سید آدم بنوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید معزالدین ابو عبد للہ آدم بن سید اسماعیل مشوانی (1506ء۔ 1643ء) معروف بہ قطب الاقطاب شیخ سید آدم بنوری مجدد الف ثانی کے اجل خلفاء میں سے تھے۔

شجرۂ نسب[ترمیم]

سید آدم بنوری سرہند سے بیس میل کے فاصلے پر واقع قصبہ بنور میں پیدا ہوئے۔ 27 واسطوں سے آپ کا سلسلہ نسب امام موسی کاظم تک جا پہنچتا ہے- آپ نسلاً حسینی کاظمی موسوی سید اور قبیلے کے لحاظ سے مشوانی تھے، ننہال کی طرف سے افغانوں سے رشتے کی بدولت افغان مشہور تھے[1][2][3]

شجرۂ نسب: شیخ سید آدم بن سید اسماعیل بن بہاؤالدین بن یوسف بن یعقوب بن حسین بن دولت بن امبیل بن سعدی بن قلندر[2] بن حسین بن داؤد بن سھل بن عبدالغفور بن سید محمد مسعود بن سید محمد ظفر بن سید احمد سیف الدین بن شیخ المشائخ سید محمد حمزہ گیسو دراز بن سید عبدالغفار بن سید عمر الکعب بن سید جعفر القائم بن سید علی صاحب الانوار بن سید حسین بن سید احمد بن سید محمد الرجال بن اسماعیل صاحب الاخبار بن ابراہیم مرتضی الاصغر بن امام موسیٰ کاظم [2][4][5]


سید آدم بنوری کے اجداد میں حسین بن دولت بن امبیل اسلام کے پیغام کو پھیلانے اور روشناس کے لیے بھارت کے گاؤں بنورمیں افغانستان سے ہجرت کرکے آئے۔ بنور چندی گڑھ پٹیالہ نیشنل ہائی وے NH 64 پر، 25 کلومیٹر چندی گڑھ سے بھارتی پنجاب کے دار الحکومت کا ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ سید آدم بنوری کے نسب كا سلسلہ نبی محمد صل الله عليه و اٰله وسلم کو جاكر ملتا ہے- سید آدم بنوری کے باپ دادا روا سے تھے۔ ان کے والد سید اسماعیل تھے، اپنی ماں کی طرف سے افغان تھے۔ ان کے اجداد میں سے سید حسین بن دولت بن امبیل بنور میں آباد ہوئے تھے۔

واقعہ ولادت[ترمیم]

آپ مادر زاد ولی تھے۔ اصلی وطن قصبہ مودہ تھا لیکن سرہند کے قریب قصبہ بنور میں سکونت اختیار کی۔ آپ رح فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے والد جناب سید اسماعیل صاحب نے خواب میں حضور نبی کریم صل الله عليه و اٰله وسلم کی زیارت کی اور رسول اللہ صل الله عليه و اٰله وسلم نے سید اسماعیل رح کے سینہ پر اپنا دست مبارک پھیرا اور سید اسماعیل کو کھانے کے لیے کوئی چیز پیش کی جو انہوں نے کھا لی۔ فرماتے ہیں کہ اسی سبب آپ کی ولادت ہوئی۔[6]
سید آدم بنوری حجاز میں مجدد تعلیمات کو پھیلانے کے لیے سب سے پہلے آئے تھے۔

قرآن کی تعلیم[ترمیم]

آپ نے تعلیم ظاہری حاصل نہیں کی تھی۔ آپ مادر زاد ولی تھے۔ روایت ہے کہ اک روز آواز آئی کہ اے آدم تم نے قرآن کیوں نہ پڑھا، ہاتف غیبی کے حضور آپ رح نے عرض کی، خداوند! تو قادر مطلق ہے اگر چاہے تو اسی وقت حافظ قرآن بنا دے۔ چنانچہ فی الفور آپ کو حفظ قرآنی کی دولت سے نوازا گیا۔ اسی کے بعد ظاہری علوم کا حصول فرمایا۔[6]

تحریک و سلاسل روحانیہ[ترمیم]

