مشتاق احمد يوسفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مشتاق احمد يوسفی
معلومات شخصیت
پیدائش 4 ستمبر 1921  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
راجستھان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 20 جون 2018 (97 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مزاح،مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
کمالِ فن ایوارڈ، آدم جی ایوارڈ، بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز حکومتِ پاک
P literature.svg باب ادب

مشتاق احمد یوسفی (4 ستمبر 1921ء - 20 جون 2018ء) اردو کے بھارتی نزاد پاکستانی مزاح نگار تھے۔ ان کی ولادت تب کے ہندوستان اور اس وقت کے بھارت میں ہوئی مگر انہوں نے بطور مزاح نگار خود کو پاکستانی کہلوانا زیادہ پسند کیا اور تقسیم ہند کے بعد بھارت کو جو نقصان ہوا ان میں مشتاق احمد یوسفی کا ہجرت کر جانا بھی ہے۔ یوسفی بہت سے قومی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے صدر بھی رہے۔ سنہ 1999ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ امتیاز ملا پھر سنہ 2002ء میں پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ مشتاق احمد یوسفی بڑے نستعلیق انسان تھے۔ وہ بینکر تھے۔ عوامی اور تعلقات عامہ کے آدمی نہیں تھے۔ وہ لکھتے کم تھے لیکن معیار پر نظر رکھتے تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1923ء کو ہندوستان کے شہر جے پور میں ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبد الکریم خان یوسفی جے پور بلدیہ کے صدر نشین تھے اور بعد میں جے پور قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر مقرر ہوئے۔ مشتاق احمد یوسفی نے راجپوتانہ میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی۔ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان سرحد پار کے شہر کراچی میں منتقل ہو گیا۔ وہ سنہ 1950ء میں مسلم کمرشیل بینک سے متعلق ہوئے اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سنہ 1965ء میں الائڈ بینک میں بحیثیت مینیجنگ ڈائریکٹڑ مقرر ہوئے۔ سنہ 1974ء میں یونائٹیڈ بینک کے صدر اور 1977ء میں پاکستان بینکنگ کونسل کے صدر نشین بنے۔ بنکاری کے شعبہ میں ان کی غیر معمولی خدمات پر انہیں قائد اعظم میموریل تمغا عطا ہوا۔

خود نوشت خاکہ[ترمیم]

مشتاق احمد یوسفی نے اپنے اوپر بھی کافی کچھ لکھا ہے۔ یہ ان کی خاص بات تھی کہ انہوں نے دوسروں کے ساتھ خود کو بھی نہیں بخشا ہے۔ چنانچہ وہ چراغ تلے کے مقدمہ میں خود کا تعارف یوں کرواتے ہیں:

نام: سرورق پر ملاحظہ فرمائیے
خاندان: سو پشت سے پیشہ آبا سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے
تاریخ پیدائش: عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سنہ ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔ اور یہ منزل بھی عجیب ہے۔ بقول صاحب “کشکول“ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔
پیشہ: گوکہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن اسکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔ اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اسلوبی سے دو اور دو کو پانچ کر لیتے ہیں۔
پہچان: قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)
وزن: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتمام حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔
جسامت: یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن سکتا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو مجھے بھی فٹ آتا ہے۔
حلیہ: اپنے آپ پر پڑا ہوں۔ پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذات کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔
پسند: مرزا غالب، ہاکس بے، بھنڈی، پھولوں میں، رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرسبز تازہ تازہ اور کرارے کرنسی نوٹ کا عطر نکال کر ملازمت پیشہ حضرات اور ان کی بیویوں کو مہینے کی آخری تاریخوں میں سنگھایا جائے تو گرہستی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے۔ پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب بر بنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ بعض تنگ نظر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کتوں سے بلاوجہ چڑتے ہیں حالانکہ اس کی ایک نہایت معقول اور منطقی وجہ موجود ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں۔ وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔ گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا۔
چڑ: جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔
مشاغل: فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا
تصانیف: چند تصویران بتاں، چند مضامین و خطوط
کیوں لکھتا ہوں: ڈزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے۔

