شعر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شعر مقررہ وزن اور بحر میں لکھی ہوئی تحریر شعر کہلاتی ہے ۔

شعر کی جمع کو اشعار کہتے ہیں شعر کی سطر مصرع کہلاتی ہے، ایک شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔ پہلے مصرعے کو مصرع اولیٰ اور دوسرے کو مصرع ثانی کہتے ہیں۔ جیسے : چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

      میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے 

مثال میں دئیے گئے پورے جملے کو شعر کہیں گے اور اس شعر کی ایک سطر کو مصرع کہیں گے اور شعر کی پہلی سطر کو مصرعِ اولی کہیں گے اور شعر کی دوسری سطر کو مصرعِ ثانی کہیں گے۔

غزل[ترمیم]

بلا خوف و تشکیک کہا جا سکتا ہے کہ اردو شاعری میں کوئی ایک بھی ایسا شاعر نہیں گزرا جس نے کبھی کوئی غزل نہ کہی ہو، یعنی غزل شاعری کے لیے ایک اہم ترین جز تھی یا بن چکی ہے سچ تو یہ ہے کہ غزل کے بغیر شاعری کا تصور کچھ عجیب سا بلکہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ غزل کے اجزائے ترکیبی چار ہیں، غزل اِن ہی چار اجزائے ترکیبی سے ترتیب دی جاتی ہے اور یہی چار اجزاء غزل کی پہچان ہیں:

ردیفقافیہمطلعمقطع [1]

حوالہ جات[ترمیم]