وادی القریٰ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وادی القریٰ شام اور مدینہ کے درمیان ایک وادی ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

اس کو وادی القریٰ یعنی بستیوں کی وادی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں بہت سی بستیاں آباد تھیں۔ یہ بہت ہی قدیم دور سے آباد ہے۔ عرب بائدہ کی قوم ثمود اسی وادی کے علاقے مدائن صالح میں آباد تھی۔ ان کے آثار آج بھی یہاں ملتے ہیں۔ وادی القریٰ اپنی سرسبزی وشادابی کے لیے ہمیشہ سے ضرب المثل تھی۔

ارباب تاریخ وجغرافیہ لکھتے ہیں کہ ثمود کی تباہی کے بعد یہاں یہود آباد ہوئے؛ انہوں نے دوبارہ یہاں کی زراعت اور آب رسانی کوترقی دی، یہود کے بعد دوسرے عربی قبائل بھی یہاں آباد ہوئے؛ مگروہ سب کے سب یہود کے زیراثر رہے، قضاعہ، جہینہ اور عذرہ وغیرہ قبائل اسی وادی میں آباد تھے [1] یہود اور مسلمانوں میں جتنی جنگیں ہوئیں ان سب میں یہ قبائل یہود کے ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں یہاں کے یہود جزیرۂ عرب میں ہجرت کرکے آئے تھے اور بہت قدیم زمانہ سے یہاں آباد تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیبر اور فدک کے معاملات سے فراغت کے بعد حضور اکرم ﷺ وادیٔ القریٰ میں آئے، اس کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی گئی، انہوں نے انکار کیا اور یہاں کے یہود جنگ کے لیے آمادہ ہوئے، دن بھر لڑائی ہوتی رہی، ان کے سورما ایک کے بعد ایک مبارزت طلب کرتے، زبیر ابن عوام نے دو سورماؤ ں کو اور ایک کو علی بن ابی طالب نے قتل کیا، اس طرح یکے بعد دیگرے دس یہودی قتل ہوئے اور دوسرے دن فتح نصیب ہوئی، اس وقت عباد بن بشیر، سعد بن عبادہ، خباب بن منذر، سہل بن حنیف کو بھی رایت (علم) عطا کیا گیا، مال پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا؛ لیکن اراضی کاشت کے لیے ان ہی کے پاس رہنے دی گئی اور ان سے اہل خیبر کی طرح معاملہ کیا گیا،یہاں مسلمانوں نے چار دن قیام کیا،عمرو بن سعید بن العاص کو وادیٔ قریٰ کا والی مقرر کیا گیا۔ عہدِ اسلام کے بعد بھی کئی صدیوں تک یہاں یہودیوں کے وجود کا پتہ چلتا ہے، [2] کے مصنف کا بیان ہے کہ گیارھویں صدی عیسوی تک یہاں یہود موجود تھے، یاقوت نے اپنے زمانہ یعنی ساتویں صدی ہجری میں اس کا حال ان الفاظ میں لکھا ہے: اس وقت یہ سرزمین بالکل ویران ہے، کنوؤں اور چشموں کا پانی اب تک ویسے ہی جاری ہے؛ مگراس سے فائدہ اُٹھانے والا کوئی موجود نہیں۔[3] ان دونوں بیانوں سے پتہ چلتا ہے کہ پانچویں اور ساتویں صدی ہجری مطابق گیارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی کے درمیان یہود نے اس سرزمین کوچھوڑا ہے؛ لیکن یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ ان کے ترکِ وطن کے اسباب کیا تھے اور وہ یہاں سے کہا گئے۔ بلاذری کی ایک روایت ہے کہ عمر فاروق نے خیبر کے یہودیوں کے ساتھ وادی القریٰ کے یہودیوں کوبھی جلاوطن کر دیا تھا [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. معجم البلدان:7/74
  2. تاریخ الیہود، صفحہ نمبر:186
  3. معجم البلدان:7/73
  4. فتوح البلدان:41