آپ کسب معاش کے سلسلے میں عہد شباب میں فوج میں بھرتی ہو گئے مگر جب عشق نے متوالا کیا تو ملازمت چھوڑ دی اور مجدد الف ثانی کے خلیفہ حاجی خضر صاحب کے حضور حاضر ہو کر سلسلۂ مجددیہ میں شامل ہو گئے مگر بلطف خداوندی تھوڑے ہی عرصے میں ایسی منازل آ گئیں جن کا احاطہ شیخ موصوف کی حدود سے خارج تھا سو آپ کو براہ راست شیخ احمد سرہندی یعنی مجدد الف ثانی رح کے حضور بھیج دیا گیا۔ آپ شیخ احمد سرہندی کے اقابر ترین اور اجل خلفاء میں اول شمار ہوتے ہیں۔ سلسلۂ نقشبدیہ کے علاوہ آپ کے پاس سلسلۂ عالیہ قادریہ، سلسلۂ چشتیہ، سلسلۂ سہروردیہ، سلسلہ شطاریہ اور سلسلۂ مدارمی کی خلافت بھی تھی اور حد فضل و کرم الہی یہ تھا کہ آپ ازلی قلندر اور مادر زاد ولی تھے۔ سلسلۂ اویسیہ سے آپ کا تعلق اوائل عمر سے تھا حتی کہ دنیا نے آپکو خلیفة الزمانى اور قطب الاقطاب تسلیم کیا۔ سید آدم بنوری رح کی باطنی نسبت کو شیخ احمد سرہندی و دیگر تمام سلاسل پر فوقیت تمام تھی۔ آپ اتباع سنت و دفع بدعت میں مشہور تھے۔ امر بلمعروف و نہی عن المنکر آپ کا مشرب تھا۔ فقراء کو اغنیا پر ترجیح دیتے تھے۔ سید آدم بنوری تربیت مریدین میں بے نظیر تھے۔ تھوڑی سی توجہ سے طالبان حق کو لطائف ستہ میں سے ہر لطیفہ میں مرتبۂ فنا تک پہنچا دیتے تھے۔ اور آپکی صورت دیکھتے ہی طالبان حق کو زکر قلبی حاصل ہو جاتا تھا۔[7][8]

خلفاء[ترمیم]

لنگر و طعام[ترمیم]

سید آدم بنوری صاحب کی درگاہ میں ہزاروں طالبان طریقت کا حجوم رہتا۔ آپ کے سینکڑوں خلفاء ہیں اور لاکھوں کو آپ نے ولایت سے بہرور فرمایا۔ صاحب خزینة الاصفیا لکھتے ہیں کہ شیخ سید آدم بنوری صاحب کا لنگر دن میں دو وقت کے طعام میں ان کا متکفل تھا۔ [7][9]

کرامات[ترمیم]

سید آدم بنوری صاحب کرامات بزرگ ہوئے، آپ کے مقربین میں سے اک سید محمد صاحب ہوئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اک مرتبہ قحط سالی کا دور ہوا اور لنگر خانے کے مصارف میں مشکل درپیش آئی۔ خدام خانقاہ نے آپ سے ضرورت کا اظہار کیا۔آپ نے غلے کے مٹکے سے متعلق فرمایا “اس کو اونچی جگہ رکھ دو، اس کا منہ بند کر دو اور تلی میں سوراخ کر کہ غلہ لیتے رہو انشااللہ برکت ہو گی”۔ کہا گیا کہ چھ ماہ تک وہ غلہ حاصل کیا گیا یہاں تک کہ قحط سالی ختم ہوئی اور غلہ وافر ہوا۔ جب مٹکے کا منہ کھولا گیا تو اس میں اتنا ہی غلہ تھا جتنا منہ ڈھانپتے وقت موجود تھا۔[7][10]

شاہجہان کا دور اور سفر حج[ترمیم]

