دلاور فگار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دلاور فگار
دلاور فگار

معلومات شخصیت
پیدائش 8 جولا‎ئی 1929  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بداؤں ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 جنوری 1998 (69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت پاکستانی
عرفیت فگار
نسل مہاجر
عملی زندگی
پیشہ اردو شاعر
اعزازات
P literature.svg باب ادب

دلاور فگار (Dilawar Figar) کا حقیقی نام دلاورحسین تھا۔ وہ ایک شاعر، مزاح نگار، نقاد، محقق اور ماہرتعلیم کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ وہ 8 جولائی، 1929ء کو بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے قصبہ بدایوں میں پیدا ہوئے۔

شعروشاعری کا آغاز[ترمیم]

دلاورنے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942ء میں کیا۔ انہیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی نامی اساتذہ کی رہنمائی ملی تھی۔

تعلیم[ترمیم]

دلاورنے اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (معاشیات) کی سندیں بھی حاصل کیں۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انہوں نے بھارت میں درس و تدریس سے کیا۔ اس کے بعد وہ ہجرت کرکے کراچی آئے۔ وہ یہاں کے عبد اﷲ ہارون کالج میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھاتے تھے۔ اس وقت فیض احمد فیض یہاں کے پرنسپل ہوا کرتے تھے۔

انتقال[ترمیم]

25 جنوری 1998ء کو دلاور فگار کا انتقال ہو گیا۔[1]

تخلیقات[ترمیم]

دلاور کی غزلوں کا مجموعہ ’’حادثے‘‘ 1954ء میں چھپا تھا۔ ان کی ایک طویل نظم ’’ابو قلموں کی ممبری‘‘ 1956ء میں کافی مقبول ہوئی۔ ان کی مزاحیہ نظموں، قطعوں اور رباعیوں کا مجموعہ ’’ستم ظریفیاں‘‘ 1963ء میں شائع ہوا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]