پھر جب سرگزشت میں اپنا تعارف کرایا تو انداز بدل گیا گو کہ اس بار بھی وہ مزاح کی پھلجھڑیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

  1. رنگ: سبھی رنگ پسند ہیں، سو کے نوٹوں کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔
  2. پھول: تیز مہکار چہکار نہیں بھاتیں، رات کی رانیاں، دونوں قسم کی۔ دور کسی اور کے انگن میں ہی سے مہک دیتی اچھی لگتی ہیں۔
  3. حسن: جہاں تک حسن کا تعلق ہے، وغیرہ وغیرہ پسند ہے۔
  4. حلیہ: آئینہ دیکھتا ہوں تو قادر مطلق کی صناعی پر جو ایمان ہے وہ کبھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
  5. خاندان اور بچپن: اس صدی کی تیسری دہائی میں ایک خاتون نے جو اردو میں معمولی شد بد رکھتی تھی، اس زمانے کا مقبول عام ناول "شوکت آرا بیگم" پڑھا، جس کی ہیروئن کا نام شوکت آرا اور معاون کردار کا نام فردوس تھا۔ ان کے جب بیٹیاں ہوئیں تو دونوں کے یہی نام رکھے گئے۔ ایک کردار کا نام ادریس اور دوسرے خدائی خوار کا اچھن تھا۔ یہ دونوں انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بطور نام اور عرفیت بخش دیے۔ بچے کل چار دستیاب تھے جبکہ ناول میں ہیرو کو چھوڑ کر ابھی ایک اور اہم کردار پیارے میاں نامی ولن باقی رہ گیا تھا۔ چنانچہ ان دونوں ناموں اور دہرے رول کا بوجھ بڑے بیٹے کو ہی اٹھانا پڑا جس کا نام ہیرو کے نام پر مشتاق احمد رکھا گیا تھا۔ یہ سادہ لوح خاتون میری ماں تھی۔ بحمداللہ 1 ناول کی پوری کاسٹ، باستثنائے شوکت آرا، جس کا طفولیت میں ہی انتقال ہو گیا تھا، زندہ و سلامت ہے۔ والدہ کی بڑی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور عرب جا کر بدووں کا مفت علاج کروں، اس لیے کہ ناول کے ہیرو نے یہی کیا تھا۔ مولا کا بڑا کرم ہے کہ ڈاکٹر نہ بن سکا۔ ورنہ اتنی خراب صحت رکھنے والے ڈاکٹر کے پاس کون پھٹکتا۔ ساری عمر کان میں اسٹھیسس کوپ لگائے اپنے ہی دل کی دھڑکنیں سنتے گزری۔ البتہ ادھر دو سال سے مجھے سعودی عرب، بحرین، قطر، عمان اور عرب امارات کی خاک نہیں تیل چھاننے اور شیوخ کی خدمت کی سعادت نصیب ہوتی رہی ہے۔ ناول کے بقیہ پلاٹ کا بے چینی سے انتظار کر رہا ہوں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اردو ادب کبھی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوا وہ ذرا دیدہ عبرت نگاہ سے اس عاجز کو دیکھیں۔ یہ کچا چٹھا۔

ادبی کام[ترمیم]

چراغ تلے 1961ء میں چھپی اور خاکم بدہن 1969ء میں، جب کہ زرگزشت 1976ء میں اور ان تین کتابوں کے ذریعے انہوں نے شگفتہ نثر نگاری کا جو اعلی معیار قائم کیا اس کا نمونہ دور دور تک کہیں اور نظر نہیں آتا تھا۔ آبِ گم، جو 1990ء میں چھپی ناول کی طرح مقبول ہوئی۔ یہ ایسی کتابیں تھیں جن کے وسیلے سے یوسفی صاحب اردو ادب کا ایک مستقل باب ہو چکے تھے۔ ایک اور کتاب بھی آئی تھی یوسفی صاحب کی، شامِ شعرِ یاراں۔ یہ کتاب 2014ء میں منظر عام پر آئی جو ان کی متفرق تحریروں کو جہاں تہاں سے جمع کرکے مرتب کر لی گئی تھی۔

