر پھرتا تھااور چلتے ہوئے ہمیشہ ناک کی سیدھ میں دیکھتا تھا۔ وہ اپنے گھر اپنے محلے اور اپنی سوسائٹی کے ماحول کو دیکھ دیکھ کر کڑتا تھا اس نے عہد کر رکھا تھا کہ وہ اپنے لیے شعر کہے گا۔ صرف 38 سال کی عمر میں 3 نومبر، 1949ء کو انتقال کرگئے۔ اس مختصر سی عمر میں میراجی کی تصانیف میں ”مشرق و مغرب کے نغمے“ ”اس نظم میں “”نگار خانہ“”خیمے کے آس پاس“ شامل ہیں۔ جبکہ میراجی کی نظمیں، گیت ہی گیت، پابند نظمیں اور تین رنگ بھی شاعری کے مجموعے ہیں۔[حوالہ درکار]

اخترالایمان کی مہمان نوازی[ترمیم]

اختر الایمان جب ممبئی، بھارت میں نوشادی شدہ تھے، میراجی ان کے گھر میں مہمان تھے۔ اختر کی سوانح، اس آباد خرابے میں کے بقول، وہ اچھے مہمان نہیں تھے، ان کی صحت خراب رہتی تھی، یہ ان کا آخری زمانہ تھا۔ پھر بھی نوشادی شدہ جوڑا ان کی دیکھ ریکھ میں کوئی کمی نہیں چھوڑا تھا۔ اپنے قیام کے دور میں اخترالایمان کے یہاں ایک لڑکی شہلا پیدا ہوئی تھی۔ اس پر میراجی نے ایک نظم یوں لکھی تھی:

[2]
افق پر اختر و سلطانہ کے بفضل خدا ستارہ آج نمودار ہو گیا پہلا​
ابھی تو ننہی سی ہے یہ کرن مگر اک روز مثال ماہ چمک اٹھے گی اک روز​
اگر ہے دعوٰی سخن آوری کا تجھے تو مار غوطہ ذرا شعر ایک دو کہ لا
میاں اب آج سے تم طے کرویہ کاروبار اب اس کو گود میں لے اور باغ میں ٹہلا​
کہ اللہ آمیں کی بچی ہے نام ہے شہلا ایمان کی قسم​

میرا جی کا ادبی سرمایہ[ترمیم]

[3]

  • شعری تصانیف

1۔ میرا جی کے گیت مکتبہ اردو ‘ لاہور ‘ 1943ء 2۔ میرا جی کی نظمیں ساقی بک ڈپو‘ دہلی 1944ء 3 گیت ہی گیت ساقی بک ڈپو‘ دہلی 1944ء 4۔ پابند نظمیں کتاب نما‘ راولپنڈی 1968ء 5۔ تین رنگ کتاب نما‘ راولپنڈی 1968ء 6۔ میرا جی کی نظمیں (مرتب انیس ناگی) مکتبہ جمالیات لاہور 1988ء 7۔ کلیات میرا جی (مرتب جمیل جالبی)اردو مرکز‘ لندن 1988ء 8۔ باقیات میرا جی (مرتب شیما مجید) پاکستان بکس اینڈ لٹریری سائونڈز لاہور 1990ء 9۔ گیت مالا ((مختلف شعراء کے گیتوں کا انتخاب جسے میرا جی نے مولانا صلاح الدین احمد کے تعاون سے مرتب کیا اس کتاب کی ضخامت 48صفحات ہے) تنقیدی؍ تجزیاتی مطالعہ اس نظم میں ساقی بک ڈپو‘ دہلی 1944ء تراجم 1 مشرق و مغرب کے نغمے اکادمی پنجاب‘ لاہور 1958ء 2۔ نگار خانہ مکتبہ جدید لاہور‘ 1950ء 3 خیمے کے آس پاس مکتبہ جدید لاہور ‘ 1964ء

میرا جی کاغیر مطبوعہ/ نامکمل ادبی سرمایہ[ترمیم]

