گیسو دراز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Disambigua compass.svg یہ صفحہ شیخ المشائخ سید محمد حمزہ گیسو دراز اول کے متعلق ہے۔ اس نام سے مشابہت رکھنے والے دیگر صفحات کے لیے ← بندہ نواز گیسو دراز ملاحظہ فرمائیں۔
میر شیخ المشائخ
سید محمد حمزہ
گیسو دراز اول
مقابر شیخ المشائخ سید محمد و احفاد بہ تخت سلیمان مقبرہ “میران”
مقابر شیخ المشائخ سید محمد و احفاد بہ تخت سلیمان مقبرہ “میران”

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 435 ہجری | 1043 عیسوی بغداد عراق
تاریخ وفات 513 ہجری | 1120 عیسوی تخت سلیمان (پاکستان), پاکستان
وجۂ وفات زہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
اولاد سید سیف الدین احمد (بیٹا)

میر سید محمد ثانی (بیٹا)

والدین سید عبدالغفار (والد)
عملی زندگی
تحریک تحریک زید بن علی

گیسو دراز اول شیخ المشائخ سید محمد حمزہ بن سید عبدالغفار بغداد سے 455 ھجری میں ژوب قریب کوہ سلیمان تشریف لائے۔[1] سید محمد حمزہ کو تاریخ میں پہلی بار خواجہ نعمت اللہ ہروی نے گیسو دراز کے لقب سے نوازا۔[2] اس زمانے میں سادات کرام کو اکثر لمبی زلفوں کے سبب گیسو دراز کی نسبت یاد کیا جاتا تھا۔[3] آپ اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ عرب سے آئے بیٹوں کے نام میر سید سیف الدین احمد اور میر سید محمد ثانی ہیں۔ آپ کے ساتھ آپ کی اہلیہ بھی سفر میں شریک تھیں۔[1] آپ نے مقتدر عباسی کے دور حکومت میں ہجرت فرمائی۔[4]

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 435 ھجری میں ہوئی۔[1]

نام و نسب، اولاد و احفاد[ترمیم]

آپ کا نام سید محمد حمزہ،[4][5] القاب گیسو دراز اول[6][4][7][5][2] اور شیخ المشائخ[8]، آپ حسینی سید ہیں، اجداد یمن، عراق، شام اور ایران سے ہوتے ہوئے افغانستان پہنچے اور بعد از افغانستان آپ دوبارہ بغداد سے کوہ سلیمان تشریف لائے۔[1]

شجرہ نسب: شیخ المشائخ سید محمد حمزہ بن سید عبدالغفار بن سید عمر الکعب بن سید جعفر القائم[9][7][4][1]بن سید علی صاحب الانوار بن سید حسین بن سید احمد بن سید الرجال محمد بن اسماعیل صاحب الآخبار بن ابراہیم مرتضی بن امام موسیٰ کاظم۔[1][8]

آپ کی اولاد میں دو بیٹے سید احمد سیف الدین اور میر سید محمد ثانی ہیں۔ آپ کی احفاد عراق، ایران، افغانستان، پاکستان، بھارت میں موجود ہے۔ آپ کی کثیر اولاد پشتونوں کے علاقہ جات میں افغان طرز زندگی میں موجود ہے۔[10][7][1]

آپ افغانوں کے بیچ رہنے والے کئی سادات قبائل کے مورث اعلی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔[10][7][4][1][5]

تربیت و تحریک[ترمیم]

شیخ المشائخ سید محمد حمزہ کا تعلق زید بن علی کی تحریک سے تھا۔ آپ کے والد سید عبدالغفار تھے۔ آپ کے اجداد بھی اسی تحریک سے وابستہ رہے۔ اسی سبب سے عباسی خلفاء کا رویہ آپ سے مناسب نہ تھا۔ ابراہیم المرتضی الاصغر ابن امام موسیٰ کاظم نے عباسی بادشاہ مامون الرشید کے زمانہ میں محمد بن محمد بن زید بن علی بن حسین ابن علی کی طرف سے یمن میں بیعت لی اور ابی سرایا بن منصور شیبانی نے یمن ہموار کر کہ آپ کے لیے چھوڑ دیا آپ آسانی سے بنا جنگ و جدل یمن داخل ہوئے اور وہاں کے امیر بن گئے۔ آپ نے اپنے نام کا سکہ جاری کیا اور قریباً دو سال تک یمن پر حاکم رہے[11] جب مامون الرشید کو یہ خبر ملی کہ ابراہیم المرتضی الاصغر امام علی رضا کے لیے یمن میں بیعت کر رہے ہیں تو آپ کو امان دے دی اور آپ سے معترض نہ ہوا بعد ازاں اس نے لشکر بھیجا آپکو شکست ہوئی اور آپکو بغداد لایا گیا، آپ کی وفات بغداد میں ہی ہوئی اور آپ کی قبر کربلا میں خلف روضۂ امام حسین ابن علی واقع ہے[12][13][14][15]

