مخدوم محی الدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مخدوم محی الدین اردو زبان کے مشہور شاعر ہونے کے ساتھ‍ ساتھ‍ بائیں بازو کے نامور رہنما بھی تھے۔

زندگی[ترمیم]

مخدوم 4 فروری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک کٹر مذہبی خانوادے سے تھا۔ ان کے دادا حیدرآباد دکن کی تاریخی مکّہ مسجد میں قاری تھے۔ والد غوث محی الدین بھی مذہبی ادارے سے وابستہ تھے اور ان کی رہائش بھی مسجد ہی میں تھی۔ پیدائشی طور پر ان کا گھرانہ بے حد غریب تھا، اپنے آس پاس غربت اور استحصال کا دور دورہ دیکھ‍ کر وہ بائیں بازو کے نظریات سے متاثر ہو گئے اور زندگی بھر جدوجہد میں رہے۔ اردو کے انقلابی شاعر مخدوم محی الدین(ابو سعید محمد مخدوم محی الدین قادری ) تلنگانہ کے ضلع میدک میں پیدا ہوئے۔ عمر کی بیسویں بہار میں مخدوم حیدرآباد آئے یہ وہ دور تھا جب فسطائیت کا دور دورہ تھا۔ اٹلی کی فسطائی حکو مت کے ابی سینا( موجودہ ایتھوپیا)پر حملہ سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے ،اور انہوں نے اپنی پہلی مخالف فسطائی نظم لکھی۔1930 میں مخدوم ’کامریڈس اسوسی ایشن‘ میں شامل ہوئے،جو ان کے مستقبل کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔22 جون 1941کو سویت یونین پر ہٹلر کے حملے کے بعد مخدوم نے سٹی کالج حیدرآباد میں لیکچرر کے عہدے سے اسعفیٰ دے کر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(سی پی آئی) کے لیے اپنے آپ کو فارغ کر لیا۔ انہوں نے روی نارائین ریڈی ( جنہیں1952 کے پارلیمانی انتخابات میں کثیر تعداد میں ووٹ ملے تھے ،جو نہرو سے بھی زیادہ تھے) سی پی آئی کی حیدرآباد شاخ کا قیام عمل میں لایا۔ مخدوم نے ٹریڈ یونین میں بھی شمولیت اختیار کی تھی اور وزیر سلطان تمباکو کمپنی (چارمینار سگریٹ کمپنی) کے 1941 کے تنازع میں کام گاروں کے نمائندہ منتخب کیے گئے۔ 1946 میں آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (AITUC)کی شاخ آل حیدرآباد ٹریڈ یونین کانگریس کے صدر بنے۔ 17 اکٹوبر 1946 کو ’ظلم مخالف‘ دن منائے جانے کی وجہ سے سی پی آئی پر پابندی لگائی گئی۔ اور مخدوم کو شولاپور جانے کے لیے کہا گیا جہاں سے وہ ممبئی چلے گئے جہاں انہوں نے اپنی مشہور نظم ’تلنگانہ‘ اور اس کے فوری بعد ’یہ جنگ ہے جنگِ آزادی ‘ لکھی۔ مخدوم نے بمبئی میں منعقدہ (22 تا 25 مئی 1943) پروگریسیو رائٹرس اسوسی ایشن (PWA)کی چوتھی کانفرنس میں شرکت کی۔ؑکسانوں کی مسلح جدوجہدبرائے عظیم تلنگانہ(1946أ1950) کے وہ ایک اہم لیڈر تھے۔ 1951 میں مخدوم کو گرفتار کیا گیا اس وقت انہوں نے ’قید‘ یہ نظم لکھی۔ 1952 میں انہیں رہا کیا گیا اور پہلے عام انتخابات میں حیدرآباد سے لڑا جس میں انہیں شکست ہوئی، لیکن ضمنی انتخابات میں حضور نگر سے وہ کامیاب ہوئے۔1958 میں سی پی آئی کی نیشنل کونسل کے لیے وہ منتخب ہوئے۔ آندھرا پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے وہ سی پی آئی لیڈر تھے۔ مخدوم ہندوستان کی ادبی، علمی، سماجی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم حصہ بن گئے۔ فلمی دنیا اور تہذیبی میدان کے درمیان وہ ایک مشترک مقام حاصل کر گئے اور ہندوستانی فلمی دنیا میں انہوں نے اپنے اہم نقوش چھوڑے۔ انہوں نے فلموں،اسٹیج اور ڈراما کے لیے بے شمار گیت، نظمیں اور نغمے لکھے۔ ان کی تحریروں میں عوام کی قربانیوں، جانشانی،جدوجہداور تکالیف کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ [1]