ان مطبوعہ تصانیف کے علاوہ میرا جی کی کئی تخلیقات غیر مطبوعہ صورت میں بھی مختلف لوگوں کے پاس محفوظ ہیں یا مختلف رسائل می بکھری پڑی ہیں۔ ان میں ان کی نامکمل آپ بیتی بھرتری ہری کے شتکوں کے تراجم ہزلیات‘ نثر لطیف(جن میں کچھ خاکے افسانے اور ہلکے پھلکے مضامین شامل ہیں) اور بہت سارے مضامین ہیں جن میںسے بعض انہوںنے بسنت سہائے کے قلمی نام سے بھی لکھے ہیں۔ ان میں سے زیادہ مضامین ادبی دنیا لاہور میں شائع ہوئے ہیں۔ ’’ادبی دنیا‘‘ کے علاوہ ’’خیال‘‘ بمبئی ’’ہمایوں‘‘ لاہور اور ’’شیرازہ‘‘ لاہر میں بھی ان کے نثر پارے چھپتے رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں غیر مدون ہیں۔ ساقی دہلی میں ’’باتیں ‘‘ اور ’’خیال ‘‘ بمبئی میں ’’کتاب پریشاں‘‘ کے عنوان سے انہوںنے جو کچھ لکھا اس کا کچھ حصہ ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتب کردہ کتاب ’’میرا جی… ایک مطالعہ‘‘ میں شامل ہے۔ میرا جی کی نثری تحریروں کوشیما مجید نے ’’باقیات میرا جی‘‘ (نثر) کے نام سے مرتب کیا ہے۔ یہ مجموعہ زیر طبع ہے ’’ادبی دنیا‘‘ لاہور اور ’’خیال‘‘ بمبئی کے اداریے میں بھی اس مجموعے میں شامل ہیں۔

میرا جی کی ترجمہ نگاری[ترمیم]

تنقید اورنثر کا تعارف میرا جی کی بنیادی پہچان اگرچہ شاعری ہی کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ لیکن تراجم تنقید اور متفرق نثری کام میں بھی ان کی اپنی انفرادیت ہے۔ یہاں اختصار سے ان کے تینوں پہلوئوں ک جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ میرا جی کے زیادہ تراجم اگرچہ شعر و ادب تک محدود ہیں لیکن ان کے ذریعے ہماری شاعری خصوصاً نظم میں ایک نئی معنوی اور فکری لہر پیدا ہوئی ۔ میر ا جی نے اپنے بہت سے مضامین میںجو سیاسی سماجی اور اقتصادی نوعیت کے ہیں ترجمے سے استفادہ کیا ہے اور گلوب پر ہونے والی سیاسی سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں سے اپنے عہد کو آشنا کرانے کی کوشش کی ہے۔ میرا جی کے تراجم صرف لفظی نہیںبلکہ انہوںنے مفہوم کی تہہ تک پہنچنے اور اس کی حسیت و مزاج کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ترجمہ نگار دونوں زبانوں پر نہ صرف یکساں قدرت رکھتا ہو بلکہ دونوں زبانوں کے ادبی سرمایے اور اس کی روایت سے بھی پوری طرح واقف ہو۔ میرا جی کے تراجم میں ان دونوں صلاحیتوں کا احساس ہوتا ہے۔

تراجم[ترمیم]

  1. ۔ مشرق و مغرب کے نغمے
  2. خیمے کے آس پاس (رباعیات عمر خیام)
  3. بھرتری ہری کے چند شتکوں کے تراجم
  4. ۔ نگار خانہ(داموورگپت کے نٹنی متم کا ترجمہ)

1۔مشرق و مغرب کے نغمے[ترمیم]

