ضمیر جعفری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ضمیر جعفری
ضمیر جعفری

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1916  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جہلم  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 مئی 1999 (83 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسلام آباد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
عملی زندگی
صنف مزاحیہ شاعری
مادر علمی اسلامیہ کالج لاہور  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ اردو شاعر
اعزازات
P literature.svg باب ادب

ضمیر جعفری اردو کے ممتاز مزاح نگار اور شاعر ہیں۔ انکا پورا نام سید ضمیر حسین جعفری تھا۔ 1 جنوری 1916ء کو جہلم کے ساتھ ایک گاؤں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ تعلیم جہلم، اٹک اور لاہور سے حاصل کی۔

صحافت سے وابستہ ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم میں فوج میں شامل ہوئے۔ 1948ء میں اخبار نکالا۔ 1950ء میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا دوبارہ فوج میں آئے۔ سی ڈی اے اسلام آباد، نیشنل سنٹر اور اکادمی ادبیات پاکستان سے متعلق رہے۔ مافی الضمیر شعری مجموعہ ہے۔

وہ بیک وقت فوجی بھی تھے، صحافی بھی اور شاعر بھی۔ ان کے کئی ملی نغمے اب بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں بلکہ ان کا لکھا ہوا نغمہ ''میرا لونگ گواچہ'' مسرت نذیر کی آواز میں جب سماعتوں سے ٹکراتا ہے تو جعفری صاحب کی شخصیت بے ساختہ سامنے گھومتی نظر آتی ہے۔ سید ضمیر جعفری کا اصل نام سید ضمیر حسین شاہ ہے۔ وہ ضلع جہلم کے گائوں چک عبدالخالق میں یکم جنوری 1916ء میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم گائوں کے ٹاٹ مدرسہ میں حاصل کی۔ بی اے اسلامیہ کالج لاہور سے کیا۔ زمانہ طالب علمی سے لکھنے کا آغاز کیا۔ لاہور سے روزنامہ ''احسان'' کے ذریعے صحافت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ چراغ حسن حسرت کے رسالے ''شیرازہ'' کے مدیر بھی رہے بعد ازاں سرکاری ملازمت کے بعد فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے منسلک ہوئے۔ 1949ء میں فوجی ملازمت کو خیرباد کہہ کر ''بادشمال''کے نام سے اپنا روزنامہ جاری کر دیا جو ناکام رہا پھر پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں پنجہ آزمائی کی وہ بھی ناکام رہی بعد ازاں پھر سے فوج میں واپسی ہو گئی۔ 1966 میں فوج سے سبکدوشی کے بعد سی ڈی اے کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر اور شمالی علاقہ جات کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ اکادمی ادبیات پاکستان سے بھی وابستہ رہے اور اخبارات کے لیے اور پی ٹی وی کے لیے پروگرام بھی کرتے رہے۔ انھیں ادبی خدمات کے طور پر تمغۂ قائد اعظم، صدارتی تمغۂ برائے حسن کارکردگی اور ہمایوں گولڈ میڈل کے انعامات سے نوازا گیا۔ ان کی اب تک دو درجن سے زائد کتب منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں نمایاں نام یہ ہیں:

تصانیف[ترمیم]

ان کی شعری تصانیف یہ ہیں

  1. جزیروں کے گیت،
  2. کھلیان، ولایتی
  3. زعفران،
  4. لہو ترنگ،
  5. مسدّس بے حالی،
  6. گنرشیر خان،
  7. من میلہ،
  8. مافی الضمیر،
  9. ضمیریات،
  10. رموز وطن،
  11. من کے تار،
  12. متاع ضمیر،
  13. قریۂ جاں،
  14. نشاطِ تماشا (کلیات)
  15. آگ(شعری مجموعہ)
  16. ولایتی زعفران (انگریزی سے ترجمے)
  17. اکتارہ
  18. کارزار

ان کی نثری کتب حسب ذیل ہیں،

  1. ہندوستان میں دو سال،
  2. اڑتے خاکے،
  3. کتابی چہرے،
  4. جنگ کے رنگ،
  5. حفیظ نامچہ،
  6. آنریری خُسر (ناولٹ)،
  7. گورے کالے سپاہی،
  8. ضمیر حاضر ضمیر غائب،
  9. خدوخال،
  10. نظر غبارے وغیرہ۔

وفات[ترمیم]

انھوں نے قلم سے رشتہ آخر دم تک برقرار رکھا۔ وہ 16 مئی 1999ء میں طویل علالت کے بعد دار فانی سے چل بسے۔ ان کی قبر مندرہ کے نزدیک ضلع راولپنڈی میں ہے،

نمونہ کلام[ترمیم]

ان کی عورتوں کی اسمبلی ملاحظہ ہو،

میاں اور بچے خدا کے حوالے

حسیں ہاتھ میں نرم فائل سنبھالے

کس انداز سے ناز فرما رہی ہے

کہ جیسے چمن میں بہار آ رہی ہے

مباحث میں یوں گرم گفتار ہیں سب

کہ بس لڑنے مرنے کو تیار ہیں سب

فسوں کار ہیں سب طرح دار ہیں سب

برابر برابر کی سرکار ہیں سب

ادھر اصغری بھڑک گئی اکبری سے

ادھر طفل رونے لگے گیلری سے

‘‘اسپیچوں’’ میں گوٹے کناری کی باتیں

بہو کی کفایت شعاری کی باتیں

پڑوسن کی پرہیزگاری کی باتیں

غرض ہر بیاہی کنواری کی باتیں

رواں ہیں ہجوم تجلی کے دھارے

یہ آنچل سمیٹے وہ گیسو سنوارے

دم گفتگو کوئی جیتے نہ ہارے

ستاروں سے ٹکرا رہے ہیں ستارے

بوا کو تو دیکھو نہ گہنا نہ پاتا

بجٹ ہاتھ میں جیسے دھوبن کا کھاتا

بہ انداز غیظ و غضب بولتی ہیں

بہ آواز شور و شغب بولتی ہیں

نہیں بولتی ہیں تو کب بولتی ہیں

یہ جب بولتی ہیں تو سب بولتی ہیں

معاً اپنے خوابوں میں گم ہو گئی ہیں

ابھی جاگتی تھیں ابھی سو گئی ہیں

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]