تلمیح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تلمیح کے لغوی معنی ہیں اِشارہ کرنا۔

شعری اصطلاح[ترمیم]

شعری اصطلاح میں تلمیح سے مراد ہے کہ ایک لفظ یا مجموعہ الفاظ کے ذریعے کسی تاریخی‘ سیاسی‘ اخلاقی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ کیا جائے۔ تلمیح کے استعمال سے شعر کے معنوں میں وُسعت اور حسن پیدا ہوتا ہے۔ مطالعہ شعر کے بعد پورا واقعہ قاری کے ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔

استعمال و مثال[ترمیم]

مثال کے طور پر مرزا غالب کا ایک شعر ہے

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب

آﺅ نا ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی

اس شعر میں اُس واقعے کی طرف اشارہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر چڑھ کر اللہ تعالٰیٰ کو دیکھنے کی خواہش کی تھی۔ اس خواہش کے جواب میں اللہ تعالٰیٰ نے تجلّی ظاہر کی جس کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے اور کوہِ طور جل کر سیاہ ہو گیا۔

ایک اور مثال ہے:

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی

مندرجہ بالا شعر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ بادشاہ نمرود آپ علیہ السلام کو آگ میں جلا دینے کی دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے آگے سجدہ کرو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنے کی بجائے آگ میں کود پڑتے ہیں اور یہ آگ آپ علیہ السلام کے لیے گلشن بن جاتی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]