یہ کتاب اکادمی پنجاب لاہور نے 1950ء میں شائع کی تھی ۔ اس میں شامل مضامین 1936ء سے 1941ء کے دوران لکھے گئے ۔ ان میں سے اکثر ادبی دنیا کے مختلف شماروں میں شائع ہوتے رہے۔ ان کی ابتدا کے بارے میں مولانا صلاح الدین احمد کہتے ہیں: ’’یہ غالباً 1936ء کی بات ہے کہ میرا جی میرے پاس آئے اور پہلی ہی صحبت میں انہوں نے مجھے اپنی چند چیزیں سنائیں کہ میں ان کی مہارت ترجمہ پر چونک اٹھا اور میں نے انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ صرف اپنی یہ مشق جاری رکھیں گے بلکہ اسے ایک باقاعدہ نظم کی صورت بھی عطاکر دیں ‘‘ ا س مجموعہ میں جو مضامین اور تراجم شامل ہیں ان کی تفصیل یہ ہے: 1۔ جہاں گرد طلبا ء کے گیت 2۔ امریکہ کا ملک الشعرائ والٹ وٹمن 3۔ روس کا ملک الشعرائ پشکن 4 فرانس کا آوارہ شاعر فرانساولاں 5۔ مغرب کا ایک مشرقی شاعر طامس مور 6۔ انگلستان کا ملک الشعراء جان میفیلڈ 7۔ فرانس کا ایک آوارہ شاعر چارلس باد یلیئر 8۔ بنگال کا پہلا شاعر چنڈی داس 9۔ امریکہ کا تخیل پرست شاعر ایڈگرایلن پو 10۔ چین کا ملک الشعرائ لی پو 11۔ مغرب کی سب سے بڑی شاعرہ سیفو 12۔ فرانس کا تخیل پرست شاعر سٹیفا نے میلارمے 13۔ پرانے ہندوستان کا ایک شاعر امارد 14۔ روما کا رومانی شاعر کیٹولس 15۔ انگلستان کا پیامی شاعر ڈی ایچ لارنس 16۔ کوریا کی قدیم شاعری 17۔ گیشائوں کے گیت 18۔ رس کے نظریے 19۔ جرمنی کا یہودی شاعر ہائینے 20۔ انگلستان کا تین شاعر بہنیں (دی برانٹی سسٹرز) اس مجموعہ میں یہ تراجم شامل نہیں۔ 1۔ دیس دیس کے گیت ادبی دنیا جولائی 1938ء 2۔ چین کی جدید شاعری ادبی دنیا اگست 1938ء 3۔ مغرب کی ایک مشرقی شاعرہ ادبی دنیا نومبر 1938ء 4۔ فرانس کا ایک اور آوارہ شاعر ادبی دنیا اپریل 1938ء یہ سارے مضامین 1936ء سے 1941ء تک ادبی دنیا میں چھپتے رہے۔ پھر کتابی صورت میں تدوین پا کر شاہد احمد دہلوی کے اشاعتی پروگرام میں باری کا انتظار کرنے لگے۔ اسی اثناء میں تقسیم ہو گئی اور بزم ساقی بھی منتشر ہو گئی۔ بعد میں یہ مجموعہ 1958ء میں مشر ق و مغرب کے نغمے کے نام سے شائع ہوا۔

2۔خیمے کے آس پاس[ترمیم]

یہ عمر خیام کی ان رباعیوں کا مجموعہ ہے جو فٹز جیرالڈ نے انگریزی میں منتقل کی تھیں۔ میرا جی نے فارسی کی بجائے انگریزی سے ترجمہ لا۔ میرا جی کہتے ہیں۔’’خیمہ اس لیے کہ خیام کا کلام ہے۔ نیز خیمے سے زندگی کے قافلے کے اس چل چلائو کا تلازم خیال بھی ہے جو عمر خیام کی شاعرانہ ذہانت کی نمایاں خصوصیت ہے اور آس پاس ترجمے کی رعایت سے نیز اس لیے بھی کہ یہ ترجمے اصل فارسی کے بجائے ایڈورڈ فٹز جیرالڈ کے انگریزی ادب سے تیار ہوئے ہیں‘‘۔ میرا جی نے 1948ء میں یہ ترجمہ کیا۔ انہوں نے ان رباعیوں کو قطعہ کو ہیت میں ترجمہ یا پہلی بار ان میں سے چودہ رباعیاں خیال بمبئی کے اپریل 1948ء کے شمارے میں اور دوسری بار اٹھارہ رباعیاں مئی 1949ء کے شمارے میں شائع ہوئیں۔ کتابی صورت میں یہ ترجمے اسی نام سے 1964ء میں شائع ہوئے۔ کتاب میں ایک صفحہ پر فٹز جیرالڈ کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے پر میرا جی کا اردو ترجمہ درج ہے۔ تعارف جیلانی کامران نے لکھا ہے۔ ان تراجم کی خاص بات یہ ہے کہ میرا جی نے جہاں مناسب سمجھا ان میں ہندی مزاج پیدا کر دیا ہے۔ جس سے بعض جگہ کبیر کے دوہوں کا رنگ ؤنمایاں ہو گیا ہے۔ ایک مثال: جاگو! سورج نے تاروں کے جھرمٹ کو دور بھگایا ہے اور رات کے کھیت نے رجنی کا آکاش سے نام مٹایا ہے جاگو اب جاگی دھرتی پر اس آن سے سورج آیاہے راجا کے محل کے کنگورے پر اجول تیر چلایا ہے