شامِ شعرِ یاراں جب شائع ہوئی تو ان کے مداحوں کو اس سے مایوسی ہوئی کیونکہ ان کے شائقین کے سامنے ان کا سابقہ معیار تھا جس کے وہ نئی کتاب میں منتظر تھے۔ شامِ شعرِ یاراں یوسفی کے مانوس اسلوب کے معیار پر نہیں اتری تھی۔ دراصل یہ آخری کتاب ان کے مضامین اور بعض تقریروں کا مجموعہ ہے۔

بجھی بجھی شامِ شعر یاراں[ترمیم]

یوسفی کی آخری تصنیف کو ربع صدی گزر چکی تھی۔ چونکہ ان کے مداحوں کو ان کا چکسا لگ چکا تھا چنانچہ وہ آنے والی نئی تصنیف کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ مشتاق احمد کی پرانی کتابیں، ان میں موجود گدگداتے جملے اور ان کا منفرد لب و لہجہ والا طنز و مزاح کچھ ایسی باتیں تھیں جو سب کو شوق انتظار میں مزہ دے رہی تھیں۔ کچھ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ شاید اس میں آب گم والا معیار ہو یا چونکہ 25 برس بعد کچھ لا رہے ہیں تو اس سے بھی بڑھ کر کچھ ہو۔ مگر جب کتاب منظر عام پر آئی تو امیدوں کے سارے ارمان پانی میں بہ گئے۔ یہ کتاب کیا تھی تقریروں کا مجموعہ تھی اور پرانی کتابوں کے ڈھیروں اقتباس درج تھے۔ خدا جانے یوسفی صاحب نے اس کتاب کو کس نیت سے شائع کیا تھا مگر اس میں ان کا وہ معیار نظر نہ آیا جس کے لیے وہ مشہور تھے۔ ظفر سید بی بی سی اردو میں لکھتے ہیں کہ:

کتاب آنے سے پہلے سب سوچتے تھے کہ اس میں یوسفی صاحب کو شاید ’آبِ گم‘ کے فلک بوس معیار کو ایک بار پھر چھونے میں مشکل پیش آئے گی۔ لیکن دلِ خوش فہم کے ایک گوشے میں ایک کرن یہ بھی پنپتی رہی کہ 25 سال بعد کتاب لا رہے ہیں تو کیا پتہ، اس میں کچھ چمتکار دکھا ہی دیں۔

ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ یوسفی صاحب کے اندر کا نقاد بہت سخت ہے، جب تک تحریر خود ان کے کڑے پیمانے پر سولہ آنے نہ اترے، اسے دن کی ہوا نہیں لگنے دیتے۔ ان کا مسودے کو پانچ سات سال تک ’پال میں رکھنے‘ والا فقرہ تو ویسے ہی بڑا مشہور ہے۔ کچھ امیدیں اس وجہ سے بھی بندھیں کہ افتخار عارف نے کراچی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یوسفی صاحب نے گذشتہ عشروں میں سات سات سو صفحے کے دو سفرنامے، چار سو صفحے کا ایک ناول اور پتہ نہیں کیا کیا لکھ رکھا ہے، لیکن وہ انھیں شائع نہیں کروا رہے کہ ایک آدھ آنچ کی کسر ہے۔ بالآخر دکانوں کے چکر لگا لگا کر کتاب ہاتھ آئی تو پڑھ کر امیدوں کے محل زمین پر آ رہے۔ کتاب کیا ہے، طرح طرح کی الم غلم تحریریں جمع کر کے بھان متی کا کنبہ جوڑ رکھا ہے۔ اگر کالموں کے کسی مجموعے کی تقریبِ رونمائی میں تقریر کی ہے تو اسے بھی کتاب کی زینت بنا دیا ہے، کسی مرحوم کی یاد میں تاثرات پیش کیے تو کتاب میں درج کر ڈالے، سالانہ مجلسِ ساداتِ امروہہ میں اظہارِ خیال کیا تو لگے ہاتھوں اسے بھی شامل کر دیا اور پھر تکرار ایسی کہ خدا کی پناہ۔

یوسفی پارے[ترمیم]