سید اسماعیل صاحب الاخبار کا مدفن بغداد مقابر القریش میں ہے۔[16] سید علی صاحب الانوار کا تذکرہ سید آدم بنوری کی کتاب نکات الاسرار میں موجود ہے۔[1][8]

سفر و حضر[ترمیم]

آپ اپنے والد بزرگوار سید محمد معروف بہ عبدالغفار کے ہمراہ بغداد سے افغانستان صوبہ غور براستہ اوشتشریف لائے۔[1] بعد ازاں آپ واپس بغداد تشریف لے گئے۔ اس کے بعد منتصر باللہ کے زمانے میں بغداد سے سلسلہ کوہ سلیمان کے پشتونوں کی آبادی والے علاقوں کی طرف 513 ہجری میں ہجرت فرمائی۔[4][1]



درباری تاریخ اور حقیقی سیرت[ترمیم]

خراسان و ہند میں سیادت سادات پہلی صدی ہجری کے اواخر میں شروع ہوئی۔ افغانستان اور افغانوں کے بیچ آنے اور آباد ہونے والے سادات میں اکثریت اولاد و احفاد شیخ المشائخ سید محمد کی ہے۔[1]

افغانی تاریخ میں قدیم کتاب خواجہ نعمت اللہ ہروی کی[2] تاریخ خان جہانی مخزن افغانی ہے جس میں تاریخ کے ساتھ ساتھ افغانوں کے شجرہ ہائے نسب بھی موجود ہیں۔ خواجہ نعمت اللہ ہروی نے سب سے پہلے شیخ المشائخ سید محمد حمزہ کو گیسو دراز لکھا جو بعد میں بندہ نواز گیسو دراز کے حالات کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا گیا۔ محقق نسابہ میر سید ثاقب عماد الحسینی اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ خواجہ نعمت اللہ ہروی نے خود سے بہت کچھ گڑھا ہے اور کافی معلومات غلط لکھی ہیں۔[1] خواجہ نعمت اللہ ہروی نے شیخ المشائخ سید محمد کے بارے میں جو معلومات لکھی ہیں وہ سب من گھڑت اور غلط ہیں جس سے یہ بخوبی علم ہوتا ہے کہ موصوف اس زمن میں بالکل خالی از تحقیق و اخبار شیخ المشائخ سید محمد حمزہ سے بے خبرتھے۔ نعمت اللہ ہروی صاحب نے تمام قصے فرضی گڑھے ہیں اور مغل بادشاہوں سے اس کے عوض کافی تحائف و ہدیات لیے ہیں۔[1] نعمت اللہ ہروی نے مغولوں کے فتنے اور افغان عورتوں سے شادی کا تذکرہ کیا جو غلط ہے، مغول کے فتنے سے قبل شیخ المشائخ سید محمد حمزہ کی وفات سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے کسی افغان عورت سے شادی نہیں کی۔ آپ کی اولاد و احفاد افغانوں کے علاقہ جات اور زبانوں میں افغانستان،ضلع ہزارہ، خیبر پختونخوا، کوئٹہ میں پشتو زبان، بلوچستان کے بعض علاقہ جات میں بروہی زبان، ایران، غزنی اور افغانستان کے بعض علاقہ جات میں فارسی اور ہندوستان میں اردو و پشتو زبان، سندھ میں سندھی اور سندھ و پنجاب، پاکستان کے بعض علاقہ جات میں سندھی اور پشتو زبان شامل ہیں۔ جبکہ نعمت اللہ ہروی آپ کی احفاد کو افغانوں تک محدود کرنے کے ساتھ ساتھ کافی غلط بیانی سے کام لیا ہے۔[1] نعمت اللہ ہروی کی کتاب کو ماہرین انساب کے نزدیک کوئی افادیت حاصل نہیں۔ [17] اور تاریخی اعتبار سے بھی وہ کتاب ضعیف ہے۔ اسی طرح بعد میں آنے والے تواریخ دانوں میں شیر محمد گنڈاپور مولف تواریخ خورشید جہاں کی معلومات بھی غلط ہیں اور اس کے مطالعہ سے یہ علم بخوبی ہوتا ہے کہ مولف مضمون سے بے خبر ہے، گنڈاپور نے شیخ المشائخ کے حالات بندہ نواز گیسو دراز کے ساتھ گڈ مڈ کر کہ پیش کیے اور کئی افسانے گڑھے جن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔[17]

