احمد راہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
احمد راہی
معلومات شخصیت
پیدائش 12 نومبر 1923  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امرتسر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2 ستمبر 2002 (79 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ غنائی شاعر، نغمہ نگار، منظر نویس، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پنجابی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
احمد راہی

احمد راہی  : پیدائش 13 نومبر 1923ء، پنجابی شاعر، فلمی کہانی نویس اور نغمہ نگار، پاکستان کی پنجابی فلموں میں اپنی خدمات دیں، بطور کہانی نویس ان کی یادگار فلموں میں مرزا جٹ، ہیر رانجھا، ناجو، گُڈو، اُچّا شملہ جٹ دا مشہور ہے اس کے علاوہ فلم شہری بابو، ماہی مُنڈا، یکے والی، چھومنتر، الہ دین کا بیٹا، مٹی دیاں مورتاں، باجی، سسی پنوں اور بازارِ حسن نامی فلموں کے گیت لکھے۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

فلمی کہانی نویس اور نغمہ نگار۔ جدید پنجابی ادب کے ایک بہت ہی اہم شاعر۔ احمد راہی کا تعلق امرتسر کے ایک کشمیری خاندان سے تھا جو آزادی کے بعد ہجرت کر کے لاہور آ گیا۔

فنی زندگی[ترمیم]

امرتسر میں ہی انہوں میں مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو، شاعر سیف الدین سیف، کہانی نگار اے حمید کی صحبت میں رہتے ہوئے ادب میں دلچسپی لینا شروع کردی لیکن لاہور کے ادبی ماحول میں اس میں مزید نکھار آیا۔

لاہور آمد پر انہیں ترقی پسند ادبی مجلے ’سویرا‘ کا مدیر بنا دیا گیا۔ لیکن جب ترق پسند ادیبوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں تیزی آئی تو انہوں نے فلمی دنیا کا رخ کیا۔

فلمی دنیا[ترمیم]

احمد راہی نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز پنجابی فلم ’بیلی‘ سے کیا جو تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔ اس فلم کی کہانی مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے لکھی جبکہ ہدایات دی تھیں مسعود پرویز نے۔ انہوں نے مسعود پرویز اور خواجہ خورشید انور کی مشہور پنجابی فلم ’ہیر رانجھا‘ کے لیے بھی نغمات لکھے جن میں ’سن ونجھلی دی مٹھڑی تان‘ اور ’ونجھلی والڑیا توں تے موہ لئی اے مٹیار‘ آج بھی اپنا جادو جگاتے ہیں -انہوں نے فلمی حلقوں میں بھی اپنا ایک خاص مقام بنایا اور ان کے لکھے ہوئی گانوں میں بھی لوگوں کو لوک شعری اور ادب کا رنگ دیکھنے کو ملا۔

پنجابی فلمی شاعری کے لیے ان کی خدمات ویسی ہی ہیں جیسی ساحر لدھیانوی اور قتیل شفائی کی اردو فلموں کے لیے ہیں۔ انہوں نے اردو فلموں کے لیے بھی منظر نامہ، مکالمے اور گانے لکھے۔ ان کی مشہور اردو فلموں میں ’یکے والی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

پنجابی ادب[ترمیم]

پنجابی ادب میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ان کا نظموں کا مجموعہ ’ترنجن‘ ہے جو 1952ء میں شائع ہوا۔ اس وقت تک پنجابی کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ نازک احساسات اور جذبات کے اظہار کے لیے یہ زبان موزوں نہیں ہے لیکن احمد راہی ترنجن کے ذریعے اس تاثر کو زائل کرنے میں کامیاب رہے۔

ترنجن کی نظموں میں تقسیم ہند کے وقت ہونے والے ہندومسلم فسادات میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو بڑے شاعرانہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے :

ناں کوئی سہریاں والا آیا
تے ناں ویراں ڈولی ٹوری
جس دے ہتھ جد ی بانہہ آئی
لے گیا زور و زوری

(نہ کوئی سہرے والا آیا، نہ بھائیوں نے ڈولی اٹھائی، جس کے ہاتھ جو لگی وہ اسے زبردستی لے گیا)

اس مجموعے کا فلیپ سعادت حسن منٹو نے احمد راہی کی فرمائیش پر پنجابی میں لکھا اور یہی سعادت حسن منٹو کی اکلوتی پنجابی تحریر بھی ثابت ہوئی۔ لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]