لغوی معنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سیفالیلغوی معنی متعلقہ زبان اور بولی میں لفظ کا مطلب۔

تشریح[ترمیم]

ہر لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں ان میں سے ایک لغوی معنی ہوتا ہے جو عام طور پر وہی معنی ہوتا ہے جس میں لفظ کو وضع ہونے کے بعد ابتدائی طور پر استعمال کیا گیا ہو۔ اس کو وضعی معنی یا لفظی معنی یا اصلی معنی اور حقیقی معنی بھی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ لفظ کے کچھ دیگر استعمالی معنی بھی کبھی کبھار لفظی معنی کہلاتے ہیں۔ عام طور پر لفظی معنی کے مد مقابل اصطلاحی معنی ہوتا ہے۔

  • لفظ مخارج پر اعتماد کرتے ہوئے نکلنے والی آواز ہے۔
  • لغوی لغت سے منسوب کو کہتے ہیں۔ لغت زبان کو بھی کہتے ہیں۔
  • زبان (language) وہ لفظ جس کے معانی متعین اور قابل اندراج ہوں۔
لغت کا لغوی معنی ہے بولی یعنی ایسی آوازیں جن کے ذریعہ ہر قوم اپنے اغراض ومقاصد بیان کرے اور (علم لغت کی) اصطلاح میں لغت وہ علم ہے جس سے کسی زبان کے مفردات کے معنی وضعی اورطریقہ استعمال معلوم ہو۔[1]

مربوط الفاظ[ترمیم]

زبان؛ بولی؛ بھاشا؛ لسان؛ انسانوں کے مابین تحریری یا صوتی اشاروں کی ذریعے رابطے کا نظام؛ کسی نسلی، قومی یا ثقافتی گروہ کی خاص بولی؛ وہ الفاظ جو خاص طور پر کس فن، شعبۂ علم یا پیشے میں اختیار کیے گئے ہوں، کسی شخص کا خاص انداز گفتگو، عبارت، لسانیات، توسیعی انداز میں زندہ مخلوقات کے خیالات و احساسات کا پیچیدہ یا سادہ اظہار، طرزِ بیان، رنگِ تکلُم، لُغت، نطق، بول چال، الفاظ، عبارت، شبد۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صرف بَہَائی، بہاء الدین عاملی، صفحہ 11، مکتبۃ المد ینہ کراچی
  2. ْQaumi English Urdu Dictionary - قومی انگریزی اردو لغت