سید عبد اللہ صاحب (یہ شاہ عبدالرحیم کے مرشد اور سید آدم بنوری کے خلیفہ تھے) نے فرمایا کہ جب شیخ آدم بنوری سلطان شاہ جہان کے دور میں لاہور تشریف لائے تو آپ کے ساتھ معتقدین اور افغانوں کا دس  ہزار سے زائد مجمے کا حجوم رہتا تھا اور خانقاہ شہر جلیل کا نقشہ پیش کرتی تھی۔ جب شیخ آدم رح کی شہرت کا چرچا شاہجہاں تک پہنچا تو اس نے حالات کے پیش نظر اپنے وزیر اعظم سعداللہ اور مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی کو بھیجا تا کہ سید آدم سے ملاقات کریں۔ جب یہ دونوں ارکان دولت سید آدم رح کی قیام گاہ پر پہنچے تو آپ مشغول عبادت تھے اور کافی وقت حالت مراقبہ میں رہے۔ دونوں کافی دیر دروازہ پر انتظار فرماتے رہے۔  جب مراقبہ سے فارغ ہوئے تو یہ دونوں صاحبان زاؤیہ شیخ میں داخل ہوئے۔ سید آدم رح نے ان کی کوئی رسمی تعظیم ادا نہ کی جس پر وزیر اعظم سعداللہ نے فوراً اعتراض کر دیا کہ میں دنیا دار ہوں لیکن مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی عالم ہیں ان کی تعظیم تو کرنا ضروری تھی۔ جس پر سید آدم بنوری رح نے فرمایا کہ حدیث شریف میں ہے علمائے کرام دین کے امانت دار اسی وقت تک ہیں جب تک بادشاھوں سے اختلاط نہ کریں۔ بادشاہوں سے اختلاط کے بعد علما نہیں رہتے چور ڈاکو بن جاتے ہیں۔ پھر وزیر اعظم سعداللہ نے دریافت کیا کہ آپ کا نسب کیا ہے۔ آپ یعنی سید آدم بنوری رح نے جواب دیا کہ سید ہوں لیکن چونکہ نانہالی سلسلہ میں افغانوں سے رشتہ ہے اس لیے افغان مشہور ہو گیا ہوں۔ سعداللہ نے پھر دریافت کیا ہم نے سنا ہے آپ علم لدنی بھی رکھتے ہیں۔ جواب ملا بیشک و الحمداللہ۔ شیخ محمد اکرم قدوسی اقتباس الانوار میں رقمطراز ہیں کہ ملا عبدالحکیم نے سید آدم سے کہا کہ درویشوں کے لیے تکنر اچھا نہیں۔ سید آدم رح نے جواباً فرمایا کہ کیا آپ کو حدیث یاد نہیں ہے “التكبر مع المتكربين صدقة" {متکبریں کے سامنے تکبر کرنا صدقہ ہے} اس کے بعد دونوں صاحب واپس چکے آئے اور شاہجہاں سے کہا کہ معمولی فقیر ہے مگر متکبر ہے۔ لمبے چوڑے دعوے کرتا ہے افغان ہے مگر خود کو سید کہتا ہے۔ اس کے باوجود افغانی اس کے بہت معتقد ہیں۔ خطرہ ہے کوئی فتنہ نہ کھڑا کر دے۔ شاہجہان نے متاثر ہو کر حکم حجاز صادر کر دیا۔ سید آدم رح فوراً روانہ ہو کر سورت پہنچے۔ وہاں کا حاکم آپ کا معتقد تھا۔ اس سے فرمایا “تمھاری خدمت یہی ہے کہ ہمارے لیے فوراً جہاز مہیا کر دو”۔ شیخ سید آدم رح کی روانگی کے فوراً بعد شاہجہان نے خواب دیکھا کہ اس لی حکومت تب تک ہے جب تک آدم بنوری ھندوستان میں ہیں۔ خواب سے متوحش ہو کر شاہجہان نے حاکم سورت کے پاس سید کو روکنے کا حکم بھیجا مگر سید روانہ ہو چکے تھے۔[7] [11]

مدینہ[ترمیم]

