راجہ مہدی علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
راجہ مہدی علی خان
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1928  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جہلم  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 29 جولا‎ئی 1996 (67–68 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف، غنائی شاعر، نغمہ نگار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

راجا مہدی علی خان ایک مصنف، شاعر اور ہندی فلمی دنیا میں ایک نغمہ نگار تھے۔ وہ کریم آباد (موجودہ پاکستان) میں 1928ء میں پیدا ہوئے۔ وہ صرف 4 سال کے تھے جب وہ والد کے سایہ عاطفت سے محروم ہوئے۔ ان کی پرورش ان کی والدہ کی جانب سے ہوئی جو ایک شاعرہ تھی۔ ان کی نشو و نما میں علامہ اقبال کا بڑا دخل ہے جو ان کے خاندان سے دوستانہ مراسم رکھتے تھے۔

ملازمت اور فلمی دنیا کا رخ[ترمیم]

دہلی میں آل انڈیا ریڈیو میں ان کی پہلی ملازمت کے دوران راجا مہدی بھی وہیں پر برسرخدمت سعادت حسن منٹو سے واقف ہوئے۔ منٹو ہی کی ایماء پر راجا مہدی فلموں میں کام کرنے کے لیے بمبئی چلے گئے تھے۔ اداکار اور مکالمہ نگار کے طور پر ایک مختصر مدت کے بعد، مہدی کو جب فلم دو بھائی (1947 ء) کے لیے دھن لکھنے کا موقع ملا تو ان کے اصل ہنر کو ابھرنے کا موقع ملا۔ فلم میرا سندر سپنا جو بیت گیا اور یاد کروگے ایک دن ہم کو کے دو نغمے بہت ہی مقبول ہوئے۔

تقسیم ہند کے بعد فلمی دنیا کے لیے مزید کام[ترمیم]

تقسیم ہند کے بعد راجا مہدی علی نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ 1950 میں راجا مہدی موسیقار مدن موہن سے ملاقات ہوئی۔ اس کے نتیجے میں آنکھیں فلم کے دھن بنائے۔ حالانکہ راجا مہدی نے کئی موسیقی کے ڈائریکٹروں کے ساتھ کام کیا جن میں خاص طور پر شہید (1948) کے لیے غلام حیدر کے ساتھ اور ایک مسافر ایک حسینہ (1962) کے لیے او پی نیر ساتھ شامل ہیں۔ مگرسب سے بہترین ساجھے داری مہدی کی مدن موہن کے ساتھ تھی۔ دونوں نے مل کر سے مدہوش (1950)، اَن پَڑھ (1962)، آپ کی پرچھائیاں (1964)، وہ کون تھی (1964)، دلہن ایک رات کی (1966) اور میرا سایہ (1966) جیسی فلموں کے لیے کچھ یادگار موسیقی تخلیق کی۔

فلمی دنیا سے رخصت[ترمیم]

راجا مہدی علی خان فلموں سے جڑے کاموں سے پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن اردو مطبوعات میں نظموں اورافسانے لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

انتقال[ترمیم]

18 ستمبر 1966ء کوراجہ مہدی کا انتقال ممبئی میں ہو ا ۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]