تسبیح فاطمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بسم الله الرحمن الرحیم
Allah1.png

مضامین بسلسلہ اسلام:
اہل تشیع
کوئی جوان نہیں سوائے علی کے اور کوئی تلوار نہیں سوائے ذو الفقار کے

تسبیح فاطمہ (عربی: تَسْبِيح فَاطِمَة) ایک مخصوص ذکر ہے جو اسلام کے نبی حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سب سے چہیتی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا کو تلقین کی تھی۔[1][2][3] تسبیح فاطمہ میں 33 بار تسبیح (سُبْحَانَ ٱللَّٰهِ‎)، 33 بار تحمید (ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ‎) اور 34 بار تکبیر (ٱللَّٰهُ أَكْبَرُ) کا ورد کیا جاتا ہے۔[4][5][6][7]

حضرت علی بن ابی طالب سے ایک روایت مروی ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی بیٹی فاطمہ کو یہ تسبیح بتائی تھی۔ اس روایت کے مطابق فاطمہ دن بھر گھر کا کام کرتی تھیں جو ان پر بہت دشوار گزرتا تھا اور انہوں نے اپنی آسانی کے لیے اپنے والد سے درخواست کی کہ انہیں ایک باندی عنایت کی جائے تاکہ گھر کے کام کاج میں کچھ سہولت ہو۔ والد انہیں باندی کی بجائے یہ تسبیح عنایت فرمائی اور فرمایا کہ یہ تسبیح باندی سے کہیں زیادہ قیمتی اور بہتر ہے۔ فاطمہ اس سے بہت خوش ہوئیں۔[8] اس تسبیح کی متعدد مضائل احادیث اور اقوال اولیا میں درج ہیں۔[9] ,[10][11] ہر فرض اور نفل نماز کے بعد تسبیح فاطمہ کر ذکر کرنا مستحب ہے اور خصوصا نماز فجر کے بعد اس کا ذکر کرنا ثواب کا باعث ہے۔[12]

تسبیح

معنی کلمہ اصطلاح تکرار
اللہ کی ذات پاک ہے سُبْحَانَ ٱللَّٰهِ تسبیح 33
تمام تر تعریفیں اللہ کو سزاوار ہیں ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ تحمید 33
اللہ سب سے بڑا ہے ٱللَّٰهُ أَكْبَرُ تکبیر 34

حدیث کا متن

مسلمانوں میں اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع دونوں ہی کی کتابوں میں تسبیح فاطمی کا ذکر موجود ہے۔

اہل سنت کے یہاں صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ مذکور ہے، سب سے تفصیلی حدیث صحیح بخاری کے متن کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔[13]

فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ شکایت کرنے کے لیے حاضر ہوئیں کہ چکی پیسنے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں کتنی تکلیف ہے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات نہ ہو سکی۔ اس لیے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ( رات کے وقت ) ہم اس وقت اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ہم نے اٹھنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں جس طرح تھے اسی طرح رہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے۔ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم دونوں نے جو چیز مجھ سے مانگی ہے، کیا میں تمہیں اس سے بہتر ایک بات نہ بتا دوں؟ جب تم ( رات کے وقت ) اپنے بستر پر لیٹ جاؤ تو 33 مرتبہ «سبحان الله»، 33 مرتبہ «الحمد الله» اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھ لیا کرو یہ تمہارے لیے لونڈی غلام سے بہتر ہے۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. The right approach of Tasbih Hazrat Zahra iqna.ir
  2. Tasbih Hazrat Zahra erfan.ir Retrieved 26 Nov 2018
  3. Tasbih al-Zahra sibtayn.com Regarding Tasbih al-Zahra Retrieved 26 Nov 2018
  4. Tasbih Hadrat Fatimah (s.a.) hawzah.net Retrieved 26 Nov 2018
  5. The philosophism of Tasbih Hadrat Zahra (s.a.) yjc.ir Retrieved 26 Nov 2018
  6. Some points regarding Tasbih Hadrat Zahra (peace be upon her) tasnimnews.com Retrieved 26 Nov 2018
  7. Seyyed Muhammad Kazem Qazvini, Fatimah-al-Zahra from birth to martyrdom, translation of Dr. Fereiduni, Afagh publication, 3rd publication, 1365, P. 224
  8. Saduq, Man La Yahdurah al-Faqih, Vol. 1, P. 320
  9. What is Tasbihat al-Sayyidah al-Zahra? islamquest.net Retrieved 26 Nov 2018
  10. What is Tasbihat Hazrat Fitimah Zahra? thaqalain.ir Retrieved 26 Nov 2018
  11. Tasbihat Hazrat Fatimah al-Zahra islamquest.net Retrieved 26 Nov 2018
  12. Akbari, Some points about Hazrat Zahra (a.s.)، P. 41
  13. صحیح بخاری، حدیث نمبر۔ 5361