حج بیت اللہ سے فارغ ہو کر مدینہ طیبہ پہنچے، اپنے نانا جان کی برکات کو سمیٹنا شروع کر دیا۔ زیارت روضۂ سیدالمرسلین صل الله عليه و اٰله وسلم کے بعد واپسی کا قصد کیا۔ اجازت کے لیے روضۂ انور پر حاظر ہوئے۔ لیکن ایک عجیب و غریب واقعہ سید آدم اور آپ کے رفقا نے مشاہدہ کیا۔ مرقد اطہر سے دو دست مبارک ظاہر ہوئے۔ سید آدم نے بہزار شوق آگے بڑھ کر مصافحہ کیا بوسہ دیا اور پھر سید آدم کو بارگاہ رسالت صل الله عليه و اٰله وسلم سے بشارت دی گئی “يا ولدي انت فى جوارى" فرزند من! تم میرے جوار میں رہو سید آدم رح نے اس مثردہ کے بعد ہندوستان کا خیال ترک کر دیا۔ مصافحہ کا یہ معاملہ حاظرین نے بھی دیکھا تھا۔ بطور مکاشفہ یہ بھی بتایا گیا کہ جو شخص سید آدم بنوری اے مصافحہ کر ے گا وہ گویا رسول اللہ صل الله عليه و اٰله وسلم سے مصافحہ کر لے گا۔ اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ صل الله عليه و اٰله وسلم سے مصافحہ کرنے والا مغفور ہو گا۔ اس بشارت یا اس قیاس نے یہاں تک شہرت پائی کہ عوام الناس کی بھیڑ کے باعث سید آدم بنوری کو مصافحہ کے لیے الگ انتظام کرنا پڑا۔[12]

وفات[ترمیم]

قیام مدینہ منورہ کا عزم کرتے کچھ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ 13 شوال 1053 ھجری کو مدینہ میں وفات پا گئے۔ آپکو حضرت عثمان بن عفان رض کے جوار میں قدیمی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ جب تک انہدام جنت البقیع نہ ہوا تھا عثمان رض کے روضے کے گنبد کا سایہ آپ کی قبر پر پڑتا تھا۔[7]

اولاد و احفاد[ترمیم]

آپ کی اولاد میں چار صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تھیں۔ بڑے بیٹے سید غلام احمد بنور ہی میں رہے۔ شیخ سید محمد اولیاء اور شیخ سید محمد عیسی اور دونوں صاحبزادیاں آپ کے ھمراہ تھیں جبکہ چوتھے صاحبزادے سید محمد محسن 1052 ھجری میں گوالیار میں پیدا ہوئے۔ جب سید آدم بنوری رض حج کو جا رہے تھے۔[4][7]

آپ کی اولاد و احفاد کثرت سے موجود ہے اور مسکن پشاور، کوہاٹ، بنور، دہلی وغیرھم ہے۔ آپ بنوری قبیلہ کے جد امجد ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

  • نکات الاسرار
  • خلاصۃ المعارف
  • وضوح المذاھب
  • کلمات المعارف
  • نظم النکات
  • تفسیر سورۃ فاتحہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آغا عبدالحلیم اثر افغانی، روحانی رابطہ اور روحانی تڑون، ص390
  2. ^ ا ب پ نکات الاسرار، مقدمہ کتاب، سید آدم بنوری، ص3
  3. [1] (شیخ آدم خلیفۃ الزمان و قطب‌الاقطاب)
  4. ^ ا ب خطاب مشوانی، سید عمر خطاب شاہ مشوانی، ص219
  5. گلدستۂ عقائد و حقائق روحانی، میر سید ثاقب عماد الحسینی، باب ابحاث و تشریح مشجرات اولاد شیخ المشائخ سید محمد
  6. ^ ا ب سید آدم بنوری، نکات الاسرار
  7. ^ ا ب پ ت ٹ ث میر سید ثاقب عماد الحسینی، گلدستۂ عقائد و حقائق روحانی، باب قطب الاقطاب شیخ سید ادم بنوری و اعقاب ھو
  8. اقتباس الانوار مولفہ شیخ محمد اکرم قدوسی 1130 ھ ص 725
  9. مولانا بدرالدین، الحضرات
  10. تذکرۂ آدمیہ بحوالۂ خزینۂ الاصفیاء
  11. شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، انفاس العارفین، ص13
  12. علمائے ہند کا شاندار ماضی، علامہ سید محمد میاں، ج1، ص173-172

بیرونی روابط[ترمیم]