شیخ المشائخ اور ان کی اولاد و احفاد کے متعلق سب سے قوی قول قطب الاقطاب شیخ سید آدم بنوری کا ہے۔[17]

سید محمد حمزہ کا تعلق زید بن علی کے انقلاب سے تھا[1] عرب سلاطین سادات کو سیادت پر مجبور کرنے کی سب سے بڑی وجہ تسلیم کیے جاتے ہیں، سادات کے ساتھ سلاطین فارس کا رویہ بہتر تھا مگر سید آدم بنوری کے مجدد الف ثانی کے ساتھ دین الٰہی جو اکبر مغل بادشاہ نے گڑھا تھا کے خلاف قیام کیا تو مغل سلاطین سید آدم اور اس کے قبیلے کے مخالف ہو گئے۔ شاہجہان کے دور میں عبدالحکیم سیالکوٹی نے شاہ جہان کو سید آدم بنوری اور اس کے قبیلے کے خلاف اکسایا جس کی بنا پر شاہ جہان نے سید آدم بنوری کو سفر حجاز کے لیے احکام صادر کر دیے۔[18] یہی وجہ ہے کہ درباری تاریخ دانوں نے شیخ المشائخ سید محمد حمزہ کے حالات گڈ مڈ کرنے میں کثر نہ چھوڑی۔[17]

وفات و تدفین[ترمیم]

شیخ المشائخ سید محمد حمزہ کی وفات513 ھجری میں ہوئی۔[1][4] آپ کا مزار مبارک تخت سلیمان (پاکستان) میں بمقام “میران” مع اہل و عیال کے موجود ہے اور مرجع خلائق ہے۔[19][4][1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س میر سید ثاقب عماد الحسینی، گلدستۂ عقائد و حقائق روحانی، باب شیخ المشائخ سید محمد حمزہ و اجداد و احفاد
  2. ^ ا ب پ خواجہ نعمت اللہ ہروی، تاریخ خان جہانی مخزن افغانی، 1610 ء
  3. لطائف اشرفی حصہ اول،سید اشرف جہانگیر سمنانی،اشرفی انٹر پرائزر کراچی پاکستان
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ سید عمر خطاب شاہ مشوانی، خطاب مشوانی، ص223
  5. ^ ا ب پ خواجہ عطاءاللہ کرمانی، روضہ الاحباب
  6. آغا عبدالحلیم اثر افغانی، روحانی رابطہ او روحانی تڑون، ص390
  7. ^ ا ب پ ت تاریخ مرصع، افضل خان خٹک
  8. ^ ا ب پ قطب الاقطاب شیخ سید آدم بنوری، مقدمہ، نکات الاسرار، ص3
  9. سید یوسف شاہ، حالات مشوانی مطبوعہ 1930 لاہور، ص97-102
  10. ^ ا ب قطب الاقطاب شیخ سید آدم بنوری، نکات الاسرار
  11. المجدی، ص316
  12. الاصیلی، ص162
  13. ابونصر بخاری، سر السلہ العلویہ، ص37
  14. شیخ مفید، الارشاد
  15. عمدہ الطالب فی انساب ال ابی طالب، نسابہ جمال الدین احمد ابن عنبہ الحسنی
  16. شیخ محمد صادق کرباسی، الحسين نَسَبُهُ ونسله - الجزء الرابع: دائرة المعارف الحسينية، 43-53
  17. ^ ا ب پ ت میر سید ثاقب عماد الحسینی، باب ابحاث و تشریح انساب اولاد شیخ المشائخ سید محمد، تحقیقی حقائق اور رد ضعیف درباری تاریخ۔
  18. شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، انفاس العارفین، ص13
  19. آغا حکیم عبدالحلیم اثر افغانی، روحانی رابطہ او روحانی تڑون، ص391