3. بھرتری ہری کے شتکوں کا ترجمہ[ترمیم]

میرا جی نے بھرتی ہری کے شتکوں کا ترجمہ بھی شروع کیا تھا جو نامکمل رہ گیا۔ ابتدائی تعارف اور ترجموںکا یہ ادھورا مسودہ اختر الایمان کے پاس ہے۔ شعر و حکمت حیدر آباد کے گوشہ میرا جی میں ان میں سے چند تراجم شائع ہوئے ہیں۔ اپنے ادھورے کام کا تعارف میرا جی نے یوں کرایا ہے: ’’نینی شتک کے اقوال محض ہرزہ گوئی کے اقوال ہی معلوم ہوتے ہیں۔ ان میں انداز بیان یا ادب کی کوئی شاعرانہ خوبی نہیں دکھائی دیتی۔ چونکہ ا س مضمون کا مقصد بھرتری ہری کو ایک صلح کی بجائے ایک شاعر کی حیثیت سے روشناس کرانا ہے اس لیے نینی شتک سے میں نے صرف چار اقوال لیے ہیں… نیز میرا مقصد بھرتری ہری کی شاعرانہ حیثیت کو بتانے کے علاوہ ہندوستان میں محبت کی شاعری کا ایک او ر نمونہ پیش کرنا بھی ہے‘‘۔ ترجمہ کی ایک مثال ’’اس کے دونوں ہاتھ زعفران سے بھیگے ہوئے ہیں اور اس کے (کنگن) سونے کے ہیں‘‘ … ایک شتک

4. نگار خانہ[ترمیم]

نگار خانہ سنسکرت شاعر و امودر گپت کی کتاب ’’نٹنی متم‘‘ کا نثری مجموعہ ہے۔ جو پہلی بار خیال بمبئی (شمارہ جنوری 1949ئ) میں شائع ہوا۔ دوسری بار کتابی صورت میں نومبر 1950ء میں اسے مکتبہ جدید لاہور نے شائع کیا۔ اس کا دیباچہ منٹو نے لکھا ہے۔ میرا جی نے اسے انگریزی سے ترجمہ کیا۔ نگار خانہ کی ہیروئن ممالتی نو عمر طوائف ہے جسے ایک جہاں دیدہ طوائف و کرالا اس پیشے کے سارے گر سکھات ہے اور اسے بتاتی ہے کہ ایک اچھی طوائف کو کس کس موقع پر کس کس طرح مرد کو یوں لبھانا چاہیے کہ وہ ہمیشہ اس کی زلف کا اسیر بن کر رہ جائے۔ منٹو کے خیال میں یہ ایک ایسا زندہ موضوع ہے جو ہر دور میں موجود رہے گا۔ اس ترجمے کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان ہے جس میں اردو انگریزی اور ہندی الفاظ کی آمیزش کا ایک نیا تجربہ کیا گیا ہے ۔ ایک مثالپریم کا لوبھ بھنور کے سمان ہے۔ وہ بن بن گھومتا ہے تاکہ ہر پھول کا رس چکھ لے‘ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ بناوٹ کی اچھائی میں سب پھول ایک دوسرے سے الگ الگ ہوتے ہیں تو گھوم پھر کر مالتی ہی کے پاس لوٹ آتاہے کیونکہ مالتی کا تو یہ حال ہے کہ جس پھول سے بھی چاہو ٹکر لے لو مالتی کو اس میں کوئی گھاٹا نہیں رہے گا‘‘۔ نظم کو نثر میں ترجمہ کر کے اس میں کہانی کا ایسا مزہ پیدا کرنا اورمکالمے کو اس کے نیچرل انداز میں اس طرح ابھارنا کہ کردار کا نفسیاتی چہرہ ساممنے آ جائے میرا جی کے ترجمے کا کمال ہے۔

