راجہ مہدی علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

راجہ مہدی علی خان ایک مصنف، شاعر اور ہندی فلمی دنیا میں ایک نغمہ نگار تھے. وہ کریم آباد (موجودہ پاکستان) میں 1928ء میں پیدا ہوئے. وہ صرف 4 سال کے تھے جب وہ والد کے سایہ عاطفت سے محروم ہوئے۔ ان کی پرورش ان کی والدہ کی جانب سے ہوئی جو ایک شاعرہ تھی۔ ان کی نشوونما میں علامہ اقبال کا بڑا دخل ہے جو ان کے خاندان سے دوستانہ مراسم رکھتے تھے۔

ملازمت اور فلمی دنیا کا رخ[ترمیم]

دہلی میں آل انڈیا ریڈیو میں ان کی پہلی ملازمت کے دوران راجہ مہدی بھی وہیں پر برسرخدمت سعادت حسن منٹو سے واقف ہوئے۔ منٹو ہی کی ایماء پر راجہ مہدی فلموں میں کام کرنے کے لئے بمبئی چلے گئے تھے۔ اداکار اور مکالمہ نگار کے طور پر ایک مختصر مدت کے بعد، مہدی کو جب فلم دو بھائی (1947 ء) کے لئے دھن لکھنے کا موقع ملا تو ان کے اصل ہنر کو ابھرنے کا موقع ملا۔ فلم میرا سندر سپنا جو بیت گیا اور یاد کروگے ایک دن ہم کو کے دو نغمے بہت ہی مقبول ہوئے۔

تقسیم ہند کے بعد فلمی دنیا کے لیے مزید کام[ترمیم]

تقسیم ہند کے بعد راجہ مہدی علی نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ 1950 میں راجہ مہدی موسیقار مدن موہن سے ملاقات ہوئی۔ اس کے نتیجے میں آنکھیں فلم کے دھن بنائے۔ حالانکہ راجہ مہدی نے کئی موسیقی کے ڈائریکٹروں کے ساتھ کام کیا جن میں خاص طور پر شہید (1948) کے لئے غلام حیدر کے ساتھ اور ایک مسافر ایک حسینہ (1962) کے لئے او پی نیر ساتھ شامل ہیں۔ مگرسب سے بہترین ساجھے داری مہدی کی مدن موہن کے ساتھ تھی۔ دونوں نے مل کر سے مدہوش (1950)، اَن پَڑھ (1962)، آپ کی پرچھائیاں (1964)، وہ کون تھی (1964)، دلہن ایک رات کی (1966) اور میرا سایہ (1966) جیسی فلموں کے لئے کچھ یادگار موسیقی تخلیق کی۔

فلمی دنیا سے رخصت[ترمیم]

راجہ مہدی علی خان فلموں سے جڑے کاموں سے پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن اردو مطبوعات میں نظموں اورافسانے لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

انتقال[ترمیم]

18 ستمبر 1966ء کوراجہ مہدی کا انتقال ممبئی میں ہو ا [1]۔

حوالہ جات[ترمیم]