مشتاق احمد یوسفی نے اپنی کتابوں بے شمار ایسے جملے کہے لکھے ہیں جو ضرب المثل بن گئے۔ لوگ انکو مزین اور رنگین تصاویر میں سجا کر فیس بک پر شیئر کرتے ہیں۔ واٹس ایپ پر اسٹیٹس لگاتے اور اقوال زریں کی طرح ان کو پھیلاتے ہیں۔ ان کے چند اقوال درج ذیل ہیں:

  • "ادھر کچھ ماہ قبل ایک شوخ چنچل لڑکی ہمیں ملی۔ آدھ پون گھنٹے کی گفتگُو کے بعد کہنے لگی کہ یُوسفی صاحب! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں مگر تحریر میں بالکل لُچّے لگتے ہیں"۔ ( مُشتاق احمد یوسفی)
  • کسی لڑکی نے پوچھا کہ "اپنی کمپنی انجوائے کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟"

بولے: "ایسے دوست بنائیے اور ایسی کتابیں پڑھیے کہ جو آپ کو سوچنے کی تحریک دیں۔" لڑکی بولی "اور اگر ایسے دوست نہ ہوں تو؟" "ایسی حالت میں عام طور سے لڑکیاں شادی کر لیتی ہیں۔"

  • بعض مردوں کو عشق ميں محض اس لیے صدمے اور ذلتيں اُٹھانی پڑتی ہيں کہ ”محبت اندھی ہوتی ہے” کا مطلب وہ يہ سمجھ بيٹھتے ہيں کہ شايد عورت بھی اندھی ہوتی ہے۔
  • مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔
  • وہ چچا سے پھوپا بنے اور پھوپا سے خسر الحذر۔
  • پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔
  • مسلمان کسی ایسے جانوار کو محبت سے نہیں پالتے جسے وہ ذبح کر کے کھا نہ سکیں۔
  • آدمی ایک بار پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔
  • سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو جاتے ہیں۔
  • انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔
  • میرا تعلق تو اس بھولی بھالی نسل سے رہا ہے جو خلوصِ دل سے سمجھتی ہے کہ بچے بزرگوں کی دعا سے پیدا ہوتے ہیں۔
  • الحمد للہ بھری جوانی میں بھی ہمارا حال اور حلیہ ایسا نہیں رہا کہ کسی خاتون کے ایمان میں خلل واقع ہو۔
  • اسلام آباد درحقیقت جنت کا نمونہ ہے، یہاں جو بھی آتا ہے حضرت آدم کی طرح نکالا جاتا ہے۔
  • کرنل محمد خان سے: ’کرنل صاحب، سفرنامے میں نازنینوں کی تعداد آپ کی ذاتی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے، آخر بچارے مقامی گوروں کا بھی حقِ بدچلنی بنتا ہے۔‘
  • پرانا مقدمے باز آدھا وکیل ہوتا ہے اور دائم المرض آدمی پورا عطائی۔
  • طوطے سے مستقبل کا حال پوچھنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہمیشہ ایک اور نیک فال نکالتا ہے، جس کا سبب یہ کہ دماغ کی بجائے چونچ سے کام لیتا ہے۔
  • (جنرل ضیاء الحق اپنی تقریروں میں) چنگیزی طرزِ ادا سے مزاح کا ناس مار دیتے تھے، کیوں کہ مزاح ان کے مزاح، منصب، مونچھ، سری جیسی ابلواں آنکھوں اور وردی سے لگّا نہیں کھاتا تھا۔

اعزازات[ترمیم]

  • ستارہ امتیاز: صدر پاکستان کے ہاتھوں سے سنہ 1999ء میں ملا۔
  • ہلال امتیاز: صدر پاکستان کے ہاتھوں سے سنہ 2002ء میں ملا۔
  • قائد اعظم
  • پاکستان اکیڈمی برائے خطوط انعام سنہ 1990ء: سب سے بہترین کتاب کے لیے۔
  • ہجرہ انعام
  • آدم جی انعام: سب سے بہترین کتاب کے لیے۔

وفات[ترمیم]

20 جون، سنہ 2018ء کو کراچی میں وفات ہوئی، کل 94 سال کی عمر پائی۔ 20 جون کو سلطان مسجد کراچی میں نماز جنازہ کے بعد ان کو سپرد خاک کیا گیا۔

حوالے[ترمیم]