میرا جی کی تنقید[ترمیم]

میرا جی نے وقتاً فوقتاً شاعری پر جو تنقید کی اس نے اردو تنقید کو ایک نئے رویے سے آشنا کیا ہے میرا جی کی تنقید کے چار دائرے ہیں: 1۔ حلقہ اربا ب ذوق کے جلسوں میں تنقیدی گفتگو 2۔ نظموں کے تجزیاتی مطالعے 3۔ اردو شاعری کے بارے میں مختلف مضامین میں تنقیدی آراء 4۔ مشرق و مغرب کے نامور شعراء کے تراجم کے ساتھ شاعروں اور ان کے عہد پر تنقیدی آراء۔

حلقہ اربا ب ذوق کے جلسوں میں تنقیدی گفتگو[ترمیم]

میرا جی نے حلقہ کے جلسوں میں تنقیدی گفتگو سے ایک معیار قائم کیا‘ نوجوانوں کو تنقید کرنے پر اکسایااورتنقید برداشت کرنے کا ظرف سکھایا۔ انہوںنے تجربے اور ہئیت و تکنیک کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوںنے حلقہ کو تاثراتی تنقید سے نکال کر اسے نفسیاتی اور جمالیاتی اقدار سے ہمم آہنگ کیا ۔ انہوںنے مشرق و مغرب کے امتزاج سے تنقید کا ایک ایسا رنگ روشناس کرایا جس میں نظریہ سازی کے ساتھ ساتھ مشرقی تجزیہ پسندی کا رویہ بھی شامل تھا۔

نظموں کے تجزیاتی مطالعے[ترمیم]

حلقہ کو ایک تحریک کی شکل دینے کے ساتھ ساتھ میرا جی کا دوسرا بڑا تنقیدی کارنامہ نظموں کا تجزیاتی مطالعہ ہے۔ وہ اردو کے پہلے نقاد ہیں جنہو ں نے فن پارے کا تجزیہ کر کے فن کار اور فن پارے کے درمیان رشتہ کو تلاش کرنے اور اس طرح تخلیق کے اس سفر کو سمجھنے کی کوشش کی ہے جس کے توسط سے فن پارہ وجود میں آتاہے۔ اس نظم میں کے تحت کیے گئے تمام تجزیے اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ’’اس نظم میں‘‘ کے تحت جن نظموں کا جائزہ لیا گیا ہے وہ اپنے موضوع اور ہئیت کے حوالے سے اپنے عہد کی اہم نظمیں ہیں۔ ان کے موضوعات مختلف ہیں یعنی یہ نظمیں معاشرتی سیاسی نفسیاتی جنسیاتی اور زندگی کے کئی دوسرے اہم پہلوئوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ہئیت کے حوالے سے بھی ان میں بڑا تنوع ہے۔ ان میں سے بعض قدیم ہیئتوں یعنی رباعی قطعہ اور مثنوی کے انداز میں ہیں۔ اور بعض غیر روایتی ہئیتوں میں ہیں جن میں آزاد اورمعریٰ کے علاوہ پابند ہئتییں بھی ہیں اسی طرح ان میں ترقی پسند اور غیر ترقی پسند کی تفریق بھی نہیںکی گئی اور ہر وہ نظم جو کسی حوالے سے اہم ہے اس میں شامل کی گئی ہے۔