جدوجہد[ترمیم]

مخدوم خالصتا مزدور طبقہ کے شاعر اور ہمنوا تھے۔ عملی سیاست میں آنے کے بعد بھی انہوں نے اہل اقتدار سے لے کر رکشہ والے تک، ہر کسی سے تعلق رکھا۔ انہوں نے حیدرآباد دکن میں جاگیرداری نظام کے خلاف لڑتے ہوئے وہاں کے عام کسانوں کی قیادت کی اور باقاعدہ مسلح جدوجہد کی۔

وفات[ترمیم]

25 اگست 1969ء کو جب وہ حیدرآباد سے ایک میٹنگ میں شرکت کرنے دہلی آئے ہوئے تھے، ان کا انتقال ہو گیا۔ انہیں حیدرآباد دکن میں قبرستان شاہ خموش میں دفن کیا گیا۔

ان کے لوح مزار پر یہ شعر کندہ ہے؛

بزم سے دور وہ گاتا رہا تنہا تنہا

سو گیا ساز پہ سر رکھ‍ کے سحر سے پہلے

شعری سفر[ترمیم]

ان کا شعری سفر 35 سال کے عرصہ پر محیط ہے۔ مخدوم ایک زود گو شاعر نہیں تھے۔ تاہم مختلف وقفوں سے ان کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے۔ سرخ سویرا، گل تر اور بساط رقص۔ مخدوم نے زیادہ تر نظم کی صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی غزلوں کی کل تعداد محض 21 ہے۔

“آپ کی یاد آتی رہی رات بھر“ اور “عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ‍ رات ڈھلے“ ان کی نمائندہ غزلوں میں سے ہیں۔ نظم میں بلور، ملاقات، عورت، وقت، بے درد مسیحا اور خواہش چند مقبول نام ہیں۔

نمونۃ کلام[ترمیم]

فردیات

رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے

سانس کی طرح سے آپ آتے رہے، جاتے رہے

____

بربط نواز بزم الوہی! ادھر تو آ

اے داعئ پیام عبودی! ادھر تو آ


موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن

رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن


ان کی ایک نظم چارہ گر

ایک چمبیلی کے منڈ وے تلے

میکدہ سے ذرا دور اس موڑ پر

دو بدن

پیار کی آگ میں جل گئے

پیار حرف وفا

پیار ان کا خدا

پیار ان کی چتا

دو بدن

پیار کی آگ میں جل گئے

مسجدوں کے مناروں نے دیکھا انہیں

مندروں کے کواڑوں نے دیکھا انہیں

میکدوں کی دراڑوں نے دیکھا انہیں

از ازل تا ابد

یہ بتا چارہ گر

تیری زنبیل میں

نسخہ کیمائے محبت بھی ہے

کچھ علاج مدواے الفت بھی ہے

1948 میں جب سی پی آئی پر پابندی لگی تو مخدوم جیل میں تھے۔ کسی لڑکی سے محبت کی پاداش میں جیل میں اسی وقت ان کے ساتھ جیل میں ایک نوجوان بھی تھا۔ لڑکی کی خاندان والوں نے اس کے خلاف سنگین الزامات لگائے تھے۔ مخدوم نے کچھ وقت اس نوجوان کے ساتھ بِتایا اور شاعری و سیاسیات پر اپنی نظموں سے روشناس کرایا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. www.insafbulletin.net/archives/