علی سلمان آغا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی سلمان آغا خان
(فرانسیسی میں: Prince Ali Khan خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Aly-Khan-1949.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 13 جون 1911[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ٹیورن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 مئی 1960 (49 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سیغین[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات ٹریفک حادثہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات حادثہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
Flag of France.svg فرانس
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ ریٹا ہیورتھ (1949–1953)
سمون مشیلین بوداں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد آغا خان چہارم،  یاسمین آغا خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد آغا خان سوم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان قاجار خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سفارت کار،  گھڑ سوار،  اشرافیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت اقوام متحدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
شاخ برطانوی فوج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری شاخ (P241) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں دوسری جنگ عظیم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

پرنس علی سلمان آغا خان (انگریزی: Prince Aly Salman Aga Khan) سلطان محمد شاہ، آغا خان سوم کے بیٹے اور آغا خان چہارم کے والد تھے۔ پرنس علی سلمان خان کی پیدائش ١٣٢٩ھ / ١٣جون ١٩١١ء کو ٹیورین( اٹلی)میں ہوئی ۔ پرنسیس تھرلیسا جماعتوں کو ملنے کے لیے بھی آتے تھے۔اور خاص طور پر آپنی دادی اماں بیگم علی شاہ سے بھی ملنے کے لیے سیریا (شام) اور کھبی بمبئ اور کھبی بغداد جاتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران پرنس علی خان شام میں اتحادی طاقتوں Allide Forces میں شامل تھے۔ اور آپ نے کئی محازوں پر بہادری کے کارنامے سر انجام دیے تھے۔ جس کی وجہ سے پرنس صاحب کو ٹائیٹل اور تمغے ملے تھے۔اس کے علاوہ ہندوستان میں جے۔پی۔(جسٹس آف پیس)  کالقب ملا تھا۔جنگ میں ہوائی جہاز چلانے کا شوق پیدا ہوا تھا۔ اور خود آپنا جہاز چلاکر طویل سفر کا تمغا حاصل کیا تھا۔ اور ہوائی جہاز چلانے کے متعلق ایک مضمون بھی لکھا تھا۔ جو اسماعیلی اخباروں میں شائع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ پرنس صاحب گھوڑ دوڑ اور موٹر گاڑیوں کو تیز چلانے کا شوق رکھتے تھے۔ جماعتوں میں بے حد محبوب و مقبول تھے۔ اور آپ  نے کئی کاموں کو سر انجام دیا تھا۔ اور ان میں دلچسپی لیتے تھے۔مثلاً بمبئ کی جماعتوں کے لیے ہسپتال بنائے دیگر جماعتوں کے لیے مکانات کے منصوبے بنائے۔ باہمی تحریکیں شروغ کرنے میں یا تعلیم کے سلسلے میں بے حد دلچسپی لیتے تھے۔ "علی سیریز"جو ان کی کوششوں سے جماعتوں میں شروغ ہوئی تھیں۔جو جگہ جگہ  مشہور ہوگئیں۔ پرنس علی خان کی پہلی شادی ١٣٥٥ھ/ ١٩٣٦ء کے شروغ میں ١٩٣٦ء کے شروغ میں پرنسیس تاج الدولہ سے پیرس میں ہوئی تھی۔ اور اسی سال ١٣دسمبر کو جنیوا میں پرنس کریم آغاخان چہارم کی ولادت ہوئی۔ اوردوسرے سال ١٣٥٩/ ١٤ دسمبر ١٩٤٨ء  کو پرنس امین لندن میں پیدا ہوئے۔ لیکن ١٣٦٧ھ / ١٩٤٨ء کو پرنس علی خان اور پرنسیس تاج الدولہ کے درمیان طلاق ہو گئی۔اور اسی سال پرنس علی خان کی دوسری شادی فرانس میں مس ریٹا ہورتھ کے ساتھ ہوئی۔ جس کے بطن سے ١٣٦٩ھ / 20دسمبر 1949ی کو پرنسیس یاسمین پیدا ہوئیں۔مس ہورتھ نے کچھ عرصے کے بعد طلاق لے لی۔ پرنس علی سلمان خان 1377ھ/ 1958ء میں پاکستان کی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے کی حیثیت سے منتخب کیے گئے۔ آپ نے اس کام کو نہایت ہی ڈپلومیسی کے ساتھ انجام دیا۔ اس سلسلے میں پرنس صاحب تمام اخراجات خود برداشت کرتے تھے۔ اور پاکستان کے لیے بہت کام کیا۔ آپنے کام کے سلسلے میں پیرس آئے ہوئے تھے۔کہ 1380ھ/مئ ۔ 1961ء کو ایک موٹر کے حادثے میں آپ کی وفات ہوگئ ۔ پرنس صاحب کو سلمیہ (شام) میں دفن کیا گیا۔ جہان ایک شاندار مقبرہ بھی تعمیر کروایا گیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0451288 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015
  2. ^ ا ب دا پیرایج پرسن آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=4638&url_prefix=http://www.thepeerage.com/&id=p3145.htm#i31449 — بنام: Ali Salman Shah, Prince Aga Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. Le Monde — اخذ شدہ بتاریخ: 16 مارچ 2017 — ناشر: Societe Editrice Du Monde

بیرونی روابط[ترمیم]

سفارتی عہدے
ماقبل 
پطرس بخاری
اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مندوب
فروری 1958– مئی 1960
مابعد 
محمد ظفر اللہ خان