اردو شاعری کے بارے میں مختلف مضامین میں تنقیدی آراء[ترمیم]

نظموں کے تجزیے کے ساتھ ساتھ میرا جی کا سب سے بڑا تنقیدی کارنامہ وہ تنقیدی جائزے اور تعارف ہیں جو مشرق و مغرب کے مختلف شاعروں کو اردو میں متعارف کروانے کے لیے لکھے گئے ہین ان تنقیدی جائزوں کی تین خوبیاں ہیں۔ ا۔ شاعروں کے کلام کو ان کے ذاتی حالات اور ان کے عہد کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ب۔ کلام کا جائز لیتے ہوئے مروج فنی اقدار اور اس زبان کے اب کی بنیادی اقدار کو سامنے رکھا گیا ہے ۔ ج۔ جائزوں میں تقابلی مطالعہ بھی کیا گیا ہے۔ میرا جی کی تنقید کا خاص پہلو وہ نکتہ آفرینی ہے جس کے ذریعے وہ نہ صرف تخلیقی واردات کی حسیت تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کے وسیع تر ثقافتی اور سماجی پس منظر میں بھی دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ انداز نظر بھی اردو تنقید میں ان کی دین ہے۔ انہوںنے اپنی تنقیدی تحریروں سے ادبی تنقید کو مستحکم کرنے اور اس کے فروغ کے لیے ابتدائی کام انجام دیا ہے ۔ نفسیاتی دبستان کے تو وہ اولین معمار ہیں۔ ان کے تنقیدی خیالات اگرچہ کسی مربوط نظریاتی سطح پر موجود نہیںکیونکہ انہوںنے زیادہ تر عملی تنقید کی ہے۔ لیکن اس کے اثرات جدید اردو تنقید پر ہی نہیںجدید اردو نظم پر بھی بہت گہرے ہیں۔ متفرق نثر ’’اس نظم میں‘‘ کے تحت کیے گئے تجزیوں مشرق و مغرب کے نغمے کے شاعروں کے جائزوں اور چند تنقیدی مضامین کے علاوہ میرا جی نے کئی نثری چیزیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی تقسیم یوں ہے: ا۔ ریڈیو کے لیے لکھے گئے سکرپٹ۔ ب۔ ’’ادبی دنیا ‘‘ اور ’’خیال‘‘ کے اداریے۔ ج۔ نثر لطیف یعنی ’’باتیں‘‘ اور کتاب پریشاں۔ د۔ ادبی تحریریں… خاکے؍ آپ بیتی؍ تبصرے؍ دیباچے ہ۔ ادب کے علاوہ دوسرے موضوعات پر لکھے گئے مضامین جن میں سے بعض بسنت سہائے کے قلمی نام سے لکھے گئے۔ میرا جی کے مضامین کی خوبی موضوع کے ساتھ ان کی ذہنی وابستگی اور خیالات کی صفائی ہے۔ وہ جو بات محسوس کرتے ہیں اسے واضح طور پر بیان کرنے کی قدرت بھی رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کا نقطہ نظر نہ صرف خوبصورتی سے بیان ہوتاہے بلکہ قاری کے لیے ایک لائحہ عمل بھی مرتب کرتا ہے۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ملکی اور غیر ملکی دونوں سطحوں سے مثالیںدیتے ہیں اور مختلف پہلوئوں سے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔ ان کی نثر کاکمال یہ ہے کہ وہ سادہ اور رواں دواں ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک پیچیدہ فنی حسن رکھتی ہے جو ان کے صاحب اسلوب ہونے کی دلیل ہے اور ان کو اپنے عہد کے دوسرے نثر نگاروں سے جد ا کر کے انفرادیت بخشتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb144207760 — اخذ شدہ بتاریخ: 26 مارچ 2017
  2. اخترالایمان، میرے والد، اسما حسین، ہماری زبان، 02-05-16
  3. "میراجی کی تصانیف". اخذ شدہ بتاریخ ۴/۲۸/۲۰۲۰.